View allAll Photos Tagged Islam'
Few pictures from my recent trip to Iran, Pakistan, Afghanistan and Turkey. You can find more (with captions!) at www.expedice.org/luke/silkroad
Islamic Center Samarinda adalah salah satu masjid terbesar di Asia Tenggara. Masjid senilai Rp 500 miliar itu memadukan tiga artistik masjid terkenal di dunia, yakni Masjid Nabawi (Madinah), Masjid Sofia (Turki) dan Masjid Putra Jaya (Malaysia).
Kompleks Islamic Center Samarinda dibangun di atas lahan sekitar 14 ha dengan luas bangunan keseluruhan mencapai 50 ribu m2. Terletak di Kelurahan Karang Asam, Samarinda Ilir, Samarinda, Kaltim, masjid ini memiliki luas bangunan utama 43.500 meter per segi.
Untuk luas bangunan penunjang adalah 7.115 meter per segi dan luas lantai basement 10.235 meter per segi. Sementara lantai dasar masjid seluas 10.270 meter per segi dan lantai utama seluas 8.185 meter persegi. Sedangkan luas lantai mezanin (balkon) adalah 5.290 meter persegi.
Post Processing : Resize & Crop
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطاب بر موقع جلسہ سالانہ قادیان2016 ۔لندن سے براہ راست(صرف احمدی احباب کے لئے ) ( طالب دعا : یاسر احمد ناصر ) تشہد و سورة الحمدللہ اور آیت کریمہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :قل ان کنتم تحبو۔۔۔۔تو کہہ کے اے لوگو اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اطاعت کرو اس صورت میں وہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے قصور بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا ہے اور بار بار رحم کرنے والا ہے ۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ کا قرب ہو دل میں محبت پیدا ہو اس کا ایک اصول ہے ۔یہ باتیں تبھی مل سکتی ہیں جب تم اسوہ رسول ﷺ پر چلو اس پر عمل کرنے کے لئے یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ اس نے صحابہ ؓ وہ سب باتیں بھی ہم کو پہنچا دیں جن پر آنحضرت ﷺ عمل فرمایا کرتے تھے لیکن یہ بات بھی سمجھنی ضروری ہے کہ آنحضرت ﷺ ہر اس بات پر عمل کرنے والے تھے جو اللہ نے قرآن میں بیان فرمائی ۔حضرت عائشہ ؓ نے اخلاق و عمل پر نہایت خوبصورت انداز میں تین الفاظ میں بیان فرما دیا ۔کان خلقہ القرآن آپ ﷺ کے اخلاق و اعمال قرآن کریم جیسی عظیم کتاب اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھی ۔ فرمایا : پھر اس زمانہ میں ہم پر عظیم احسان کرتے ہوئے اپنے فرستادہ اور آنحضرت ﷺ کے غلام صادق اور زمانہ کے امام مسیح موعود ؑ اور مہدی معہود ؑ کو بھیجا ۔جنہوں نے ہمیں انبیاء کے مقام اور نبی کریم ﷺ کا خاص طور پر ادراک دیا ۔آپ ؑ نے فرمایا : یاد رکھنا چاہیے کہ انبیاء اور رسل اور ائمہ کے آنے سے کیا غرض ہوتی ہے ۔وہ اس لئے نہیں آتے کہ ان کو پوجا کروانی ہوتی ہے وہ خدا کی عبادت قائم کروانے کے لئے آتے ہیں ۔ان کے کامل نمونہ پر عمل کریں اور اس جیسے بننے کی کوشش کریں اور ایسی اطاعت کریں کہ گویا وہی ہو جائیں ۔بعض لوگ ان کے آنے کے اصل مقصد کو چھوڑ کر ان کو خدا سمجھ لیتے ہیں وہ اس سے خوش نہیں ہوتے ۔ان کی اصل خوشی اسی میں ہوتی ہے کہ لوگ ان کی اطاعت کریں اور جو تعلیم وہ پیش کرتے ہیں سچے خدا کی عبادت اور توحید پر قائم کی تو اس پر قائم ہو جائیں ۔چنانچہ رسول کریم ﷺ کو بھی حکم ہوا ۔اے اللہ کے رسول ان سے کہہ دو اگر تم اللہ سے پیار کرتے ہو تو میری اطاعت کرو۔اس سے اللہ بھی تم سے پیارکرے گا۔ فرمایا : اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے نمونہ کی پیروری کر کے اللہ کے قریبی بن سکتے ہیں ۔جو نمونہ پر نہیں چلتا ان کو حاجت روا مانتا ہے وہ دیکھ لے گا کہ وہ امام مرنے کے بعد اس سے بیزار ہو گا ۔ فرمایا : سب سے پہلی چیز انبیاء سکھاتے ہیں ۔وہ خدا کی توحید کا قیام ہے ۔یہی بات آپ ﷺ نے اپنے ماننے والوں میں پیدا فرمائی اور اس کے اعلی نمونے آپ ﷺ کے صحابہ میں ملتے ہیں ۔صحابہ نے براہ راست آنحضرت ﷺ سے فیض پایا اور توحید کے قیام کے لئے تڑپ کو دیکھا اور عبادت گزاری کے معیاروں کو دیکھا تو اس وجہ سے حقیقی توحید کی تڑپ پیدا کر دی ۔جیسا کہ کہا آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ کو ہم تک پہنچانے میں صحابہ کا بھی کردار ہے بلکہ ان کا احسان ہے ۔چند ایک رویات پیش کرتا ہوں ۔ فرمایا : ایک دفعہ حضرت عمر ؓ اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے آپ ﷺ نے سن لیا اور کہا باپوں کی قسمو ں سے اللہ نے منع کیا ہے ۔جس کو قسم کھانے کی ضرورت ہے وہ اللہ کی قسم کھائے یا صرف چپ رہے ۔اللہ کے سوا کوئی قسم جائز نہیں ہے ۔ ایک دفعہ ایک سوال کرنے والے کہ سوال پر کہ یا رسول ﷺ کوئی اپنی غیرت کے لئے لڑتا ہے کوئی بہادری کے لئے کوئی مال کے لئے تو ان میں سے جہاد کرنے والا کون ہے آپ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے لڑتا اور توحید کے قیام کے لئے تو وہی خدا کی راستہ میں جہاد کرنے والا شمار ہوگا ۔پس ہر عمل جو توحید قیام کے لئے ہے وہی عمل خدا کو پسند ہے ۔وہی ایسا عمل ہے جس کے قائم کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے ۔ایک مرتبہ جب مکہ کے سرداروں نے رسول کریم ﷺ کو بات چیت کے لئے بلایا تو آپ ﷺ نے سمجھا کہ شائد ان کو کچھ خیال آگیا ہے ۔سب نے کہا ہم عرب میں سے کسی کو ایسا نہیں جانتے جس نے اپنی قوم کو مشکل میں ڈالا ہو جیسے آپ نے ڈالا ہے معبودوں کو برا بھلا کہتے ہیں جماعت کے ٹکڑے کر دیئے ہیں ۔اگر آپ کا مقصد ہم اس قدر مال دیتے ہیں امیر بن جائیں سردار بننا چاہتے ہیں تو آپ کو سردار بنا لیتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم مجھے غلط سمجھے ہو یہ باتیں نہ مجھ میں ہیں نہ میں ظاہری عزت چاہتا ہوں مجھے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے اور مجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے اور حکم دیا کہ میں بشیر و نذیر بن کر خوشخبریاں بھی دوں اور ڈراؤں بھی ۔میں نے خدا کا پیغام پہنچا دیا ہے ۔اگر قبول کرو تو تمہارا اپنا فائدہ ہے اور اگر نہ کرو تو پھر صبر کرو جب تک خدا ہم میں فیصلہ نہ فرما دے ۔پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح فیصلہ فرمایا اور توحید کا قیام ہوا ۔ آپ ﷺ کی عبودیت کا ذکر کرتے ہوئے آپ ؑ نے فرمایا : ہماری نبی کریم ﷺ سے بڑھ کر کسی کا نمونہ موجود نہیں اور نہ ہو سکے گا ۔پھر دیکھو کہ اقتداری معجزات ملنے پر بھی عبودیت ہی رہی اور انما انا بشر مثلکم ہی فرمایا ۔اعلی ترین مقام قرب پر پہنچ کر بھی عبودیت کو ہاتھ سے نہ دیا تو پھر اور کسی کا دل میں لانا ہی عبث ہے ۔یہ وہ ادراک ہے جو آپ ؑ نے دیا ۔آپ ؑ نے توحید اور رسول کریم ﷺ کی عبودیت کا صحیح ادراک دیا اور ہر قسم کے شرک سے پاک کیا ۔ پھر آپ ؑ فرماتے ہیں میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں محمد عربی نبی ﷺ پر ہزار ہزار درود سلام اس پر کس قدر اعلی درجہ کا نبی ہے اس کی انتہاء معلو م نہیں ہو سکتی۔جو توحید کم ہو چکی تھی وہی پہلوان دنیا میں لایا ۔۔۔۔۔۔اور اس کی جان بنی نوح کی ہمدردی میں گداز ہوئی ۔ توحید کی معراج تب ہوتی ہے جب عبادت کے حق ادا کرنے والا ہو انسان ۔اس مین بھی رسول کریم ﷺ نے اعلی مقام پایا ۔اللہ تعالیٰ نے گواہی دی ۔کہ جو دیکھ رہا ہے جب تو کھڑا ہوتا ہے اور سجدہ کرنے والوں میں بھی تیری بے قراری کو ۔بس اللہ تعالیٰ انعام فرما رہا ہے تمام سجدود کرنے والو میں سے تیرے جیسا بے قرار کوئی نہیں ۔تو نے ایک جماعت بنا دی جو توحید پر قائم ہے ۔ان سجدوں میں بے قراری میں جو تڑپ تھی وہاں یہ بھی تڑپ تھی کہ آپ ماننے والوں میں بھی ایسے سجدے کرنے والے پیدا کرنا چاہتے تھے ۔دلوں میں بسے ہوئے جھوٹے معبودوں کو نکالیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہر نبی کی کوئی خواہش ہوتی ہے میری دلی خواہش رات کی عبادت ہے ۔ایک راوی نے بتایا کہ ایسے آواز آتی جیسے ہنڈیا ابلتی ہے ۔حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا بیماری کی وجہ سے تہجد رہ جاتی تو آپ ﷺ دن کو بارہ رکعت نوافل ادا کیا کرتے تھے ۔آپ ﷺ کی اپنے ماننے والوں کو بھی یہی خواہش تھی کہ وہ عبادت گزار ہوں اور عبادت کا حق ادا کرنے والے ہوں ۔حضرت عائشہ ؓ نے ایک دفعہ نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ قیام الیل مت چھوڑنا کہ رسول کریم ﷺ نہیں چھوڑتے تھے۔جب آپ بیمار ہو جاتے تو پھر بیٹھ کر تہجد کی نماز ادا کرتے ۔یہ جو روایت پڑی کہ تہجد چھوٹ جاتی تو بارہ نفل پڑتے یہ کبھی کبھار ہوا ہوگا آپ نے ایک دن فرمایا کہ باوجود بیماری کے کمزوری کے باوجود میں نے آج رات بھی لمبی صورتیں ہی پڑی ہیں ۔میری امت حقیقی رنگ میں اسوہ پر عمل کرے ۔ آپ کی امت میں مشرک ایسے عبادت گزار بنے جو بعد میں آنے والوں کے لئے نمونہ تھے ۔ کوئی بھی عیسائی ہو یا آریہ تو جب وہ ان حالات کو دیکھے گا جو آپ ﷺ کے بعد پیدا ہوئے تو آپ کی پاک تاثیرات کا قائل ہوگا۔ پہلے جانور کہا اور پھر تاثیر سے وہ رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے رات گزارتے ہیں ۔جو تبدیلی آپ ﷺ نے عرب کے وحشیوں میں کی اور جس گھڑے سے نکال کر ان کو جس جگہ پہنچایا وہ ساری حالت کے نقشہ کو دیکھ کر بے اختیار ہو کر رو پڑتا ہے جو آپ ﷺ نے انقلاب پیدا کیا ۔دنیا کی کسی تاریخ اور قوم میں اس کی نذیر نہیں مل سکتی ۔یہ نری کہانی نہیں یہ واقعات ہیں ۔ آپ نے فرمایا: خواہ کیسا ہی دشمن ہو وہ آپ ﷺ کی سچائی کا قائل ہو گا۔ دشمنوں نے بھی آپ کے سچے ہونے کی گواہی دی ۔ایک نے کہا محمد ﷺ تم میں جوان تھے اور تم کو سب سے زیادہ پسند تھے سب سے زیادہ سچ بولنے والے امانتدار تھے ۔اب سفید بال دیکھتے ہو جو پیغام لے کر آئے ہیں تم کہو کہ جھوٹا ہے تو ہم نے بھی جھوٹے لوگ دیکھے ہیں ۔نہ کاہن ہیں نہ جھوٹے ہیں ۔تم غور کر لو تمہارا واسطہ ایک بڑے معاملہ سے ہے ۔یہ دشمن کہہ رہے ہے ۔ابو جہل نے کہا میں تمہیں جھوٹا نہیں کہتا تمہاری تعلیم کو جھوٹا سمجھتا ہوں ۔آپ ﷺ نے فرمایا میں اتنا عرصہ رہا ہوں تو کیا کبھی مجھے جھوٹا کہہ سکتے ہو تو کیا خدا کے معاملہ میں جھوٹ بولونگا ۔آپ ؑ نے فرمایا : انبیاء نے کامل راست بازی کی حجت پیش کر کے دشمنوں کو بھی الزام دیا ۔قرآن نے کہا میں تم میں ایک لمبی عمر رہا ہوں کیا کبھی مجھ میں افتراء دیکھا ۔چالیس برس میں تم میں رہا ہوں ۔کیا کبھی جھوٹ ثابت کیا ۔نبیوں کے حالات پر غور کرے تو وہ ان کے نبی صادق ہونے پر یقین کرے گا۔کیوں نہ کرے ۔پس اس نبی کے ماننے والون کو اپنے جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ ہماری سچائی کے معیار کیا ہونے چاہیں۔ آپ ﷺ کی عاجزی کے وصف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : دیکھو ہمارے نبی کریم ﷺ کی کامیابیاں ایسی تھیں کہ کسی میں نذیر نہیں ملتی مگر جیسی جیسی کامیابی ملی اتنی ہی فروتنی اختیار کرتے چلے گئے ۔ایک دفعہ ایک شخص آپ کے پاس ایا اور وہ خوف کھا رہا تھا جب وہ قریب آیا تو نہایت نرمی سے دریافت فرمایا تم ڈرتے کیوں ہو میں بھی انسان ہی ہوں اور ایک بڑھیا کا فرزند ہوں ۔تم میں سے کوئی اعمال کی وجہ سے نجات نہیں پائے گا پوچھا گیا کیا آپ بھی فرمایا ہاں مجھے بھی رحمت کی وجہ سے رحمت میں لے لے گا۔جس نبی کے بارہ میں فرمایا اس کا ہاتھ میرا ہاتھ ہے تو عاجزی کا مقام یہ ہے کہ ۔کہ رحم سے ہی بخشا جاؤنگا۔دنیا کے لیڈر کامیابی کے بعد فرعون بن جاتے ہیں لیکن انسان کامل کا اسوہ کیا تھا وہ شہر جس کے لوگوں نے آپ کو اور آپ کے ماننے والوں کو ظلم کر کے نکالا بعد میں مسلسل یہ کوشش کرتے رہے کہ اسلا م کو مٹا دیا جائے ہوتا وہ ہے جو اللہ چاہتا ہے ۔جو اللہ کا فیصلہ ہے پھر اللہ کی تقدیر سے وہ وقت بھی آیا کہ مکہ فتح ہوا ۔آپ ﷺ اس شہر میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے ۔جب آپ فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے تو آپ کا سر اونٹ کے کجاوہ کو جا لگا ۔فرمایا : جو علو خدا کے بندوں کو دیا جاتا ہے تو وہ انکسار کے رنگ میں ہوتا ہے ۔شیطان کا علو تکبر کے رنگ میں ہوتا ہے ۔جب مکہ کو فتح کیا تو سر جھکایا جس طرح مصائب میں سجدہ کرتے تھے ۔ فرمایا :سیدنا حضرت مسیح موعود ؑ کے انکسار کا ذکر کرتے ہوئے نصیحت فرماتے ہیں ۔شیخیوں سے بچنا چاہیے ۔ایک اندھا خدمت میں آ کر قرآن کریم پڑھا کرتا تھا ایک دن عمائد مکہ جمع تھے اور باتوں کی وجہ سے کچھ دیر ہونے سے وہ چلا گیا ۔یہ ایک معمولی بات تھی اللہ نے صورت نازل فرما دی اس پر اس کے گھر گئے اور ساتھ لا کر چادر پر بیٹھایا ۔اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں عظمت ہو وہ خاکسار بنتے ہیں ۔وہ خدا کی بے نیازی سے ترساں رہتے ہیں ۔ آپ ﷺ کے اوصاف حسنہ تو ہر طرح سے مکمل ہیں تمام کے تمام بیان نہیں ہو سکتے ۔اس وقت ایک خوبصورت پہلو بیان کرونگا ۔جو جود سخا کا ہے ۔ابن عمر بیان کرتے ہیں ۔لگتا ہے کہ ایک وصف بیان کرتے ہوئے چار چار ابھر آتے ۔ایک دفعہ انصار نے کچھ مانگا تو پھر عطا فرمایا ۔ تین بار عطا فرمایا سب کچھ ختم ہو گیا تو فرمایا میرے پاس جو مال ہوتا ہے اسے تم سے روک کر نہیں رکھتا ۔ایک دفعہ آپ کے پاس 90 ہزار درہم آئے وہی تقسیم فرما دیئے ۔ایک موقع پر بکریوں کا ریوڑ دیا ۔آپ ﷺ کے پاس بحرین سے ڈھیرو ڈھیر مال تھا جب نماز سے فارغ ہوئے تو اس کو تقسیم فرما دیا ۔آپ ﷺ کی نرمی اور جود و سخا وجہ تھی کہ بدو بھی بڑے بے ادبانہ طریق سے آپ سے مانگتے تھے ۔ فرمایا :تنگی اور کشائش کے زمانہ ضروری ہین تا کہ ہر حالت میں ان کا اسوہ سامنے آئے ۔دکھ دینے والے پر خاموش بھی رہتا ہے ۔لیکن جب اقتدار اور طاقت آئے اس وقت لوگوں کا خیال رکھنا اور اعلی اخلاق اپنانا یہی اصل وصف ہے ۔بس کمزوری اور طاقت کی حالتیں ہی اعلی اخلاق مانپنے کا پیمانہ ہیں ۔طاقت ہونا بھی ضروری ہے کہ دکھ دینے والوں اور ستانے والوں سے در گذر کرنا اور دشمنوں سے پیار کرنا دولت سے مغرور نہ ہونا امساک نہ کرنا ۔دولت کو ذریعہ نفس پروری نہ ٹھہرانا اور حکومت کو آلہ ظلم نہ بنانا یہ سب اخلاق کے ثبوت کے لئے صاحب دولت ہونا شرط ہے ۔۔ان دنوں کا زمانہ ہر ایک کے لئے ترتیب نہیں ہوتا ۔کبھی پہلے تکلیف اور بعد میں اچھا کبھی پہلے اچھا اور بعد میں تکلیف ۔بعض میں کامل درجہ پر نظر آتی ہین ۔اس میں کامل قدم رسول کریم ﷺ کا ہے ۔ان پر کمال طور پر واضح ہو گئیں ۔ شکر گزاری بھی ایک وصف ہے ۔آپ ﷺ نے اللہ کے شکر کے بھی اور بندوں کے شکر کے بھی اعلی معیار قائم کئے ۔بارش کا پہلا قطرہ زبان پر لیکر شکر کرنا ۔کبھی ایک کجھور پر شکر کر رہے ہیں نئے کپڑے پر اللہ کا شکر غرض کوئی چیز ایسی نہیں جہاں شکر نہ کیا ہو ۔جب عبادتوں میں بے انتہاء گریا کرتے ہوئے دیکھ کر پوچھا گیا کہ عبادت کے لئے کھڑے ہوتے ہیں پاؤں سوج جاتے ہیں آپ کے گناہ بخش دیئے ہیں تو پھر کیوں رونا ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا کیا اس بات پر شکر گزار بندہ بن کر اس کے آگے نہ روؤں کے اس نے مجھے اس قدر نوازا ہے ۔بندوں کی شکر گزاری کے کیا معیار تھے ۔حضرت ابو بکر ؓ بچپن کے دوست تھے آپ ان کے جذبات کا بے انتہاء خیال رکھتے ۔ ایک دفعہ کسی اختلاف کی وجہ سے ابو بکر ؓ کو کچھ کہہ دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا جب تم نے جھوٹا کہا ابو بکر ؓ نے میری گواہی دی کیا تم میرے ساتھی کی دل آزاری سے رک نہیں سکتے ۔آپ نے فرمایا سب سے زیادہ احسان ابو بکر ؓ کا ہے ۔حضرت عائشہ ؓ نے کہا کیا بوڑھیا حضرت خدیجہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب مجھے جھٹلایا گیا تو وہ ایمان لائے مال سے مدد کی اولاد ان سے ہوئی ۔ آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ کی خدمات کو کبھی نہ بھلایا ۔آج کل کے خاوندوں کے لئے سبق ہے ۔بیویوں کا مال بھی کھا جاتے ہیں اور پھر بیوی کا مقام دینے کی کہتے ہیں ۔پھر بادشاہ نجاشی نے جو پناہ دی تو اس کے احسان کو ہمیشہ یاد رکھا اور ایک دفعہ فرمایا جب اس کا وفد آیا تو آپ نے اس کا خود استقبال کیا ۔ جب معلم اخلاق کے طور پر دیکھتے ہیں تو عجیب شان ہے ۔ایک موقع پر حضرت عائشہ ؓ نے حضرت صفیہ ؓ کے چھوٹے قد کا مذاق کرتے ہوئے کچھ کہا تو فرمایا کہ عائشہ یہ ایک ایسا کلمہ ہے اگر سمندر میں ملا دیا جائے تو اسے بھی گندا کر دے ۔بچوں کی تربیت کے نمونہ بھی بے مثال تھے ۔ پس یہ معیار ہیں سچائی کو قائم کرنے کے جو آپ ﷺ اپنے ماننے والوں میں چاہتے ہیں ۔پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک ۔کسی نے پوچھا مجھے کس طرح پتا چلے کہ میں اچھا ہوں یا برا تو فرمایا جو پڑوسی کہے تم ویسے ہی ہو ۔ یہ چند باتیں تھیں آپ ﷺ کے اسوہ کے چند نمونے تھے ۔کسی بھی خلق میں آپ ﷺ اعلی ترین اخلاق پر فائز تھے یہی اپنے ماننے والوں میں دیکھنا چاہتے تھے خدا کرے زبانی دعوی سے نہیں بلکہ اس اسوہ پر چلنے والے ہوں اور اپنی بخشش کے سامان کرنے والے ہوں ۔حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں ۔وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے اعمال سے کمال تام کا نمونہ علما عملا اور صدقا و ثباتا دکھایا اور انسان کامل کہلایا اور وہ انسان جو سب سے کامل تھا اور کامل نبی اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کی آمد سے زندہ ہو گیا ۔وہ کامل نبی فخر النبیین محمد ﷺ ہیں اے پیارے خدا اس پیارے نبی پر تو رحمت اور درود بھیج جو ابتداء سے نہ بھیجا ہو ۔اگر یہ عطیم نبی نہ آتا تو تو باقی نبیوں کی سچائی پر کوئی دلیل نہ تھی ۔اگرچہ سب مقرب تھے ۔یہ اس نبی کا احسان ہے یہ بھی سچے سمجھے گئے ۔اللھم صل علی محمد و آل محمد حاضری 14242 تھی ۔ انڈو نیشیاء سے بھی ایک طیارہ گیا ۔ لندن میں 5230 حاضری تھی ۔ bit.ly/2idFB9g
Few pictures from my recent trip to Iran, Pakistan, Afghanistan and Turkey. You can find more (with captions!) at www.expedice.org/luke/silkroad
“Hohhot Mosque (Great Mosque)”
Islamic calligraphy
Islamic calligraphy, or Arabic calligraphy, is the artistic practice of handwriting and calligraphy, based upon the Arabic language and alphabet in the lands sharing a common Islamic cultural heritage. It is derived from the Persian calligraphy. It is known in Arabic as khatt , which derived from the word 'line', 'design', or 'construction'
en.wikipedia.org/wiki/Islamic_calligraphy
It is the oldest mosque of the city and at the beginning of hui minority district.
www.tripadvisor.com/Attraction_Review-g297440-d498837-Rev...
The Grand Mosque:
The Grand Mosque, located at the northern gate of the old downtown area of Hohhot, established in the Qianlong Period of the Qing Dynasty, is the biggest mosque in the city of Hohhot.
Taman Tamadun Islam (TTI) adalah sebuah taman tema yang mengetengahkan keunggulan seni warisan dan seni bina Islam dari seluruh pelosok dunia yang terletak di Pulau Wan Man, Kuala Terengganu yang sebelum ini dianggap tidak berpenghuni dan dipenuhi hutan nipah. Taman tema ini merupakan salah satu projek pembangunan ekonomi Wilayah Ekonomi Pantai Timur.
Taman tema yang mula dibina pada Mac 2005 bukan sahaja dikelilingi replika-replika masjid dari serata dunia malah sebuah masjid yang juga mercu tanda baru Kuala Terengganu iaitu Masjid Kristal turut berdiri megah di situ.
Islamic Civilisation Park (TTI) is a theme park that highlights the benefits of art and architectural heritage of Muslims from all over the world are located in Pulau Wan Man , Kuala Terengganu , previously considered uninhabited palm-lined forest. This theme park is one of the economic development of the East Coast Economic Region .
The theme park that started in March 2005 not only the replica-replica of the mosque is surrounded from all over the world and even a mosque that is also a new landmark of Kuala Terengganu is Masjid Kristal also stand tall in situ.
Displayed in the Islamic section of Louvre. I saw another very similar to this one in Smithsonian about two month later, but this one in Louvre is far more powerful! And here's its little brother in Smithsonian.
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 14 اکتوبر2016ء بیت الالسلام کینیڈا ( طالب دعا : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کینیڈا کا جلسہ سالانہ گزشتہ ہفتہ منعقد ہوا اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ظاہر کرتے ہوئے اختتام کو پہنچا ۔اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر کریں کم ہے ۔یہ اس کا ہی فضل ہے کہ ہم باوجود محدود وسائل کے دنیا میں ہر جگہ جلسے منعقد کرتے ہیں اور صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے عمومی طور پر انتظامات بھی اچھے ہوتے ہیں ۔ہمارے پاس ہر شعبہ کی کوئی پیشہ وارانہ مہارت رکھنے والے لوگ نہیں جو ان میں کام کر کے اس کے بہتر معیار پیدا کر سکیں ۔رضا کار ہیں خدام میں سے اطفال انصار ،لجنہ و ناصرات میں سے بھی ۔آفسر بھی اور ماتحت بھی ہوتے ہیں ۔دنیاوی تعلیم کے لحاظ سے کم پڑھا لکھا مقرر کر دیا جاتا ہے ۔ہر کوئی اطاعت کرتا ہے پھر ہر طرح سے تعاون بھی کرتے ہیں اور پوری اطاعت کرتے ہوئے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں ۔ان تین دنوں میں خاص طور پر ہر ڈیوٹی دینے والے کے دماغ سے دنیاداری کی سوچ لگتا ہے کہ بالکل غائب ہو گئی ۔بے نفس ہو کر کام کرنا سب کی سوچ ہوتی ہے ۔جو خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں یہ کوئی انسانی کام نہیں جو سوچوں کو ایسے دھارے میں ڈھالتا ہو۔یہ خالصة اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو جس جذبہ سے تمام بچے جوان بوڑھے عورتیں مرد کام کر رہے ہوتے ہیں یہ کبھی پیدا نہ ہو سکے ۔یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان سب کارکنان کے دل میں یہ جذبہ پیدا کرتا ہے کہ تم نے حضرت مسیح موعود ؑ کے مہمانوں کی خدمت میں ہر سوچ اور خواہش سے بالا ہو کر اپنے آپ کو پیش کرنا ہے اور کام کرنا ہے اور صرف اللہ کی رضا اور مہمانوں کی خدمت کو پیش نظر رکھنا ہے ۔ہمیں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے اس نے جماعت کو ایسے کارکنان دیئے ۔ٹائیلٹ کی صفائی ،کھانا پکانے ،کھلانے سیکیورٹی کی پارکنگ کی مختلف شعبہ جات کی بے نفس ہو کر ڈیوٹی دیتے ہیں بچے بھی شوق سے ڈیوٹی دیتے ہیں ۔بچے جب مہمانوں کو خاموشی اور شوق سے پانی پلاتے ہیں تو غیر مہمان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے اور پوچھتے ہیں کیسے ان میں تم خدمت کا جذبہ پیدا کر دیتے ہو ۔دنیا کے ان حالات میں مسلمان جہاد کے نام پر بچوں اور نوجوانوں کو غلط کاموں اور ظلموں کی تربیت دے رہے ہیں ۔ظالمانہ طور پر انسانی جانوں کے خاتمے کی کوشش کی جا رہی ہے جماعت احمدیہ کے بچے اور نوجوان زندگی بخش کام کر رہے ہیں ۔روحانی مائدہ کے ساتھ مادی پانی پلانے اور کھانا کھلانے کے فرض کو بھی سر انجام دے رہے ہوتے ہیں ۔اور حقیقی جہاد میں شامل ہوتے ہیں جو زندگی دینے کے لئے کیا جاتا ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس بات کا اظہار بھی بعض لوگ کر دیتے ہیں ۔جب بچے پانی پلا رہے ہوتے ہیں تو بے اختیار ان پہ پیار آتا ہے ۔جہاں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں وہاں تمام شامل ہونے والوں اور جلسہ سننے والوں کو ان کارکنان کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے ۔جو جلسہ کے پہلے اور بعد میں کام کرتے ہیں ۔نہ اپنے کاموں کے حرج کی پرواہ ہے نہ مالی نقصان کی پرواہ کرتے ہیں ۔بعض نے بتایا کہ جلسہ کی وجہ سے چھٹی نہیں ملی تو نوکریاں چھوڑ دیں ۔نہ ہی یہ لوگ اپنی نیند اور آرام کو دیکھتے ہیں ۔ایک فکر کے ساتھ یہ لوگ کام کرتے ہیں ۔میں خود تمام کارکنانوں لڑکیوں بچوں عورتوں مردوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔جنہوں نے اپنے آپ کو پیش کیا اور ادنی سے ادنی کام بھی خوشی سے اور ذمہ داری سے سر انجام دیا ۔یہ کام حقیقیت میں ایک خاموش تبلیغ ہوتی ہے ۔جو غیر آتے ہیں ان کے لئے کئی لوگوں کی ہدایت کا باعث بن جاتی ہے ۔امریکہ کے ایک غیر دوست کہتے ہیں شہید الرحمان نام ہے تمام زندگی ان ملاؤں سے جھگڑتے رہے اور جو اسلام ان کو پیش کیا گیا اس نے سنی مسجدوں سے دور رکھا ۔ان کی بیوی نیک عورت ہے بیوی نے کہا جماعت احمدیہ کے جلسہ پر جائیں ۔اس جلسہ پر آ کر دوستوں کے ساتھ 91 بنگالی امریکہ سے آئے تھے انہوں نے جماعت احمدیہ کے افراد کی تربیت محبت عزت دیکھی تو کہتے ہیں کہ جلسہ کے ساتھ اسلام کی طرف دوبارہ لوٹ آیا ہوں ۔جلسہ کے آخری دن وہ الگ بیٹھے ہوئے تھے کھانے پر جانا انہوں نے پسند نہ کیا ۔اتنے میں ایک خادم ان کے پاس آیا اور کھانا اور پانی دیا ۔پھر اس بات کا بھی انتظار کیا کہ کھانا ختم کریں اور ڈبہ پھینک دیں ۔اس واقعہ نے ان کو اتنا متاثر کیا انہوں نے مجھے بتایا کہ جلسہ نے اس کا بہت گہرا اثر کیا اور جلد وہ جماعت میں داخؒ ہو جائیں گے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ایک خادم کی معمولی سی خدمت کرنا اس کی سوچ کو بدلنے والا بن گیا اس خادم نے ایک جذبہ کے تحت خدمت کی تھی لیکن یہ خدمت اس غیر میں روحانی تبدیلی کا ذریعہ بن گئی ۔اسی طرح بعض سیاسی لوگ بھی جو عمومی طور پر جماعت کی خدمات کو جانتے اور اعتراف بھی کرتے رہتے ہیں ۔ان پر بھی ہر دفعہ جلسہ کے انتظامات کا ایک نیا اثر ہوتا ہے ۔اتنی بڑی تعداد میں پر سکون طریق پر لوگ عموما بیٹھے ہوتے ہیں ۔ایک نے کہا 25000 لوگ جمع ہیں اس جلسہ کا جلنا انتھک محنت کا نتیجہ ہے ۔یہ کارکنوں کا ہم کو شکریہ ادا کرنا چاہیے ۔جہاں وہ مہمانوں کی خدمت بے نفس ہو کر کرتے ہیں وہاں خاموش مبلغ بن کر احمدیت کا پیغام بھی پہنچا رہے ہوتے ہیں َہر شامل ہونے والوں کو بھی ان کا شکرگزر ہونا چاہیے ۔اور اس خدمت کے جذبہ کو بڑھاتے رہنا چاہیے اور اس خدمت کی بہترین جزا بھی دے ۔اور ایمان اور یقین میں بھی بڑھاتا چلا جائے ۔ان کے عمل بھی اسلامی طریق کے مطابق ہوں ۔اسی طرح ایم ٹی اے کے کارکنان جلسہ میں شامل ہونے والوں اس کو شکریہ ادا کرنا وہاں دنیا میں رہنے والوں احمدیوں کا بھی شکر گزار ہونا چاہیے ۔ان سب نے ایک کوشش جلسہ کا لائیف پروگرام دکھانے کا انتظام کیا ۔مرکز کی ٹیم اپنا سامان لیکر آئے تھے جس سے فائدہ ہوا ۔مجموعی طور پر 10 یا 15 ہزار کی بچت بھی ہو گئی ۔ہر کارکن کا افراد جماعت کو شکر گزار ہونا چاہیے اسی طرح کارکنان کو بھی شکر گزار ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خدمت کی توفیق دی ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ کہتا ہے تم شکر گزار بنو میں مزید نوازونگا ۔اللہ جب نوازتا ہے تو بے شمار نوازتا ہے ۔مومنین کا یہ طریق ہے کہ ہر کامیابی پر اچھی بات پر خدا تعالیٰ کا شکر گزار بنے جہاں کمزوریاں دیکھے وہاں اللہ تعالیٰ سے رحم مانگیں اور استغفار کریں ۔جو مہمانوں نے عمومی طور پر ہر کام کی تعریف کی ہے اس کے لئے تمام کارکنان کو اپنے اور غیر سب مہمانوں کا شکر گزار ہونا چاہیے ۔جلسہ کے پہلے دن شعبہ مہمانوازی نے صحیح اندازہ نہیں لگایا ۔20 ہزار کا کھانا پکا جس کی وجہ سے شعبہ کے اپنے اندازہ کے مطابق دو ہزار لوگوں کو کھانا نہ ملا جس کی انہوں نے معذرت نہ کی ۔لیکن مہمان بھی جلسہ سننے کے مقصد سے آئے ہوئے تھے اس دن یا اگلے دن کھانے میں کمی ہوئی تو بعض نے خوش دلی سے اسے برداشت کیا اور شکوہ نہیں کیا ۔ایک صاحب نے لکھا کہ ایک لمبی قطار تھی کافی انتظار کے بعد کہا آ رہا ہے پھر کہا ختم ہو گیا ۔کہتے ہیں میں تو اس بات پر بڑا پیچ و تاب کھا رہا تھا اتنے میں ایک شخص نے کہا الحمد للہ کھانا ختم ہو گیا ۔میں نے پوچھا کیا کہہ رہے ہیں ۔کہنے لگے سوکھی روٹی کے کچھ ٹکڑے میرے پاس ہیں آئیں ہم ان کو پانی میں ڈبو کر کھا لیں ۔اگر روٹی مل جاتی تو یہ سنت پوری نہ کر سکتے ۔لکھنے والے کہتے ہیں یہ دیکھ کر غصہ دور ہو گیا اور شرمندگی بھی ہوئی اور جذباتی ہو گیا ۔کیسے کیسے لوگ حضور کو اللہ نے عطا فرمائے ہیں ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس دفعہ انتظامیہ کی طرف سے یہ خوش کن پہلو بھی سامنے آیا ہے ۔بجائے کمزوریوں کے چھپانے کے ان کا اظہار بھی کر دیا ۔یہ کافی نہیں یہ سب کچھ اس میں لکھیں اور آئندہ بہتر منصوبہ بندی بھی کریں ۔ساتھ ہی میں یہ بھی بتا دوں یہ جگہ بظاہر لگ رہا ہے 18 19 ہزار تک یہ لوگوں کو سنبھال سکتی ہے ۔اب جماعت پھیل رہی ہے بڑی جگہ کا بھی انتظامیہ کو سوچنا چاہیے ۔یا کم از کم مجھے جلسہ پر بلانا چاہیے تو یہ جگہ بہرحال نا کافی ہے ۔اس بارہ میں ضرور سوچیں ۔انتظامیہ نے جو اظہار کیا ہے وہ بھی بتا دیتا ہوں ۔پہلی بات عرب مہمانوں کے کھانے کے معیار میں مرچیں زیادہ کی شکایت تھی ۔کھانے کی کمی کا اظہار کیا ۔پھر کھانا ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچامردوں میں ۔پھر کھانا غلطی سے مردوں کے حصہ میں چلے گئے ۔مرد تکلیف اٹھا لیں کوئی حرج نہیں عورتوں کو اور بچوں کو بھوکا نہیں رکھنا چاہیے ۔کھانا تیار کرنے والوں کی کمی تھی کام کرنے والوں کی جماعت میں کوئی کمی نہیں ہے ۔صرف انتظامیہ کو یہ سوچنا ہوگا خدمت کا جذبہ رکھنے والے لینے ہیں اپنی پسند کے نہیں ۔خدمت کا جذبہ رکھنے والے بہت ہیں ۔جلسہ گاہ کے واش روم میں انتطار کرنا پڑا۔ صرف انتظار ہی نہیں کرنا پڑا بعض لوگوں کو تکلیف دہ صورتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔میں نے ایک دن پہلے پوچھا بھی تھا ۔جو بتایا گیا اس کے مطابق صحیح انتظام نہیں تھا ۔آئندہ عارضی انتظام کرنا چاہیے ۔لنگر خانہ میں آڈیو وڈیو کا انتظام نہیں تھا یہ بڑی غلطی ہے ۔مردوں کی طرف پیچھے آواز صاف نہ تھی ۔اسی طرح عربوں کے لئے ترجمہ کا انتظام تھا لیکن اطلاع نہیں کی گئی ۔بعض عرب خطبہ سے محروم رہے ۔یہ تو انتظامیہ کو تجربہ ہو جانا چاہیے ۔ترجمانی کے لئے بار بار اعلان ہونا چاہیے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بعض تاثرات مہمانوں کے بیان کرتا ہوں ۔کس طرح لوگوں کے دلوں میں ڈالتا ہے ۔احمدی عرب سیریا کے دوستوں کے تاثرات بیان کرتا ہون پہلی دفعہ شامل ہوئے آزادی سے عبادت کی حالات کے خراب بھی کئی سالوں سے بیچار ے پِس رہے تھے ۔ایک احمدی دوست کہتے ہیں یہ میرا پہلا جلسہ تھا جب داخل ہوا خلیفہ وقت کی موجودی دیکھی تو لگا اسلام میں داخل ہوا ہوں میری نماز خشوع خضوع سے پر ہو گئی ۔ یہ تبدیلی ہر احمدی میں آنی چاہیے ۔میں نے اس طرح کا اسلام پہلے کبھی نہیں سنا مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی اور اللہ کرے یہ خوشی اس کی دل کو کھولنے کا باعث بن جائے ۔اسی طرح ایک اور احمدی کہتے ہیں جلسہ کے تین دن ایسے تھے جن کو زندگی بھر نہیں بلایا جا سکتا دنیا کے بہترین انسان کے ساتھ ہزاروں لوگ تھے ۔بچوں کو بھی مدنظر رکھ کر سب انتظامات کرنا غیر معمولی تھا ۔ہزاروں افراد کو بلانا اور کھانا کھلانا ایک غیر معمولی امر ہے ۔پھر خطابات اور ترجمانی کا شعبہ بہت اچھا تھا ۔ایک صحافی ٹیم کو دعوت دی وہ سب حیران رہ گئے اور آخری دن کے خطاب کو بہت پسند کیا اور امام کے ساتھ محبت احمدیوں کے لئے حیران کن امر تھا ۔اسی طرح عبد القادر صاحب کہتے ہیں پہلی بار دیکھا کہ جلسہ کا کام بہت بڑا ہوتا ہے ۔ہر ایک کوئی خدمت کا موقع چاہتا تھا جب میرے عربی ہونے کا پتا چلتا ۔پھر ایک خاتون بیان کرتی ہیں جلسہ اتنی بڑی تعداد کے باوجود بہت منظم تھا ۔لوگوں کے چہروں پر روحانیت تھی اللہ کرے یہ ہمیشہ نظر آتی رہے ۔ہم تمام لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس کو کامیاب کرنے میں حصہ ڈالا ۔پھر سلمی صاحبہ بیان کرتی ہیں ۔جلسہ کے انتظام کو دیکھ کر کہا جا سکتا جماعت ایک جسم کی طرح ہے ۔ٹراسپورٹ کے شعبہ کی شکر گزار ہیں ۔جلسہ میں سب ایک کام کر رہے تھے اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچایا جائے ۔ایک مرد بیان کرتے ہیں جلسہ میں گزارے لمحات میری زندگی کے خوبصورت لمحات تھے ۔ٹی وی پر دیکھ کر دعا کرتا تھا مجھے بھی توفیق مل جائے اور میری دعا قبول ہو گئی میں جلسہ سالانہ کے سٹیج کے سامنے بیٹھا ہوا تھا اور ان مشکل اور اذیت ناک لمحوں کی یاد میرے سامنے تھی جو میں شام اور ترکی گزاری ایک وہ دن تھے اور ایک یہ دن ہیں ۔یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل ہے ۔ایک سیرین دوست فراز صاحب کہتے ہیں ۔پہلی بار میں نے جلسہ میں شرکت کی مختلف کینیڈا اور علاقوں سے رنگ و نسل سب کا اطاعت کا مظاہر ہ کرنا ایمان افروز تھا ۔جو چیز سب سے زیادہ خوشی کا باعث تھی وہ خلیفہ المسیح کی موجودگی اور خطابات تھے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :بہرحال یہ چند احمدی لوگوں کے تاثرات تھے ۔اب میں غیروں کے تاثرات بیان کرتا ہوں ۔جماعت کے تعارف اور تبلیغ کے راستے کھلتے ہیں جرمن کونسلیٹ کہتے ہیں چار ہفتے پہلے آیا ہوں جماعت سے زیادہ تعارف نہ تھا میں نے آج تک اسلامی تعلیمات کے متعلق ایسا جامع خطاب نہیں سنا ۔میں نے دیکھا ہے ۔کاش میڈیا جتنا وقت ائی ایس آئی کو دیتا ہے دنیا کے اس امن کے سفیر کو دے ۔ہر فقرہ ان کا سچائی پر مبنی تھا۔ میں بھی اس پیغام کو آگے پھیلاؤنگا۔غیر بھی سفیر بن جاتے ہیں َ ممبر آف پارلیمنٹ کہتی ہیں َتمہارے خلیفہ نے حالات کے مطابق ایک کام کیا محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں ۔سب عدل سے کام لیں اگر ایسا نہ ہوا تو تیسری جنگ عظیم ہوگی یہ واضح ہو رہی ہے ۔عوام اور سیاستدان کو یہ کام کرنا ہوگا ۔ہم میں سے ہر ایک کو یہ پیغام پہنچانا چاہیے کہ انتہا پسندی کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ایک دوست نے کہا آج میرا دل بہت خوش ہے کہ خلیفة المسیح نے خطاب میں امن و سلامتی کے بارہ میں بتایا ہے جماعت کو لوگوں کو بتانا چاہیے ۔ایک میئر نے کہا خطاب کا بہت گہرا اثر ہوا جس طرح بین الاقوامی معاملات پر روشنی ڈالی ہے خلیفہ المسیح احمدیوں کے لئے تمام دنیا کے لئے ہدایت کا ذریعہ بن سکتے ہیں ۔میں یہ باتیں کبھی بھول نہ پاؤنگا۔ ایک مہمان یہاں کے میئر نے کہا جماعت کو ایک پیغام دے رہے ہیں کہ ہمارے لئے روحانیت میں ترقی کرنی چاہیے ۔سب انسانو ں سے حسن سلوک کریں ۔یہ پیغا م ملا ہے ۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جو آپ کے خلیفہ نے سکھایا ہے دنیا میں امن قائم کرو ہم سب کا فرض ہے کہ ذمہ داری ادا کریں ۔اپنا کردار ادا رکریں ۔بریمٹن سے آئے ہوئے مہمان نے کہا ایک پیغام ملا کہ امن قائم کرو ۔ایک مہمان نے کہا حیران کن تقریر تھی آخری میرے پاس الفاظ نہیں بیان کرنے کے لئے ۔ایک خاتون نے کہا خلیفہ کا پیغام عورتوں سے خطاب بہت اچھا لگا کہ خاص طور پر ایک بات ایک ماں پورے خاندان کے لئے بنیاد ہوتی ہے اور معاشرہ مضبوط بناتی ہے ۔ایک خاتون نے کہا میرا نواں جلسہ ہے لیکن آپ کے خلیفہ کا خطاب سننے کے لئے بے تاب تھی ۔پھر کہتی ہیں ہر ایک دوسرے سے ادب سے پیش آیا ۔جلسہ کی اہمیت کا سب کو احساس تھا ۔سیکورٹی اور ساونڈ سسٹم اچھا تھا ۔ترجمانی کے لئے ہیڈ سیٹ بھی اچھا تھا ۔آپ مہمانوں سے احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں ۔سب شکر گزار ہیں ۔ہزاروں احمدیوں کو محبت کے رنگ میں سرشار دیکھ کر بہت اثر ہوا ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :جلسہ سالانہ پر جو بھی مہمان آتے ہیں اچھا تاثر اللہ کے فضل سے لیکر جاتے ہیں ۔بیرون سے بھی آئے تھے ۔جلسہ کا جب ماحول دیکھتے ہیں اسلام کے بارہ میں غلط تصورات دور ہو جاتے ہیں ۔ان ممالک میں ہمارے مشن نئے نئے ہیں ۔ان کے لوگوں کے آنے سے ہمارے کاموں میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے ۔جلسہ اس لحاظ سے تبلیغ کے راستے بھی کھولتا ہے ۔جلسہ سالانہ جہاں اپنوں کے لئے روحانی پانی دیتا ہے وہاں غیروں کے لئے اسلام کی حقیقی تعلیم دنیا کو پتا چلتی ہے ۔گزشتہ کچھ دنوں سے جو حالات مسلمانوں کے ہوئے ہیں اس کی وجہ سے میڈیا کی نظر ادھر ہے ۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے ۔لیکن اس کے بعد ہمارے نوجوانوں کا بھی بہت کردار ہے جنہوں نے تعلقات بنائے اور روابطے بڑے وسیع پیمانہ پر کئے ۔کینیڈا کی میڈیا ٹیم نے بھی بڑی محنت سے پریس اور میڈیا سے رابطوں میں اضافہ کیا ۔مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ ہمارے نوجوان اس حد تک اپنا کردار ادا کرہے ہیں َ یہاں آکر پتا چلا بڑی محنت سے کام کر رہے ہیں یہ بھی ایک تبلیغ ہے جو پریس کے ذریعہ سے ہمارے نوجوان کر رہے ہیں ۔بعض بڑے بڑے اخبارات اور چینل سے رابطے کرتے رہے ۔بعض کہہ دیتے تھے ہمیں مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں ۔بعض نے بہت اچھا رسپانس دیا ۔ بعض اس وجہ سے بے چین بھی ہوئے ۔جب انکار کیا ۔ایک اخبار سے رابطہ کیا اس نے عدم دلچسپی کا اظہار کیا ۔یہ نوجوان چاہتے تھے کہ یہ اپنا نمائندہ ضرور لیکر آئیں تا کہ اسلام کا صحیح پیغام قوم کو پہنچے ۔تو جیسا کہا اللہ تعالیٰ بھی اپنے کام کرتا ہے اس چینل نے سیرین ریفیوجس پر ڈاکومنٹری بنانی تھی ۔جب اس کے لئے تلاش میں نکلے تو اتفاق سے اللہ تعالیٰ ہی یہ چاہتا تھا ان کا رابطہ جن سے بھی ہوا وہ احمدی تھے ۔انہوں نے کہا ہمارا جلسہ ہو رہا ہے وہاں آجاؤ وہیں بات کریں گے اس طرح اس میڈیا کو بھی آنا پڑا ۔اللہ تعالیٰ بھی جماعت کا تعارف وسیع پیمانہ پر کروا رہا ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :جو احمدی اس کے لئے رضاکارانہ کرتے ہیں ان کو کہتا ہوں مزید محنت اور عاجزی سے یہ کام کریں ہمیشہ یاد رکھیں کہ خداتعالیٰ کا فضل ہی ہے ۔اسی کوتلاش کرنا چاہیے ۔میڈیا کے کچھ لوگ اخبار ریڈیو چینل کے جلسہ کے پہلے دن آئے تھے ایک چھوٹی سی پریس کانفرس بھی تھی اس کی اچھی کاوریج ہوئی ہے اور اسلام کی حقیقی تعلیم بتائی گئی ۔ان کو بھی پیغام پہنچایا ۔میری یہ کوشش ہوتی ہے کہ جس طرح بھی ہو حالات حاضرہ کی بات ہو اس کو کسی طرح رسول کریم ﷺ کی پیشگوئیوں اور آمد مسیح موعودؑ سے جوڑوں ۔تا کہ اسلام کا پتا چلا۔کنیڈا کے سب سے بڑے تین اخبارات نے وسیع پیمانہ پر جلسہ کی خبر بھی اشاعت کی ۔3.9ملین تک یہ پیغام پہنچا ۔اخبارات کے ذریعہ بھی پیغام پہنچا ۔سماعی روابط سے بھی فیس بک ٹویٹر انسٹا سے بھی 20 لاکھ تک پیغام پہنچا ۔اردو پنجابی بنگالی عربی میں ٹی وی سے بھی ایک لاکھ تک خبر پنہچی ۔ٹی وی کے ذریعہ 6.6ملین تک سوشل میڈیا تھا 2.8اور مجموعی طور پر 16 ملین تک یہ پیغام پہنچا ۔تومحتاط اندازہ ہو تو 10 ملین تک یہ تعارف اور پیغام پہنچا ہوگا ۔ ٹی وی پر بڑی ایمانداری سے یہ خبر دی ہے ۔یہ اللہ تعالی ٰ کا کام ہے جو کر رہا ہے ساتھ ہی ہماری توجہ بھی اس طرف پھیرتی ہے ہم انہی باتوں پر خوش نہ ہو جائیں بلکہ اپنی روحانی حالت اور اللہ سے تعلق کو بڑھائیں ہر وہ بات بری سمجھیں جو اللہ نے بری کہی اور ہر وہ بات کریں جس کے کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ۔اگر اللہ تعالیٰ خدمت کا موقع دے رہا ہے تو اسے فضل الہی جانیں ۔تمام عہدیدار بھی اپنے فرائض کو تقوی پر چلتے ہوئے انجام دینے کی کوشش کریں ۔تمام شاملین اور سننے والے بھی اپنے جائزے لیں ۔کیا ہم نے جو سنا اس کو اپنایا ہوا اس کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔یہ بھی جائزے لیں کہ کس طرح نیک باتوں کو ہمیشہ اپنائے رکھنا ہے ۔یہ ہے اللہ تعالیٰ کی حقیقی شکر گزاری ۔عارضی اور وقتی شکر گزاری نہیں اس چیز کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں ۔اور یہی بات ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں کو بڑھاتا چلا جاتا اور نوازتا ۔ان پر عمل کرنے کی اللہ ہر احمدی کو توفیق دے آمین bit.ly/2eB4bSR
Kashgar is an oasis city with an approximate population of 350,000. It is the westernmost city in China, located near the border with Tajikistan and Kyrgyzstan. Kashgar has a rich history of over 2,000 years and served as a trading post and strategically important city on the Silk Road between China, the Middle East, and Europe. Kashgar is part of the China–Pakistan Economic Corridor.
Located historically at the convergence point of widely varying cultures and empires, Kashgar has been under the rule of the Chinese, Turkic, Mongol, and Tibetan empires. The city has also been the site of an extraordinary number of battles between various groups of people on the steppes.
Now administered as a county-level unit of the People's Republic of China, Kashgar is the administrative centre of its eponymous prefecture in the Xinjiang Uyghur Autonomous Region which has an area of 162,000 square kilometres and a population of approximately 3.5 million. The city's urban area covers 15 km2, though its administrative area extends over 555 km2.
NAME
The modern Chinese name is 喀什 (Kāshí), a shortened form of the longer and less-frequently used (simplified Chinese: 喀什噶尔; traditional Chinese: 喀什噶爾; pinyin: Kāshígé’ěr; Uyghur: قەشقەر). Ptolemy (AD 90-168), in his Geography, Chapter 15.3A, refers to Kashgar as “Kasi”. Its western and probably indigenous name is the Kāš ("rock"), to which the East Iranian -γar ("mountain"); cf. Pashto and Middle Persian gar/ġar, from Old Persian/Pahlavi girīwa ("hill; ridge (of a mountain)") was attached. Alternative historical Romanizations for "Kashgar" include Cascar and Cashgar.
Non-native names for the city, such as the old Chinese name Shule 疏勒 and Tibetan Śu-lig may have originated as an attempts to transcribe the Sanskrit name for Kashgar, Śrīkrīrāti ("fortunate hospitality")
Variant transcriptions of the official Uyghur: يېڭىشەھەر include: K̂äxk̂är or Kaxgar, as well as Jangi-schahr, Kashgar Yangi Shahr, K’o-shih-ka-erh, K’o-shih-ka-erh-hsin-ch’eng, Ko-shih-ka-erh-hui-ch’eng, K’o-shih-ko-erh-hsin-ch’eng, New Kashgar, Sheleh, Shuleh, Shulen, Shu-lo, Su-lo, Su-lo-chen, Su-lo-hsien, Yangi-shaar, Yangi-shahr, Yangishar, Yéngisheher, Yengixəh̨ər and Еңишәһәр.
HISTORY
HAN DYNASTY
The earliest mention of Kashgar occurs when a Chinese Han dynasty envoy traveled the Northern Silk Road to explore lands to the west.
Another early mention of Kashgar is during the Former Han (also known as the Western Han dynasty), when in 76 BC the Chinese conquered the Xiongnu, Yutian (Khotan), Sulei (Kashgar), and a group of states in the Tarim basin almost up to the foot of the Tian Shan range.
Ptolemy speaks of Scythia beyond the Imaus, which is in a “Kasia Regio”, probably exhibiting the name from which Kashgar and Kashgaria (often applied to the district) are formed. The country’s people practised Zoroastrianism and Buddhism before the coming of Islam.
In the Book of Han, which covers the period between 125 BC and 23 AD, it is recorded that there were 1,510 households, 18,647 people and 2,000 persons able to bear arms. By the time covered by the Book of the Later Han (roughly 25 to 170 AD), it had grown to 21,000 households and had 3,000 men able to bear arms.
The Book of the Later Han provides a wealth of detail on developments in the region:
"In the period of Emperor Wu [140-87 BC], the Western Regions1 were under the control of the Interior [China]. They numbered thirty-six kingdoms. The Imperial Government established a Colonel [in charge of] Envoys there to direct and protect these countries. Emperor Xuan [73-49 BC] changed this title [in 59 BC] to Protector-General.
Emperor Yuan [40-33 BC] installed two Wuji Colonels to take charge of the agricultural garrisons on the frontiers of the king of Nearer Jushi [Turpan].
During the time of Emperor Ai [6 BC-AD 1] and Emperor Ping [AD 1-5], the principalities of the Western Regions split up and formed fifty-five kingdoms. Wang Mang, after he usurped the Throne [in AD 9], demoted and changed their kings and marquises. Following this, the Western Regions became resentful, and rebelled. They, therefore, broke off all relations with the Interior [China] and, all together, submitted to the Xiongnu again.
The Xiongnu collected oppressively heavy taxes and the kingdoms were not able to support their demands. In the middle of the Jianwu period [AD 25-56], they each [Shanshan and Yarkand in 38, and 18 kingdoms in 45], sent envoys to ask if they could submit to the Interior [China], and to express their desire for a Protector-General. Emperor Guangwu, decided that because the Empire was not yet settled [after a long period of civil war], he had no time for outside affairs, and [therefore] finally refused his consent [in AD 45].
In the meantime, the Xiongnu became weaker. The king of Suoju [Yarkand], named Xian, wiped out several kingdoms. After Xian’s death [c. AD 62], they began to attack and fight each other. Xiao Yuan [Tura], Jingjue [Cadota], Ronglu [Niya], and Qiemo [Cherchen] were annexed by Shanshan [the Lop Nur region]. Qule [south of Keriya] and Pishan [modern Pishan or Guma] were conquered and fully occupied by Yutian [Khotan]. Yuli [Fukang], Danhuan, Guhu [Dawan Cheng], and Wutanzili were destroyed by Jushi [Turpan and Jimasa]. Later these kingdoms were re-established.
During the Yongping period [AD 58-75], the Northern Xiongnu forced several countries to help them plunder the commanderies and districts of Hexi. The gates of the towns stayed shut in broad daylight."
And, more particularly in reference to Kashgar itself, is the following record:
"In the sixteenth Yongping year of Emperor Ming 73, Jian, the king of Qiuci (Kucha), attacked and killed Cheng, the king of Shule (Kashgar). Then he appointed the Qiuci (Kucha) Marquis of the Left, Douti, King of Shule (Kashgar). ‹See TfD›
In winter 73, the Han sent the Major Ban Chao who captured and bound Douti. He appointed Zhong, the son of the elder brother of Cheng, to be king of Shule (Kashgar). Zhong later rebelled. (Ban) Chao attacked and beheaded him."
THE KUSHANS
The Book of the Later Han also gives the only extant historical record of Yuezhi or Kushan involvement in the Kashgar oasis:
"During the Yuanchu period (114-120) in the reign of Emperor, the king of Shule (Kashgar), exiled his maternal uncle Chenpan to the Yuezhi (Kushans) for some offence. The king of the Yuezhi became very fond of him. Later, Anguo died without leaving a son. His mother directed the government of the kingdom. She agreed with the people of the country to put Yifu (lit. “posthumous child”), who was the son of a full younger brother of Chenpan on the throne as king of Shule (Kashgar). Chenpan heard of this and appealed to the Yuezhi (Kushan) king, saying:
"Anguo had no son. His relative (Yifu) is weak. If one wants to put on the throne a member of (Anguo’s) mother’s family, I am Yifu’s paternal uncle, it is I who should be king."
The Yuezhi (Kushans) then sent soldiers to escort him back to Shule (Kashgar). The people had previously respected and been fond of Chenpan. Besides, they dreaded the Yuezhi (Kushans). They immediately took the seal and ribbon from Yifu and went to Chenpan, and made him king. Yifu was given the title of Marquis of the town of Pangao [90 li, or 37 km, from Shule].
‹See TfD›
Then Suoju (Yarkand) continued to resist Yutian (Khotan), and put themselves under Shule (Kashgar). Thus Shule (Kashgar), became powerful and a rival to Qiuci (Kucha) and Yutian (Khotan)."
However, it was not very long before the Chinese began to reassert their authority in the region:
“In the second Yongjian year (127), during Emperor Shun’s reign, Chenpan sent an envoy to respectfully present offerings. The Emperor bestowed on Chenpan the title of Great Commandant-in-Chief for the Han. Chenxun, who was the son of his elder brother, was appointed Temporary Major of the Kingdom. ‹See TfD›
In the fifth year (130), Chenpan sent his son to serve the Emperor and, along with envoys from Dayuan (Ferghana) and Suoju (Yarkand), brought tribute and offerings.”
From an earlier part of the same text comes the following addition:
“In the first Yangjia year (132), Xu You sent the king of Shule (Kashgar), Chenpan, who with 20,000 men, attacked and defeated Yutian (Khotan). He beheaded several hundred people, and released his soldiers to plunder freely. He replaced the king [of Jumi] by installing Chengguo from the family of [the previous king] Xing, and then he returned.”[38]
Then the first passage continues:
“In the second Yangjia year (133), Chenpan again made offerings (including) a lion and zebu cattle. ‹See TfD›
Then, during Emperor Ling’s reign, in the first Jianning year, the king of Shule (Kashgar) and Commandant-in-Chief for the Han (i.e. presumably Chenpan), was shot while hunting by the youngest of his paternal uncles, Hede. Hede named himself king.
‹See TfD›
In the third year (170), Meng Tuo, the Inspector of Liangzhou, sent the Provincial Officer Ren She, commanding five hundred soldiers from Dunhuang, with the Wuji Major Cao Kuan, and Chief Clerk of the Western Regions, Zhang Yan, brought troops from Yanqi (Karashahr), Qiuci (Kucha), and the Nearer and Further States of Jushi (Turpan and Jimasa), altogether numbering more than 30,000, to punish Shule (Kashgar). They attacked the town of Zhenzhong [Arach − near Maralbashi] but, having stayed for more than forty days without being able to subdue it, they withdrew. Following this, the kings of Shule (Kashgar) killed one another repeatedly while the Imperial Government was unable to prevent it.”
THREE KINGDOMS TO THE SUI
These centuries are marked by a general silence in sources on Kashgar and the Tarim Basin.
The Weilüe, composed in the second third of the 3rd century, mentions a number of states as dependencies of Kashgar: the kingdom of Zhenzhong (Arach?), the kingdom of Suoju (Yarkand), the kingdom of Jieshi, the kingdom of Qusha, the kingdom of Xiye (Khargalik), the kingdom of Yinai (Tashkurghan), the kingdom of Manli (modern Karasul), the kingdom of Yire (Mazar − also known as Tágh Nák and Tokanak), the kingdom of Yuling, the kingdom of Juandu (‘Tax Control’ − near modern Irkeshtam), the kingdom of Xiuxiu (‘Excellent Rest Stop’ − near Karakavak), and the kingdom of Qin.
However, much of the information on the Western Regions contained in the Weilüe seems to have ended roughly about (170), near the end of Han power. So, we can’t be sure that this is a reference to the state of affairs during the Cao Wei (220-265), or whether it refers to the situation before the civil war during the Later Han when China lost touch with most foreign countries and came to be divided into three separate kingdoms.
Chapter 30 of the Records of the Three Kingdoms says that after the beginning of the Wei Dynasty (220) the states of the Western Regions did not arrive as before, except for the larger ones such as Kucha, Khotan, Kangju, Wusun, Kashgar, Yuezhi, Shanshan and Turpan, who are said to have come to present tribute every year, as in Han times.
In 270, four states from the Western Regions were said to have presented tribute: Karashahr, Turpan, Shanshan, and Kucha. Some wooden documents from Niya seem to indicate that contacts were also maintained with Kashgar and Khotan around this time.
In 422, according to the Songshu, ch. 98, the king of Shanshan, Bilong, came to the court and "the thirty-six states in the Western Regions" all swore their allegiance and presented tribute. It must be assumed that these 36 states included Kashgar.
The "Songji" of the Zizhi Tongjian records that in the 5th month of 435, nine states: Kucha, Kashgar, Wusun, Yueban, Tashkurghan, Shanshan, Karashahr, Turpan and Sute all came to the Wei court.
In 439, according to the Weishu, ch. 4A, Shanshan, Kashgar and Karashahr sent envoys to present tribute.
According to the Weishu, ch. 102, Chapter on the Western Regions, the kingdoms of Kucha, Kashgar, Wusun, Yueban, Tashkurghan, Shanshan, Karashahr, Turpan and Sute all began sending envoys to present tribute in the Taiyuan reign period (435-440).
In 453 Kashgar sent envoys to present tribute (Weishu, ch. 5), and again in 455.
An embassy sent during the reign of Wencheng Di (452-466) from the king of Kashgar presented a supposed sacred relic of the Buddha; a dress which was incombustible.
In 507 Kashgar, is said to have sent envoys in both the 9th and 10th months (Weishu, ch. 8).
In 512, Kashgar sent envoys in the 1st and 5th months. (Weishu, ch. 8).
Early in the 6th century Kashgar is included among the many territories controlled by the Yeda or Hephthalite Huns, but their empire collapsed at the onslaught of the Western Turks between 563 and 567 who then probably gained control over Kashgar and most of the states in the Tarim Basin.
TANG DYNASTY
The founding of the Tang dynasty in 618 saw the beginning of a prolonged struggle between China and the Western Turks for control of the Tarim Basin. In 635, the Tang Annals reported an emissary from the king of Kashgar to the Tang capital. In 639 there was a second emissary bringing products of Kashgar as a token of submission to the Tang state.
Buddhist scholar Xuanzang passed through Kashgar (which he referred to as Ka-sha) in 644 on his return journey from India to China. The Buddhist religion, then beginning to decay in India, was active in Kashgar. Xuanzang recorded that they flattened their babies heads, tattooed their bodies and had green eyes. He reported that Kashgar had abundant crops, fruits and flowers, wove fine woolen stuffs and rugs. Their writing system had been adapted from Indian script but their language was different from that of other countries. The inhabitants were sincere Buddhist adherents and there were some hundreds of monasteries with more than 10,000 followers, all members of the Sarvastivadin School.
At around the same era, Nestorian Christians were establishing bishoprics at Herat, Merv and Samarkand, whence they subsequently proceeded to Kashgar, and finally to China proper itself.
In 646, the Turkic Kagan asked for the hand of a Tang Chinese princess, and in return the Emperor promised Kucha, Khotan, Kashgar, Karashahr and Sarikol as a marriage gift, but this did not happen as planned.
In a series of campaigns between 652 and 658, with the help of the Uyghurs, the Chinese finally defeated the Western Turk tribes and took control of all their domains, including the Tarim Basin kingdoms. Karakhoja was annexed in 640, Karashahr during campaigns in 644 and 648, and Kucha fell in 648.
In 662 a rebellion broke out in the Western Regions and a Chinese army sent to control it was defeated by the Tibetans south of Kashgar.
After another defeat of the Tang Chinese forces in 670, the Tibetans gained control of the whole region and completely subjugated Kashgar in 676-8 and retained possession of it until 692, when the Tang dynasty regained control of all their former territories, and retained it for the next fifty years.
In 722 Kashgar sent 4,000 troops to assist the Chinese to force the "Tibetans out of "Little Bolu" or Gilgit.
In 728, the king of Kashgar was awarded a brevet by the Chinese emperor.
In 739, the Tangshu relates that the governor of the Chinese garrison in Kashgar, with the help of Ferghana, was interfering in the affairs of the Turgesh tribes as far as Talas.
In 751 the Chinese were defeated by an Arab army in the Battle of Talas. The An Lushan Rebellion led to the decline of Tang influence in Central Asia due to the fact that the Tang dynasty was forced to withdraw its troops from the region to fight An Lushan. The Tibetans cut all communication between China and the West in 766.
Soon after the Chinese pilgrim monk Wukong passed through Kashgar in 753. He again reached Kashgar on his return trip from India in 786 and mentions a Chinese deputy governor as well as the local king.
BATTLES WITH ARAB CALIPHATE
In 711, the Arabs invaded Kashgar, but did not hold the city for any length of time. Kashgar and Turkestan lent assistance to the reigning queen of Bukhara, to enable her to repel the Arabs. Although the Muslim religion from the very commencement sustained checks, it nevertheless made its weight felt upon the independent states of Turkestan to the north and east, and thus acquired a steadily growing influence. It was not, however, till the 10th century that Islam was established at Kashgar, under the Kara-Khanid Khanate.
THE TURKIC RULE
According to the 10th-century text, Hudud al-'alam, "the chiefs of Kashghar in the days of old were from the Qarluq, or from the Yaghma." The Karluks, Yaghmas and other tribes such as the Chigils formed the Karakhanids. The Karakhanid Sultan Satuq Bughra Khan converted to Islam in the 10th century and captured Kashgar. Kashgar was the capital of the Karakhanid state for a time but later the capital was moved to Balasaghun. During the latter part of the 10th century, the Muslim Karakhanids began a struggle against the Buddhist Kingdom of Khotan, and the Khotanese defeated the Karakhanids and captured Kashgar in 970. Chinese sources recorded the king of Khotan offering to send them a dancing elephant captured from Kashgar. Later in 1006, the Karakhanids of Kashgar under Yusuf Kadr Khan conquered Khotan.
The Karakhanid Khanate however was beset with internal strife, and the khanate split into two, the Eastern and Western Karakhanid Khanates, with Kashgar falling within the domain of the Eastern Karakhanid state. In 1089, the Western Karakhanids fell under the control of the Seljuks, but the Eastern Karakhanids was for the most part independent.
Both the Karakhanid states were defeated in the 12th century by the Kara-Khitans who captured Balasaghun, however Karakhanid rule continued in Kashgar under the suzerainty of the Kara-Khitans. The Kara-Khitan rulers followed a policy of religious tolerance, Islamic religious life continued uninterrupted and Kashgar was also a Nestorian metropolitan see. The last Karakhanid of Kashgar was killed in a revolt in 1211 by the city's notables. Kuchlug, a usurper of the throne of the Kara-Khitans, then attacked Kashgar which finally surrendered in 1214.
THE MONGOLS
The Kara-Khitai in their turn were swept away in 1219 by Genghis Khan. After his death, Kashgar came under the rule of the Chagatai Khans. Marco Polo visited the city, which he calls Cascar, about 1273-4 and recorded the presence of numerous Nestorian Christians, who had their own churches. Later In the 14th century, a Chagataid khan Tughluq Timur converted to Islam, and Islamic tradition began to reassert its ascendancy.
In 1389−1390 Tamerlane ravaged Kashgar, Andijan and the intervening country. Kashgar endured a troubled time, and in 1514, on the invasion of the Khan Sultan Said, was destroyed by Mirza Ababakar, who with the aid of ten thousand men built a new fort with massive defences higher up on the banks of the Tuman river. The dynasty of the Chagatai Khans collapsed in 1572 with the division of the country among rival factions; soon after, two powerful Khoja factions, the White and Black Mountaineers (Ak Taghliq or Afaqi, and Kara Taghliq or Ishaqi), arose whose differences and war-making gestures, with the intermittent episode of the Oirats of Dzungaria, make up much of recorded history in Kashgar until 1759. The Dzungar Khanate conquered Kashgar and set up the Khoja as their puppet rulers.
QING CONQUEST
The Qing dynasty defeated the Dzungar Khanate during the Ten Great Campaigns and took control of Kashgar in 1759. The conquerors consolidated their authority by settling other ethnics emigrants in the vicinity of a Manchu garrison.
Rumours flew around Central Asia that the Qing planned to launch expeditions towards Transoxiana and Samarkand, the chiefs of which sought assistance from the Afghan king Ahmed Shah Abdali. The alleged expedition never happened so Ahmad Shah withdrew his forces from Kokand. He also dispatched an ambassador to Beijing to discuss the situation of the Afaqi Khojas, but the representative was not well received, and Ahmed Shah was too busy fighting off the Sikhs to attempt to enforce his demands through arms.
The Qing continued to hold Kashgar with occasional interruptions during the Afaqi Khoja revolts. One of the most serious of these occurred in 1827, when the city was taken by Jahanghir Khoja; Chang-lung, however, the Qing general of Ili, regained possession of Kashgar and the other rebellious cities in 1828.
The Kokand Khanate raided Kashgar several times. A revolt in 1829 under Mahommed Ali Khan and Yusuf, brother of Jahanghir resulted in the concession of several important trade privileges to the Muslims of the district of Altishahr (the "six cities"), as it was then called.
The area enjoyed relative calm until 1846 under the rule of Zahir-ud-din, the local Uyghur governor, but in that year a new Khoja revolt under Kath Tora led to his accession as the authoritarian ruler of the city. However, his reign was brief—at the end of seventy-five days, on the approach of the Chinese, he fled back to Khokand amid the jeers of the inhabitants. The last of the Khoja revolts (1857) was of about equal duration, and took place under Wali-Khan, who murdered the well-known traveler Adolf Schlagintweit.
1862 CHINESE HUI REVOLT
The great Dungan revolt (1862–1877) involved insurrection among various Muslim ethnic groups. It broke out in 1862 in Gansu then spread rapidly to Dzungaria and through the line of towns in the Tarim Basin.
Dungan troops based in Yarkand rose and in August 1864 massacred some seven thousand Chinese and their Manchu commander. The inhabitants of Kashgar, rising in their turn against their masters, invoked the aid of Sadik Beg, a Kyrgyz chief, who was reinforced by Buzurg Khan, the heir of Jahanghir Khoja, and his general Yakub Beg. The latter men were dispatched at Sadik’s request by the ruler of Khokand to raise what troops they could to aid his Muslim friends in Kashgar.
Sadik Beg soon repented of having asked for a Khoja, and eventually marched against Kashgar, which by this time had succumbed to Buzurg Khan and Yakub Beg, but was defeated and driven back to Khokand. Buzurg Khan delivered himself up to indolence and debauchery, but Yakub Beg, with singular energy and perseverance, made himself master of Yangi Shahr, Yangi-Hissar, Yarkand and other towns, and eventually became sole master of the country, Buzurg Khan proving himself totally unfit for the post of ruler.
With the overthrow of Chinese rule in 1865 by Yakub Beg (1820–1877), the manufacturing industries of Kashgar are supposed to have declined.
Yaqub Beg entered into relations and signed treaties with the Russian Empire and the British Empire, but when he tried to get their support against China, he failed.
Kashgar and the other cities of the Tarim Basin remained under Yakub Beg’s rule until May 1877, when he died at Korla. Thereafter Kashgaria was reconquered by the forces of the Qing general Zuo Zongtang during the Qing reconquest of Xinjiang.
QING RULE
There were eras in Xinjiang's history where intermarriage was common, "laxity" which set upon Uyghur women led them to marry Chinese men and not wear the veil in the period after Yaqub Beg's rule ended, it is also believed by Uyghurs that some Uyghurs have Han Chinese ancestry from historical intermarriage, such as those living in Turpan.
Even though Muslim women are forbidden to marry non-Muslims in Islamic law, from 1880-1949 it was frequently violated in Xinjiang since Chinese men married Muslim Turki (Uyghur) women, a reason suggested by foriengers that it was due to the women being poor, while the Turki women who married Chinese were labelled as whores by the Turki community, these marriages were illegitimate according to Islamic law but the women obtained benefits from marrying Chinese men since the Chinese defended them from Islamic authorities so the women were not subjected to the tax on prostitution and were able to save their income for themselves. Chinese men gave their Turki wives privileges which Turki men's wives did not have, since the wives of Chinese did not have to wear a veil and a Chinese man in Kashgar once beat a mullah who tried to force his Turki Kashgari wife to veil. The Turki women also benefited in that they were not subjected to any legal binding to their Chinese husbands so they could make their Chinese husbands provide them with as much their money as she wanted for her relatives and herself since otherwise the women could just leave, and the property of Chinese men was left to their Turki wives after they died. Turki women considered Turki men to be inferior husbands to Chinese and Hindus. Because they were viewed as "impure", Islamic cemeteries banned the Turki wives of Chinese men from being buried within them, the Turki women got around this problem by giving shrines donations and buying a grave in other towns. Besides Chinese men, other men such as Hindus, Armenians, Jews, Russians, and Badakhshanis intermarried with local Turki women. The local society accepted the Turki women and Chinese men's mixed offspring as their own people despite the marriages being in violation of Islamic law. Turki women also conducted temporary marriages with Chinese men such as Chinese soldiers temporarily stationed around them as soldiers for tours of duty, after which the Chinese men returned to their own cities, with the Chinese men selling their mixed daughters with the Turki women to his comrades, taking their sons with them if they could afford it but leaving them if they couldn't, and selling their temporary Turki wife to a comrade or leaving her behind.
An anti-Russian uproar broke out when Russian customs officials, 3 Cossacks and a Russian courier invited local Turki (Uyghur) prostitutes to a party in January 1902 in Kashgar, this caused a massive brawl by the inflamed local Turki Muslim populace against the Russians on the pretense of protecting Muslim women because there was anti-Russian sentiment being built up, even though morality was not strict in Kashgar, the local Turki Muslims violently clashed with the Russians before they were dispersed by guards, the Chinese sought to end to tensions to prevent the Russians from building up a pretext to invade.
After the riot, the Russians sent troops to Sarikol in Tashkurghan and demanded that the Sarikol postal services be placed under Russian supervision, the locals of Sarikol believed that the Russians would seize the entire district from the Chinese and send more soldiers even after the Russians tried to negotiate with the Begs of Sarikol and sway them to their side, they failed since the Sarikoli officials and authorities demanded in a petition to the Amban of Yarkand that they be evacuated to Yarkand to avoid being harassed by the Russians and objected to the Russian presence in Sarikol, the Sarikolis did not believe the Russian claim that they would leave them alone and only involved themselves in the mail service.
Many of the young Kashgari women were most attractive in appearance, and some of the little girls quite lovely, their plaits of long hair falling from under a jaunty little embroidered cap, their big dark eyes, flashing teeth and piquant olive faces reminding me of Italian or Spanish children. One most beautiful boy stands out in my memory. He was clad in a new shirt and trousers of flowered pink, his crimson velvet cap embroidered with gold, and as he smiled and salaamed to us I thought he looked like a fairy prince. The women wear their hair in two or five plaits much thickened and lengthened by the addition of yak's hair, but the children in several tiny plaits.
The peasants are fairly well off, as the soil is rich, the abundant water-supply free, and the taxation comparatively light. It was always interesting to meet them taking their live stock into market. Flocks of sheep with tiny lambs, black and white, pattered along the dusty road; here a goat followed its master like a dog, trotting behind the diminutive ass which the farmer bestrode; or boys, clad in the whity-brown native cloth, shouted incessantly at donkeys almost invisible under enormous loads of forage, or carried fowls and ducks in bunches head downwards, a sight that always made me long to come to the rescue of the luckless birds.
It was pleasant to see the women riding alone on horseback, managing their mounts to perfection. They formed a sharp contrast to their Persian sisters, who either sit behind their husbands or have their steeds led by the bridle; and instead of keeping silence in public, as is the rule for the shrouded women of Iran, these farmers' wives chaffered and haggled with the men in the bazar outside the city, transacting business with their veils thrown back.
Certainly the mullas do their best to keep the fair sex in their place, and are in the habit of beating those who show their faces in the Great Bazar. But I was told that poetic justice had lately been meted out to one of these upholders of the law of Islam, for by mistake he chastised a Kashgari woman married to a Chinaman, whereupon the irate husband set upon him with a big stick and castigated him soundly.
That a Muslim should take in marriage one of alien faith is not objected to; it is rather deemed a meritorious act thus to bring an unbeliever to the true religion. The Muslim woman, on the other hand, must not be given in marriage to a non-Muslim; such a union is regarded as the most heinous of sins. In this matter, however, compromises are sometimes made with heaven: the marriage of a Turki princess with the emperor Ch'ien-lung has already been referred to; and, when the present writer passed through Minjol (a day's journey west of Kashgar) in 1902, a Chinese with a Turki wife (? concubine) was presented to him.
FIRST EAST TURKESTAN REPUBLIC
Kashgar was the scene of continual battles from 1933 to 1934. Ma Shaowu, a Chinese Muslim, was the Tao-yin of Kashgar, and he fought against Uyghur rebels. He was joined by another Chinese Muslim general, Ma Zhancang.
BATTLE OF KASHGAR (1933)
Uighur and Kirghiz forces, led by the Bughra brothers and Tawfiq Bay, attempted to take the New City of Kashgar from Chinese Muslim troops under General Ma Zhancang. They were defeated.
Tawfiq Bey, a Syrian Arab traveler, who held the title Sayyid (descendent of prophet Muhammed) and arrived at Kashgar on August 26, 1933, was shot in the stomach by the Chinese Muslim troops in September. Previously Ma Zhancang arranged to have the Uighur leader Timur Beg killed and beheaded on August 9, 1933, displaying his head outside of Id Kah Mosque.
Han chinese troops commanded by Brigadier Yang were absorbed into Ma Zhancang's army. A number of Han chinese officers were spotted wearing the green uniforms of Ma Zhancang's unit of the 36th division, presumably they had converted to Islam.
BATTLE OF KASHGAR (1934)
The 36th division General Ma Fuyuan led a Chinese Muslim army to storm Kashgar on February 6, 1934, attacking the Uighur and Kirghiz rebels of the First East Turkestan Republic. He freed another 36th division general, Ma Zhancang, who was trapped with his Chinese Muslim and Han Chinese troops in Kashgar New City by the Uighurs and Kirghiz since May 22, 1933. In January, 1934, Ma Zhancang's Chinese Muslim troops repulsed six Uighur attacks, launched by Khoja Niyaz, who arrived at the city on January 13, 1934, inflicting massive casualties on the Uighur forces. From 2,000 to 8,000 Uighur civilians in Kashgar Old City were massacred by Tungans in February, 1934, in revenge for the Kizil massacre, after retreating of Uighur forces from the city to Yengi Hisar. The Chinese Muslim and 36th division Chief General Ma Zhongying, who arrived at Kashgar on April 7, 1934, gave a speech at Id Kah Mosque in April, reminding the Uighurs to be loyal to the Republic of China government at Nanjing. Several British citizens at the British consulate were killed or wounded by the 36th division on March 16, 1934.
PEOPLE´S REPUBLIC OF CHINA
Kashgar was incorporated into the People's Republic of China in 1949. During the Cultural Revolution, one of the largest statues of Mao in China was built in Kashgar, near People's Square. In 1986, the Chinese government designated Kashgar a "city of historical and cultural significance". Kashgar and surrounding regions have been the site of Uyghur unrest since the 1990s. In 2008, two Uyghur men carried out a vehicular, IED and knife attack against police officers. In 2009, development of Kashgar's old town accelerated after the revelations of the deadly role of faulty architecture during the 2008 Sichuan earthquake. Many of the old houses in the old town were built without regulation, and as a result, officials found them to be overcrowded and non-compliant with fire and earthquake codes. When the plan started, 42% of the city's residents lived in the old town. With compensation, residents of faulty buildings are being counseled to move to newer, safer buildings that will replace the historic structures in the $448 million plan, including high-rise apartments, plazas, and reproductions of ancient Islamic architecture. The European Parliament issued a resolution in 2011 calling for "culture-sensitive methods of renovation." The International Scientific Committee on Earthen Architectural Heritage (ISCEAH) has expressed concern over the demolition and reconstruction of historic buildings. ISCEAH has, additionally, urged the implementation of techniques utilized elsewhere in the world to address earthquake vulnerability.
Following the July 2009 Urumqi riots, the government focused on local economic development in an attempt to ameliorate ethnic tensions in the greater Xinjiang region. Kashgar was made into a Special Economic Zone in 2010, the first such zone in China's far west. In 2011, a spate of violence over two days killed dozens of people. By May 2012 two-thirds of the old city had been demolished, fulfilling "political as well as economic goals." In July 2014 the Imam of the Id Kah Mosque, Juma Tayir, was assassinated in Kashgar.
CLIMATE
Kashgar features a desert climate (Köppen BWk) with hot summers and cold winters, with large temperature differences between those two seasons: The monthly 24-hour average temperature ranges from −5.3 °C in January to 25.6 °C in July, while the annual mean is 11.84 °C. Spring is long and arrives quickly, while fall is somewhat brief in comparison. Kashgar is one of the driest cities on the planet, averaging only 64 millimetres of precipitation per year. The city’s wettest month, July, only sees on average 9.1 millimetres of rain. Because of the extremely arid conditions, snowfall is rare, despite the cold winters. Records have been as low as −24.4 °C in January and up to 40.1 °C in July. The frost-free period averages 215 days. With monthly percent possible sunshine ranging from 50% in March to 70% in September, the city receives 2,726 hours of bright sunshine annually.
DEMOGRAPHICS
Kashgar is predominately peopled by Muslim Uyghurs. Compared to Ürümqi, Xinjiang's capital and largest city, Kashgar is less industrial and has significantly fewer Han Chinese residents.
ECONOMICS AND SOCIETY
The city has a very important Sunday market. Thousands of farmers from the surrounding fertile lands come into the city to sell a wide variety of fruit and vegetables. Kashgar’s livestock market is also very lively. Silk and carpets made in Hotan are sold at bazaars, as well as local crafts, such as copper teapots and wooden jewellery boxes.
In order to boost the economy in Kashgar region, the government classified the area as the sixth Special Economic Zone of China in May 2010.
Mahmud al-Kashgari (Turkish: Kâşgarlı Mahmud) (Mahmut from Kashgar) wrote the first Turkic–Arabic Exemplary Dictionary called Divan-ı Lugat-it Türk[citation needed]
The movie The Kite Runner was filmed in Kashgar. Kashgar and the surrounding countryside stood in for Kabul and Afghanistan, since filming in Afghanistan was not possible due to safety and security reasons.
SIGHTS
Kashgar's Old City has been called "the best-preserved example of a traditional Islamic city to be found anywhere in Central Asia". It is estimated to attract more than one million tourists annually.
- Id Kah Mosque, the largest mosque in China, is located in the heart of the city.
- People's Park, the main public park in central Kashgar.
- An 18 m high statue of Mao Zedong in Kashgar is one of the few large-scale statues of Mao remaining in China.
- The tomb of Afaq Khoja in Kashgar is considered the holiest Muslim site in Xinjiang. Built in the 17th century, the tiled mausoleum 5 km northeast of the city centre also contains the tombs of five generations of his family. Abakh was a powerful ruler, controlling Khotan, Yarkand, Korla, Kucha and Aksu as well as Kashgar. Among some Uyghur Muslims, he was considered a great Saint (Aulia).
- Sunday Market in Kashgar is renowned as the biggest market in central Asia; a pivotal trading point along the Silk Road where goods have been traded for more than 2,000 years. The market is open every day but Sunday is the largest.
TRANSPORTATION
AIR
Kashgar Airport serves mainly domestic flights, the majority of them from Urumqi. The only scheduled international flights are passenger and cargo services with Pakistan's capital Islamabad.
RAIL
Kashgar has the westernmost railway station in China. It is connected to the rest of China's rail network via the Southern Xinjiang Railway, which was built in December 1999. Kashgar–Hotan Railway opened for passenger traffic in June 2011, and connected Kashgar with cities in the southern Tarim Basin including Shache (Yarkand), Yecheng (Kargilik) and Hotan. Travel time to Urumqi from Kashgar is approximately 25 hours, while travel time to Hotan is approximately ten hours.
The investigation work of a further extension of the railway line to Pakistan has begun. In November 2009, Pakistan and China agreed to set up a joint venture to do a feasibility study of the proposed rail link via the Khunjerab Pass.
Proposals for a rail connection to Osh in Kyrgyzstan have also been discussed at various levels since at least 1996.
In 2012, a standard gauge railway from Kashgar via Tajikistan and Afghanistan to Iran and beyond has been proposed.
ROAD
The Karakorum highway (KKH) links Islamabad, Pakistan with Kashgar over the Khunjerab Pass. The China–Pakistan Economic Corridor is a multibillion-dollar project was that will upgrade transport links between China and Pakistan, including the upgrades to the Karakorum highway. Bus routes exist for passenger travel south into Pakistan. Kyrgyzstan is also accessible from Kashgar, via the Torugart Pass and Irkeshtam Pass; as of summer 2007, daily bus service connects Kashgar with Bishkek’s Western Bus Terminal. Kashgar is also located on China National Highways G314 (which runs to Khunjerab Pass on the Sino−Pakistani border, and, in the opposite direction, towards Ürümqi), and G315, which runs to Xining, Qinghai from Kashgar.
WIKIPEDIA
ضع نسخة من هذه الخلقيات على سطح مكتب الكمبيوتور . وجزاك الله خيرا
Download beautiful wallpapers for your desktop, enjoy...
Téléchargez les fond d'écran pour votre bureau
reflects to my soul
* Proud to be Muslim
Copyright © şãÐ FέëŁίήg™. All rights reserved. You may not copy,download or use any of my photos or designs in my photostream without my personal permission.
ISLAM is based on this moralities:
1. supplication to ALLAH
2. obedience to ALLAH
3. trustfulness of ALLAH
4. good-natured
5. seriousness
6. repentance
7. leave the sins
8.benevolence
9.positiveness
10. fraternity and forgivingness
11. advising
12. constancy
13. knowledge (science)
14. care of Muslims adversity
15. love being martyr for Islam
16. work and development
17. recognize the importance of time
18. nation unity
19. defining the aim
20. hope
21. gloryness
Prayer in Islam, is worship of Allah the Almighty, Praising and Thanking Him, acknowledging His Sovereignty and committing oneself to obey and remember Him at all times. It is the central part of a way of life, which is based on submission to the Owner of all.
The Madrasa or the Islamic school was built by Khwaza Mahmud Gawan, the Persian scholar, the General and the Prime Minister in the court of Mohamad Shah III. Mahmud Gawan was a native of Gillan in Iran. It has been built in distinct Persian architectural style. Gawan had invited architects and engineers from Persia and other middle east countries to build the edifices in the fort (this is inferred from a collection of letters under the title "Riyad al-Insha" written by Gawan to build his madrasa).
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ03 جون 2016ء بیت الفتوح لندن ۔یوکے ( طالب دعا : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة فاتحہ کے بعدحضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : انشاء اللہ تعالیٰ تین چار دن تک رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہونے والا ہے۔ان دنوں میں گرم ممالک میں روزے بڑے سخت ہوتے ہیں ۔ اس کے باوجود فرض ہیں ۔بعض لوگوں کو بعض شرائط کے ساتھ سہولت بھی دی گئی ہے ۔بعض ممالک جہاں بائیس تائیس گھنٹے کا دن ہے ۔ایک گھنٹہ کی رات ہے وہ بھی رات نہیں وہاں جماعتوں کو بتا دیا گیا ہے کہ وقت کے اندازے کے مطابق اپنی سحری اور افطاری کے دن مقرر کر دیں ۔اپنے قریب کے ممالک کے مطابق اٹھارہ انیس گھنٹے کا روزہ رکھ لیا کریں ۔اگر اس طرح نہ کیا جائے تو سحری افطاری کا کوئی وقت ہوگا۔نہ تہجد ادا کی جا سکے گی نہ عشاء اور سحری ہو سکے گی ۔بہرحال ان علاقوں کی جماعتیں اس طرح عمل کرتی ہیں ۔ فرمایا : روزے اسلام کے بنیادی رکن میں سے ہیں اور ان کو پورا کرنا بھی ضروری ہے ۔روزہ کے متعلق بعض چھوٹے چھوٹے سوال اٹھتے ہیں ۔سحری کے متعلق افطاری کے متعلق ،بیماری کے متعلق ، وغیرہ ۔جماعت میں ہر سال لاکھوں لوگ شامل ہوتے ہیں ۔مسلمانوں میں سے اور بعض غیروں سے ۔مسلمان کے فرقوں میں بھی بعض فقہی نظریات ہیں ۔اس لئے وہ تفصیلات چاہتے ہیں ۔اور اسی طرح غیر مذاہب سے آنے والے بھی جن کو کچھ علم نہیں ہوتا اس لئے ان کے لئے اسلام کے بنیادی رکن کے مسائل کا علم ہونا ضروری ہے ۔اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود ؑ کو بھیجا ہے اور حکم و عدل بنا کر بھیجا ہے ۔جنہوں نے ہر معاملہ کا فیصلہ کرنا تھا اور کیا ۔اور ہر مسئلہ کا حل بتانا تھا بتایا ۔پس اس لحاظ سے ہمیں اپنے مسائل کا حل اور علم میں اضافہ کے لئے آپ ؑ کی طرف دیکھنا ہے ۔ اس وقت بعض سوالوں کے جواب جو حضور ؑ کا کیا حکم تھا میں بیان کرونگا ۔کیا آپ ؑ کا فتوی تھا ۔یہ بیان کرونگا ۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس زمانہ میں شریعی احکامات کے بارہ میں آپ ؑ کا حکم یا نظریہ ہی ہمارے لئے فقہی حل اور فیصلہ ہے ۔اسلام پر عمل کی بنیاد تقوی ہے ۔یہ سب سے مقدم یاد رکھیں ۔اس لئے تقوی پر سامنے رکھتے ہوئے روزوں کے بارہ میں اس ارشاد کے سامنے رکھیں ’’’ کہ اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو ‘‘ بعض یہ سوال کرتے ہیں : رمضان اور عید ہم غیروں سے مختلف وقت میں کیوں پڑھتے ہیں ۔ جواب : اول یہ کوئی اصول نہیں کہ ضرور مختلف ہو ۔اور نہ ہی ہم جان بوجھ کر اس میں اختلاف کرتے ہیں ۔کئی سالوں میں ان کے ساتھ ہماری عید ایک ساتھ ہوتی ہے ۔پاکستان میں یا مسلمان ممالک میں جہاں روئیت حلال کمیٹیاں حکومت کی طرف سے بنی ہوئی ہیں جب وہ اعلان کرتی ہیں تو ہم احمدی مسلمان بھی روزے اور ختم اور عید بھی اس کے مطابق کرتے ہیں ۔انہی ممالک میں نہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی ایسا انتظام ہے اس لئے ہم چاند نظر آنے کے واضح امکان کو نظر کے مطابق عید اور روزہ رکھتے ہیں ۔اگر ہمارا اندازہ غلط ہو تو پھر عاقل بالغ کی گواہی کے ساتھ پہلے بھی رمضان شروع کیا جا سکتا ہے ۔لیکن چاند واضح طور پر نظر آنا چاہیے ۔لیکن یہ کہنا کہ ہم ان کے اعلان پر بغیر چاند دیکھے عید کر لیں یہ غلط ہے ۔حضور ؑ نے اس بات کو سرمہ چشمہ آریہ میں بیان فرمایا ہے ۔’’ خدا تعالیٰ نے احکام دین کو سہل کرنے کے لئے عوام الناس کو صاف اور سیدھا راہ بتایا ہے اور نا حق کی باتوں مٰیں نہیں ڈالا ۔روزہ رکھنے کے لئے یہ نہیں کہتا جب تک تم یہ معلوم نہ کرو کہ روزہ انتیس کا ہوگا یا تیس کا تم روزہ رکھو ۔تم خود بھی آنکھیں کھولو اور چاند کو دیکھو ۔فرمایا : یہ بھی ظاہر ہے ایسے حسابوں کو لگانے میں بہت سی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں سو یہ بات مناسب ہے کہ صرف نظام فلکی کا علم رکھنے والوں پر ہی نہ رہیں ۔اور چاند کے معلوم کرنے میں کس تاریخ نکلتا ہے اپنے روئیت کو بھی سامنے رکھیں ۔چاند کو دیکھنا ضروری ہے اگر دیکھنے کی کوشش کی جائے تو نظر نہ آئے تو پھر حساب کتاب پر انحصار کیا جا سکتا ہے پھر تیس دن سے اوپر نہ جایاجائے ۔’’روئیت کو قیاسات ریاضیت پر فوقیت ہے ۔‘‘ یورپ نے بھی اس بات کو سمجھتے ہوئے طرح طرح کے آلات ایجاد کئے ۔ فرمایا :اگر حساب میں غلطی ہو جائے تو پھر کیا کیا جائے کیونکہ ایک روزہ چھوٹ گیا تو کیا کیا جائے ۔سیالکوٹ سے کسی نے کہا چاند منگل کو نہیں بدھ کو دیکھا گیا جب کہ رمضان بدھ کو شروع ہو چکا تھا ۔پہلا روزہ جمعرات کو رکھا گیا ۔فرمایا : اس کے عوض میں ماہ رمضان کے بعد ایک روزہ رکھا جائے ۔ سحری کھا کر روزہ رکھنا ضروری ہے ۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا : روزہ کے دنوں میں سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔آپ ؑ بھی اس کی پابندی فرمایا کرتے تھے ۔مہمانوں کے لئے بھی بڑا اہتمام ہوا کرتا تھا ۔منشی ظفر علی صاحب ؓ نے تحریر کیا کہ میں ایک دفعہ سحری کھا رہا تھا تو آپ ؑ نے فرمایا : آپ دال روٹی کھاتے ہیں ۔اسی وقت منتظم کو کہا یہاں سب کے سب روزہ رکھ رہے ہیں ہر ایک سے معلوم کرو وہ کیا کیا چیز پسند کرتے ہیں ۔ویسا ہی کھانا ان کے لئے تیار کیا جائے ۔فرمایا : کھا لو اذان جلدی دی گئی ہے ۔ آپ ؑ کے ساتھ تہجد کے بارہ میں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے تمام مہینہ تراویح حضور ؑ کے پیچھے ادا کی ۔آپ وتر پہلے پڑھ لیتے ۔ اور آٹھ رکعت پڑھتے ۔آپ کی آواز میں سن سکتا تھا ۔آپ ہمیشہ سحری تہجد کے بعد کھاتے اور کھاتے کھاتے اذان ہو جاتی تو آپ ؑ کھاتے رہتے ۔دراصل مسئلہ یہ ہے کہ صبح صادق افق سے نمودار نہ ہو جائے سحری کھانا جائز ہے اذان کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔دراصل شریعت کا بھی منشاء یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ عام لوگوں کی نظر میں صبح صادق نظر آئے تو کھانا چھوڑ دو ۔آ پ ﷺ نے فرمایا بلال کی اذان پر سحری نہ چھوڑا کرو بلکہ ابن مکتوم کی اذان پر چھوڑا کرو ۔ گزشتہ سال میں نے ایک دوست کو کہا تھا کہ آپ زیادہ سحری کھاتے ہیں انہوں نے روزہ رکھ لئے ۔ سحری پر مہمان نوازی کی مثال ہے : ڈاکٹر صاحب مرحوم کی اہلیہ نے بیان کیا کہ 1903 ء میں آئے تو ہم کو الگ کمرہ رہنے کو دیا ہم نے کہا روزہ رکھیں گے ۔حضور چند روز قیام کرنا ہے دل چاہتا ہے کہ روزہ رکھوں ۔اس پر حضور ؑ نے فرمایا ہم آپ ؑ کو کشمیری پراٹھے کھلائیں گے ۔آپ ؑ خود گلابی کمرہ میں تشریف لائے حضور نے کشمیری پراٹھے اوپر سے لا کر ہمارے سامنے رکھتے ۔ہمیں شرم آتی تھی مگر جو اثر حضور کی شفقت کا تھا ۔اس کا اثر ہی الگ تھا ۔اذان ہوگئی تو فرمایا ابھی اور کھاؤ بہت وقت ہے ۔ بیشک اچھا کھانا تو کھائیں مگر اعتدال ہونا چاہیے ۔یہ احساس بھی ہو کہ ہم نے روزہ رکھا ہے ۔ اس بارہ میں حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ نے کہا ہم نے تم پر روزہ فرض کئے ہیں تا کہ تمہاری تنگیاں دور ہوں ۔یہ ایسا نقطہ ہے جو مومن کو مومن بناتا ہے ۔روزہ مین بھوکا رہنا یا دین کے لئے قربانی کرنا انسان کے لئے کسی نقصان کا موجب نہیں بلکہ فائدہ ہے ۔جو کہتا ہے کہ رمضان میں بھوکا رہا وہ غلط کہتا ہے خدا کہتا ہے تم بھوکے تھے ہم نے روٹی کھلائی ۔مومن کا فرض ہے کہ جو لقمہ اس کے منہ میں جائے تو دیکھے یہ کس کے لئے ہے اگر وہ خدا کے لئے ہے تو وہ روٹی ہے ۔سحری اللہ تعالیٰ کے حکم سے اگر کھائی جا رہی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ہے ۔اس میں برکت ہے ۔اگر صرف پیٹ بھرنا ہے تو وہ نفس کی ہے ۔ جو کپڑا خدا کے لئے پہنا جائے وہی لباس ہے جو نفس کے لئے ہو وہ ننگا ہے ۔بعض لوگ وزن کم کرنے کی بجائے بڑھا لیتے ہیں ۔بعض لوگوں کے لئے رمضان ایسا ہی ہوتا ہے جیسے گھوڑے کے لئے گندم اور جو کی اعلی خوراک ہوتی ہے ۔یہ چیز بھی رمضان کی برکت کو کم کرنے والی ہے ۔پس اعتدال ضروری ہے ۔ فرمایا : سفر اور بیماری میں روزہ جائز ہے ۔ایک جگہ فرمایا حضور ؓ نےفرمایا : ایک دفعہ کچھ مہمان باہر سے آئے اور روزہ کھلوا دیا اور کہا سفر میں روزہ جائز نہیں ۔کسی وقت بیماری کا ذکر ہوا فرمایا رخصت سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔سفر اور بیماری میں روزہ جائز نہ تھا ۔ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے ۔حضرت مصلح موعود ؓ نے ایک اور موقع پر فرمایا : کہ مجھے سوال پیش کیا گیا کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ فتوی دیا ہے کہ مریض اور مسافر جو روزہ رکھیں گے وہ اطاعت سے باہر ہونگے ۔لیکن الفضل میں شائع کیا گیا ہے کہ احمدی جلسہ کی وجہ سے روزہ رکھ سکتے ہیں ۔اس پر فرمایا : جو نہ رکھیں وہ بعد میں رکھیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔اس کے بارہ میں میرا کوئی فتوی شائع نہیں ہوا ۔اصل بات یہ ہے کہ زمانہ خلافت میں سفر میں روزہ رکھنے سے منع کیا کرتا تھا ۔میں نے آپ ؑ کو دیکھا تھا آپ ؑ نے مرزا ایوب بیگ صاحب کو عصر کے وقت روزہ کھلوا دیا کہ سفر میں روزہ رکھنا ناجائز ہے ۔اس واقعہ کا یہ اثر تھا کہ میں سفر میں روزہ رکھنے سے روکتا تھا ۔ایک رمضان میں عبد اللہ سنوری صاحب نے فرمایا کہ ایک صاحب آئے اور آپ ؑ سے کہا میں روزہ رکھوں کے نہ رکھوں ۔ اس پر فرمایا آپؑ رکھ سکتے ہیں ۔ میں نے ان کی روایت کو قبول نہ کیا جب شہادت لی گئی تو قادیان کی رہائش کے ایام میں روزہ کی اجازت دیتے تھے ۔اس لئے مجھے پہلا خیال بدلنا پڑا ۔ ایک صاحب نے بتایا کہ ہم نے حضور ؑ کے دور میں رمضان میں مہمانوں کو سحڑی کھلائی ۔اس وجہ سے رمضان میں آنے جانے والے مہمانوں کو سحری کھلائی تھی ۔ قیام کے دوران روزوں کے بارہ میں سید محمد سرور شاہ صاحب بیان فرماتے ہیں ۔اگر کسی شخص نے ایک جگہ پر تین دن سے زیادہ اقامت کرنی ہو تو روزہ رکھے ۔قادیان میں کم دن قیام کی وجہ سے روزہ رکھ سکتا ہے ۔ مسافر اور مریض روزہ نہ رکھے ۔آپ ؑ نے یہ معلوم کر کے کہ لاہور سے ایک شخص آئے ہیں اور دوسرے لوگ بھی ۔آپ ؑ خلق عظیم کی بنا پر باہر نکلے ۔حضور ؑ نے ایک صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا ان کے کھانے ٹھہرنے کا پورا انتظام کر دیں ۔پھر ان مہمانوں سے پوچھا کہ آپ نے روزہ تو نہیں رکھا ۔اس پر انہوں نے کہا میں نے رکھ لیا ہے فرمایا : قرآن کریم کی باتوں پر عمل کرنا بھی تقوی ہے ۔قرآن نے مسافر کو رخصت دی ہے ۔اگر کوئی مسافر اور بیمار روزہ رکھتا ہے تو یہ معصیت ہے ۔مہمان نے کہا سفر میں کوئی تکلیف نہ ہو تو روزہ کیوں نہ رکھا جائے ۔ حضور ؑ نے فرمایا : یہ آپ کی اپنی رائے ہے ۔قرآن کریم نے کہیں بھی نہیں لکھا کہ سفر میں تکلیف نہ ہو تو روزہ رکھو ۔ بیمار اور مسافر کے روزہ رکھنے کا ذکر تھا مولوی نور الدین ؓ نے فرمایا : اگر کوئی بیمار روزہ کے دن میں روزہ رکھ لے پھر بھی دوسرے دن میں روزہ رکھنا چاہیے ۔ حضور ؑ نے فرمایا : جو مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ رمضان میں روزہ رکھتا ہے وہ نافرمانی کرتا ہے ۔خدا کے اس حکم پر عمل کرنا چاہیے کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے عمل سے ۔ایک روایت میں آتا ہے کہ میاں رحمت اللہ صاحب ابن میاں سنوری صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور ؑ لدھیانہ آئے تو کسی سے آپ ؑ کو معلوم ہوا کہ سب آنے والے روزہ دار ہیں ۔اس پر فرمایا : جیسا حکم روزہ رکھنے کا ہے ایسا ہی سفر میں نہ رکھنے کا بھی ہے لہذا ظہر کے بعد روزہ افطار کروا دیا گیا ۔ایک اور روایت میں مہمان سے عصر کے بعد روزہ کھلوا دیا ۔اسی طرح حضرت منشی ظفر صاحب تحریر کرتے ہیں ہم تین لوگ حضور کے پاس گئے میں نے روزہ رکھا ہوا تھا میرے رفیق نے نہ رکھا کسی نے بتایا کہ ظفر نے روزہ رکھا ہوا ہے آپ ؑ فورا اندر گئے اور شربت کا گلاس لائے اور روزہ کھلوا دیا ۔ پھر اگلے دن روزہ تھا افطاری کے وقت تین گلاش شربت کے لائے ۔اس پر میں نے عرض کیا کہ حضور ایک گلاس میں کیا ہوتا ہے ۔اس پر آپ ؑ مسکرائے اور اندر گئے اور بڑا لوٹا لائے منشی جی نے وہ ختم کر دیا ۔کہ حضور کی طرف سے آیا ہے ۔ ایک بار جب حضور سفر میں لچکر دے رہے تھے مفتی صاحب نے سفر میں چائے کی پیالی دی جس پر لوگوں نے شور مچایا اور پتھراؤ کیا ۔اس پر حضور ؑ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہمارے عمل سے یہ ثابت کروا دیا کہ روزہ سفر میں نہیں ہوتا ۔حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے یہ ملتا ہے رسول کریم ﷺ دو سہل رستوں میں سے ہمیشہ سہل کو پسند کرتے ۔ بعض دفعہ رمضان ایسے موسم میں آتا ہے جب کاشتکاروں کے کام کی کثرت ہو ۔مزدوروں سے روزہ نہیں رکھا جاتا تو اس کی نسبت کیا ارشاد ہے ۔فرمایا : الاعمال بالنییات۔ہر شخص تقوی و طہارت کے مطابق کام لے ۔اور جو طاقت نہیں رکھتے ۔جو رمضان میں روزہ نہیں رکھے جاتے ان کے بارہ میں فرمایا : کہ فدیہ کس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ یہ روزہ کے واسطے ہے کہ توفیق مانگی جائے ۔فدیہ سے یہی مقصد ہے کہ وہ طاقت مل جائے ۔ پس میرے نزدیک خوب ہے کہ میرے دعا کرے کہ الہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور میں اس سے محروم رہا جاتا ہوں کیا معلوم آئندہ رہوں یا نہ رہو ۔ایسے توفیق مانگے تو توفیق مل جاتی ہے ۔ فدیہ کی رقم یتیم فنڈ میں دینے جائز ہے یا نہیں تو فرمایا ایک ہی بات ہے ۔خواہ اپنے شہر میں دے دے ۔ بے خبری میں کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔ایک دن بے خبری سے کھاتا پیتا رہا سحر نکل چکی تھی ۔فرمایا : بے خبری میں کھایا پیا تو دوسرا روزہ لازم نہیں آتا ۔ سوال : کس عمر میں روزہ رکھنا چاہیے ؟ جواب حضرت مصلح موعود ؓ نے فرمایا چھوٹی عمر میں روزہ رکھنے سے منع کیا ہے بلوغت کے وقت کچھ روزہ رکھوانے چاہیے ۔بعض لوگ چھ سات سال میں روزہ رکھواتے ہیں یہ ظلم ہے ۔ہاں بلوغت کے قریب روزوں کی ضرور مشق کروانی چاہیے ۔مجھے بھی بارہ تیسرہ سال کے قریب پہلا روزہ رکھوایا ۔اور اٹھارہ سال کے بعد پھر فرض ہو جاتے ہیں ۔مجھے صرف ایک روزہ رکھوایا ۔پھر ایک عمر میں بچوں کو جرات دلوائیں ۔جو لوگ دیکھنے میں کمزور لگتے ہیں تو وہ ارشاد پر یہ کہے کہ اٹھارہ سال میں فرض ہے تو وہ اپنی جان پر ظلم کرے گا۔ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ؓ فرماتی ہیں ۔کم عمری میں روزہ رکھوانا پسند نہیں کرتی تھیں ۔حضرت اماں جان ؓ نے میرا پہلا روزہ رکھوایا تو سب کو دعوت دی ۔پھر اگلے دو تین رمضان کے بعد روزہ رکھا تو مجھے پان دیا کہ کھا لو یہ روزہ نہیں ہے ۔ اسی طرح تروایح کے بارہ میں سوال ہیں : رمضان شریف میں رات کو اٹھنے کی تاکید ہے مگر مزدور جو غفلت کرتے ہیں تو اگر اول ان کو پڑھا دیا جائے ۔جائز ہوگا ۔ فرمایا کچھ حرج نہیں تو پڑھ لیں ۔بیس رکعات پڑھنے پر کیا ارشاد ہے ۔ فرمایا : آنحضرت ﷺ کی دائم سنت آٹھ رکعات ہے ۔یہی افضل ہے ۔مگر پہلی رات میں پڑھ لینا بھی جائز ہے ۔آنحضرت ﷺ کی سنت صرف آٹھ رکعات تھیں ۔ ایک صاحب نے خط لکھا کہ سفر میں نماز کس طرح پڑھنی چاہیے اور تراویح کا کیا کریں ۔ فرمایا : پڑھا کریں ۔ تراویح سنت ہے ۔ یہ چند باتیں تھیں جو رمضان کے بارہ میں بیان کی ہیں اللہ تعالیٰ ہم کو تقوی پر رہتے ہوئے اللہ کی رضا کو قائم کرتے ہوئے رمضان کے روزوں سے فیضیاب کرے ۔ آمین bit.ly/1X2xfll
ضع نسخة من هذه الخلقيات على سطح مكتب الكمبيوتور . وجزاك الله خيرا
Download beautiful wallpapers for your desktop, enjoy...
Téléchargez les fond d'écran pour votre bureau
FOUND WRITTEN ON ONE OF THE OLD CHURCHES IN MACHKA(TURKEY), AW ALL WERE EVERY ONE WRITES WHAT DOES THIS PLACE MEANS TO HIM,SOME WERE CURSING,SOME WERE PEACFULL,N SOME WERE SO PROUD!
ZIYARAT OF MESJID AL-NABI
Idhun al-Dukhul means permission to enter the Prophet?s mosque for the Ziyarat (paying homage) of the Pr ophet:
O Allah, I am standing at the door of one of the houses of Your Prophet and the family. You have prohibited the people from entering his house except by the permission of Your Prophet and You said: ?O You who believe do not enter the house of the Prophet unless permitted to do so?. O Allah, I believe in this in his absence just as I believe it in his presence and I know that Your Prophet and Your vicegerents upon whom be peace, are alive in your presence, they are being nourished, they see my position and hear my speech and they return my greetings and (I believe) that You have covered my ears from hearing their speech and have opened the door of perception of their secret conversations (with You); I seek Your permission, O my Lord firstly; then I seek the permission of Your Prophet, peace be upon him and his family secondly and I seek the permission of Your vicegerent, the Imam whose obedience is incumbent upon me and (the permission of) Your angels entrusted over this blessed site thirdly. May I enter, O Prophet of Allah, may I enter O the proof of Allah, may I enter, O angels of Allah who are stationed close to this shrine, so pe rmit me O my master to enter the best of way that You have permitted any of Your friends, if I am not deserving of that then You surely are deserving of that.
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 18 دسمبر 2015 بیت الفتوح یوکے(مرتب کردہ یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : حضرت مسیح موعود ؑ نے جب دعوی مسیح موعود و مہدی موعود کیا تو تب سے آج تک بہت سے اعتراضات لگا رہے ہیں ۔یہ ان کی عادت ہے اور وہ کرتے رہیں گے ۔اس وجہ سے وہ عامة المسلمین کو گمراہ کر نے کی کوشش کرتے رہیں گے ۔سب سے بڑا الزام جو ہے وہ یہ ہے کہ نعوذباللہ آپ ؑ اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ سے بڑا سمجھتے ہیں ۔یہ نام نہاد علماء نعوذباللہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضور ؑ سے نبی کریم ﷺ کے بارہ میں نعوذباللہ کچھ ایسے الفاظ کہے ہیں جن سے توہین ہوتی ہے اور یہی الزام افراد جماعت پر بھی لگایا جاتا ہے ۔یہ ہم مسیح موعود ؑ کو نبی کریم ﷺ سے نعوذباللہ بڑا سمجھتے ہیں ۔جن سعید فطرت لوگوں نے جب بھی جماعت کا لٹریچر پڑھا ان کو فوری طور پر یہ بات سمجھ آ گئی کہ یہ نام نہاد اور فتنہ گر ملاں نے فتنہ کی غرض سے یہ الزامات لگائے ہیں ۔ اس وقت آپ ؑ کے بعض حوالے پیش کرونگا ۔کہ آپ ؑ نے آنحضرت ﷺ کے مقام کو کیا سمجھا ہے ۔کچھ حوالے پیش کرونگا ۔جب آپ ؑ نے براہین احمدیہ تصنیف فرمائی اور جو آخری کتاب وفات سے قبل تصنیف فرمائی ۔اس کے حوالے پیش کرونگا ۔جس میں آنحضرت ﷺ کے مقام و مرتبہ کے بارہ میں پیش گئے ۔ براہین احمدیہ 1880 سے 1884 کے دوران تصنیف فرمائی ۔اس میں آپ فرماتے ہیں ۔کہ اب آسمان کے نیچے فقط ایک ہی نبی اور ایک ہی کتاب ہے یعنی حضرت محمد ﷺ جو اعلی و افضل سب نبیوں سے اور خاتم الانبیاء اور خیر الناس ہیں ۔جن کی پیروی سے ہدایت ملتی ہے ۔اور قرآن کریم کتاب ہے جس سے انسان جہل کے حجابوں سے نجات پا کر حق الیقین کے مقام تک پہنچ جاتا ہے ۔براہین احمدیہ میں ہی فرماتے ہیں ۔اور یہ عاجز بھی اس عظیم الشان نبی کے احقر خادموں میں سے ہے ۔ پھر 1886 میں سرمہ چشمہ آریہ میں نبی کریم ﷺ کا مقام بتاتے ہیں کہ غرض ’’ وحی الہی ایسا آئینہ ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ کا چہرہ نظر آتا ہے ۔چونکہ آنحضرت ﷺ اپنی پاک باطنی اور انشراح صدری اور عشق میں سب انبیاء سے بڑھ کر اعلی و اکمل اعلی و اجلی و اصفی تھے اس لئے خدا نے ان کو عطر کمالات خاصہ سب سے زیادہ حصہ دیا ۔ اور سب سے پاک تر معصوم تر روشن تر سینہ اسی لائق تھا کہ ان پر ایسی وحی ہو جو سب سے اکمل و اتم ہو کر صفات الہیہ کے دکھانے کے لئے ایک صاف شفاف کشادہ آئینہ ہو پھر 1891 میں توضیع مرام میں فرماتے ہیں۔وحی الہی کی اعلی درجہ کی کیفیت ایک ہی انسان کو ملی ہے جو انسان کامل ہے جس پر سلسلہ انسانیہ ختم ہو گیا اور وہ درحقیقت پیدائش الہی کا آخری نقطہ ہے ۔ادنی سے اعلی تک سلسلہ پیدائش پہنچایا ہے اور جس کا اعلی درجہ محمد ﷺ ہیں ۔جس کا معنی ہیں نہایت تعریف کیا گیا ۔وہ مقام اعلی ہے کہ میں اور مسیح اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے ۔ پھر 1892 یا 1893 کی تصنیف ہے آئینہ کمالات اسلام ۔میں آپ مقام نبی کریم ﷺ کے بارہ میں فرماتے ہین ۔وہ اعلی درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو دیا۔۔۔۔۔غر ض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا یعنی انسان کامل میں تھا جس کے اعلی و ارفع فرد سید المولی اور سید الانبیاء محمد ﷺ ہیں ۔سو وہ نور اس انسان کو دیا گیا اور حسب مراتب ان کو بھی دیا گیا جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں دیا گیا۔اللہ تعالیٰ کی امانت واپس کرنا کیا ہے کہ اپنی زندگی اس کے دین کی اشاعت کے لئے وقف کر دی پس ہمارے سید ہمارے مولی ہمارے ہادی صادق مصدوق محمد رسول اللہ ﷺ نے اس امانت کا احسن حق ادا کیا ۔اول سے آخر تک کوئی ایسا انسان نہیں جو رسول کریم ﷺ جیسا فنا فی اللہ ہو ۔ 1894 نور حق میں آپ فرماتے ہیں : خوشخبری ہو ان کے لئے جو دین کی خدمت کے لئے کھڑے ہوئے ۔اور ربانی رضا کو پایا ۔درود اور سلام اس کے نبیوں کے سردار پر یعنی محمد ﷺ پر ہے ۔پھر جلد 8 میں ہی اتمام الحجہ میں آپ نے فرمایا وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا ۔جس کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی جس کے آنے سے ایک عالم زند ہ ہوگیا وہ کامل نبی محمد ﷺ ہیں اے اللہ تو اس پیارے نبی پر وہ درود بھیج جو ابتدائے عالم سے تو نے کسی نبی پر نہ بھیجا ہو ۔اگر یہ عظیم نبی نہ آتا تو باقیوں نبیوں پر سچائی کی دلیل نہ ہوتی ۔یہ اس نبی ﷺ کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے ۔ پھر 1895 میں آریہ دھرم میں فرماتے ہیں : ہمارے مذہبی مخالف بے اثر روایات پر بھروسہ کر کے ہمارا دل کھاتے ہیں اور ایسی باتوں سے ہمارے نبی ﷺ کی ہتک کرتے ہیں اور اس سے زیادہ دل دکھانے کا کیا موجب ہوگا کہ چند بے بنیاد روایات پر زنا کا الزام لگانا چاہتے ہیں ۔ہم اس کو خاتم النبوت جانتے ہیں 1896 سراج منیر میں فرماتے ہیں ۔ہم جب انصاف سے دیکھتے ہیں کہ تمام سلسلہ نبوت سے جوان نبی صرف ایک جوان نبی ہے جو رسولوں کا سرتاج ہے جس کا نام محمد مصطفی ﷺ ہے ۔جس کے زیر سایہ دس دن میں ہزاروں برس کی روشنی ملتی ہے ۔ 1898 کی تصنیف کتاب البریہ میں فرماتے ہیں : نبی کریم ﷺ کے معجزات دو قسم کے ہیں ایک آپ ﷺ کے ہاتھ سے آئے اور وہ تین ہزار کے ہیں ۔دوسرے وہ معجزات ہیں جو آپ ﷺ کے وجود سے ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں جن کی تعداد لاکھوں تک ہے ۔چنانچہ اس زمانہ میں اس عاجز کے ذریعہ سے یہ نشان دکھا رہا ہے ۔خدا تعالیٰ کا سب سے بڑا نبی سب سے زیادہ پیارا جناب نبی کریم ﷺ ہیں ۔دوسرے نبیوں کی امت تاریکی میں ہے اور یہ امت ہمیشہ تازہ بتازہ نشان پاتی ہے ۔لہذا ہمارے منہ سے گواہی نکلتی ہے سچ مذہب اسلام ہے ۔اگر قرآن شریف گواہی نہ دیتا تو ہمارے لئے ممکن نہ تھا کہ ان کو سچا نہ سمجھتے کیونکہ جب کسی مذہب میں صرف قصے اور کہانیاں رہ جاتی ہیں تو پھر اس کے بانی کی سچائی بھی ثابت نہیں ہو سکتی ۔لیکن ہمارے نبی کریم ﷺ کے معجزات صرف قصوں تک نہیں بلکہ ہم ان کی پیروی کر کے حق الیقین تک پہنچ جاتے ہیں ۔سچا کراماتی وہی ہے جس کی کرامات کا دریا کبھی خشک نہ ہو ۔وہ شخص ہمارے نبی کریم ﷺ ہیں خدا نے ان کے دریا کی کرامات ہمیشہ جاری رکھی اور اس زمانہ میں ہم کو بھیج کر صداقت کا ثبوت دیا ۔یہ سب برکات ہمارے نبی ﷺ کی ہیں ۔ پھر 1900 میں رسالہ اربعین نمبر 1 میں۔۔۔۔۔ پھر 1902 میں کشتی نوح میں فرماتے ہیں نوع انسان کے لئے کوئی کتاب نہیں مگر قرآن رو انسان کے لئے کوئی نبی نہیں مگر محمد رسول اللہ ﷺ سو تم سچی محبت اس نبی کے ساتھ رکھو اور کسی کو ان پر بڑھائی نہ دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ ۔آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم مرتبہ کوئی اور کتاب ہے ۔کسی نبی کے لئے ہمیشہ زندہ رہنا ممکن نہ تھا اور یہ نبی زندہ ہے 1902 نسیم دعوت میں آپ فرماتے ہیں : اس کامل سچے خدا کو ہماری روح کا ذرہ ذرہ سجدہ کرتا ہے ۔جس سے ہر ایک روح ظہور پذیر ہوئی ہے ۔جس کے علم میں سب کچھ ہے ۔اور ہزاروں درود اور سلام اور رحمتیں اور برکتیں اس پاک نبی محمد ﷺ پر نازل ہوں جس کے ذریعہ وہ زندہ خدا پایا ۔جو کلام کر کے آپ اپنی ہستی کا ثبوت دیتا ہے ۔سو ہم نے ایسے رسول کو پایا جس نے خدا کو ہمیں دکھایا ۔ 1903 کی تصنیف لیکچر سیالکوٹ میں فرمایا : غرض یہ تمام بگاڑ مذہب میں پیدا ہو گئے جو ذکر کے قابل نہیں ۔یہ تمام اسلام کی ظہور کی وجہ سے تھی ۔ایک عقلمند کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اسلام سے قبل روحانیت کھو کر مذہب بگڑ گیا تھا ۔ہمارے نبی کریم ﷺ سچائی کو لیکر آئے اور اس میں کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپ نے تمام دنیا کو تاریکی میں پایا اور وہ پھر تمام تاریکی نور میں بدل گئی ۔اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ اعلی مراتب کو پہنچ گئے ۔آپ کا دنیا میں آنا اس وقت تھا جب لاکھوں ہدایت سے دور تھے اور پھر آپ نے ان کو نور کی روشنی دی اور جانوروں کو انسان بنایا ۔پھر انسانوں سے تعلیم یافتہ انسان بنایا ۔پھر ان سے با خدا انسان بنایا ۔اور سچے خدا کے ساتھ ان کا تعلق پیدا کر دیا ۔وہ بکریوں کی طرح ذبح کئے گئے اور چیونٹیوں کی طرح کچلے گئے مگر ایمان کو نہ ہاتھ سے گنوایا ۔اور تمام کمالات نبوت آپ ﷺ پر ختم ہو گئے ۔آپ کی نبوت میں کوئی حصہ بخل کا نہیں ۔ پھر 1905 براہین احمدیہ جلد پنجم میں فرمایا : ہزار ہزار ہا درود اس نبی ﷺ پر اور ہزار ہا رحمتیں اس نبی کے اصحاب پر ہوں ۔جنہوں نے اپنے خون سے اس کی پاسداری کی ۔پھر فرمایا : سب سے آخر پر مولانا محمد ﷺ ایک عظیم نور لے کر آئے ۔وہ نبی جناب الہی سے بہت نزدیک چلا گیا اور پھر مخلوق کی طرف جھکا اس طرح دونوں قسم کے حسن ظاہر کئے ۔اس حسن کو ناپاک طبع لوگوں نے اور اندھے لوگوں نے نہ دیکھا ۔آخر وہ سب اندھے ہلاک ہو گئے 1907 میں تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں جس کا نام محمد ﷺ کس قدر اعلی نبی ہے جس کی انتہاء معلوم نہیں ہو سکتی ۔افسوس جیسا حق شناس کا اس کو شناس نہ کیا گیا ۔توحید وہی پہلوان دنیا میں لیکر آیا ۔اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس نبی کریم ﷺ کو دیں ۔وہی سرچشمہ سب ہدایت ہے ۔وہ بغیر اس کے کوئی ہدایت کا دعوی کرتا ہے تو وہ شیطان ہے ۔(الزام لگاتے ہیں آپ ؑ تو فرما رہے ہیں جو بغیر ان کے کوئی دعوی کرے وہ شیطان ہے ۔) ہر ایک معرفت کا خزانہ اس نبی کو دیا گیا ۔جس اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہیں ۔توحید حقیقی اور زندہ خدا کی شناخت اسی کامل نبی سے پائی ۔خدا کے مکالمات بھی اسی نبی سے ملے ۔پھر اسی میں فرمایا : اب اس تمام بیان سے ہماری غرض ہے اللہ تعالیٰ نے اپنا کسی کے ساتھ پیار کرنا اس بات سے مشروط ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کی پیروی کرے ۔میرا ذاتی تجربہ ہے رسول کریم ﷺ سے محبت کرنا خدا تعالیٰ کا پیارا بن جاتا ہے ۔پھر اسی میں فرمایا : سو میں نے خدا کے فضل سے نہ کسی اپنے ہنر سے میں نے اس نعمت سے حصہ پایا ہے اور میرے لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا ۔اگر میں اپنے سید مولا فخر الانبیاء اور خیر الوری محمد ﷺ کی راہوں کی پیروی نہ کرتا سو میں نے جو کچھ پایا اس پیروی سے پایا میں اپنے کامل علم سے جانتا ہوں کوئی انسان اس نبی کی پیروی کے خدا کو نہیں پا سکتا ۔دل کی صفائی بھی نبی کریم ﷺ کی پیروی سے بطور وراثت ملتی ہے ۔خدا سے محبت کرنا بھی رسول کریم ﷺ کی پیروی ہے ۔ 1908 کی اپنی تصنیف میں فرمایا : چشمہ معرفت میں : دنیا میں کڑورہا انسان پاک فطرت گزرے ہیں اور بھی ہوں گے مگر سب سے بہتر اور سب سے اعلی اور خوب تر اس مرد خدا کو پایا ہے جس کا نام ہے محمد ﷺ ۔اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں ۔تم بھی اس پر درود بھیجو ۔صرف ہم ان نبیوں کی نسبت اپنی رائے ظاہر کرتے ہیں حضرت موسی حضرت داؤد ؑ ۔سو ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر نبی کریم ﷺ نہ آتے اور قرآن کریم نازل نہ ہوتا تو وہ تمام نبیوں کا صدق ہم پر واضح نہ ہوتا ۔کیونکہ قصوں سے کسی کا صدق ظاہر نہیں ہوتا ۔لیکن نبی کریم ﷺ کے ظہور سے یہ سب قصے حقیقت میں آگئے ۔ہم نے مکالمہ الہیہ اور خدا کے نشان کیا ہیں یہ سب کچھ نبی کریم ﷺ کی پیروی سے پایا ۔ہم نے ایک ایسے نبی کا محمد عربی بادشاہ ہر دو سرا کرے ہے روح قدس جس کے در کی دربانی اسے خدا تو نہ کہہ سکوں پہ کہتا ہوں اس کی مرتبہ دانی میں ہے خدا دانی ہم کس زبان سے خدا کا شکر کریں جس نے ایسے نبی کی پیروی نصیب کی ۔جو سورج ہدایت ہے ۔وہ تھکا نہیں جب تک عرب کو شرک سے پاک نہ کر دیا ۔وہ سچائی کی آپ دلیل ہے اس کا نور ہر ایک زمانہ میں موجود ہے ۔لیکن افسوس کے اکثر انسان سفلی زندگی کو پسند کر لیتے ہیں اور نور لینا نہیں چاہتے ۔پھر فرماتے ہیں : اب سوچنا چاہیے کیا یہ عزت اور اقبال و شوکت یہ جلال ہزاروں نشان آسمانی و برکات روحانی جھوٹے کو مل سکتی ہیں َہم کو فخر ہے کہ جس کا دامن ملا ۔ہم نے اس کے ذریعہ خدا کو دیکھ لیا ہے ۔اگر اسلام نہ ہوتا تو اس زمانہ میں اس بات کا سمجھنا محال تھا کہ نبوت کیا ہے معجزہ کیا ہے ۔اس عقدہ کو اس نبی ﷺ کے دائمی فیض نے حل کیا ۔ہم اب صرف قصہ گو نہیں بلکہ ہم نے خدا کا نور اپنے شامل حال پایا ۔ہم کیسے شکر ادا کر سکیں کہ وہ خدا اس نبی ﷺ کے ذریعہ ہم پر ظاہر ہوگیا۔ پس ان علماء کو اعتراض ہے کہ نبی کریم ﷺ کی سچی پیروی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ ؑ سے کیوں کلام کیا ۔پس حضرت مسیح موعود ؑ اور جماعت احمدیہ نہیں بلکہ یہ نام نہاد علماء اس الزام کے نیچے آتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا فیض زندہ نہیں ہے اور خدا تعالیٰ کی طاقتیں اب بھی کام کررہی ہیں ۔ پھر مقام و مرتبہ اور جاری فیض کے بارہ میں فرمایا کہ آپ ﷺ کے ظہور سے معجزہ آیا کہ جزیرہ عرب سمندر کی طرح خدا کی توحید سے بھر گیا اور ہمارے سید مولی ﷺ کو جس قدر نشان اور معجزات ملے وہ صرف اس زمانہ تک محدود نہ تھے بلکہ قیامت تک جاری ہے ۔ آ پ ؑ پر الزام ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتے ۔پس یہ مقام و مرتبہ ہے آنحضرت ﷺ کا جو آپ ؑ نے سمجھا اور دوسروں کو اس کا ادراک دیا ۔اگر ہم حضرت مسیح موعود ؑ کو ماننے والے نہ ہوتے تو ہم ان کے ذریعہ یہ مقام جو نبی کریم ﷺ کا آج ہم پر ظاہر ہے وہ آ پ کی وجہ سے ہے ۔ان تمام تحریرات میں کہیں بھی کوئ جھول نہیں ہے ہر جگہ مقام و مرتبہ پہلے سے بڑھ کر بیان فرمایا ہے جو کہ 1884 سے 1908 تک کی تحریرات ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان مفاد پرست ملاں سے امت کو بچائے اور یہ محمد ﷺ کے عاشق صادق کو ماننے والے ہوں ۔یہی ایک ذریعہ سے جو امت مسلمہ کے اتحاد کو قائم کر سکتا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حضرت مسیح موعود ؑ کی تحریرات کو پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق دے اور نبی کریم ﷺ کے ذریعہ خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی توفیق دے ۔ آمین on.fb.me/1NBzd3n
Muhammad (PBUH) "His father died before he was born, and his mother died when he was only six. But sheltered by a powerful uncle, he made a good start in life, established himself in a profitable business and married well. And then, at the age of 40, he was transformed. A man who could not read or write, he announced that he was the prophet of God. His name was Muhammad, and in the next 23 years he would bring peace to the warring pagan tribes of Arabia and establish the new religion of Islam, which today has 1.4 billion followers."
Rana Mujahid Ali
rmujahidali@yahoo.com