View allAll Photos Tagged Islamic

Palestinian Muslims wave Islamic flags during a demonstration against Pope Benedict XVI in the West Bank town of Ramallah September 21, 2006. The words on the flags read, "There is no god but God, Mohammad is the messenger of God

Pergamon Museum - Berlin

 

explored

 

old picture ,, taken in al madina

   

-------------------------

any comment with picture will be deleted .

,, أي كومنت فيه صور بمسحه

variation from another my work to create an islamic pattern

islamic architecture at Samarqand, Imam Bukhari shrine.

SHAH JAHAN MOSQUE - 1889

 

The first purpose built mosque in UK by Begum Shah Jahan, ruler of Bhopal at that time.

Azadi tower, the symbol of Tehran. Islamic Republic of Iran. Kiev 60, Zodiak 8 30mm f3.5. 100% analog workflow, darkroom enlarged, Lith process (Moersch SE5 Lith). Scan from silver photographic paper.

ISLAMIC WALLPAPERS MORE FREE WALLPAPERS glaultoa.com/4/6857740

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 11 دسمبر 2015 بیت الفتوح یوکے(مرتب کردہ یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : گزشتہ دنوں ایک کالم نے لکھا اور ایک آسٹریلین سیاست دان نے کہا کہ اسلام کی تعلیم کے جہاد کے بارہ میں احکامات ہیں انہی کی وجہ سے مسلمان شدت پسند بنتے ہیں ۔اسلامی احکامات کے بارہ میں یو کے کہ سیاست دان نے بھی یہی کہا تھا ۔اسلام میں کچھ نہ کچھ شدت پسندی کے احکامات ہیں ۔جس کی وجہ سے مسلمانوں کا شدت پسندی کی طرف رحجان ہے ۔آج کل جو اسلام کے نام پر عراق اور شام میں شدت پسند گروہ نے کچھ علاقہ پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کی ہے اس میں مغربی ممالک کو بھی دھمکیاں دیں ہیں بعض جگہ ظالمانہ حملے کر کے معصوموں کو تنگ کیا ہے ۔اس سے جہاں عوام خوفزدہ ہوئی ہے وہاں جو بعض لیڈروں نے لا علمی کی وجہ سے یا اسلام مخالف خیالات کی وجہ سے اسلام کے خلاف کہنے کا موقع مل گیا۔کہنے اور لکھنے والے کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے دوسرے مذاہب میں بھی شدت پسندی ہے لیکن اس کے ماننے والے اب اس پر عمل نہیں کرتے یا زمانہ کی ضرورت کے مطابق تعلیم میں تبدیلی کر لی ہے اور اس بات پر زور ہے کہ قرآن کریم کے احکامات کو بھی اس زمانہ کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے ۔اس سے یہ بات تو ثابت ہوئی گئی کہ ان کی تعلیم اب خدا کی تعلیم نہیں رہی اور یہ ہونا تھا ۔یہ تعلیم قائم رہنے یا تا قیامت عمل کرنے والے کا وعدہ نہیں تھا ۔جب قرآن کریم میں اعلان تھا کہ ہم نے ہی اس ذکر کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ایک جگہ فرمایا : اللہ تعالیٰ کی قدیم سے عادت ہے جب کسی چیز سے منع کیا جائے تو اس کی تقدیر میں سے ہوتا ہے کہ بعض اس کے مرتکب ہونگے ۔جیسا کہ تورات میں یہودیوں کو منع کیا سو ان میں سے بعض نے تحریف کی ۔اس قرآن کے بارہ میں کہا گیا کہ ہم ہی اس کو نازل کرنے والے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے یہ صاف بتا رہی ہے کہ جب ایک قوم پیدا ہو کر اس کو مٹانے والی ہوگی تو پھر ایک فرستادہ کے ذریعہ حفاظت کی جائے گی ۔لوگ وقتا فوقتا اس پر حملے کر کے اس کو مٹانا چاہتے ہیں ۔گزشتہ دنوں ایک چھوٹی سی فلم چل رہی تھی دو لڑکے قران کی بعض آیات پڑھ کر سنا رہے تھے اور مختلف لوگوں سے اس کے بارہ میں پوچھ رہے تھے تو ہر ایک کو جب یہ پتہ چلتا تھا کہ قرآن کریم کی تعلیم سے ثابت ہو گیا کہ اسلامی تعلیم ہی ایسی ہے جس سے یہ حرکتیں ہوتی تھیں ۔کچھ دیر کے بعد وہ کتاب سے ٹائٹل اٹھا دیا وہ بائبل کی تعلیم تھی کسی نے کوئی بات نہیں تھی ۔جب اسلام کے ساتھ نام آتا ہے تو حملے کرتے ہیں۔اگر ایک مسلمان غلط حرکت کرتا ہے تو وہ اسلام سے جوڑی جاتی ہے اور اگر کوئی دوسرے مذہب والا کرے گا تو وہ معذور پاگل کہلائے گا۔ فرمایا : ہم مانتے ہیں کہ بعض مسلمان گروہوں کے غلط عمل نے اسلام کو بدنام کیا ہے لیکن اس پر قرآن کریم کی تعلیم کو نشانہ بنانا بھی اس کا اظہار ہے امریکہ صدارتی امیدوار اس کے خلاف بول رہا ہے ۔لیکن اسلام کی خوبصورت تعلیم کا مقابلہ کوئی مذہب اور نہ کوئی قانون کر سکتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی حفاظت کی وعدہ کے مطابق ایک فرستادہ کو بھیجا اور اس کے مطابق اس نے اس کی حفاظت کی اور اسی نے فرمایا : قرآن کریم جس کا ابتدائی نام ذکر ہے اس نے اس زمانہ کی صداقتوں اور ودیتوں کو یاد کروانے آیا تھا ۔کہ اس زمانہ میں بھی ایک معلم آیا اور جو آخرین منھم لما ہلحقو بھم کا مصداق اور موعود ہے اور وہی تمہارے درمیان بول رہا ہے ۔پھر فرمایا ؛ جو یہ وعدہ ہے کہ حفاظت کا وعدہ کیا ہے ۔مسلمانوں کو اس مصیبت سے بچا لیا اور فتنہ میں پڑنے نہ دیا ۔مبارک ہیں وہ لوگ جو اس جماعت میں شامل ہو کر اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی عظمت کو قائم کرنے کے لئےچودھودیں صدی کے سر پر مجھے بھیجا ۔قرآن کریم کو جو عظمتیں ہیں وہ کسی مذہب کو نصیب نہیں ہیں ۔اس میں مسلمانوں کو بھی دعوت ہے کہ جو حملے ہو رہے ہیں اس کا توڑ کرنے کے لئے اس شخص کے ساتھ رشتہ جوڑ کر مخالفوں کے منہ بند کریں ۔جو گروہ یا لوگ تلوار کے زور سے اسلام کے پھیلانے کا دعوی کرتے ہیں۔حقیقت میں وہ اسلام کے دشمن اور اسلام مخالف طاقتوں کے آلہ کار ہیں ۔حضرت مسیح موعود ؑ نے واضح طور پر فرما دیا یہ زمانہ تلوار کے جہاد کا زمانہ نہیں ہے ۔اسلام امن اور پیار کی تعلیم سے بھرا ہوا ہے ۔آج اس زمانہ میں اس تعلیم کا پرچار کرنے کی ضرورت ہے اور اس کو سمجھ کر اس پر ہر احمدی کو عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔آج ہم نے یعنی احمدیوں نے ہی مسلمانوں اور مخالفوں کو حقیقت سے آشکار کرنا ہے ۔جو اسلام پر اعتراض کرتے ہیں وہ جاہل ہیں اسلام کی تعلیم تو امن اور سلامتی کی تعلیم ہے ۔قرآن کریم کی روشنی میں ہی یہ تعلیم ان لوگوں کو دکھانی ہے ۔ فرمایا : اس وقت دنیا کو اسلام کی حقیقی تصویر دکھانا بہت ضروری ہے ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی ہر جگہ اس طرف توجہ ہے ۔حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ میڈیا سے تعلق اور رابطہ بھی رکھا جائے اور اس کے ذریعہ سے عوام کو بتایا جائے ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے امریکہ اور باقی ملکوں جرمنی میں بھی میڈیا سے رابطے ہیں ۔ان کو وسیع تر کرنے کی ضرورت ہے ۔گزشتہ دنوں برٹش پارلیمنٹ میں ایک ممبر نے جماعت احمدیہ کے حوالے سے بتایا کہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے والے احمدی مسلمان ہیں اس پر ان کی بڑی تعریف کی گئی اور وزیر داخلہ نے کہا یہ اسلام جو احمدی پیش کرتے ہیں وہ مختلف ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی نئی تعلیم نہیں ہے بلکہ اسلام کی حقیقی تعلیم پیش کرتے ہیں اس تعلیم کو ہمیشہ تازہ رکھنے کی ضرورت ہے ۔شدت پسندی کے حوالے سے اخبار میں شرخیا ں دی جاتی ہیں ۔گزشتہ دنوں جب جاپان میں تھا تو وہاں بھی پڑھے لکھے طبقہ کا اظہار تھا بلکہ ایک عیسائی پادری نے کہا اسلام کی تعلیم جو تم بتا رہے ہو اس کو جاپانیوں کو جاننے کی بہت ضرورت ہے ۔لیکن اس کا فائدہ تبھی ہوگا جب آپ اس بات کو اس فینگشن تک محدود نہ کریں بلکہ جاپان میں مسلسل کوشش سے یہ تعلیم دنیا کو بتائیں ۔اب انصاف پسند غیر بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ دنیا کے سامنے لگا تار اسلام کی تعلیم پھیلاتے رہو ۔یہ جاپان جماعت کا بھی کام ہے کہ جامع منصوبہ بندی کر کے اس کام کو تازہ رکھیں ۔اسی طرح ہر جگہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کا ادراک جو ہوا ہے اس کو پھیلائیں ۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کے معنوں کی صحیح تشریح کے لئے آپ ؑ کو بھیجا گیا ۔آپ نے اپنی کتب اور ملفوظات میں اس کا بہت وضاحت سے خوب حق ادا کیا ہے ۔ بعض مثالیں پیش کرتا ہوں جو اسلام کی امن کی تعلیم کو واضح کرتی ہیں قرآن کریم میں’’ دین میں کوئی جبر نہیں ‘‘ پھر فرمایا ’’ اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو جس قدر لوگ زمین پر تھے سب کے سب ایمان لے آتے جب خدا بھی مجبور نہیں کرتا تو تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ لوگ ایمان لے آئیں ۔آپ ؑ نے فرمایا اسلام نے کبھی جبر کا مسئلہ نہیں سکھایا ۔آنحضرت ﷺ کی خواہش کے باوجود کہا کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا ۔اگر قرآن شریف اور حدیث کی کتابوں کو غور سے دیکھا جائے تو اس قدر وسعت معلومات کے بعد یقین کے ساتھ معلوم ہوگا کہ اسلام تلوار کے ساتھ پھیلا ہے یہ قابل شرم بیان ہے ۔یہ ان لوگوں کا خیال ہے جو تعصب سے الگ ہو کر نہیں دیکھ پاتے ۔مگر میں جانتا ہوں کہ زمانہ قریب ہے کہ راستی کے بھوکے اور پیاسے ان بہتانوں پر مطلع ہو جائیں گے ۔کیا وہ جبر کا مذہب کہلا سکتا ہے جس میں لکھا کہ دین میں جبر نہیں ۔کیا اس نبی کو جابر کہا جا سکتا ہے جس نے 13 سال ہر ایک کو جبر کو برداشت کرنے کی تعلیم دی ۔جب حد سے بات بڑی تو پھر تلوار کے مقابلہ میں تلوار اٹھائی گئی ۔اگر جبر کی تعلیم ہوتی تو جبر کی تعلیم کی وجہ سے امتحان کے موقع پر سچے ایماندار کی وجہ سے صدق کا نمونہ نہ دکھا پاتے ۔جبر کی وجہ سے دل سے وفا نہیں دکھا سکتے ۔لیکن ہمارے صحابہ ؓ کی وفادار ایک ایسا امر ہے کہ وہ ظاہر باہر ہیں ۔اسلام میں تین قسم کی لڑائیاں ہیں ۔جب سختی کی اجازت ہے۔ ایک دفاعی طور پر اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھایا جا سکتا ۔دوم خون کے عوض خون ۔جب سزا دینا مقصود ہو۔تین : بطور آزادی قائم کرنے کے ۔جو مسلمان ہونے پر قتل کرتے تھے ۔ان تین مواقع کے سوا کہیں حکم نہیں ہے کہ دین پھیلانے کے لئے تلوار اٹھاؤ ۔ قرآن کریم نے کہا ہے کہ نیک نمونے سے اپنی طرف کھینچو ۔وہ ابتدائی تلوار دشمن کے حملوں سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے کھینچی گئی تھی ۔ فرمایا : قرآن کریم کا جبر سے دین میں داخل نہ کرنے کا اعلان یہ بتاتا ہے کہ جبر سے دین کا کوئی معاملہ نہیں ہے ۔دین کی خوبیاں اپنے اندر پیدا کرو ۔یہ ہر ایک احمدی کی بہت بڑھی ذمہ داری ہے کہ دین کی ذاتی خوبی کو پیش کرنے کے لئے قرآن کریم کا علم حاصل کر کے دنیا کو اپنے نمونے سے اپنی طرف لائے ۔قرآن کریم میں ایک جگہ اسلام قبول نہ کرنے والوں کا نقشہ یہ ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم تیری پیروی کریں تو ہم کو باہر نکال دیا جائے ۔پس اسلام کی تعلیم پر اعتراض یہ نہیں ہے کہ بلکہ جو قبول کرتا ہے اس کو نکالا جا رہا ہے ۔اور نہ قبول کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اس تعلیم پر عمل کریں تو ارد گرد کے لوگ ہم کوتباہ کر دیں ۔اسلام کی تعلیم تو دوستی کا ہاتھ بڑھانے والی تعلیم ہے ۔امن و محبت کا پیغام دینے والی ہے ۔جو مسلمان اس پر عمل نہیں کرتے وہ ان کی بد قسمتی ہے ۔اب تو میڈیا پر خود ان کے لوگ کہنے لگ گئے ہیں کہ شدت پسند تنظیمیں ہماری اپنی پیدا کی گئی ہیں ۔اس واسطے میں مسلمانوں اور جو اسلام کے نام پر مسلمان کہلاتے ہوئے شدت پسندی کرتے ہیں وہ بری الذمہ نہیں ۔اس آگ کو بھڑکانے میں بڑی طاقتوں کا بہت بڑا حصہ ہے ۔ہر تجزیہ نگار کا میڈیا کے ذریعہ ہر جگہ اپنے خیالات پہنچانا اب بہت آسان ہوگیا ہے ۔ایک طرف شدت پسندوں کو ختم کرنے کی باتیں ہوتی ہیں اور دوسری طرف اسلحہ پہنچانے والوں کی طرف سے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں ۔پس دنیا کے امن کو برباد کرنے والے صرف مسلمان گروہ نہیں ہیں بلکہ بڑی حکومتیں بھی ہین جو اپنے مفادات کو اہمیت دیتی ہیں ۔ایک حقیقی مسلمان تو جانتا ہے کہ خدا سلام ہے ۔ایک جگہ قرآن کریم میں آتا ہے ۔اے اللہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو ان سے در گزر کر اور وہ جلد جان جائیں گے ۔حقیقت کیا ہے ۔یہ ہے اسلام کی تعلیم ۔اسلام مخالفین کی تمام زیادتیوں کو برداشت کر اور کہہ میں سلامتی کا پیغام دیتا ہوں اور دیتا رہونگا ۔پس جب یہ حکم محمد ﷺ کے لئے ہے تو عام مسلمان کے لئے کس قدر بڑھ کر ہوگا ۔ہمارا کام اسلام اور امن کا پیغام پہنچانا ہے ۔قرآن نے کبھی بھی اور کہیں بھی یہ حکم نہیں دیا کہ جو بات نہ مانے تو اس کو تہہ تیغ کر دو ۔اگر کوئی اس کی نفی کر رہا ہے تو دنیا میں امن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو وہ حقیقی اسلام نہیں ہے ۔وہ ان کے اپنے مفادات ہیں یا بڑی طاقتوں کے مفادات ہیں ۔جنہوں نے مسلمانوں کو آلہ کار بنایا ہوا ہے ۔ فرمایا : ہم میں سے ہر ایک کو اور خاص طور پر نوجوانوں کو احساس کمتری میں شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔اسلام امن کی تعلیم دیتا ہے اس تعلیم کا ادراک اور اپنے اوپر لاگو کرنے کی ضرورت ہے ۔اس تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کریں اور اپنے عملی نمونوں سے دنیا کو بتائیں کہ آج قرآن کریم کی صحیح تفسیر اور تشریح ہی اس کی معنوی حفاظت بھی ہے ۔جس کی حفاظت کے لئے حضرت مسیح موعود ؑ کو بھیجا ہے ۔یہ ہر احمدی مرد و عورت اور لڑکے لڑکی کو کوشش کرنی چاہیے ۔اس وقت جس دھہانے پر کھڑی ہے کسی وقت بھی اس میں گر سکتی ہے ایسے وقت میں دنیا کو اس سے بچانے کے لئے کوشش کرنا احمدی کی ذمہ داری ہے اور احمدی ہی کر سکتا ہے ۔اس کے لئے کوشش کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے بڑی چیز خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنا ہے اور اس کا تقوی اپنے دلوں میں پیدا کرنا ہے اسی وجہ سے ہم دنیا کو امن و سلامتی دے سکتے ہیں ۔ آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار ۔ اس خدا سے تعلق کو مضبوط تر کرنے کی ضرورت ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور دنیاداروں کو بھی عقل دے کہ وہ اس فرستادہ کی بات سن کر تباہی سے بچنے کی کوشش کریں ۔ نماز کے بعد تین جنازے دو غائب اور ایک حاضر ۔ایک عنائت اللہ صاحب کا 9 دسمبر کو وفات ہوئی ۔مبلغ سلسلہ تھے ۔والد اللہ بخش صاحب تھے ۔عنائت اللہ احمدی صاحب کی پیدائش جنوری 1920 کی ہے ۔قادیان مین میٹرک کیا 1944 کو وقف کیا اور 1946 سے 1979 تک مبلغ کے طور پر کام کیا ۔1946 سے 173 تک بیرون مبلغ کام کیا۔ایک بیٹے حبیب اللہ احمدی صاحب بھی وقف کی توفیق پا کر وقف میں ہیں۔شیخ مبارک احمد صاحب کے مدد گاروں میں سے تھے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور نسلوں کو بھی خلافت سے وفا کا تعلق رکھے ۔ دوسرا مولوی بشیر احمد صاحب کالا افغانا صاحب درویش قادیان کا ہے ۔1946 میں قادیان آیا تو اس وقت احمدیت کی معلومات نہ تھیں ۔نماز کے لئے کوئی مسجد بتاؤ جو قادیانی کی مسجد نہ ہو ۔خوبصورت مسجد ہے اب میں قادیانیوں کی مسجد میں نہیں جاؤنگا۔ایک دن احراریوں کی مسجد میں بھی گیا تو پھر عہد کیا کہ مسجد اقصی میں ہی نماز ادا کرونگا ۔پھر جماعت سے تعارف ہوا اور احمدیت قبول کر لی ۔1947 میں ملک کی تقسیم کے بعد ارشاد پر حفاظت مرکز کے لئے اپنا نام پیش کر دیا ۔اور درویش میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی ۔1952 میں شادی ہوئی دو بیٹے پیدا ہوئے ۔دہاتی مبلغ کے طور پر بھی خدمت کی توفیق پائی ۔مختلف دفاتر میں بھی کام کیا مینیجر اخبار البدر بھی رہے بڑے وسیع تعلقات تھے ان کے بھی ۔بڑا عزت اور احترام تھا ۔ہمیشہ مسجد میں نماز ادا کرتے تھے وفات والے دن بھی نماز ظہر مسجد میں ادا کی۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے او ر ان کی اولاد کو بھی اس کا وارث بنائے ۔ تیسرا مکرمہ قانتہ بیگم صاحبہ ہیں جو اڑیسہ کی ہیں 16 اکتوبر 2015 کو وفات ہوئی بہت صابرہ شاکرہ تھیں ۔ان کے خاوند سرکاری ملازم تھے پھر بھی غریب عزیزوں کی خدمت کیا کرتے تھے ۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کی درجات بلند فرمائے آمین on.fb.me/21UDDfs

The Mamluk style developed in Egypt and Syria after 1250, and it survived there long after the fall of the last Mamluk sultan in 1517. Geometric patterns became more complex in Mamluk art, and this wooden panel in the Victoria and Albert Museum in London is a fine example of such art.

【Isfahan, Iran】 Islamic arches line up in the Imam mosque of Isfahan

  

Check out my albums:

---------------------------------

• All my photos in Explore

Curated stream of my best photos

• My best selling photos

• All my photos used in book covers

 

Follow my photos in Facebook and Instagram

  

©2019 German Vogel - All rights reserved - No usage allowed in any form without the written consent of the photographer.

Few pictures from my recent trip to Iran, Pakistan, Afghanistan and Turkey. You can find more (with captions!) at www.expedice.org/luke/silkroad

Celebración de Jornadas Islámicas.

Mezquita de Almonaster la Real (Huelva-España).

Few pictures from my recent trip to Iran, Pakistan, Afghanistan and Turkey. You can find more (with captions!) at www.expedice.org/luke/silkroad

LARGE

Gears: Nikon D50, Nikon 18-55mm

Location: Crystal Mosque, Wan Man Island, Kuala Terengganu, Malaysia

 

Because Islamic leaders saw in figural arts a possible implication of idolatry, Islam's early theocracy looked to the artistry of calligraphy for religious expression. In Islamic and Arabic cultures, calligraphy became highly respected as an art -- the art of writing.

 

The Qur'an, played a central role in the development and evolution of Arabic script, and by extension, calligraphy. Today, calligraphy has become the most revered art form in the Islamic world because it links the literary heritage of the Arabic language with the religion of Islam. The result is an artistic tradition of extraordinary beauty, richness and power.

 

Calligraphy is an extremely demanding activity, and most of the great Muslim masters devoted their lives to perfecting their art. Mastery of calligraphy requires not only the discipline of developing technical skill, but also the engagement of the calligrapher's moral force and personality.

 

The scope of Arabic calligraphy is vast and diffuse. What I am presenting is merely a sample of the aesthetic, cultural, and scholarly wealth available.

الصورة الفائزة في مسابقة الحرمين الشريفين بعيون الفوتوغرافيين .

 

رابط الخبر :

bit.ly/PQwirV

NOVI PAZAR, SERBIA, 28 APRIL 2002 --- A Moslem woman in the southern Serbian city of Novi Pazar, near the borders of Montenegro, Kosovo and Bosnia, prepares for worship at a local mosque. A religious revival is now taking place among many of Europe's 40 million followers of Islam..

.

(C) Photo Credit: Mark H. Milstein/ Northfoto

ضع نسخة من هذه الخلقيات على سطح مكتب الكمبيوتور . وجزاك الله خيرا

Download beautiful wallpapers for your desktop, enjoy...

Téléchargez les fond d'écran pour votre bureau

 

The Museum of Islamic Art is a museum located in the Qatari capital Doha and designed by architect I. M. Pei. Interior Design by Jean-Michel Wilmotte. Inaugurated on November 22, 2008.

this is an Islamic video.to watch more videos go to our youtube channel:https://www.youtube.com/channel/UCDLaEVFNCEW3fhpW4TnhM8A

 

Museum of Islamic Art, Doha - Qatar

Please feel free to check out all my photos in this series by typing, "religion series" or clicking this link.

 

www.flickr.com/photos/gammaman/tags/religionseries/

Islamic Arts Museum of Kuala Lumpur, a very nice museum, just near the Masjid Negara.

Islam Khodja Minaret in Khiva, Uzbekistan

Quran , Surat Al-Baqarah " .... but give good tidings to the patient | Who, when disaster strikes them, say, "Indeed we belong to Allah , and indeed to Him we will return"

#Photography And Edit By Eslam Rezo

#ﺗﺼﻮﻳﺮ ﺇﺳﻼﻡ #ﺭﻳﺰﻭ

 

Website | www.eslamrezo.com

Facebook Page | www.facebook.com/EslamRezo.Page

Facebook Account | www.facebook.com/rezo.profile

Twitter Account | www.twitter.com/EslamRezoTweets

Youtube Channel | www.youtube.com/RezoEslam

Soundcloud | www.soundcloud.com/eslamrezo

Deviantart | www.eslamrezo.deviantart.com

Flickr | www.flickr.com/eslamrezo

Behance | www.behance.net/EslamRezo

Linkedin | www.linkedin.com/in/eslamrezo

Instagram | Eslam Rezo

Contact | info@eslamrezo.com OR eslamrezo@live.com

Timur (Persian: تیمور‎‎ Timūr, Chagatai: Temür, Uzbek: Temur; died 18 February 1405), historically known as Tamerlane[1] (Persian: تيمور لنگ‎‎ Timūr(-e) Lang, "Timur the Lame"), was a Turco-Mongol conqueror and the founder of the Timurid Empire in Persia and Central Asia.[2] He was also the first ruler in the Timurid dynasty.

 

Born into the Barlas confederation in Transoxiana during the 1320s or 1330s, Timur gained control of the western Chagatai Khanate by 1370. From that base, he led military campaigns across Western, South and Central Asia, Caucasus and southern Russia, and emerged as the most powerful ruler in the Muslim world after defeating the Mamluks of Egypt and Syria, the emerging Ottoman Empire and the declining Delhi Sultanate. From these conquests he founded the Timurid Empire, but this empire fragmented shortly after his death.

 

and his view

of life

    

25 years ago first met MHMD ISLAM

   

The walkway to the HAJI ALI MOSQUE

and the Haj Ali Bay.

in

Mumbai

  

Photography’s new conscience

linktr.ee/GlennLosack

linktr.ee/GlennLosack

  

glosack.wixsite.com/tbws

    

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ اختتامی خطاب بر موقع جلسہ سالانہ بنگلہ دیش(یوکے سے براہ راست) 07 فروری 2016 ( طالب دعا : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے بنگلہ دیش کا جلسہ سالانہ اختتام کو پہنچ رہا ہے ۔شاملین نے مقررین کی تقریریں بھی سنی ہونگی اور ان میں عملی اور تربیتی اور جلسہ سالانہ کے مقاصد بیان کئے ہونگے ۔جو مقاصد حضرت مسیح موعود ؑ نے بیان فرمائے ہیں وہ یہ ہیں ۔ہر شامل جلسہ خدا تعالیٰ سے تعلق اور اس کی معرفت میں ترقی کرے اور عملی تبدیلی پیدا کرے ۔ایسی عملی تبدیلی جس کا اسوہ حسنہ رسول کریم ﷺ نے پیش فرمایا ۔اور ماننے والوں میں تبدیلی پیدا کی جس کے نمونے ہمیں صحابہ ؓ میں نظر آتے ہیں اور اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے اسی کام کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کو بھیجا ہے ۔ایسے ہی نمونے قائم کرنے کے لئے ۔پھر اللہ تعالیٰ کا یہ بھی احسان ہے کہ ہم میں حضرت مسیح موعود ؑ کے مشن کو جاری رکھنے کے لئے ہم میں خلافت کا نظام بھی جاری فرمایا ہے ۔ جیسا کہ گزشتہ خطبہ میں ذکر کیا تھا ۔حضور ؑ کا مشن یا آپ ؑ کے سلسلہ کا قیام صرف اس بات کو منوانے کے لئے نہیں تھا کہ عیسی ؑ وفات پا چکے ہیں اور اب آسمان سے کسی مسیح نے نہیں آنا ۔بلکہ اس سے بہت بڑھ کر آپ ؑ کی بعثت کا مقصد تھا کہ اللہ کی توحید کا ادراک رکھنے والے او رسول کریم ﷺ کے اسوہ پر چلنے والے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے لوگ پیدا ہوں ۔وہ لوگ پیدا ہوں جو عملی نمونوں کی ایک مثال ہوں ۔پس ہر احمدی جو چاہے دنیا کے کسی بھی حصہ یا خطہ کا ہو اس کی ذمہ داری ہے کہ حضور ؑ کے مشن کو سامنے رکھے ۔ہر وقت اس بات کو دہرائے کہ حضور ؑ بندہ کا تعلق خدا تعالیٰ سے جوڑنے کے لئے آئے تھے ۔آپ ؑ آنحضرت ﷺ کے غلام صادق اور عاشق صادق کی حیثیت سے نبی کریم ﷺ کا مقام دنیا میں قائم کرنے کے لئے آئے تھے ۔دنیا کو بتانے آئے تھے کہ اب خدا تعالیٰ کا پہنچنے کا ذریعہ صرف حضرت محمد ﷺ کی اطاعت سے ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کو سمجھنے کے لئے اور تعلق باللہ کے لئے وسیلہ حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔پھر حضرت مسیح موعود ؑ اسلام کی خوبصورت تعلیم کے مطابق انسان کو انسان کے ایک دوسرے کے حقوق بتا کر اپنے ماننے والوں میں اس کے عملی نمونے قائم کرنے کے لئے آئے تھے ۔پس جب تک ہم میں سے ہر ایک ان باتوں کو نہیں سمجھے گا اس کا جلسہ میں شامل ہو کر نعرے لگانا بے فائدہ ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : وقتی جوش دکھا کر اور نعرے لگا کر ہم اپنی حالتوں میں مستقل تبدیلیاں پیدا نہیں کر سکتے ۔چاہے وہ بنگالی ہے ہندوستانی ، عرب یا یورپین یا جزائر کا رہنے والا ۔جس نے بھی حضرت مسیح موعود ؑ کو مانا ہے اس کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ خدا سے کس طرح تعلق جوڑ کر اس کی توحید کو قائم کرنا ہے ۔آنحضرت ﷺ کی تعلیم اور آپ ﷺ کے مقام کو دنیا میں کس طرح قائم کرنا ہے ۔حقوق العباد کس طرح ادا کرنے ہیں ۔پس آپ جو بنگلہ دیش میں جو میری باتیں سن رہے ہیں اس بات کو ذہن میں بیٹھا کر عہد کریں کہ آپ نے حضرت مسیح موعود ؑ کی باتیں پوری کرنے کے لئے ایک نمونہ بننا ہے ۔جب تک ہمارے عملی نمونے قائم نہیں ہونگے ۔نہ ہی ہماری عملی اصلاح ہو سکتی ہے اور نہ ہی تبلیغ میں کامیابی ہو سکتی ہے ۔اس میں اچھا کام کرنے کے لئے ہم کو ارشادات حضرت مسیح موعو د ؑ سے مدد لینی ہوگی ۔پس اس حوالہ سے میں حضرت مسیح موعود ؑ کے بعض ارشادات پیش کرونگا۔اور یہی ہمارے لئے لائحہ عمل ہیں ۔اور ان پر عمل ہی اور ان کا حقیقی ادراک ہی ہم کو حقیقی مسلمان بناتا ہے ۔اور حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت میں حقیقی رنگ میں شامل ہونے والا بناتا ہے ۔حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں : یاد رہے کہ حقیقی توحید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو ہر ایک بت سے اس کا شریک ٹھہرانے سے پاک رکھے ۔آپ ؑ نے فرمایا : خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر فریب ہو اس سے پاک سمجھنا ،اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا ۔کوئی رازق نہ ماننا ۔کوئی معوذ یا ممد خیال نہ کرنا ۔(یعنی یہ ہمیشہ ذہن میں رکھنے والا کہ اللہ تعالیٰ ہی عزتیں دینے والا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ذلیل کرتا ہے ۔اگر غلط کام کیا جائے ۔)کوئی ناصر اور مددگار قرار نہ دینا ۔دوسرا یہ کہ اپنی محبت اسی سے خاص کرنا ۔اپنا تذلل اسی سے خاص کرنا ۔اپنی امیدیں اسی سے خاص کرنا ۔اپنا خوف اسی سے خاص کرنا ۔پس کوئی توحید بغیر ان تین قسموں کی تخصیص کے کامل نہیں ہو سکتی ۔پھر مزید فرمایا : اول ذات کے لحاظ سے توحید ،یعنی یہ کہ اس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو محدوم کی طرح سمجھنا ۔اور تمام کو ہلاک ہونے والی اور کوئی حقیقت تسلیم نہ کرنا خدا تعالیٰ کے مقابل پر ۔دوئم : صفات کے لحاظ سے توحید۔یعنی یہ کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفحات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا ۔وہی ہے جو ہمارا رب اور ہماری پرورش کرنے والا ہے اسی کی ہم نے عبادت کرنی ہے وہی معبود ہے ۔اور جو بظاہر رب الانواع یا فیض دینے والے نظر آتے ہیں ان کو بھی اسی سے خیال کرنا ۔تیسرا : اپنی محبت اور صدق و صفا کے لحاظ سے توحید ۔ یعنی محبت وغیرہ میں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ بنانا ۔اور اسی میں گوئے جانا ۔پس یہ حقیقی توحید ہے ۔اللہ کی محبت میں کھو ئے جانا اور خالص ہو کر اس کی عبادت کرنا اور اس کی بندگی اختیار کرنا۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :اب ہر ایک اپنا جائزہ لے کہ یہ تعلق ہمارا خدا تعالیٰ سے قائم ہے ۔؟یا ہم قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔؟ یا وقت پر یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہیں لیکن عملا وقت آئے تو غیر اللہ پر ہم انحصار کرتے ہیں ۔اگر ہم اس معیار کی توحید پر قائم ہو جائیں جو حضرت مسیح موعود ؑ نے بیان فرمائی ہے تو پھر وہ خدا بھی ملتا ہے جس سے ملانے کے لئے آپ ؑ تشریف لائے ۔پھر دوسری بات : آنحضرت ﷺ کا مقام و مرتبہ کا ادراک پیدا کرنا ہے ۔جس کے پیدا کروانے کے لئے حضرت مسیح موعود ؑ نے ہم کو بار بار نصیحت فرمائی ہے ۔حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں : غور کر کے دیکھو کہ جب یہ لوگ خلاف قرآن و سنت کہتے ہیں کہ حضرت عیسی ؑ زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں ۔تو پادریوں کو نقطہ چینی کا موقع ملتا ہے وہ کہتے ہیں کہ تمہارا پیغمبر نعوذبا للہ وفات پا گئے اور حضر ت عیسی ؑ زندہ اور نبی کریم ﷺ مردہ ہیں ۔سوچ کر بتاؤ جو پیغمبر افضل الرسل ہے ایسا خیال کر کے اس کی عظمت کو بھٹہ نہیں لگاتے ۔ضرور لگاتے ہیں اور خود آنحضرت ﷺ کی توہین کا ارتکاب کرتے ہیں ۔فرمایا : کہ میں یقین رکھتا ہوں کہ پادریوں سے جس قدر توہین ان لوگوں نے کروائی ہے اور نبی کریم ﷺ کو مردہ کہلوایا ہے ۔اسی کی سزا میں یہ بد بختی ان کے شامل حال ہو رہی ہے ۔اسی وجہ سے وہ خوار ہو رہے ہیں ۔ایک طرف افضل الرسول کہتے ہیں اور دوسری طرف 63 سال کے بعد مردہ خیال کرتے ہیں اور عیسی ؑ زندہ ہے اور نہیں مرا ۔جب کہ اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو فرماتا ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے ۔پھر کیا یہ ارشاد الہی غلط ہے ۔نہیں یہ بالکل درست ہے بلکہ وہ جھوٹے ہے جو نبی کریم ﷺ کو مردہ کہتے ہیں ۔اس سے بڑ ھ کر کوئی کلمہ توہین کا نہیں ہو سکتا ۔حقیقت یہی ہے کہ نبی کریم ﷺ میں ایسی فضیلت ہے جو کسی نبی میں نہیں ہے ۔میں اس کو عزیز رکھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کی حیات کو جو شخص بیان نہیں کرتا وہ میرے نزدیک کافر ہے ۔پھر حضرت مسیح موعود ؑ آنحضرت ﷺ کے مقام و مرتبہ کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں : میں قرآن شریف سے استنباط کرتا ہوں کہ سب انبیاء کے وصفی نام آنحضرت ﷺ کو دیئے گئے ۔کیونکہ آپ ﷺ تمام انبیاء کے فضائل کے جامع تھے ۔اور اسی طرح جیسے تمام انبیاء کے کمالات آپ کو ملے قرآن شریف بھی جمیع کتب کی خوبیوں کا جامع ہے ۔چنانچہ فرمایا : فیھا کتب قیمہ۔یعنی اس میں قائم رہنے والی اور قائم رکھنے والی تعلیمات ہیں ۔اور ہم نے کوئی کمی نہیں کی اس کتاب میں ۔ایسا ہی ایک جگہ یہ حکم رسو ل کریم ﷺ کو دیا ہے کہ تمام نبیوں کی اقتداء کر ۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ امر دو قسم کا ہوتا ہے ۔ایک امر تو تشریحی ہوتا ہے جیسا کہا نماز قائم کرو اور زکوة دو ۔بعض امر بطور خلق ہوتے ہیں ۔جیسا یا نار کونی بردا و سلما علی ابراہیم ۔یہ امر جو تم سب کی اقتداء کر یہ بھی خلقی اور کونی ہے ۔یعنی تیری فطرت کو حکم دیا جو کمالات تمام انبیاء میں موجود تھے اس میں سب کے سب موجود ہوں اور گویا اس کے ساتھ ہی وہ کمالات اور خوبیاں آپ ﷺ کی ذات میں جمع ہو گئیں ۔پھر آیت خاتم النبیین کا حقیقی مفہوم بیان کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں :چنانچہ ان خوبیوں اور کمالات کا ہی نتیجہ تھا کہ آپ ﷺ پر نبوت ختم ہو گئی ۔اور یہ فرمایا : ہم نے نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین بنایا ہے ۔ختم نبوت کے یہی معنی ہیں کہ نبوت کی ساری خوبیاں اور کمال تجھ پر مکمل ہو گئے ۔اور آئندہ کے لئے کمالات نبوت کا باغ بند ہوگیا۔اور کوئی نبی مستقل طور پر نہ آئے گا۔نبی عربی اور عرابی دونوں زبانوں میں مشترک لفظ ہے ۔جس کے معنی ہیں خدا سے خبر پانے والا۔اور پیشگوئی کرنے والا ۔جو لوگ خود براہ راست خدا سے خبریں پاتے تھے وہ نبی کہلاتے تھے ۔یہ گویا اصطلاح ہو گئی تھی ۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ کے لئے خدا نے اس کو بند کر دیا ہے ۔اورمہر لگا دی ہے کہ کوئی نبی رسول کریم ﷺ کی مہر کے بغیر نہیں ہو سکتا۔جب تک آپ کی امت میں داخل نہ ہو ۔اور آپ ﷺ کے فیض سے مستفیض نہ ہو ۔وہ خدا تعالیٰ سے مکالمہ کا شرف نہیں پا سکتا ۔جب تک آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل نہ ہو ۔اگر کوئی ایسا ہے کہ وہ بدوں اس امت میں داخل ہونے یا نبی کریم ﷺ سے فیض پانے کے بغیر مکالمہ الہیہ حاصل کر سکتا ہے تو اسے میرے سامنے پیش کرو ۔پھر آپ ؑ فرماتے ہیں : دیکھو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اگر خدا کی محبت پانا چاہتے ہو تو صرف رسول کریم ﷺ کی پیروری سے ہی محبت مل سکے گی ۔اور اس کے علاوہ کوئی راہ نہیں ۔کہ تم کو خدا سے ملا دے ۔خدا کا مدعا صرف ایک واحد خدا ہونا چاہیے ۔شرک اور بدعت اسے اجتناب کرنا چاہیے ۔رسول کا تابع نہ ہو اور حوا و ہوس کا تابع نہ ہو ۔دیکھو میں پھر کہتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ کی سچی راہ کے سوا اور کسی طرح انسان کامیاب نہیں ہو سکتا۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ ہمارا صرف ایک ہی رسول ہے اور ایک ہی قرآن شریف جو اس رسول پر نازل ہوا ہے جس کی پیروی سے ہم خدا تعالیٰ کو پا سکتے ہیں ۔ آج کل کے پیروں کے وظیفے سب خدا کی راہ سے بھٹکانے کا ذریعہ ہے اس سے بچو۔ان لوگوں نے رسول کریم ﷺ کی خاتم النبیین کی مہر کو توڑنا چاہا ۔گویا اپنی الگ ایک شریعت بنا لی ہے یاد رکھو کہ قرآن شریف اور رسول کریم ﷺ کی پیروی اور نماز روزہ کے علاوہ برکات خدا کے کھولنے کی اور کوئی کنجی نہیں ہے ۔بھولا ہوا ہے وہ جو ان راہوں کو چھوڑ کر کوئی نئی راہ نکالتا ہے ۔ناکام مرے گا وہ جو اللہ اور اس کے رسول کا تابعدار نہیں ۔بلکہ اور اور راہون سے اس کو تلاش کرتا ہے ۔پس نہ کوئی پیر نجات کا باعث بن سکتا ہے نہ کوئی مولوی ۔اللہ تعالیٰ کی رضا حضرت محمد ﷺ کی پیروی اور اتباع میں ہے ۔پھر جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ حضرت مسیح موعود ؑ بندوں کے ایک دوسرے کے حقوق قائم کرنے کا ادراک کروانے بھی آئے تھے ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :آپ ؑ نے بتایا کہ اگر تم ایک دوسرے کے حقوق قائم نہ کرو گے تو نہ ہی خدا سے اور نہ ہی رسول ﷺ سے تعلق ہے اور نہ ہی اسلام سے کوئی تعلق ہے ۔آپ ؑ نے ہمیں بتایا آنحضرت ﷺ نے امن اور صلح اور بندوں کے حقوق قائم کرنے کی بنیاد ڈالی ۔آپ ؑ نے ہمیں اللہ تعالیٰ کے اس بھیجے ہوئے نبی کریم ﷺ جو رحمت للعالمین ہیں ان کا صحیح ادراک پیدا کروایا۔آپ ؑ نے بتایا کہ قرآن کریم نے ہر طبقہ کے حقوق قائم کئے ہیں ۔ہم تمام نبیوں کو سچا سمجھنے والا اصول امن کی صلح ڈالنے والا ہے اور امن بخش ہے ۔خواہ ہند میں ظاہر ہوئے یا فارس یا چین میں ۔یا کسی اور ملک میں اور خدا نے کڑورہا دلوں میں ان کی محبت بیٹھا دی ۔اور ان کے مذہب کی جڑ قائم کر دی ۔اور کئی صدیوں تک وہ مذہب رہا ۔یہی اصول ہے جو قران کریم نے سکھلایا ۔اسی کی وجہ سے ہم ہر مذہب کے پیشوا کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔گو وہ ہندوؤں کے مذہب کے پیشو ا ہوں یا فارسیوں کے مذہب کے یا چینیوں کے مذہب کے ۔یا یہودیوں کے مذہب کے یا عیسائیوں کے مذہب کے ۔پھر فرمایا : اسلام کی رو سے دین کے حصے دو ہیں ۔اول ایک خدا کو جاننا ۔جیسا کہ وہ فی الواقعہ موجود ہے اور اس سے محبت کرنا اور سچی اطاعت میں لگ جانا ۔جیسا کہ شرط اطاعت اور محبت ہے ۔دوسرا مقصد یہ ہے کہ اس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی میں اپنے قوی کو خرچ کرنا ۔اور بادشاہ سے لیکر ادنی انسان تک جو احسان کرنے والا ہو شکر گزاری اور اچھا سلوک کرنا ۔پس یہ ہے وہ مقصد جس کو ہر اس شخص کو جو مسلمان ہونے کا دعوی کرتا ہے اپنے اوپر لاگو کرنے کی ضرورت ہے ۔اسی کے لئے ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہیے ۔افسوس کے اس کو مسلمان بھولے ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے فتنہ و فساد اسلامی ممالک میں ہے ۔رعایا اور حکومت ایک دوسرے کی گردن مار رہے ہیں اور ہر ایک دوسرے کو نقصان دینے والا ہے اور حکومت عوام سے او ر عوام حکومت سے ناجائز مطالبہ کرتے ہیں ۔جب تک دونوں طرف سے انصاف ہو ملک میں امن رہتا ہے ۔جب کوئی بد اعتدالی ہوتی ہے کسی بھی طرف سے امن اٹھ جاتا ہے ۔پس جب تک دونوں طرف سے انصاف نہ ہو فرض پورے نہ ہوں اور حقوق ادا نہ کئے جائیں امن اور سلامتی قائم نہیں رہ سکتے ۔اور یہی آج کل جیسا میں نے کہا مسلمان کہلوانے والے کا المیہ ہے ۔ہم احمدیوں نے جس جس ملک میں وہ ہیں اسلام کی حقیقی تعلیم کو اور انصاف کی تعلیم کو دنیا کو روشناس کرنا ہے ۔تا کہ امن سلامتی قائم ہو ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :ایک حقیقی احمدی کو کس طرح حقوق العباد ادا کرنے چاہیے اس بارہ میں حضور ؑ فرماتے ہیں : اصل بات یہ ہے کہ سب سے مشکل اور نازک مرحلہ حقوق العباد کا ہی ہے ۔کیونکہ ہر وقت اس کا معاملہ پڑتا ہے ۔اور ہر آن یہ ابتلاء سامنے رہتا ہے ۔پس اس مرحلہ پر بہت ہوشیار ی سے قدم اٹھانا چاہیے ۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی حد سے زیادہ سختی نہ ہو ۔بعض لوگ چاہتے ہیں جہاں تک ہو اس کی بربادی کی جائے ۔پھر وہ اس فکر میں پڑ کر جائز اور ناجائز امور کی بھی پرواہ نہیں کرتے ۔اس کو بدنام کرنے کے واسطے جھوٹی تہمت اس پر لگاتے ۔افتراء کرتے اور غیبت کرتے ۔اور دوسروں کو اس کے خلاف اکساتے ہیں ۔اب بتاؤ معمولی دشمنی سے کس طرح کی برائیوںٍ کا وہ مالک بنا پھر جب ان کے بچے ہوں گے تو کہاں تک بات جائے گی ۔میں سچ سچ کہتا ہوں تم کسی کو اپنا ذاتی دشمن نہ سمجھو ۔اور اس کینہ طوری کی حالت کو بالکل ترک کر دو ۔اگر خدا تعالیٰ کے ساتھ اور تم اس کے ہو جاؤ تو وہ دشمنوں کو بھی تمہارے خادموں میں داخل کر سکتا ہے ۔لیکن اگر خدا سے ہی دور ہو تو کوئی رشتہ اس سے نہیں اس کی خلاف ورزی تمہارا چال چلن ہے ۔پھر خدا سے بڑھ کر تمہارا دشمن کون ہوگا۔ مخلوق کی دشمنی سے انسان بچ سکتا ہے مگر خدا کی دشمن سے باوجود ساری مخلوق دشمن ہو بچ نہیں سکتا۔اس لئے تمہارا طریق نبیوں کا طریق ہو ۔خدا تعالیٰ کا منشاء یہی ہے کہ ذاتی دشمنی نہ ہو ۔خوب یاد رکھو کہ انسان کو شرف اور سعادت تب ملتی ہے جب تک وہ ذاتی طور پر کسی کا دشمن نہ ہو ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :پھر اعلی اخلاق اور حقوق العباد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور ؑ نے فرمایا : ہر شخص کو ہر روز اپنا مطالعہ کرنا چاہیے کہ وہ کہاں تک ان امور کی پرواہ کرتا ہے ۔اور کہاں تک وہ اپنے بھائیوں سے ہمددری اور محبت کرتا ہے بہت بھاری مطالبہ انسان کے ذمہ ہے ۔حدیث ہے کہ قیامت کو اللہ کہے گا میں بھوکاتھا تم نے کھانا نہ کھلایا ، پیاسا تھا پانی نہ دیا ۔بیمار تھا عیادت نہ دی ۔جن لوگو ں سے سوال ہوگا وہ کہیں گے اے رب تو کب بھوکا تھا جو ہم نے کھانا نہ دیا ۔تو کب پیاسا تھا جو پانی نہ دیا ۔کب بیمار تھا جو عیادت نہ کی ۔پھر خدا فرمائے گا میرا فلاں بندہ اس کا محتاج تھا تم نے اس کی کوئی ہمدردی نہ کی ۔ایسا ہی ایک اور جماعت کو کہے گا شاباش تم نے میری ہمدردی کی ۔میں بھوکا تھا تم نے مجھے پانی پلایا ۔وہ جماعت کہے گی ہم نے کب ایسا کہا ۔تب اللہ تعالیٰ جواب دے گا تم نے میرے فلاں بندے کے ساتھ جو ہمدردی کی وہ میری ہمدردی تھی ۔دراسل خدا کی کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرنا بہت بڑی بات ہے ۔عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کسی آقا کا خادم کسی کے پاس جائے اور اس کی خبر بھی نہ لے کیا وہ آقا اس سے خوش ہوگا ۔کبھی نہیں ۔حالانکہ اس کو اس نے کوئی تکلیف نہیں دی مگر نہیں اس نوکر کی خدمت گویا مالک کے ساتھ حسن سلوک ہے ۔جو خدا کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرتا ہے وہ گویا خدا کو راضی کرتا ہے ۔غرض اخلاق ہی ساری ترقیات کا زینہ ہے ۔میری دانست میں یہی پہلو حقوق العباد کا جو حقوق اللہ کے پہلو کو تقویت دیتا ہے ۔جو شخص نوع انسان کے ساتھ اخلاص سے پیش آتا ہے خدا تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرتا ۔اس سے ایمان قوی ہو جاتا ہے ۔یاد رکھنا چاہیے نمائش کے لئے جو اخلاق ہوں وہ خدا تعالیٰ کے لئے نہیں ہوتے ۔اور ان میں اخلاص کے نہ ہونے کی وجہ سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا ۔اس طرح تو بہت سے لوگ سرائیں وغیرہ بنا دیتے ہیں ۔ان کی اصل غرض شہرت ہوتی ہے ۔اگر کوئی انسان خدا کے لئے کوئی کام کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرتا ہے ۔اور اس کا بدلہ دیتا ہے ۔فرمایا : تذکرة الالیاء میں لکھا ہے کہ ولی نے کہا بارش ہوئی اور کوئی روز تک رہی بارش کے دنوں میں اسی برس کا گبر بوڑھا کھوٹھے پر چڑیوں کے لئے دانے ڈال رہا ہے ۔میں نے اس وجہ سے کہ آتش پرست کے اعمال غبن ہو جاتے ہیں اس سے کہا تمہیں ان کا کوئی ثواب ہوگا۔اس گبر نے جواب دیا ہاں ضرور ہوگا۔ پھر وہی ولی اللہ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ حج کو گیا وہی گبر طواف کر رہا ہے اور اس نے پہچان لیا اور کہا دیکھو ان دانوں کا ثواب مل گیا۔یا نہیں ملا ۔یعنی وہی دانے میرے اسلام لانے کا موجب ہو گئے ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ رحم کی تعلیم دی ہے یہی اسلامی تعلیم ہے ۔اللہ نے فرمایا ہے کہ تمام مسلمان مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ایسی صورت میں کے تم میں اسلامی اخوت قائم ہو ۔آپ احمدیوں کو مخاطب کر کے فرما رہے ہیں کہ ایک تو اسلامی اخوت قائم ہو پھر دوسری اخوت بھی بڑھے ۔آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے دو ہی قسم کے حقوق رکھے ہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد ۔جو حقوق العباد کی پرواہ نہ کرے وہ حقوق اللہ بھی چھوڑ دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بڑھنے اور اس کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اور نبی کریم ﷺ کے مقام کو سمجھنے اور غلام صادق حضرت مسیح موعود ؑ کے مقصد کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپس میں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی توفیق دے ہم صحیح اسلامی تعلیم کو پھیلانے والے ہوں ۔اور دنیا پر ثابت کرنے والے ہوں کہ اسلام پر عمل کرکے خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کرے ہم سب اس پر عمل کرنے والے ہوں ۔اللہ تعالیٰ بنگلہ دیش میں سب شاملین کو خیریت سے اپنے گھروں کو واپس لے جائے اور ان کے گھروں میں بھی ہر طرح سے خیریت رکھے ۔بنگلہ دیش کے حالات بھی بعض دنوں میں خراب ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو محفوظ رکھے اور دنیا میں جہاں جہاں حالات خراب ہیں وہاں سب احمدیوں کو اپنی حفاظت میں رکھے ۔ ( بنگلہ دیش میں شاملین 5800 اور لندن میں 3726 شاملین تھے ۔) on.fb.me/1SWd4SU

Le Musée des Antiquités et des Arts islamiques est le plus ancien musée d'Algérie et l'un des plus anciens d'Afrique.

 

En effet, ce dernier fut créé en 1835 alors que son installation, dans l'actuel bâtiment, date de 1897.

 

Ce riche musée est divisé en deux pavillons : l'un dédié aux antiquités et l'autre aux arts islamiques.

 

Alger-Centre - Wilaya d'Alger - Algérie

 

Décembre 2016

Islamic Wallpapers, Visite www.muslimblog.co.in for more

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 30 اکتوبرر 2015 بیت الفتوح یوکے تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : حضرت مسیح موعود ؑ کے واقعات اور آپ کی حکایات کو حضرت مصلح موعود ؓ نے اپنی تقاریر میں بیان کیا ہوا ہے ان کو آج میں بیان کرونگا۔ ہر واقعہ اپنے اندر نصیحت کا ایک پہلو رکھتا ہے ۔اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ افراد جماعت کو اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہیے دینی علم رکھنے والے بھی حالات حاضرہ سے بھی واقفیت رکھیں اور تاریخ سے بھی ۔خاص طور پر مربیان کو چاہیے کہ خاص طور پر توجہ دیں ۔آج کل کی دنیا میں یہ معلومات فوری طور پر بڑی آسانی سے مہیا ہو جاتی ہیں۔ایک حکایت جو علم کو بڑھانے اور موقع محل کے مطابق اپنی علمی صلاحیت کے اندر رہنے کی طرف توجہ دلاتی ہے ۔ آپ ؓ نے فرمایا : کہ حضور ؑ سے واقعہ سنا ہے آپ فرمایا کرتے تھے کوئی شخص تھا جو بزرگ ظاہر کرتا تھا۔کسی بادشاہ کا وزیر اس کا معتقد ہو گیا اور ہر طرف اس کی تعریف کرنی شروع کر دی ۔اور بادشاہ کو بھی کہا کہ آپ اس کی زیارت کریں ۔بادشاہ نے کہا فلاں دن میں اس بزرگ کے پاس جاؤنگا۔وزیر نے یہ بات اس بزرگ کو پہنچا دی اور آپ اس سے باتیں کریں کہ وہ اثر لے کر معتقد ہو جائے ۔آپ لکھتے ہیں کہ معلوم نہیں وہ بزرگ تھا کہ نہیں ۔مگر واقعات بتاتے ہیں کہ وہ بیوقوف ضرور تھا ۔جب اس کو اطلاع ملی تو اس نے کچھ باتیں سوچ لیں اور بادشاہ کی ملاقات کے وقت کہنے لگا بادشاہ جی آپ کو انصاف کرنا چاہیے ۔دیکھئے مسلمانوں کا سکندر نامی بادشاہ گزرا ہے ۔جب کہ وہ مسلمانوں سے پہلے کا تھا ۔جس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ رسول کریم ﷺ کے سینکڑوں سال بعد ہواتھا۔یہ غلط تھا نتیجہ یہ ہوا ہے بادشاہ اس سے بد ظن ہوگیا او ر فورا اٹھ کر چلا آیا۔فرمایا تاریخ دانی بزرگی کی شرط نہیں ۔مگر یہ مصیبت خود ساختہ بزرگ نے اپنے اوپر سہیڑی ۔اس لئے علم صحیح ہونا چاہیے جو بھی بات کرے اس کے بارہ میں تسلی ہونی چاہیے ۔اس شخص کو اس کے نفس کی خواہش نے ہلاک کر دیا۔پھر ایک جگہ حضرت مولوی عبد الکریم ؓ کے حوالہ سے حضرت مسیح موعود ؑ کے دل کی نرمی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :لوگوں کو بڑی جلدی ہوتی ہے بددعا کرنے پر بلکہ ہم کو اپنے مخالفین کے لئے دعا کرنی چاہیے ۔آخر انہوں نے بھی ایمان لانا ہے ۔مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں چوبارے پر رہتا تھا حضرت مسیح موعود ؑ مکان کے نچلے حصہ میں تھے ۔ایک رات اس طرح رونے کی آواز آئی کہ جیسا عورت درد زہ سے چلاتی ہو جب سنا تو معلوم ہوا کہ حضور ؑ دعا کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں اے خدا طاعون پڑی ہوئی اور لوگ مر رہے ہیں اگر یہ سب مر گئے تو تجھ پر ایمان کون لائے گا۔طاعون وہ نشان تھا جس کی پیشگوئی رسول کریم ﷺ نے کی تھی جب طاعون آئی تو وہی شخص خدا کے سامنے گڑگڑاتا ۔پس مومن کو عام لوگوں کے لئے بد دعا نہیں کرنی چاہے ۔ احمدیت قائم ہی اسلام کو بچانے کے لئے ہوئی ہے ۔احمدیت قائم ہی مسلمانوں کو بچانے کے لئے ہوئی ہے ۔اور کھوئی ہوئی عظمت مسلمانوں کو واپس دلانے کے لئے ہوئی ۔آپ ؑ فرماتے ہیں کہ اے میرے دل ان کے جذبات کا خیال رکھا کر تا کہ تو تنگ آ کر بد دعا نہ کرے کیونکہ ان کو رسول کریم ﷺ سے محبت ہے اور اسی محبت کی وجہ سے تم کو گالی دیتے ہیں ۔پس عوام الناس لا علم ہے ۔مولوی کے پڑھنے پر اپنا اظہار کر دیتا ہے ۔آج بھی واقعات لکھتے ہیں کہ جب حقیقت بتائی گئی تو کایا پلٹ گئی ۔پس ہماری دعا یہ ہونی چاہیے کہ اللہ امت کو علماء سوء سے بچائے اور ان کو اچھے لیڈر عطا فرمائے ۔پھر حقیقی لیڈر کے لئے حالات مشکلات میں اس کے لئے بہتری کے سامان پیدا کر دیتا ہے ۔اگر کوئی قوم واقعہ میں مسلمان بن جائے تو اس کی تمام مشکلات موجب نجات اور ترقی ہو جاتی ہے ۔ہر مصیبت اور مشکل جو آتی ہے اس کے پیچھے سکھ اور آسانیاں ہوتی ہیں ۔ہماری مشکلات مستقبل کی خوشخبریاں دینے کے لئے ہیں ۔ہر ابتلاء کے بعد ہمارے لئے اللہ کے فضل سے ترقیات لے کر آیا ہے ۔کہ بد خیالات کا اثر بغیر ظاہری اسباب کے صرف صحبت سے بھی ہو جاتا ہے ۔کوئی کسی کو برائی میں پڑنے کی ترغیب دے یا نہ دے ۔اگر صحبت میں ہو تو وہ برائی لا شعوری طور پر پیدا ہو جاتی ہے ۔اس بات کو بیان فرماتے ہوئے آپ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ سکھ طالبعلم نے جو حضور ؑ سے اخلاص کا تعلق رکھتا تھا ۔پیغام بھیجا کہ پہلے مجھے خدا پر یقین تھا مگر اب میرے دل میں اس کے متعلق شکوک پڑنے لگ گئے ہیں ۔آپ ؑ نے اس کو فرمایا اپنی جگہ بدل لو ۔پھر اس سکھ نے بتایا کہ اب خدا تعالیٰ کے بارہ میں کوئی شک پیدا نہیں ہوتا ۔صحبت کی وجہ سے دہریہ کا بد اثر اس پر پڑ رہا تھا۔صحبت اپنا اثر رکھتی ہے ۔پس دنیا میں خیالات ایک دوسرے پر اثر کر رہے ہوتے ہیں مگر ان کا پتہ نہیں لگتا ۔پس خاص طور پر نوجوانوں کو بھی توجہ دینی چاہیے کہ ان کی دوستیاں ایسی ہوں کہ ان پر بد اثر نہ ڈالیں۔ٹی وی پروگرام کے بارہ میں بڑوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے ۔اگر وہ خود دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔کبھی نہ کبھی ان کو بچے دیکھ لیتے ہیں دوسرے لا شعوری طور پر اثر ہو رہا ہوتا ہے ۔بعض دیر تک دیکھتے ہیں اور فجر پر نہیں جاگتے۔پس والدین کا فرض ہے کہ اپنے گھر کے ماحول کو پاک صاف رکھیں ۔حضور ؑ بعض لوگوں کو کہہ دیا کرتے تھے کہ دعا کے لئے تعلق کی ضرورت ہوتی ہے ۔کہ تم ایک نذر مقرر کرو میں دعا کرونگا۔یہ طریق اس لئے تھا کہ تعلق بڑھے ۔ایک بزرگ سے بھی کوئی دعا کروانے گیا اس کے کہا میں دعا کروں گا پہلے میرے لئے حلوہ لا ؤ۔جب حلوہ لینے گیا تو جس کاغذ پر ڈالنے لگا تھا اس نے کہا یہ کاغذات میرے ہیں ۔اس بزرگ نے کہا میری غرض حلوہ سے یہ تھی کہ ایک تعلق پیدا ہو۔بہت سے ایسے واقعات حضور ؑ کے حوالہ سے ملتے ہیں ۔جب کسی مخلص کے کاروبار کی بہتری یا اس کی صحت کے لئے خاص درد کے ساتھ دعا کی کہ وہ آپ ؑ کے مشن اور اشاعت اسلام کے لئے مالی مدد بہت کرتے تھے ۔پس ان قربانیوں کی وجہ سے خاص تعلق پیدا ہوگیا تھا۔نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے ایک دفعہ آپ ؓ نے حضرت مسیح موعود ؑ کے حوالہ سے بیان کیا ۔کہ دو صحابیوں کے بارہ میں سنایا کرتے تھے ایک بازار میں گھوڑا بیچنے لایا گیا ۔قیمت بتائی گئی خریدنے والے نے کہا یہ نہیں اس کی زیادہ قیمت ہے ۔بیچنے والا وہی لینے پر تھا خریدنے والا اس سے زیادہ دینے پر قائم تھے ۔یہ دیانت کا معمولی واقعہ ہے ۔ہر ایک کی یہ سوچ ہو جائے کہ نیکی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا ہے۔شچائی پر قائم رہنا ہے ۔جہاں اپن تربیت کے لئے فائدہ مند ہوگی ہماری نسلوں کی تربیت بھی کرے گی ۔اور جماعت کی ترقی کا بھی باعث بنے گی ۔پس یہ معیار ہیں جو دیانت داری کے قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔پھر ایک اور اہم بات جس کی طرف ہر احمدی کو توجہ دینی چاہیے کہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ تمام خوبیوں کی مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔کسی کو ہدایت دینا بھی اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔پیغام پہنچانا ہمارا کام ہے ۔یہ کبھی خیال نہیں کرنا چاہیے کہ فلاں شخص احمدی ہو جائے تو جماعت ترقی کرے گی ۔یہ بھی نہیں کہناچاہیے ۔حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں بعض لوگ حضور ؑ کے پاس آتے کہ فلاں شخص ہمارے گاؤں کا احمدی ہو جائے تو ہم ایمان لے آئیں گے ۔یہ خیال غلط ہے ۔ایک گاؤں میں تین مولوی تھے لوگ کہتے یہ مان لیں تو ہم بھی مان لیں گے اس طرح دو نے بیعت کر لی پھر بھی لوگ نہ مانے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہماری توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہونی چاہیے اور انحصار بھی ۔نہ کہ لوگوں کی طرف نظر رکھی جائے ۔فرمایا: مجھے بعض دفعہ لکھتے ہیں کہ فلاں شخص نے کہا یہ شرط ہے اس کی اگر پوری ہو جائے تو احمدی ہو جائے گا اور اگر وہ احمدی ہو جائے گا تو ہمارے علاقہ میں انقلاب آجائے گا بلکہ اس سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ اخلاص والے لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوں ۔انسانیت کو درد سے بچانے کا درد کتنا تھا ۔آپ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ؑ کے زمانہ میں ادنی عورت ان پڑھ آئی ۔اور کہنے لگی حضور میرا بیٹا عیسائی ہو گیا آپ دعا کریں کہ وہ مسلمان ہو جائے ۔آپ ؑ نے فرمایا اس کو میرے پاس بھیجا کرو ۔وہ بیمار تھا اور علاج کے لئے آیا تھا ۔آپ فرماتے ہیں کہ اس کو سل کی بیماری تھی ۔چنانچہ حضور ؑ جب آپ کے پاس وہ آتا اس کو نصیحت کرتے رہے جب اثر ہونے لگا اس نے خیال کیا کہیں میں مسلمان ہی نہ ہو جاؤں ۔وہ بٹالہ بھاگ گیا۔جب ماں کو پتہ چلا تو وہ رات و رات پیدل گئی اور واپس لے آئی ۔وہ عورت پیروں پر گر جاتی تھی اور کہتی تھی مجھے اپنا بیٹا پیارا نہیں اسلام پیارا ہے ۔میری خواہش ہے یہ مسلمان ہو جائے پھر بیشک مر جائے ۔وہ اسلام لے آیا اور چند دن کے بعد فوت ہوگیا۔اس عورت کو بھی پتہ تھا دین میں واپس لانے کے لئے کوئی حیلہ ہو سکتا ہے تو وہ حضرت مسیح موعود ؑ ہی ہیں ۔ پھر افراد جماعت کو ہنر سیکھنے اور محنت کرنے کی طرف بہت توجہ دلائی ہے ۔ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ؑ کے زمانہ کا ۔کہ معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والا نوجوان تھا ۔حضور ؑ کے پاس رہتا تھا حضرت مسیح موعود ؑ کے پاس ایک لڑکا تھا ۔مخلص اور دیندار تھا ۔معمولی عقل کا یہ حال تھا ایک دفعہ باہر مہمان آئے حضور ؑ کے گھر سے ہی کھانا جاتا تھا شیخ رحمت اللہ صاحب وغیرہ قادیان آئے حضور ؑ نے ان کے لئے چائے تیار کروائی اورفجے کو کہا کہ ان کو چائے پلا آئیں ۔اور اس خیال سے کہ کسی کو بھول نہ جائے پانچوں کو چائے دینی ہے ۔ایک ملازم تھے ان کو بھی ساتھ کر دیا اور جب دونوں یہ چائے لیکر گئے پتہ لگا کہ وہ سارے حضرت خلیفہ المسیح الاول ؓ کے پاس تھے یہ چائے لیکر وہاں پہنچ گئے ۔چراغ نے پہلی پیالی خلیفہ اول کے سامنے رکھی اور فجے نے ہاتھ پکڑ لیا چراغ نے اس کو سمجھایا ۔مگر وہ یہ بات کہے جاتا تھا کہ حضرت صاحب نے پانچ کا نام لیا تھا۔لیکن وہ جلد معمار کے ساتھ لگایا گیا تو وہ معمار بن گئے ۔اگر ذرا بھی توجہ کریں تو کوئی نہ کوئی ہنر اور کام سیکھ سکتے ہیں اور روپیہ کما سکتے ہیں اور خدمت خلق کے کاموں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ایک شخص احمدی ہونے سے قبل بیس سال تک ناراض رہے ۔ایک لڑکا ان کا مرا تھا حضرت صاحب ان کے ہاں گئے انہوں نے بغل گیر ہو کر روتے ہوئے کہا خدا تعالیٰ نے مجھ پر بڑا ظلم کیا ۔یہ سن کر بہت نفرت ہو گئی بعد میں وہ ان جہالتوں سے نکل آئے اور احمدیت میں آ گئے ۔ ہستی باری تعالیٰ کے متعلق ایک واقعہ سنایا کرتے تھے ۔حضرت میر اسماعیل ؓ کے ساتھ ایک دہریہ پڑھا کرتا تھا ۔ایک دفعہ زلزلہ جو آیا تو اس کے منہ سے رام رام نکل گیا ۔میر صاحب نے جب پوچھا تم خدا کے منکر ہو رام رام کیوں کہا ۔کہنے لگا غلطی ہو گئی ۔اس لئے مرتے وقت خوف کے وقت دہریہ کہتا ہے ممکن ہے میں ہی غلطی پر ہوں ۔یہ خدا تعالیٰ کی ہستی کی ایک زبردست دلیل ہے ۔حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ خدا کی تائید اور نصرت پر دلی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے آپ ؓ فرماتے ہیں ۔نوٹ بک میں لکھا وہ تحریر دنیا کے لئے نہ تھی ۔کوئی تکلف یا بناوٹ خیال کیا جا سکے ۔جس کو میں نے شائع کر دیا۔ آپ ؑنے لکھا :اے خدا میں تجھے کس طرح چھوڑ دوں جب کہ تو مجھے تسلی دیتا ہے ۔ہر احمدی کا اخلاق کا معیار بلند ہونا چاہیے ۔اس بارہ میں آپ ؑ کا اپنا نمونہ کیا تھا۔اور مخالفین سے کیا حسن سلوک کیا کرتے ۔ایک دفعہ ہندوؤں میں سے ایک کی بیوی بیمار ہو گئی تو وہ شرمندہ اور نادم سا مشک لینے آیا ۔اگر آپ کے پاس مشک ہو ایک رتی یا دو کی ضرورت تھی مگر اس نے کہا حضور ؑ نے مشک کی شیشی بھر کر لے آئے اور کہا آپ کی بیوی کو بہت تکلیف ہے یہ سب لے جائیں ۔اشتیال انگیزی سے بچنے کے لئے فرمایا کرتے تھے ۔طاعون طعن سے نکلا ہے طعن کے معنی نیز ہ مارنا ہے ۔وہ خدا اب بھی موجود ہے اور طاقت کا جلوہ دکھائے گا ہم خاموش رہیں گے اور جماعت کو نصیحت کریں کے اپنے نفسوں کو قابو میں رکھیں اور جماعت کو بتا دیں ۔اشتیال انگیزیوں کے سامنے امن پسند رہیں ۔دعا میں خاص حالت پیدا کرنے کے لئے ایک راہنمائی فرمائی ۔آپ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ سمجھے دعا کے وقت حقیقی تضرع نہیں پیدا ہوتا تو وہ مصنوعی رونے کی کوشش کرے پھر حقیقی رقت پیدا ہو جائےگا۔ہمارے ایک حصہ کی دعا میں سستی کی وجہ سے ہم کو مشکلات آتی ہیں ۔بہت ایسے ہیں جو دعا کرنا بھی نہیں جانتے اور دعا کیا ہے ۔آج بھی یہ ہے ۔فرمایا: دعا موت قبول کرنے کا نام ہے ۔دعا کا مطلب ہے کہ اپنے اوپر موت طاری کرتا ہے ۔خدا کے سامنے خود کو مرا ہوا سمجھے ۔جب تک اس کے راستے میں مر نہ جائے تو دعا دعا نہ ہوگی ۔دعا اسی کی دعا ہوگی جو اپنے اوپر موت وارد کرے ۔جو یہ کرے گا اسی کی دعائیں قابل قبول ہو سکتی ہین ۔اللہ تعالیٰ ہم کو توفیق دے ہم اخلاق کے اور عبادتوں کے اعلی معیار قائم کرنے والے ہوں اور ہم کو مقبول دعا کرنے والا بنائے ۔ آمین on.fb.me/1MZmV3S

代々木上原 東京ジャーミー

1 2 3 5 7 ••• 79 80