View allAll Photos Tagged Islam'

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 01 جنوری 2016 بیت الفتوح یوکے(مرتب کردہ و طالب دعا : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :آج نئے سال کا پہلا دن ہے اور جو جمعة المبارک کے برکت دن سے شروع ہو رہا ہے ۔حسب روایت نئے سال کے شروع پر ہم ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں ۔مجھے بھی نئے سال کے پیغام موصول ہو رہے ہیں ۔مغرب یا ترقی یافتہ ممالک میں نئے سال کی ساری رات شراب نوشی ہٹر بازی میں گزاری جاتی ہے ۔بلکہ مسلمان ممالک میں بھی اسی طرح سال نیا منایا جاتا ہے ۔دوبئی میں بھی اسی طرح تماشہ دکھایا گیا ۔63 منزلہ عمارت کو آگ لگی جس سے آگ ڈھیر ہو گئی ۔تباہی ہوتی ہے تو ہوتی رہے ۔ہم تو اس کے قریب اپنے پروگرام کے مطابق تماشے کریں گے ۔ویسے تو اس وقت مسلمان ملکوں کی حالت اکثر کی بری ہے ۔لیکن بہرحال یہ دنیا داری کے اظہار ہیں ۔اگر آگ وہاں نہ بھی لگی ہوتی تو اس حالت کا یہ تقاضہ تھا ۔مسلمان امیر ملک یہ اعلان کرتے ہیں ۔کہ ہم ان چیزوں میں پیشہ برباد کرنے کی بجائے متاثرین کی مدد کریں گے ۔لیکن یہاں تو اپنی تعلیم بھول کر یہ حال ہے کہ کچھ دن پہلے دوبئی سے خبر آرہی تھی کہ ان کا سب سے بڑا ہوٹل جو ہے اس میں دنیا کا مہنگا ترین کرسمس ٹریٹ لگایا گیا جس کی مالیت 11 ملین ڈالر کی تھی ۔یہ مسلمان ممالک کی ترجیحات ہو چکی ہیں َلیکن ۔احمدیوں نے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے اپنی رات عبادت میں گزار دی ۔یا صبح جلدی جاگ کر نفل پڑھ کر نئے سال کے پہلے دن کا آغاز کیا ۔بہت جگہ پر تہجد بھی پڑھی گئی ۔اس کے باوجود ہم غیر مسلم ہیں ۔اور یہ ہلڑ بازی کرنے والے مسلمان ہیں َبہرحال ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمان ہیں ۔ہم کو کسی سند کی خواہش ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں حقیقی مسلمان کی سند لینی ہے ۔اس کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ سال کے پہلے دن انفرادی یا اجتماعی تہجد پڑھ لی ۔یا صدقہ دے دیا ۔اور اس سے خدا کی رضا مل گئی ۔بیشک یہ نیکی اللہ کے فضلوں کو جذب کرنے والی ہو سکتی ہے ۔لیکن تب جب استقلال پیدا ہوگا۔اللہ تعالیٰ کو مستقل نیکیاں اپنے بندوں سے چاہتا ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : تہجد کے ساتھ ایک پاک انقلاب پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔تب خدا تعالیٰ راضی ہوتا ہے ۔کسی قسم کی ایسی نیکی جو ایک دن یا دو دن کے لئے ہو وہ نیکی نہیں ہوتی ہے ۔کس قسم کے رویہ ہم کو اپنانے چاہیں جو خدا تعالیٰ کی رضا ملے ۔اس کے لئے میں نے آج زمانہ کی اصلاح کے لئے بھیجے ہوئے کی بعض نصائح کو لیا ہے ۔جو آپ نے اپنی جماعت کو کیں تا کہ مستقل مزاجی اور ایک تسلسل کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوشش کرتے رہیں۔یہی باتیں جو سال کے پہلے دن ہی نہیں سال کے بارہ مہینے اور 365 دنوں کو با برکت کریں گی ۔اور ہم اللہ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے بن سکیں گے ۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں : اب دنیا کی حالت کو دیکھو ہمارے نبی کریم ﷺ نے عمل سے دکھایا میرا مرنا اور جینا اللہ کے لئے ہے اور یا اب دنیا میں مسلمان موجود ہیں پوچھنے پر الحمد للہ مسلمان ہونے کا کہتا ہے ۔مگر یہ دنیا کے لئے جیتے ہیں ۔اور دنیا کے لئے مرتا ہے اس وقت تک کہ غرغرہ نہ شروع ہو جائے دنیا ہی مقصود و مطلوب رہتی ہے ۔پھر کیونکر کہہ سکتا ہے نبی کریم ﷺ کی پیروی کرتا ہوں ۔بڑی غور طلب بات ہے ۔مسلمان بننا آسان نہیں ہے ۔رسول کریم ﷺ کی اطاعت اور اسلام کا نمونہ اپنے اندر پیدا نہ کرو تو مطمئن نہ ہو ۔اگر صرف نام کے مسلمان ہو تو رسول کریمﷺ کا اسوہ نہیں اپنانے تو صرف نام اور چھلکا ہی ہے ۔کسی یہودی سے کہا مسلمان ہو جا اس نے کہا تو صرف نام پر ہی خود نہ ہوجا ۔میں نے اپنا نام خالد رکھا تھا ۔اور شام سے پہلے ہی دفن کر دیا ۔اس نام سے اس کو زندگی نہ ملی ۔پس حقیقت کو طلب کرو نرے نام پر راضی نہ ہو ۔کس قدر شرم کی بات ہے انسان عظیم الشان نبی کا امتی ہو کر کافر سی زندگی گزارے ۔تم اپنی زندگی میں محمد ﷺ کا نمونہ دکھاؤ ۔وہی حالت پیدا کرو اور اگر وہ نہیں تو پھر تم شیطان کے ساتھ ہو ۔غرض یہ بات سمجھ آ سکتی ہے اللہ تعالیٰ کا محبوب ہونا زندگی کا مقصد ہونا چاہیے ۔جب تک خدا کی محبت نہ ملے کامیابی کی زندگی بسر نہیں کر سکتے ۔یہ عمل پیدان ہیں ہوتا جب تک سچی اطاعت رسول کریم ﷺ کی نہ کرو ۔آپ ﷺ نے عمل سے اسلام دکھایا وہی اسلام تم بھی اپنے اندر پیدا کرو ۔ اسلام دنیا کی نعمتوں سے منع نہیں کرتا ۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :اسلام نے رہبانیت کو منع کیا ہے مومن کے تعلقات دنیا سے جس قدر وسیع ہوں اتنا بہتر ہے ۔اور دنیا کا ما ل و جا دین کا خادم ہوتا ہے ۔حصول دنیا میں بھی اصل غرض دین ہو ۔ایسے طور پر دنیا کو حاصل کیا جائے کہ وہ دین کی خادم ہو ۔انسان جب کسی جگہ پر جانے کے لئے زاد راہ ساتھ لیتا تو اصل غرض منزل ہوتی ہے ۔اسی طرح دنیا کو حاصل کرے مگر دین کا خادم سمجھ کر ۔فرمایا : اے ہمارے رب اس دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی ۔اس میں بھی دنیا کو اول رکھا ایسی دنیا جو آخرت میں بھی حسنات کا موجب بن جائے ۔مومن کو دنیا کے حصول میں آخرت کے حسنات کا خیال رکھنا چاہیے ۔دنیا کو ہر ایسے طریق سے حاصل کرو جس کو حاصل کرنے سے بھلائی اور خوبی ہو نا وہ طریق جس سے دوسرے کو تکلیف ہو ۔نہ شرم کا باعث ہو ۔ایسی دنیا ہمیشہ حسنات کی موجب ہوتی ہے ۔ایسی دنیا کو اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے ۔پھر فرمایا : سمجھنا چاہیے کہ جہنم کیا ہے ۔ایک مرنے کے بعد کا جہنم ہے ۔دوسری یہ زندگی اگر خدا کے لئے نہیں تو یہ بھی جہنم ہی ہے ۔فرمایا : اللہ تعالیٰ ایسے انسان کا تکلیف سے بچانے کے لئے متولی نہیں ہوتا جس کو خدا کی پرواہ نہ ہو ۔کوئی بھی انسان مال و دولت سے دنیا کا بہشت نہیں پا سکتا ۔اطمینان اور تسلی اور تسکین ان باتوں سے نہیں ملتی ۔وہ خدا میں زندہ اور مرنے کے لئے مل سکتی ہے ۔پس یہ بے جا خواہشات کی آگ اسی جہنم کی آگ ہے جو انسان کو اقرار نہیں لینے دیتی ۔بلکہ اس کو پریشان رکھتی ہے ۔فرمایا : اس لئے میرے دوستوں کی نظر سے یہ امر پوشیدہ نہ رہے کہ انسان مال و زر کی دولت کے نشہ میں ایسا غرق نہ ہو کہ خدا تعالیٰ اور بندہ میں ایک حجاب پیدا ہو جائے ۔ پھر حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں : میرے دل میں یہ بات آئی ہے کہ الحمد للہ ۔۔۔ مالک یوم الدین سے یہ ثابت ہے کہ انسان ان صفات کو اپنے اندر لے ۔ہر عالم میں غرض ہر عالم میں پھر رحمان اور رحیم پھر مالک یوم الدین ہے ۔ایاک نعبد کہتا ہے تو پھر اس عبادت میں وہی صفات کا پرتو اپنے اندر لینا چاہیے ۔فرمایا: کمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو جائے جب تک یہ مرتبہ نہ ملے نہ تھکے نہ ہارے ۔اس کے بعد خود ایک کشش پیدا ہو جاتا ہے جو عبادت کی طرف لے جاتا ہے ۔ اس بارہ میں زندگی کا بھروسہ نہیں حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :کسی کو کیا معلوم ہے کہ ظہر کے بعد عصر تک زندہ رہے ۔بعض دفعہ یک دفعہ ہی جان نکل جاتی ہے ۔بعض دفعہ چنگے بھلے آدمی مر جاتے ہیں ۔ایک وزیر ہوا خوری کر کے آئے ایک دو زینہ چڑھے اور چکر آیا بیٹھ گئے اور پھر دو تین زینہ پر چکر آیا اور جان نکل گئی ۔ایک اور غلام محی الدین یک دفعہ ہی مر گیا ۔موت کا کوئی وقت معلوم نہیں اس لئے اس سے بے فکر نہ ہوں ۔دین کی غم خواری بڑی چیز ہے ۔ساعت سے مراد قیامت بھی ہوگی مگر اس میں ساعت سے موت ہی مراد ہے ۔کیونکہ انقطاع تام کا وقت ہوتا ہے اور ایک عجیب زلزلہ اس پر طاری ہوتا ہے ۔گویا اندر ہی اندر ایک شکنجہ میں ہوتا ہے ۔اس لئے موت کا خیال رکھے ۔ جب یہ یاد ہوگا تو انسان نیکیاں بجا لانے کی کوشش کرتا ہے پھر بلا وجہ کے تماشوں میں نہ وقت اور نہ پیسہ ضائع کرے گا ۔اور نہ بے جا خواہشات کی تکمیل میں پیشہ ضائع کرے گا۔ پھر پاک تبدیلی پیدا کرنے میں فرماتے ہیں : پس غفلت نہ کرو ایک تبدیلی کرو ۔انسان کو نفس جھوٹی تسلی دیتا ہے ۔موت کو قریب سمجھو خدا کا وجود بر حق ہے ۔اب جیساکہ سورة فاتحہ میں تین گروہ کا ذکر ہے ۔تین کا مزہ چکھا دے گا ۔آخر والے مقدم ہونگے ۔ضالین ۔مسلمانوں کی مثال دے کر فرما رہے ہیں ۔کہ وہ پہلے ہو گئے ۔اسلام وہ تھا کہ ایک مرتد ہو جاتا ہے تو قیامت ہو جاتی تھی ۔اب ہزاروں عیسائی ہو چکے تھے ۔خود ناپاک ہوئے ہیں ۔اور پاک وجود کو گالی دی جاتی ہے ۔پھر مغضوب کا نمونہ طاعون سے دکھایا گیا ۔یہ ان لوگوں پر پڑتی ہے ۔آج کے زمانہ میں بھی طوفان زلزلے ہیں اور آفتیں ہیں یہ سب انسان سوچے تو خدا تعالیٰ کے غضب نازل ہو رہے ہیں ۔یہی چیزیں پھر خدا کی طرف لے کر آتی ہیں َپھر انعام یافتہ گروہ ہے ۔قاعدہ کی بات ہے کہ یہ کام نہ کرنے کا کہا جاتا ہے تو اس میں سے ایک اس کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔کوئی بھی قوم ایسی نہیں جس کو منع کیا گیا اور وہ سب کے سب منع ہوئے ہوں ۔قرآن کی نسبت کہا ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔غرض دعاؤں میں لگے رہو کہ انعام یافتہ گروہ میں داخل کرے ۔مستقل دعاؤں کی ضرورت ہے ایک دو دن کی دعاؤں کی نہیں ۔پھر پاک تبدیلی اور آخرت کی فکر تقوی سے پیدا ہوتی ہے ۔آپ فرماتے ہیں :تقوی والے پر خدا کی تجلی ہوتی ہے وہ خدا کے سایہ میں ہوتا ہے مگر چاہیے کہ تقوی خالص ہو شیطان کا کچھ حصہ نہ ہو ۔شرک خدا کو پسند نہیں ۔اگر کچھ حصہ خدا کا ہو تو خدا کہتا ہے سب شیطان کا ہے ۔خدا کے پیاروں کو دکھ مصلحت الہی سے آتا ہے ۔ورنہ ساری دنیا جمع ہو جائے تو پھر بھی تکلیف نہیں دے سکتی ۔وہ نمونہ ہوتے ہیں اس لئے تکلیف اٹھانے کا نمونہ بھی دکھائیں۔خدا اپنے ولی کو تکلیف نہیں دینا چاہتا ۔یہ ان کے لئے نیکی ہے کیونکہ ان کے اخلاق واضح ہوتے ہیں ۔انبیاء کی تکلیف میں خدا کی ناراضگی نہیں ہوتی بلکہ ایک شجاعت کا نمونہ قائم کرتے ہیں ۔جنگ احد میں رسول کریم ﷺ اکیلے رہ گئے اس میں بھید بھی شجاعت کا ظاہر کرنا تھا ۔جب آپ دس ہزار کے مقابل پر اکیلے کھڑے ہو گئے ۔یہ نمونہ کسی نبی نے نہیں دکھایا۔ ہم اپنی جماعت کو کہتے ہیں کہ اتنے پر خوش نہ ہو جائیں کہ ہم موٹے موٹے گناہ نہیں کرتے ۔ان میں تو مشرک بھی زنا چوری نہیں کرتے ۔تقوی کا مضمون باریک ہے اس کو حاصل کرو ۔خدا کی عظمت دل میں بیٹھاؤ ۔جس کے اعمال میں ریا کاری ہوگی وہ واپس منہ پر مارے جاتے ہیں ۔متقی ہونا مشکل ہے ۔اگر کوئی تجھ سے کہے تو نے قلم چرایا ہے تو کیوں غصہ کرتا ہے ۔تیرا پرہیز تو محض خدا کے لئے ہے ۔یہ طیش اس واسطہ ہوئے کہ تم اللہ تعالیٰ سے تعلق نہ تھا ۔فرمایا : جب تک واقعی انسان پر بہت سی موتیں نہ آجائیں وہ متقی نہیں بنتا ۔سچی رویا کے پیچھے نہ پڑا کرو بلکہ حصول تقوی کے پیچھے رہو ۔متقی کے الہامات بھی صحیح ہیں ۔اگر تقوی نہیں تو قابل اعتبار نہیں ۔کسی کے الہام کو جاننا ہے تو پھر تقوی سے پہچانو ۔انبیاء کے نمونے کو قائم رکھو ۔جتنے بھی نبی آئے سب نے تقوی کی راہ سکھائی ۔نبی کمال نبی کی امت کے کمال کو چاہتا ہے ۔رسول کریم ﷺ پر کمالات نبوت ختم ہوئے ۔جو اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہے وہ اپنی زندگی کو خارق عادت بنا لے ۔تقوی کا اعلی ترین معیار حاصل کرو ۔فرمایا دیکھو امتحان دینے والے محنت کرتے ہیں اور کمزور ہو جاتے ہیں ۔تقوی کے امتحان میں پاس ہونے کے لئے ہر تکلیف اٹھانے کے لئے تیار ہو جاؤ ۔مختصر خلاصہ ہماری تعلیم کا یہی ہے کہ انسان اپنی تمام طاقتوں کو خدا کی طرف لگا دے ۔اہل تقوی اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں ۔کسی کے غصہ سے خود مغلوب نہ ہو جاؤ ۔تکبر اور غرور غضب کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں یا ایک دوسرے پر غرور کریں کسی کو کم سمجھیں خدا جانتا ہے بڑا کون ہے اور جھوٹا کون ہے ۔جس کے اندر حقارت ہے ڈر ہے وہ بیج بڑھ کر ہلاکت کا باعث بن جائے ۔بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو آرام سے سنے ۔اس کی دلجوئی کرے ۔کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے ۔جس سے دکھ پہنچے ۔خدا فرماتا ہے ۔کسی کو برے لقب سے نہ پکارو ۔یہ فعل فجار کا ہے ۔جو کسی کو چڑاتا ہے وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اس میں مبتلا نہ ہو ۔جب ایک چشمہ سے پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کس کی قسمت میں زیادہ پانی ہے ۔خدا کی نظر میں معزز زیادہ متقی ہے ۔ پھر تقوی کے بارہ میں فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے جس قدر قویٰ عطا فرمائے ہیں وہ ضائع کرنے کے لئے نہیں ان کے جائز استعمال کرنا ہی ان کی نشو و نما ہے ۔فرمایا اسی لئے قوائے رجولیت نکالنے کی تعلیم نہیں دی بلکہ جائز استعمال کہا ہے ۔آنکھ بد کام کے لئے نہیں دی گئی بلکہ جائز استعمال کرو گے تو تزکیہ نفس ہوگا۔مسلسل کوشش کرنے والے ہدایت کے راستہ پر چلتے ہیں جس سے فلاح ملتی ہے ۔پس یہی فلاح یاب ہیں جو منزل مقصود تک پہنچ جائیں گے ۔اس لئے شروع میں ہی تقوی کی تعلیم دے کر ایک کتاب دی جس میں تقوی کی نصائح دیںَ ہماری جماعت غم کل غموں سے بڑھ کر اپنی جان پر لگائے کہ ان میں تقوی ہے یا نہیں۔ اگر تم لوگوں کے دل پر فتح پانا چاہتے ہو تو تقوی سے کام لو ۔دوسروں کو اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھاؤ تب کامیاب ہو جاؤ گے ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔جو بھی بات دل سے نکلتی ہے وہ دل پر ضرور اثر کرتی ہے ۔مومن کی ایک بات دل سے نکلنی چاہیے اور دوسروں کی فلاح کا موجب بنتی ہے ۔پہلے دل کو عمل والا بناؤ پھر دوسروں کی اصلاح چاہو ۔عمل کے بغیر قولی طاقت کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی ۔بہت سے مولوی اپنے آپ کو نائب رسول کہہ کر واعظ کرتے ہیں تکبر غرور سے بچو ان کے اپنے کرتوت ان باتوں سے لگا لو کہ ان کی باتوں کا اثر تمہارے دل پر کس حد تک ہوتا ہے ۔پھر فرمایا : اس قسم کی عملی طاقت نہیں رکھتے ۔اگر یہ خود کرتے تو قرآن کیوں کہتا تم وہ کیوں کہتے ہو جو نہیں کرتے ۔یہ آیت بتاتی ہے کہ عمل نہ کرنے والے ہیں اور ہونگے ۔ہم سب کو پہلے اپنا جائزہ لینا چاہیے اور پھر دوسروں کی اصلاح ۔یہ نصیحت خاص طور پر عہدیداروں کو یاد رکھنی چاہیے ۔دوسروں کو تبدیلی کا کہتے ہیں مگر خود الٹ کرتے ہیں۔پھر خدا تعالیٰ کے حکم کا ثانوی حیثیت دے دیتے ہیں ۔ فرمایا : تم میری بات سنو اور خوب یاد رکھو اگر انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عمل ساتھ نہ ہو وہ اثر انگیز نہیں ہوتی ۔اسی میں ہمارے نبی ﷺ کی کامیابی ہے ۔آپ کو جو فتح ملی اسی وجہ سے کہ آپ ﷺ کا قول وفعل مطابقت رکھتا تھا ۔پھر فرماتے ہیں : آج کل کے تعلیم یافتہ لوگوں پر ایک اور بڑی آفت پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ دین سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے ۔پھر جب حیرت دان کا یا فلاسفر کا اعتراض پڑھتے ہیں تو شکوک شروع ہو جاتے ہیں ۔تب وہ عیسائی اور دہریہ بن جاتے ہیں ۔ایسی حالت میں ان کے والدین ان پر ظلم کرتے ہیں دین کا علم نہیں دیتے ۔اور شروع سے ایسا کام کرتے ہیں کہ دین نہیں سیکھتے ۔پس والدین کو بچوں کی تعلیم کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔جماعت میں بہت لٹریچر ہے پڑھیں تو شکوک دور ہو جاتے ہیں َپھر باہم اتفاق و محبت پر کہہ چکا ہوں تم باہم اتفاق رکھو اور اجتماع کرو ۔ تم وجود واحد رکھو ورنہ ہوا نکل جائے گی ۔اگر اختلاف ہو تو پھر بے نصیب رہو گے ۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے آپس میں محبت کرو اور ایک دوسرے کے لئے غائبانہ دعا کرو ۔ایک شخص کی غائبانہ دعا پر فرشتہ بھی کہتا ہے کہ تیرے لئے بھی ایسا ہو ۔میں نصیحت کرتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ آپس میں اختلاف نہ ہو ۔دو ہی مسئلے لیکر آیا ہوں خدا کی توحید پکڑو اور آپس میں محبت کا نمونہ دکھاؤ ۔یاد رکھو جب تک تم میں سے ہر ایک جو خود پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لئے پسند نہ کرے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے ۔وہ بلا میں ہے پھر فرمایا : میرے وجود سے ایک صالح جماعت پیدا ہوگی ۔ (انشاء اللہ ) جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پاتے ان کو جماعت سے الگ کر دونگا ۔جو ایسے ہیں وہ چند روزہ مہمان ہیں ۔میں کسی کے سبب سے اپنے اوپر اعتراض لینا نہیں چاہتا ۔ پس ڈرو میرے ساتھ وہ نہ رہے گا جو اپنا علاج نہ کرے گا۔جو بھی کمزور ہے وہ ان دعاؤں سے حصہ نہ پا سکے گا جو حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی جماعت کے لئے کی ہیں ۔پس سب کو اپنے جائزے لیتے رہنا چاہیے ۔پھر فرمایا : قرآن کریم میں ہے کہ تیری پیروی کرنے والوں پر قیامت تک تیرے مخالف پر غلبہ دونگا۔یہ وعدہ مسیح سے تھا میں تم کو کہتا ہوں مجھے بھی انہی الفاظ میں بشارت دی ہے ۔اب سوچ لیں میرے ساتھ رہ کر وہ لوگ اس کو پا سکتے ہیں جو امارہ میں پڑھے ہوئے ہوں ۔نہیں ہر گز نہیں ۔ پس جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہ اثر میری ذات تک پہنچتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ کے نبی تک پہنچتا ہے ۔اگر ان باتوں کا اثر میری ہی ذات تک ہوتا تو مجھے کچھ پرواہ نہ تھی اس کا اثر رسول کریم ﷺ اور پھر خدا تعالیٰ تک جاتا ہے ۔اگر اس بشارت سے حصہ لینا چاہتے ہو تو پھر اتنا ہی کہتا ہوں کہ یہ کامیابی اس وقت تک حاصل نہ ہوگی جب تک لوامہ سے گزر کا مطمئنہ تک نہ پہنچ جاؤ ۔پس مامور کی باتوں کو دل کے کانوں سے سنو اور ان پر عمل کرو ۔اور اقرار کے بعد انکار کرنے والے نہ بنو ۔پھر قبولیت دعا کے بارہ میں فرمایا : قبولیت شرائط کے لئے بھی چند شرائط ہوتی ہیں ۔دعا کروانے والے اور دعا کرنے والے متعلق ہوتی ہیں ۔دعا کروانے والا خدا سے ڈرے اور تقوی پر رہے ۔ایسی صورت میں دعا کے لئے دروازہ قبولیت کھلتا ہے ۔اگر خدا ناراض ہے تو پھر وہ قبولیت نہیں پاتیں۔پس ہمارے دوستو! کے لئے لازم ہے کہ وہ ہماری دعاؤں کو ضائع ہونے سے بچاویں ۔اور ان کی راہ میں روک نہ ڈالیں ۔جو ان کی حرکتوں سے پڑ سکتی ہے ۔چاہیے کہ تقوی حاصل کریں ۔تقوی کے مدارج بہت سے ہیں لیکن صدق نیت سے ابتدائی مدارج کو طے کر یں تو اعلی مدارج کو پا لیتا ہے ۔فرمایا : ہماری جماعت کو لازم ہے جہاں تک ممکن ہو ہر ایک تقوی کی راہ پر قدم مارے تاکہ قبولیت دعا کا مزہ ملے ۔صرف بیعت سے خدا راضی نہیں ہوتا یہ صرف پوست ہے مغز اس کے اندر ہے ۔بعض میں مغز نہیں رہتا تو وہ ردی کی طرح پھینک دئے جاتے ہیں ۔اگر بیعت کرنے والے کے اندر تقوی نہیں تو ڈرنا چاہیے ورنہ وہ ایک دفعہ پھینک دیا جائے گا۔ جب تک مغز پیدا نہ ہو ایمان محبت اطاعت مریدی اسلام کا دعوی سچا نہیں ہے ۔یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک مغز کے سوا چھلکا کی کچھ قیمت نہیں ۔صرف دعوی پر کوئی فائدہ نہیں جب تک انسان اپنے آپ پر بہت سی موتیں وارد نہ کرے وہ انسانیت کے اصل مقصد کو نہیں پا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے ہم اپنی زندگیوں کو حضرت مسیح موعود ؑ کے مطابق ڈھالنے والے ہوں ہمارے قدم نیکیوں کی طرف بڑھنے والے ہوں آپ ؑ کی دعاؤں کو ضائع کرنے والے نہ ہوں بلکہ دعاؤں کے ہمیشہ وارث بنے اس دعا کے ساتھ آپ سب کو نئے سال کی مبارک باد دیتا ہوں اللہ تعالیٰ اس سال کو ہمارے لئے ذاتی طور پر بھی اور مجموعی طور پر بھی بے شمار برکات کا وارث بنائے ۔ آمین on.fb.me/1moaf0O

Few pictures from my recent trip to Iran, Pakistan, Afghanistan and Turkey. You can find more (with captions!) at www.expedice.org/luke/silkroad

Religion in daily life, Istanbul, close to Grand Bazaar.

Compared to the Alhambra, the Alcázar of Seville's colorful arabesques and wall details have been preserved, making it a much more colorful experience.

 

Royal Alcázar of Seville - Seville - Spain

Upper decoration of the main entrance of Imam Mosque.

Photo from Isfahan, Central IRAN.

A Muslim child looks on as Muslims bow in prayer

Azadi tower, the symbol of Tehran. Islamic Republic of Iran. Kiev 60, Zodiak 8 30mm f3.5. 100% analog workflow, darkroom enlarged, Lith process (Moersch SE5 Lith). Scan from silver photographic paper.

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ عید الفطر 07 جولائی 2016ء بیت الفتوح لندن ۔یوکے ( طالب دعا : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعدحضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :آج عید کا دن ہے اور مسلمان عید کے دن جمع ہو کر دنیا کے ہر خطہ میں جہاں بھی آباد ہیں عید مناتے ہیں ۔کچھ ملکوں میں آج عید ہے کچھ میں کل ہو چکی ہے ۔جہاں بھی مسلمان آباد ہیں اس عید کے دن رمضان کے بعد عید مناتے ہیں ۔حقیقی مومن تو اس بات پر خوش ہیں کہ آج ہمیں اللہ تعالیٰ نے رمضان سے گزار کر خوشی کرنے اور اپنی عبادت کرنے کی توفیق دی ۔حقیقت میں خوشی اور عید وہی ہے جو خدا کی رضا کے لئے ہو ۔عید سے مسلمانوں یا اسلام تک محدود نہیں بلکہ دنیا کی ہر قوم میں ہر مذہب میں بعض دن عید کے منائے جاتے ہیں یا بعض تہوار خوشی کے دن رکھے گئے ہیں ۔ہر جگہ عید کا یہی تصور اور مقصد ہے کہ خوشی یا عید کے دن اکھٹے ہو کر خوشی منائیں ۔حالات کی وجہ سے تھکان پیدا ہو جاتی ہے وہ دور ہو گی ۔کھیل کھود اور شغل میلہ کچھ وقت کے لئے پریشانی ختم کر کے وقتی ذہنی سکون کے سامان مہیا کرے گا۔بچہ کچھ دن گھر میں بند رہیں تو چڑچڑا پن پیدا ہو جاتا ہے اگر مل جل کر رہیں تو خوش رہتے ہیں ۔باوجود کھیلتے ہوئے تھکاوٹ ہوتی ہے لیکن پھر بھی بڑے خوش اور تازہ دم نظر آتے ہیں ۔بچوں کی یہی عید ہوتی ہے ۔ ایک ماحول ہوتا ہے جو ان کی ذہنی تازگی کا سامان پیدا کرتا ہے ۔جن کے بچے کھیلتے نہیں ایک کونے میں لگے رہتے ہیں وہ پریشان ہو جاتے ہیں کہ کوئی نفسیاتی مسئلہ یا ہے کوئی بیماری ہے ۔بہرحال یہ انسان کی فطرت ہے کہ ایسا ماحول پیدا کرے اور خوشی منائے ۔اس انسانی فطرت کا اظہار لوگوں میں بھی ہوتی ہے ۔ خوشی کا ماحول خوشی کے اثرات پیدا کرتا ہے غم کا ماحول غم کے اثرات پیدا کرتا ہے ۔کچھ لوگ شراب میں خوشی ڈھونڈتے ہیں حالانکہ یہ بے سکونی پیدا کرتی ہیں اور صحت کو تباہ کرتی ہیں ۔بہرحال یہ فطرت انسانی ہے کہ ماحول کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں ۔بعض دفعہ عارضی خوشی کا ماحول اسے خوش کر دیتا ہے ۔غم کے بعد بھی مسکراتا ہے ۔اس انسانی نفسیات اور فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے جن کو پیسا کا لالچ ہے انہوں نے لوگوں کو مختلف نشوں میں ڈبو دیا ہے اور وہ دین اور خدا سے دور ہو گئے ہیں ۔ ان لوگوں میں اللہ کا خانہ کوئی نہیں اور ان کی عید دنیا داری ہی ہوتی ہے ۔کرسمس یادوسرے مذاہب کے تہواروں کو آج کل اس طرح نہیں منایا جاتا کے کتنے لوگوں نے پاک تبدیلی پیدا کی عبادت کی ۔بلکہ وہ کہتے ہیں اس تہوار میں فلاں کمپنی نے اتنے ملین پونڈ کمائے اور فلاں نے اتنی بلین کی خریدو فروخت کی ۔یا اتنے بلین ڈالر کی شراب ہوئی اور اتنا بلین ڈالر جوا میں لگا ۔چونکہ یہ صرف دنیا داری ہے اس لئے ان اداروں کے ساتھ عارضی خوشی کو تسکین کا باعث سمجھا جاتا ہے ۔ان کی ترجیحات صرف یہی ہیں کہ انسان کی خواہشات کیا چاہتی ہیں ۔لیکن ہماری عیدیں ایک حقیقی مسلمان کی عیدیں ہیں اس سے بالکل مختلف ہیں اور مختلف ہونی چاہیے ۔ہماری عید یہ ہے کہ ہمیں اپنی خٰواہشات کو اور امنگوں کو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کونسے کونسے طریقہ استعمال کرنے چاہیے ۔دوسرے مذاہب کے تہواروں میں ان دن کی صرف عارضی خوشی ہے ۔لیکن مومن کی عید اللہ کی رضا کا ذریعہ بن کر دائمی عید کے سامان پیداکرتی ہے ۔چاہے اس عید میں دنیاوی مادی تسکین کا سامان ہو یا نہ ہو۔ فرمایا : کوئی بھوکا انسان اس کی بھوک چاہتی ہے کہ اس کا پیٹ بھر آئے ۔لیکن اس کا پیٹ بھرنے کے لئے گندی اور خراب بیماریوں والی چیز دے اس سے اس کا پیٹ تو بھر جائے گا لیکن کئی قسم کی بیماریاں اس میں پیدا ہو جائیں گی ۔پانی پینے کے لئے مانگا تو پانی مہیا کیا لیکن غلیظ اور گندا پانی دیا جس سےپیاس رک جائے گی مگر مزید بھڑک جائے گی ۔لیکن یہ چیزیں اس کے پیٹ میں خرابی پیدا کرنے والی ہونگی بلکہ جسم میں اور خرابی پیدا ہو جائے گی ۔گویا ایک عارضی انتظام کیا گیا جو مستقل بیماریاں پیداکرنے کا ذریعہ بن گیا ۔اس کے مقابل ایک اور شخص ہے جس کے پاس کوئی پیاس بجھانے کے لئے آتا ہے تو وہ اس کو طیب پانی پلاتا ہے ایسا شخص اچھا انسان سمجھا جائے گا ۔پس یہی فرق ہے اسلامی عیدوں اور دوسرے مذاہب کے تہواروں میں۔ فرمایا : اسلامی عیدیں دائمی اور ہمیشہ کے لئے خوشی کے سامان پیدا کرنے والی والی ہیں ۔یہ جو پانی پلانے کی مثال دی ہے ۔ یہ بھی بتانا چاہوں گا ۔آج اس زمانہ میں جہاں جماعت احمدیہ روحانی پانی اور مائدہ دے رہی ہے وہاں مادی پانی بھی مہیا کر رہی ہے ۔عموما ترقی یافتہ کو پانی کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہے ۔پاکستان میں تھر کے علاقہ میں گندے تالابوں کا پانی ہے یا پھر ایسے کنویں کا پانی جو پیاس کو اور بھڑکا دیتا ہے ۔اسی طرح افریقہ میں لوگ تالابوں کا پانی پیتے ہیں یا پھر ایسے کنویں کا بارشوں کی وجہ سے گندا پانی ہوتا ہے کہ وہ اس قدر گندا پانی ہے کہ سوائے انسان پیاس سے مر رہا ہو کوئی اس پانی کو پینے کا تصور بھی نہ کر سکیں ۔اس جگہ سے انسان پانی پی رہے ہوتے ہیں جانور بھی پانی پی رہے ہوتے ہیں اور جانوروں کا گند بھی اس میں شامل ہوتا ہے ۔وہاں ان علاقوں میں جب ہم نلکے یا کنواں لگاتے ہیں خوشی دیکھنے والی ہوتی ہے یہاں شائد آپ کو ہزاروں پونڈ ملنے پر بھی خوشی نہ ہو جو ان لوگوں کو خوشی ہو رہی ہوتی ہے ۔ہمارے نوجوان لوگ جو کام کرنے یہاں سے بھی جاتے ہیں ان کو اس کا تجربہ ہوتا ہے ۔وہ تصویریں بھی دکھاتے ہیں اور بڑے بچے عورتیں خوشی سے اچھل رہے ہوتے ہیں گویا وہ دن ان کے لئے عید کا دن ہوتا ہے اس حساب سے صاحب حیثیت لوگوں سے کہونگا ۔ہیومینٹی فرسٹ اور خدمت انسانی کی جو لوگ مدد کر سکتے ہیں ان کو کرنی چاہے ۔ فرمایا : غیروں کی عیدوں اور ہماری عیدوں میں کیا فرق ہے ؟ ان کی عیدیں خوب ناچ گانا فحش گانے اور کھیل کھود ہے ۔جب کہ حقیقی اسلامی عید ایک مومن کی عید اللہ تعالیٰ کی رضا ہے ۔ہم عید کے دن کہتے ہیں کہ آؤ آج عید کا دن ہے ہم عام دنوں میں خدا کی رضا کے لئے پانچ نمازیں پڑھتے ہیں آج ہم چھ نمازیں پڑھیں گے ۔خوشی بھی مومن پڑھتا ہے ۔صاف ستھرے کپڑے پہنو عطر لگاؤ یہ آنحضرت ﷺ کا طریق ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سے یہ چاہتا ہے کہ آج اچھے کھانے پکاؤ اور کھاؤ آج ہم کو اللہ کی عبادت کا پہلے سے زیادہ موقع میسر آیا ہے ۔یہی حقیقی عید ہے ۔اگر یہ نہیں ۔اگر عید کی نماز کے بعد کھانے پینے میں شغل میں مصروف ہو جائیں ۔عید کی نماز کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں بھول جائیں دنیا میں مصروف ہو جائیں تو ہم بھی اس شخص جیسے ہوجائیں گے جس نے اس کا پیٹ بھرنے کے لئے گندا پانی دیا تھا ۔ہم ایسے بیوقوف شمار ہونگے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی پاک اور طیب غذا کو چھوڑ کر صاف اور ٹھنڈے پانی کو چھوڑ کر غلیظ اور گندی غذا کو ترجیح دیں ۔اگر یہی سوچ ہوئی تو کون ہم کو مومن کہے گا۔ہم کو ظالم کہیں گے جس نے صاف اور ٹھنڈی غذا کو چھوڑ کر گند کو ترجیح دی ۔ فرمایا : پس آج ہمیں عقلمند اور اپنی جان پر ظلم نہ کرنے والا بننے کے لئے اپنی نمازوں اور نیکیوں کی طرف پہلے سے بڑھ کر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔آج فرض نمازوں میں اضافہ کر کے یہ بتا دیا کہ مومن کی عید خدا کی رضا میں ہے ۔جتنی مومن کو اللہ کی رضا ملے اتنی اس کی حقیقی عید بنتی جاتی ہے ۔ہم کو اس حقیقی عید کو پانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے ۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے اگر تم چاہو تو ہر روز عید کر سکو گے ۔مومن کی حقیقی عید جنت کا ملنا ہے ۔سال کی دو عیدیں منا لیں تو بس یہ تو مومن اللہ کو خوش کر کے دائمی عید چاہتا ہے ۔دائمی عید یہی ہے کہ اسے اللہ کی رضا کی جنت مل جائے ۔ جنت کے بارہ میں فرماتا ہے کہ وہ اس دنیا سے شروع ہو جاتی ہے ۔حضور ؑ فرماتے ہیں ؛ـ یاد رکھو جو خدا تعالیٰ کی طرف صدق سے قدم اٹھاتے ہیں وہ کبھی ضائع نہیں کئے جاتے ان کو دونوں جہاں کی نعمتیں دی جاتی ہیں ۔اس دنیا میں بھی جنت اور آخرت میں بھی جنت ملتی ہے ۔یہ اس وجہ سے فرمایا کوئی یہ خیال نہ کرے کہ اس کی طرف جانے والے دنیا کھو بیٹھتے ہیں بلکہ ان کے لئے دو بہشت ہیں ایک یہ دنیا میں اور ایک آخرت میں ۔یہ ایک حقیقی مومن کا مقام ہے ۔ حضرت مصلح موعود ؓ نے ایک خوبصورت مثال دی ہے کہ جس طرح دنیا مختلف قسم کی نمائش کرتی ہے کہ لوگوں کو مال اسباب دکھا کر فائدہ اٹھایا جائے تو گویا عید بھی روحانی نمائش ہے ۔دنیا کی جنت حاصل کر کے اللہ کی رضا حاصل کر کے ہر روز ہی عید منا سکتے ہو ۔پس عیدیں اس بات کا نمونہ ہے کہ مومن اللہ کے قرب کے راستے تلاش کرے ۔جس کو یہ راستے مل جائیں خدا راضی ہو جائے تو پھر اس سے بڑھ کر خوشی کی کیا بات ہو سکتی ہے ۔یہ مکمل تسکین والی خوشی ہے ۔ یہ اس دنیا کو بھی جنت بنا دیتی ہے اور اگلے جہاں کی بھی جنت کے سامان پیدا کر دیتی ہے ۔ہمیں عیدوں پر اپنی سوچوں اور اپنے عملوں پر یہ طریق اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے،آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی نے صحابہ ؓ میں بھی ایسا رنگ بھر دیا تھا کہ ان کی خوشی ذہنی سکون اللہ کی رضا میں تھا ۔ان کی عیدیں اللہ کو راضی کرنے میں تھیں ۔بظاہر ان کے حالات تھے کہ بہت غربت کی زندگی بسر کرتے تھے ۔ان کو دو وقت کا کھانا بھی نصیب نہ ہوتا تھا ۔آج کل ہم گندم کا آتا کھاتے ہیں ۔نرم گرم اور قسم قسم کی غذائیں کھاتے ہیں اور عیدوں پر غیر معمولی کھانے کا انتظام بھی ہم کرتے ہیں لیکن صحابہ کو جو کا آٹا کھانے کو ملتا تھا اور وہ بھی چھنا ہوا نہ ہوتا تھا ۔ایک صحابہ نے اس کا سوال کا جواب دیا کہ آتا چھان کر کھاتے تھے ۔انہون نے جواب دیا کہ پتھر پر جو رکھ کر کوٹ لیاکرتے تھے اور پھونک مار کر اس کو صاف کیا کرتے تھے اور باریک آٹے کی روٹی پکا لیاکرتے تھے ۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے اپنی بھوک کا قصہ یوں بیان فرمایا بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا ۔ایک دفعہ بھوک کی حالت میں بیٹھ گیا اور حضرت ابو بکر ؓ سے آیت کا مطلب پوچھا غرض یہ تھی کہ مجھے کھانا کھلائیں ۔براہ راست سوال نہ کیا کرتے تھے ۔غیرت تھی ان کو ۔وہ آیت کا مطلب بیان کر کے چلے گئے ۔پھر حضرت عمر ؓ سے پوچھا انہوں نے بھی یہی کیا ۔میں دل میں بیچ و تاب کھاتا تھا ۔پھر آنحضرت ﷺ میرے پاس میں سے گزرے اور حالت دیکھی اور کیفیت کو پانپ لیا اور مسکرائے ۔فرمایا ابو ہرہرہ ؓ میرے ساتھ آؤ ۔گھر گئے اندر آنے کی اجازت ملنے پر اندر گیا وہاں دودھ کا ایک پیالہ پڑا ہوا تھا ۔ آپ ﷺ نے پوچھا دودھ کہاں سے پتا چلا تحفہ ہے ۔آپ نے ابو ہریرہ ؓ کو کہا صفہ کو بھی بلا لو کہتے مجھے یہ بات اچھی نہ لگی ۔سوچا یہ مجھے ہی مل جائے تو بہتر ہے بہرحال تعمیل ارشاد میں گیا ۔اب پھر میں سمجھا مجھے پینے کے لئے دیں گے تو میں اچھی طرح پی لونگا ۔لیک آپ ﷺ نے پہلے سب کو دیا اور مجھے آخر دیا میں یہی سمجھا دودھ ختم ہو جائے گا۔آخر پر مجھے فرمایا ابو ہریرہ پیو اور فرمایا اور پیو میں نے کہا یا رسول اللہ اب گنجائش نہیں رہی ۔ پھر آپ ﷺ نے پیالہ بچا ہوا دودھ پیا ۔یہ حالت تھی ان لوگوں کی غربت کی دل صرف خدا کی رضا پر تھے ۔ فرمایا : لیکن ان کی غربت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے فتوحات دکھائی اور عید کے دن دکھائے بڑے بڑے بادشاہ ان کے زیر نگہین ہو گئے ۔یہی ابو ہریرہ تھے جب ایک شاہ کسری کا رومال ملا تو اس پر تھوکا ۔اور کہا واہ ابو ہریرہ ایک وقت تھا بھوک سے بیہوش ہو جاتا تھا اور آج یہ حالت کسری کے رومال پر تھوکتا ہے ۔یہی خوشی ان کے لئے عید بن جاتی تھی ۔ہر روز ان کو خوشخبریاں دیتا ہوا طلوع ہوتا تھا ۔پس عید دیکھ کر خوشی ہوتی ہے صرف نرم کھا لینا بناوٹی باتیں کر کے عید منا لینا حقیقی عید نہیں ۔حقیقی عید تو وہ ہے ہم خدا کو راضی کر لیں اور وہ ہمارا نگہبان ہوجائے ۔ہم اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے والے بن جائیں جو ہمارے ذمہ ہیں ۔ایک دوسرے کے حق ادا کرنے والے بن جائیں ۔جب ہم ایک دوسرے کے لئے قربانیاں کرنے والے بن جائیں ۔جب ہم یتیموں اور غیریبوں کا درد محسوس کرتے ہوئے مدد کرنے والے بن جائیں ۔یتیموں کے فنڈ میں بھی حصہ لینا چاہیے ۔یہ سب کام ہم نے اس لئے کرنے ہیں کہ اس سے ہمارا خدا راضی ہو ۔یہی چیز ہم میں اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود ؑ پیداک رنے آئے ۔ آپ ؑ نے فرمایا : خدا نے اس وقت ایک صادق کو بھیج کر چاہا ہے کہ ایک ایسی جماعت پیدا کرے جو خدا سے محبت کرے ۔ اصل مقصد یہ ہ کہ ایک پاک دل صحابہ کی مانند جماعت بن جائے ۔ فرمایا : یہ جماعت اس لئے نہیں کہ دولت مل جائے چاہیے کہ صحابہ کی طرح زندگی گزارے ۔انسان کو چاہیے کہ آنحضرت ﷺ کی زندگی اور صحابہ کا ہر روز مطالعہ کرتا رہے اور دیکھتا رہے ۔ دنیا کی عادت ہے ذرا سی تکلیف ہو تو لمبی چھوڑی دعا کرتے ہیں اور آرام کے وقت بھول جاتے ہیں ۔ پس ہم کو سکون اور آرام میں بھی اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔تبھی عیدوں کو دائمی کر سکتے ہیں ۔ فرمایا : اللہ سے ڈرنے والے کے لئے دو جنتیں ہیں ۔یہ باتیں ایمان کے بعد حاصل ہوتی ہیں ۔خدا کی دوستی میں دنیا دار کی دوستی سے کوئی مماثلت نہیں ۔خدا کی دوستی پکی ہے ۔جو اس کا دوست ہو جاتا ہے خدا اس پر برکت اور اس کے گھر میں برکت دیتا ہے اس کے کپڑے میں برکت دیتا ہے ۔پس یہ معیار ہم سے چاہتے تھے ۔ ہم صرف عارضی خوشیوں سے خوش نہ ہو جائیں بلکہ مستقل خوشی اور عید کی تلاش کریں ۔اپنے خدا سے وہ تعلق پیدا کرنے والے ہوں جو کبھی ٹوٹے نہ اللہ کی رضا ہر چیز پر مقدم ہو ۔وہ سچی عید حاصل کرنے والے ہوں جو سوتے جاگتے اللہ کی رضا کی طرف توجہ دلانے والے ہون ۔خدا کرے ہم نے رمضان کے دنوں میں جو برکات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے وہ ہمارے اندر مستقل برکات حاسل کرنے کی تحریک پیدا کرنے والی ہوں ۔اللہ ہماری کمزوریاں دور کر دے ۔ ہم اللہ کا بھی حق ادا کرنے والے ہوں اور لڑائی جھگڑوں کو دور کر کے ہم حقیقی عید کرنے والے ہوں ۔ بعد میں دعا کریں گے دعا میں امت کو یاد رکھیں یہ آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہونے والے خاص طور پر شام لیبیا وغیرہ کو یاد رکھیں بعض کے پاس کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں ۔ان کے لئے دعا کرنی چاہیے ۔پھر وہ لوگ جو محبت اور پیار کا سلوک کریں وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے ہیں حکومت رعایا کا خون عوام حکومت سے لڑائی کر رہی ہے ان سے دوسرے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔اس کے نیتجہ میں اسلام کا نام بدنام ہو رہا ہے بہت زیادہ دعا کرنے کی ضرورت ہے امت مسلمہ کے لئے ۔ جماعت کے ہر فرد جو کسی بھی رنگ میں مشکلات کا شکار ہیں ان کے لئے دعا کریں ۔ جماعت کے کارکنان واقفین زندگی کے لئے دعا کریں ان کو فرائض احسن رنگ میں اداک رنے کی توفیق دے اور قبول فرمائے اپنی جناب سے ان کو جزا دے ۔ اللہ تعالیٰ عمومی طور پر سب کی مشکلات دور کرے آسانیاں پیدا فرمائے ۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اپنی حفظ و ایمان میں رکھے اور ایمان میں بڑھائے ۔ پاکستان کے احمدی ، ہندوستان عرب ممالک میں احمدی مشکلات کا شکار ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو حقیقی عید کی خوشیاں نصیب کرے ۔ آپ سب کو بھی عید مبارک ہو اور دنیا میں رہنے والے ہر احمدی کو عید مبارک ۔ bit.ly/29jYO38

SHAH JAHAN MOSQUE - 1889

 

The first purpose built mosque in UK by Begum Shah Jahan, ruler of Bhopal at that time.

Muslim child praying next to his parent.

 

Image credit is unknown. I don't have the copyright of this image, and I'm not the right person to ask its credits.

variation from another my work to create an islamic pattern

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 11 دسمبر 2015 بیت الفتوح یوکے(مرتب کردہ یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : گزشتہ دنوں ایک کالم نے لکھا اور ایک آسٹریلین سیاست دان نے کہا کہ اسلام کی تعلیم کے جہاد کے بارہ میں احکامات ہیں انہی کی وجہ سے مسلمان شدت پسند بنتے ہیں ۔اسلامی احکامات کے بارہ میں یو کے کہ سیاست دان نے بھی یہی کہا تھا ۔اسلام میں کچھ نہ کچھ شدت پسندی کے احکامات ہیں ۔جس کی وجہ سے مسلمانوں کا شدت پسندی کی طرف رحجان ہے ۔آج کل جو اسلام کے نام پر عراق اور شام میں شدت پسند گروہ نے کچھ علاقہ پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کی ہے اس میں مغربی ممالک کو بھی دھمکیاں دیں ہیں بعض جگہ ظالمانہ حملے کر کے معصوموں کو تنگ کیا ہے ۔اس سے جہاں عوام خوفزدہ ہوئی ہے وہاں جو بعض لیڈروں نے لا علمی کی وجہ سے یا اسلام مخالف خیالات کی وجہ سے اسلام کے خلاف کہنے کا موقع مل گیا۔کہنے اور لکھنے والے کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے دوسرے مذاہب میں بھی شدت پسندی ہے لیکن اس کے ماننے والے اب اس پر عمل نہیں کرتے یا زمانہ کی ضرورت کے مطابق تعلیم میں تبدیلی کر لی ہے اور اس بات پر زور ہے کہ قرآن کریم کے احکامات کو بھی اس زمانہ کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے ۔اس سے یہ بات تو ثابت ہوئی گئی کہ ان کی تعلیم اب خدا کی تعلیم نہیں رہی اور یہ ہونا تھا ۔یہ تعلیم قائم رہنے یا تا قیامت عمل کرنے والے کا وعدہ نہیں تھا ۔جب قرآن کریم میں اعلان تھا کہ ہم نے ہی اس ذکر کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ایک جگہ فرمایا : اللہ تعالیٰ کی قدیم سے عادت ہے جب کسی چیز سے منع کیا جائے تو اس کی تقدیر میں سے ہوتا ہے کہ بعض اس کے مرتکب ہونگے ۔جیسا کہ تورات میں یہودیوں کو منع کیا سو ان میں سے بعض نے تحریف کی ۔اس قرآن کے بارہ میں کہا گیا کہ ہم ہی اس کو نازل کرنے والے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے یہ صاف بتا رہی ہے کہ جب ایک قوم پیدا ہو کر اس کو مٹانے والی ہوگی تو پھر ایک فرستادہ کے ذریعہ حفاظت کی جائے گی ۔لوگ وقتا فوقتا اس پر حملے کر کے اس کو مٹانا چاہتے ہیں ۔گزشتہ دنوں ایک چھوٹی سی فلم چل رہی تھی دو لڑکے قران کی بعض آیات پڑھ کر سنا رہے تھے اور مختلف لوگوں سے اس کے بارہ میں پوچھ رہے تھے تو ہر ایک کو جب یہ پتہ چلتا تھا کہ قرآن کریم کی تعلیم سے ثابت ہو گیا کہ اسلامی تعلیم ہی ایسی ہے جس سے یہ حرکتیں ہوتی تھیں ۔کچھ دیر کے بعد وہ کتاب سے ٹائٹل اٹھا دیا وہ بائبل کی تعلیم تھی کسی نے کوئی بات نہیں تھی ۔جب اسلام کے ساتھ نام آتا ہے تو حملے کرتے ہیں۔اگر ایک مسلمان غلط حرکت کرتا ہے تو وہ اسلام سے جوڑی جاتی ہے اور اگر کوئی دوسرے مذہب والا کرے گا تو وہ معذور پاگل کہلائے گا۔ فرمایا : ہم مانتے ہیں کہ بعض مسلمان گروہوں کے غلط عمل نے اسلام کو بدنام کیا ہے لیکن اس پر قرآن کریم کی تعلیم کو نشانہ بنانا بھی اس کا اظہار ہے امریکہ صدارتی امیدوار اس کے خلاف بول رہا ہے ۔لیکن اسلام کی خوبصورت تعلیم کا مقابلہ کوئی مذہب اور نہ کوئی قانون کر سکتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی حفاظت کی وعدہ کے مطابق ایک فرستادہ کو بھیجا اور اس کے مطابق اس نے اس کی حفاظت کی اور اسی نے فرمایا : قرآن کریم جس کا ابتدائی نام ذکر ہے اس نے اس زمانہ کی صداقتوں اور ودیتوں کو یاد کروانے آیا تھا ۔کہ اس زمانہ میں بھی ایک معلم آیا اور جو آخرین منھم لما ہلحقو بھم کا مصداق اور موعود ہے اور وہی تمہارے درمیان بول رہا ہے ۔پھر فرمایا ؛ جو یہ وعدہ ہے کہ حفاظت کا وعدہ کیا ہے ۔مسلمانوں کو اس مصیبت سے بچا لیا اور فتنہ میں پڑنے نہ دیا ۔مبارک ہیں وہ لوگ جو اس جماعت میں شامل ہو کر اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی عظمت کو قائم کرنے کے لئےچودھودیں صدی کے سر پر مجھے بھیجا ۔قرآن کریم کو جو عظمتیں ہیں وہ کسی مذہب کو نصیب نہیں ہیں ۔اس میں مسلمانوں کو بھی دعوت ہے کہ جو حملے ہو رہے ہیں اس کا توڑ کرنے کے لئے اس شخص کے ساتھ رشتہ جوڑ کر مخالفوں کے منہ بند کریں ۔جو گروہ یا لوگ تلوار کے زور سے اسلام کے پھیلانے کا دعوی کرتے ہیں۔حقیقت میں وہ اسلام کے دشمن اور اسلام مخالف طاقتوں کے آلہ کار ہیں ۔حضرت مسیح موعود ؑ نے واضح طور پر فرما دیا یہ زمانہ تلوار کے جہاد کا زمانہ نہیں ہے ۔اسلام امن اور پیار کی تعلیم سے بھرا ہوا ہے ۔آج اس زمانہ میں اس تعلیم کا پرچار کرنے کی ضرورت ہے اور اس کو سمجھ کر اس پر ہر احمدی کو عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔آج ہم نے یعنی احمدیوں نے ہی مسلمانوں اور مخالفوں کو حقیقت سے آشکار کرنا ہے ۔جو اسلام پر اعتراض کرتے ہیں وہ جاہل ہیں اسلام کی تعلیم تو امن اور سلامتی کی تعلیم ہے ۔قرآن کریم کی روشنی میں ہی یہ تعلیم ان لوگوں کو دکھانی ہے ۔ فرمایا : اس وقت دنیا کو اسلام کی حقیقی تصویر دکھانا بہت ضروری ہے ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی ہر جگہ اس طرف توجہ ہے ۔حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ میڈیا سے تعلق اور رابطہ بھی رکھا جائے اور اس کے ذریعہ سے عوام کو بتایا جائے ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے امریکہ اور باقی ملکوں جرمنی میں بھی میڈیا سے رابطے ہیں ۔ان کو وسیع تر کرنے کی ضرورت ہے ۔گزشتہ دنوں برٹش پارلیمنٹ میں ایک ممبر نے جماعت احمدیہ کے حوالے سے بتایا کہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے والے احمدی مسلمان ہیں اس پر ان کی بڑی تعریف کی گئی اور وزیر داخلہ نے کہا یہ اسلام جو احمدی پیش کرتے ہیں وہ مختلف ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی نئی تعلیم نہیں ہے بلکہ اسلام کی حقیقی تعلیم پیش کرتے ہیں اس تعلیم کو ہمیشہ تازہ رکھنے کی ضرورت ہے ۔شدت پسندی کے حوالے سے اخبار میں شرخیا ں دی جاتی ہیں ۔گزشتہ دنوں جب جاپان میں تھا تو وہاں بھی پڑھے لکھے طبقہ کا اظہار تھا بلکہ ایک عیسائی پادری نے کہا اسلام کی تعلیم جو تم بتا رہے ہو اس کو جاپانیوں کو جاننے کی بہت ضرورت ہے ۔لیکن اس کا فائدہ تبھی ہوگا جب آپ اس بات کو اس فینگشن تک محدود نہ کریں بلکہ جاپان میں مسلسل کوشش سے یہ تعلیم دنیا کو بتائیں ۔اب انصاف پسند غیر بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ دنیا کے سامنے لگا تار اسلام کی تعلیم پھیلاتے رہو ۔یہ جاپان جماعت کا بھی کام ہے کہ جامع منصوبہ بندی کر کے اس کام کو تازہ رکھیں ۔اسی طرح ہر جگہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کا ادراک جو ہوا ہے اس کو پھیلائیں ۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کے معنوں کی صحیح تشریح کے لئے آپ ؑ کو بھیجا گیا ۔آپ نے اپنی کتب اور ملفوظات میں اس کا بہت وضاحت سے خوب حق ادا کیا ہے ۔ بعض مثالیں پیش کرتا ہوں جو اسلام کی امن کی تعلیم کو واضح کرتی ہیں قرآن کریم میں’’ دین میں کوئی جبر نہیں ‘‘ پھر فرمایا ’’ اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو جس قدر لوگ زمین پر تھے سب کے سب ایمان لے آتے جب خدا بھی مجبور نہیں کرتا تو تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ لوگ ایمان لے آئیں ۔آپ ؑ نے فرمایا اسلام نے کبھی جبر کا مسئلہ نہیں سکھایا ۔آنحضرت ﷺ کی خواہش کے باوجود کہا کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا ۔اگر قرآن شریف اور حدیث کی کتابوں کو غور سے دیکھا جائے تو اس قدر وسعت معلومات کے بعد یقین کے ساتھ معلوم ہوگا کہ اسلام تلوار کے ساتھ پھیلا ہے یہ قابل شرم بیان ہے ۔یہ ان لوگوں کا خیال ہے جو تعصب سے الگ ہو کر نہیں دیکھ پاتے ۔مگر میں جانتا ہوں کہ زمانہ قریب ہے کہ راستی کے بھوکے اور پیاسے ان بہتانوں پر مطلع ہو جائیں گے ۔کیا وہ جبر کا مذہب کہلا سکتا ہے جس میں لکھا کہ دین میں جبر نہیں ۔کیا اس نبی کو جابر کہا جا سکتا ہے جس نے 13 سال ہر ایک کو جبر کو برداشت کرنے کی تعلیم دی ۔جب حد سے بات بڑی تو پھر تلوار کے مقابلہ میں تلوار اٹھائی گئی ۔اگر جبر کی تعلیم ہوتی تو جبر کی تعلیم کی وجہ سے امتحان کے موقع پر سچے ایماندار کی وجہ سے صدق کا نمونہ نہ دکھا پاتے ۔جبر کی وجہ سے دل سے وفا نہیں دکھا سکتے ۔لیکن ہمارے صحابہ ؓ کی وفادار ایک ایسا امر ہے کہ وہ ظاہر باہر ہیں ۔اسلام میں تین قسم کی لڑائیاں ہیں ۔جب سختی کی اجازت ہے۔ ایک دفاعی طور پر اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھایا جا سکتا ۔دوم خون کے عوض خون ۔جب سزا دینا مقصود ہو۔تین : بطور آزادی قائم کرنے کے ۔جو مسلمان ہونے پر قتل کرتے تھے ۔ان تین مواقع کے سوا کہیں حکم نہیں ہے کہ دین پھیلانے کے لئے تلوار اٹھاؤ ۔ قرآن کریم نے کہا ہے کہ نیک نمونے سے اپنی طرف کھینچو ۔وہ ابتدائی تلوار دشمن کے حملوں سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے کھینچی گئی تھی ۔ فرمایا : قرآن کریم کا جبر سے دین میں داخل نہ کرنے کا اعلان یہ بتاتا ہے کہ جبر سے دین کا کوئی معاملہ نہیں ہے ۔دین کی خوبیاں اپنے اندر پیدا کرو ۔یہ ہر ایک احمدی کی بہت بڑھی ذمہ داری ہے کہ دین کی ذاتی خوبی کو پیش کرنے کے لئے قرآن کریم کا علم حاصل کر کے دنیا کو اپنے نمونے سے اپنی طرف لائے ۔قرآن کریم میں ایک جگہ اسلام قبول نہ کرنے والوں کا نقشہ یہ ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم تیری پیروی کریں تو ہم کو باہر نکال دیا جائے ۔پس اسلام کی تعلیم پر اعتراض یہ نہیں ہے کہ بلکہ جو قبول کرتا ہے اس کو نکالا جا رہا ہے ۔اور نہ قبول کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اس تعلیم پر عمل کریں تو ارد گرد کے لوگ ہم کوتباہ کر دیں ۔اسلام کی تعلیم تو دوستی کا ہاتھ بڑھانے والی تعلیم ہے ۔امن و محبت کا پیغام دینے والی ہے ۔جو مسلمان اس پر عمل نہیں کرتے وہ ان کی بد قسمتی ہے ۔اب تو میڈیا پر خود ان کے لوگ کہنے لگ گئے ہیں کہ شدت پسند تنظیمیں ہماری اپنی پیدا کی گئی ہیں ۔اس واسطے میں مسلمانوں اور جو اسلام کے نام پر مسلمان کہلاتے ہوئے شدت پسندی کرتے ہیں وہ بری الذمہ نہیں ۔اس آگ کو بھڑکانے میں بڑی طاقتوں کا بہت بڑا حصہ ہے ۔ہر تجزیہ نگار کا میڈیا کے ذریعہ ہر جگہ اپنے خیالات پہنچانا اب بہت آسان ہوگیا ہے ۔ایک طرف شدت پسندوں کو ختم کرنے کی باتیں ہوتی ہیں اور دوسری طرف اسلحہ پہنچانے والوں کی طرف سے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں ۔پس دنیا کے امن کو برباد کرنے والے صرف مسلمان گروہ نہیں ہیں بلکہ بڑی حکومتیں بھی ہین جو اپنے مفادات کو اہمیت دیتی ہیں ۔ایک حقیقی مسلمان تو جانتا ہے کہ خدا سلام ہے ۔ایک جگہ قرآن کریم میں آتا ہے ۔اے اللہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو ان سے در گزر کر اور وہ جلد جان جائیں گے ۔حقیقت کیا ہے ۔یہ ہے اسلام کی تعلیم ۔اسلام مخالفین کی تمام زیادتیوں کو برداشت کر اور کہہ میں سلامتی کا پیغام دیتا ہوں اور دیتا رہونگا ۔پس جب یہ حکم محمد ﷺ کے لئے ہے تو عام مسلمان کے لئے کس قدر بڑھ کر ہوگا ۔ہمارا کام اسلام اور امن کا پیغام پہنچانا ہے ۔قرآن نے کبھی بھی اور کہیں بھی یہ حکم نہیں دیا کہ جو بات نہ مانے تو اس کو تہہ تیغ کر دو ۔اگر کوئی اس کی نفی کر رہا ہے تو دنیا میں امن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو وہ حقیقی اسلام نہیں ہے ۔وہ ان کے اپنے مفادات ہیں یا بڑی طاقتوں کے مفادات ہیں ۔جنہوں نے مسلمانوں کو آلہ کار بنایا ہوا ہے ۔ فرمایا : ہم میں سے ہر ایک کو اور خاص طور پر نوجوانوں کو احساس کمتری میں شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔اسلام امن کی تعلیم دیتا ہے اس تعلیم کا ادراک اور اپنے اوپر لاگو کرنے کی ضرورت ہے ۔اس تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کریں اور اپنے عملی نمونوں سے دنیا کو بتائیں کہ آج قرآن کریم کی صحیح تفسیر اور تشریح ہی اس کی معنوی حفاظت بھی ہے ۔جس کی حفاظت کے لئے حضرت مسیح موعود ؑ کو بھیجا ہے ۔یہ ہر احمدی مرد و عورت اور لڑکے لڑکی کو کوشش کرنی چاہیے ۔اس وقت جس دھہانے پر کھڑی ہے کسی وقت بھی اس میں گر سکتی ہے ایسے وقت میں دنیا کو اس سے بچانے کے لئے کوشش کرنا احمدی کی ذمہ داری ہے اور احمدی ہی کر سکتا ہے ۔اس کے لئے کوشش کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے بڑی چیز خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنا ہے اور اس کا تقوی اپنے دلوں میں پیدا کرنا ہے اسی وجہ سے ہم دنیا کو امن و سلامتی دے سکتے ہیں ۔ آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار ۔ اس خدا سے تعلق کو مضبوط تر کرنے کی ضرورت ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور دنیاداروں کو بھی عقل دے کہ وہ اس فرستادہ کی بات سن کر تباہی سے بچنے کی کوشش کریں ۔ نماز کے بعد تین جنازے دو غائب اور ایک حاضر ۔ایک عنائت اللہ صاحب کا 9 دسمبر کو وفات ہوئی ۔مبلغ سلسلہ تھے ۔والد اللہ بخش صاحب تھے ۔عنائت اللہ احمدی صاحب کی پیدائش جنوری 1920 کی ہے ۔قادیان مین میٹرک کیا 1944 کو وقف کیا اور 1946 سے 1979 تک مبلغ کے طور پر کام کیا ۔1946 سے 173 تک بیرون مبلغ کام کیا۔ایک بیٹے حبیب اللہ احمدی صاحب بھی وقف کی توفیق پا کر وقف میں ہیں۔شیخ مبارک احمد صاحب کے مدد گاروں میں سے تھے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور نسلوں کو بھی خلافت سے وفا کا تعلق رکھے ۔ دوسرا مولوی بشیر احمد صاحب کالا افغانا صاحب درویش قادیان کا ہے ۔1946 میں قادیان آیا تو اس وقت احمدیت کی معلومات نہ تھیں ۔نماز کے لئے کوئی مسجد بتاؤ جو قادیانی کی مسجد نہ ہو ۔خوبصورت مسجد ہے اب میں قادیانیوں کی مسجد میں نہیں جاؤنگا۔ایک دن احراریوں کی مسجد میں بھی گیا تو پھر عہد کیا کہ مسجد اقصی میں ہی نماز ادا کرونگا ۔پھر جماعت سے تعارف ہوا اور احمدیت قبول کر لی ۔1947 میں ملک کی تقسیم کے بعد ارشاد پر حفاظت مرکز کے لئے اپنا نام پیش کر دیا ۔اور درویش میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی ۔1952 میں شادی ہوئی دو بیٹے پیدا ہوئے ۔دہاتی مبلغ کے طور پر بھی خدمت کی توفیق پائی ۔مختلف دفاتر میں بھی کام کیا مینیجر اخبار البدر بھی رہے بڑے وسیع تعلقات تھے ان کے بھی ۔بڑا عزت اور احترام تھا ۔ہمیشہ مسجد میں نماز ادا کرتے تھے وفات والے دن بھی نماز ظہر مسجد میں ادا کی۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے او ر ان کی اولاد کو بھی اس کا وارث بنائے ۔ تیسرا مکرمہ قانتہ بیگم صاحبہ ہیں جو اڑیسہ کی ہیں 16 اکتوبر 2015 کو وفات ہوئی بہت صابرہ شاکرہ تھیں ۔ان کے خاوند سرکاری ملازم تھے پھر بھی غریب عزیزوں کی خدمت کیا کرتے تھے ۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کی درجات بلند فرمائے آمین on.fb.me/21UDDfs

islamic architecture at Samarqand, Imam Bukhari shrine.

Islamic study of the Quran, Masjid Istiqlal. Jakarta

The Mamluk style developed in Egypt and Syria after 1250, and it survived there long after the fall of the last Mamluk sultan in 1517. Geometric patterns became more complex in Mamluk art, and this wooden panel in the Victoria and Albert Museum in London is a fine example of such art.

The British Museum.

Few pictures from my recent trip to Iran, Pakistan, Afghanistan and Turkey. You can find more (with captions!) at www.expedice.org/luke/silkroad

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 23 اکتوبرر 2015 بیت الفتوح یوکے(طالب دعاو مرتب کردہ : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ ہر سفر میں اپنی تائید و نصرت کے نشانات دکھاتا ہے ۔بعض دفعہ فکر ہوتی ہے کہ جماعتیں تجربہ نہیں رکھتیں اور ایسے پروگرام بنا لیتی ہیں جو اپنے پروگرام نہیں ہوتے وہ غیروں کے ساتھ بنا لیتی ہیں جو غیروں کے ساتھ پروگرام ہوں ان کو ظاہر ہے پہلے ان کے ذریعوں سے منتشر بھی کرنا پڑتا ہے ۔اس لئے فکر ہوتی ہے کہ جماعت مخالف پروگرام میں کوئی برائی پیدا نہ ہو ۔یا پروگرام کم معیار کا ہو تو دشمنوں کی ہنسی کا نشانہ نہ بن جائے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کر سکتے اس بات پر کہ اپنی تائید اور نصرت کے نظارے دکھاتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ ہر دفعہ نیا رنگ دکھاتے ہیں بلکہ بعض دفعہ غیروں کے اس طرح اظہار ہو رہے ہوتے ہیں اور سراہتے ہیں ہم سوچ میں پڑ جاتے ہیں کیا واقعی ہم نے ایسا پروگرام کیا تھا جو اس قدر تعریف ہو رہی ہے ۔کہ یہ صرف ظاہری تعریف نہیں ہوتی بلکہ لگتا ہے کہ غیر کے جذبات دل سے نکل رہے ہوتے ہین ان کی آنکھیں چہرے بتا رہے ہوتے ہیں کہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ان کے دل کی آواز ہے ۔جرمنی کی جماعت کے اچھے تعلقات ہیں اور میڈیا اور اخبارات بھی جانتے ہیں اور اچھی کووریج دیتے ہیں ۔بعض منفی بھی لکھتے ہیں یا بعض سیاست دان جو ایشین مزاج ہیں اپنی سستی شہرت کے لئے جماعت کے خلاف بھی ہوتے ہیں لیکن عموما جرمن سیاست دان اور پڑھا لکھا طبقہ بھی جو کسی نہ کسی رنگ میں جماعت سے تعارف رکھتے ہیں جماعت کے لئے اچھے خیالات رکھتے ہیں ۔یہ بھی اسلام کی اشاعت کا ذریعہ ہے ۔لیکن ہالینڈ میں جماعت بھی چھوٹی سی ہے اور اب تک اتنی فعال کوشش بھی نہیں کی جس سے میڈیا کے ذریعہ ملک کے وسیع حصہ میں اسلام کا تعارف ہوا ہو ۔پھر ممبران پارلیمنٹ سے بھی اور پڑھا لکھے طبقہ سے بھی ان کے ایسے تعلقات نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ جماعت کو جانتے ہوں اور اسلام کی نمائندہ جماعت سمجھتے ہوں ۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک ممبر پارلیمنٹ سے دو تین سال پہلے تعارف ہوا تھا ۔ان کے ذریعہ ہالینڈ کی پارلمنٹ میں ایک پروگرام کروانے کا سامان کر دیا ۔امیر صاحب نے لکھا کہ آپ آئیں میں گیا میرا خیال تھا کہ چند لوگ ہونگے لوگ نہیں آئیں گے وغیرہ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہالینڈ جماعت کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو بہت اچھا پروگرام ہوگیا ۔اس تقریب میں 89 حکام شامل تھے جن میں ممبر پارلیمنٹ کے علاوہ کئی ممالک کے ممبران بھی شامل تھے ۔جیسا کہ میں نے کہا جرمنی کی جماعت کے اچھی سطح کے تعلقات ہیں ۔لیکن وہ بھی اس طرح کا پروگرام نہیں کروا سکے ۔پروگرام نہ کرنے کی ایک وجہ شائد یہ بھی ہو ۔ہالینڈ کی جماعت نے جو تعلقات بنائے ہیں میڈیا سے رابطے کئے ہیں ان کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے اس کو اپنی انتہاء نہیں سمجھیں گے ۔اس پروگرام میں 18 بیس منٹ میں نے بیان کیا ۔عموما جہاں بھی اسلام کی تعلیم کے حوالہ سے کچھ کہوں لوگ سمجھتے ہیں اور اظہار کر دیتے ہیں ان کے سوالوں کے جواب مل گئے ۔لیکن یہاں مختلف تین چار ممبران نے کہا ہم نے سوال بھی کرنے ہیں ۔ اس پر انہوں نے سوال کئے جو وہی باتیں تھیں لگتا تھا وہ مجھ سے نکلوانے کے لئے کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اسلام کی تعلیم کو غلط کہنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں بعض ڈچ جو پروگرام دیکھ رہے تھے انہوں نے بھی اس بات پر ناراضگی کا اظہار کیا اور شرمندگی کا بھی اظہار کیا ۔ہم کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے مجھے برداشت اللہ نے بہت دی ہوئی ہے ۔اس پروگرام کی لمبی تفصیل ہے ۔سن لی ہوگی یا پڑھ لیں ۔اس وقت بیان نیہں ہو سکتا ۔لیکن اس پروگرام میں شامل مہمانوں اور سننے والوں پر اسلام کی تعلیم کا اچھا اثر پڑا ہے ۔یہ پروگرام منعقد ہونا اللہ کا خاص فضل ہے ۔کسی کوشش سے نہیں ۔ان کے نزدیک اس کی میڈیا میں بہت زیادہ کوریج ہونی چاہیے تھی ۔تا کہ اسلام کی صحیح تعلیم کا پتہ چلتا ۔اسی ممبر نے یہ بھی کہا کہ مجھ سے بہت سے لوگوں نے ممبران نے پوچھا کہ یہ پروگرام تم نے کس طرح منعقد کروا لیا ۔یہ ممبر پارلیمنٹ کہتے ہیں یہ پروگرام میری امید سے ہر لحاظ سے بہت زیادہ کامیاب رہا ۔وہ کہتے ہیں کہ اس کے بہت اچھے نتائج نکلیں گے ۔ہالینڈ کے لوگوں کا یہ حق ہے کہ ان کو اسلام کا امن پسند چہرہ بھی دکھایا جائے ۔کہتے ہیں کہ اب ہم مزید پروگرام کا انعقاد کریں گے ۔کئی لوگوں نے اسلام کی تعلیم کا چہرہ دکھانے پر شکریہ ادا کیا ۔مجھے خواہش ہے کہ آپ بار بار ہالینڈ آئیں تا کہ اسلام کا ڈر لوگوں سے نکل جائے ۔پھر اس تقریب میں سپین کے ایمبیڈر نے کہا بالخصوص برداشت اور عزت و احترام جیسے سوالات کے جوابات دیئے وہ بہت اعلی تھے ۔برداشت مذہبی آزادی اور اخوت کے بارہ میں بیان کیں یہ دل کو لگتی ہین اور میں حمایت کرتا ہوں ۔کیونکہ بین المذاہب ہم آہنگی اور دنیا کے امن کے لئے ان باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ۔پھر ممبر آف پارلیمنٹ سپین کہتے ہیں کہ یہ سن کر خوشی ہوئی جہاں جنگ اور مذہب کے نام پر ظلم والی جگہ پر امن کے پیغام پر شکر گزار ہیں ۔پھر ایک اور ملک کے ممبر نے کہا یہ تقریب جماعت کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے کہ ان کے امام نے اسلام کی حقیقی تعلیم اعلی سطح پر پیش کی اور سوالات نہایت برداشت سے جواب دیے۔آج کے پر خطر دنیا میں ایسی تقریبات کی اشد ضرورت ہے ۔پھر ہیومن رائیًٹ کے ممبران نے کہا یہ تمام پولیسی میکر تک یہ پیغام پہنچائے ۔پھر کروشیا کے ممبر نے کہا کہ امام جماعت نے اسلام تعلیمات کو بہت اعلی رنگ میں پیش کیا تمام مسلمان اس پر عمل کریں تو دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے ۔اگر دنیا کے طاقتوار ممالک ان نکات پر عمل کریں تو دنیا امن کی طرف آ سکتی ہے پھر سویڈن کے ممبر کہتے ہیں خطاب بڑا اچھا تھا اثر کرنے والا تھا ۔مذہبی لیڈر کی حیثیت سے آ پ نے صاحب اختیار لوگوں کو جھنجھوڑا ہے ۔آپ نے امن بھائ چارہ کے بارہ میں توجہ دلائی ہے اور دنیا کو امن کا پیغام دیا ہے۔پھر البانیہ کے مشیر اعلی اور مذہبی امور کے صدر بھی رہ چکے ہیں وہ کہتے ہیں میرے تصور میں بھی نہیں تھا کہ جماعت احمدیہ اتنی اعلی سطح پر تبلیغ اسلام کر رہی ہے ۔ایک یونیورسٹی کے پروفیسر نے کہا کہ امام جماعت نے اسلام کی امن کے حوالہ سے جس واضح انداز میں ذکر کیا کہ ہمارے پروگرام میں جماعت کو شامل ہونا چاہیے تا کہ اسلام کی اصل اور حقیقی تصویر ہمارے سامنے آ سکے ۔جتنے دن رہا کوئی نہ کوئی اخبار ٹیلی ویژن والے انٹرویو لیتے رہے اور جس میں ان کو مقام اور دعوی اسلام کی تبلیغ خلافت وغیرہ کے موضوع پر بتایا گیا۔اس ذریعہ سے جماعت کا کافی وسیع تعارف ہوا ہے ۔ پہلا انٹریو ایک ریڈیو والے نے لیا جو مسجد سے ہی نشر کیا گیا ۔پھر ایک ٹی وی اسٹیشن کے جرنلسٹ نے انٹرویو لیا ۔پھر دو ملین افراد کو پیغام پہنچا ۔پھر 6 اکتوبر کو ہالینڈ کے نیشنل اخبار نے انٹریو لیا پھر 7 کو ایک اخبار نے انٹریو لیا پھر 9 اکتوبر کو ہالینڈ کے اخبار نے انٹرویو لیا ۔ان کے ذریعہ جو کوریج ہوئی وہ بہت اچھی تھی ۔یہ بہت اچھا پروگرام تھا ۔ہالینڈ کے کافی اخبار ات نے خبریں دیں ۔9 اخبارت نے انٹرنیٹ پر خبریں دیں ۔تین ملین لوگوں تک پیغام پہنچا ۔ملک کے نیشنل ٹی وی پر بھی خبریں دی گئی ۔پانچ ملین لوگوں تک پیغام پہنچا مجموعی طور پر پہلی کوشش میں 8 ملین افراد تک یہ پیغام پہنچا ہے ۔ہالینڈ میں دوسری مسجد کی بنیاد رکھی گئی ۔60 سال کے بعد باقاعدہ جماعت مسجد بنا رہی ہے ۔اور اب مسجد وقت کی ضررورت بھی تھی ۔اس تقریب میں لوگ 102 شامل تھئے میئر ججز مذہبی لیڈر وغیرہ شامل تھے ۔مئیر صاحب نے کہا جو بھی باتیں آپ نے مسجد کے بارہ میں کیں یہ ایک پر امن فضا قائم کرنے کے لئے اثر انگیز ہے ہم سب کو مل کر اس پیغام کو نافذ کرنا چاہیے ۔مسجد کے ذریعہ امن کا پیغام ضرور پھیلے گا۔ایک نے کہا لگتا ہے کہ مستقبل میں آپ کی جماعت ہی امن کی علامت ہے ۔پھر ایک نیشنل ریڈیو نے سنگ بنیاد کی ساڑھے چار منٹ کی رپورٹ نشر کی ۔حضور کی آمد کے بارہ میں اور خلیفہ کے بارہ میں بھی بتایا گیا ۔اس کے علاوہ بھی کافی خبریں دیں میڈیا نے ۔اس کے بعد جرمنی میں دو مساجد کی بنیاد رکھی اور معززین آئے جماعت کا تعارف مزید بڑھا ۔نور ہال میں سنگ بنیاد رکھا ۔ایک ٹی وی چینل نے انٹریو لیا ۔اللہ تعالیٰ حقیقت میں بھی ان کے دل کھولے اور اسلام کی تعلیم ان کے دل میں پڑے ۔ ایک عورت نے کہا میں پہلی دفعہ اس پروگرام میں آئی ہوں اور حیران ہوں ہر انسان ایک سلجھا ہوا انسان ہے ۔یہ تاثرات ہمیں یاد رکھنے چاہیے کہ ہم ہمیشہ سلجھے ہوئے رہیں ۔کہتی ہیں کہ ہم جرمن اس سے عاری ہو چکے ہیں ۔میں جو اخلاقی قدریں سکھانا چاہتا ہوں انہی قدروں کے خلاف سکول میں تعلیم دی جار ہی ہے ۔لوگ سمجھتے ہیں جو آزادی کے نام پر تعلیم دی جا رہی ہے ۔یہاں کے لوگ بھی بہت پریشان ہیں ۔اپنے بچوں کو سمجھانا چاہیے کہ ہر بات ان کی سچ نہیں ہے وہاں ایک خاتون کو پتہ چلا کہ افریقہ میں جماعت پانی دینے کے لئے کیا کچھ کر رہی ہے ۔ایک عورت نے کہا پانی کو ضائع بالکل نہیں کرنا چاہیے ان کی باتیں سنو تا کہ تم کو کچھ سمجھ آئے ۔اسی طرح ایک میاں بیوی تھے وہ ایک احمدی سے پردہ کے متعلق بحث کر رہے تھے انہوں نے پوچھا عورتوں کے لئے علیحدہ مارکی کیوں ہے ۔جب انہوں نے خطاب سن لیا اور پردہ کی رو بتائی گئی تو پھر کہنے لگی مغرب میں عورت کی آزادی سطحی طور پر ہے ۔صحیح آزادی نہیں ۔اور پردہ میں ہی عورت کی شان ہے ۔پس غیروں کو اسلامی تعلیم کی سمجھ آ رہی ہے ہماری عورتوں کو بھی جو پردہ کے بارہ میں کمپلیس ہو جاتا ہے ان کا اعتماد بڑھنا چاہیے ۔ایک آدمی نے کہا مجھے تجسس تھا کہ آپ کے خلیفہ کونسی باتیں کریں گے مگر میں نے دیکھا جو کچھ کہا ہے سچ کہا ہے ۔اب یہ باتیں سن کر میرے اندر کوئی خوف باقی نہیں رہا ہے ۔پھر ایک دوست نے کہا میں مذہب کا مخالف ہوں لیکن آپ کے خلیفہ نے ثابت کر دیا ہے کہ اسلام برداشت کا مذہب ہے ۔خلیفہ کا پیغام تھا کہ رنجش ختم کر دیں ۔ایک خاتون کہتی ہیں جو امام جماعت نے باتیں کیں ان کی بہت ضرورت تھی ۔امام جماعت کا پروگرام سب کو متحد کر سکتا ہے ۔اخبارات نے خبریں شائع کیں ۔مسجد کی بنیاد کے حوالے سے کافی خبریں شائع ہوئیں ۔ریڈیو نے بھی اس مسجد کی خبر دی ۔مجموعی طور پر دو مسجدوں کے سنگ بنیاد کی چار لاکھ تریسٹھ ہزار کی اشاعت تھی جن میں خبر آئی ۔ٹی وی اور ریڈیو کی تعداد بھی کئی ملینز مین ہے ۔جامعہ احمدیہ جرمنی کی پہلی کلاس اس دفعہ میدان عمل میں آئی ہے ۔سولہ مربیان تیار ہوئے ہیں ۔اصل مقصد تو جرمنی کا یہی تھا ۔یہ 200 8 شروع ہوا تھا ۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے جامعہ کی باقاعدہ عمارت ہے ۔اللہ تعالیٰ ان فارغ ہونے والے مربیان کو صحیح رنگ میں توفیق دے اور وفا کے ساتھ اپنے وقف کو نبھانے کی توفیق بھی دے ۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :ہماری جماعت کے متعلق اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے ہیں کوئی انسانی عقل یا دور اندیشی یا دنیاوی اسبا ب ان وعدوں تک ہم کو نہیں پنہچا سکتے ۔اللہ تعالیٰ خود ہی اسباب پیدا کر دے گا۔تب یہ انجام کو ہوگا ۔فرمایا میں جانتا ہوں کہ خدا نے اس سلسلہ کو پیدا کیا ہے اور اس کے ذریعہ یہ نشو نما پا رہا ہے ۔اصل یہی ہے کہ اللہ کے ارادہ کے بغیر کوئی نشو نما نہیں پا سکتا ۔مگر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ ایک بیج کی طرح ہو جاتی ہے ۔پس اللہ تعالیٰ کی تقدیر جب فیصلہ کرتی ہے کہ یہ ہو تو وہ ہونے لگ جاتی ہے ۔اور وعدہ جماعت کی ترقیات ہے اور یہی سلوک بھی نظر آتا ہے ۔یہ جو کچھ ہو رہا ہے جو رپورٹ بیان کی ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کا کام ہے ۔کسی کا کوئی کمال نہیں ہے ۔ہاں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو سمجھتے ہوئے جو کوشش کر سکتے ہیں وہ کرنی چاہیے تا کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے ہوں اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ مکرم مرزا اظہر احمد صاحب جو حضرت مصلح موعود ؓ کے بیٹے تھے ان کا نماز جنازہ بھی پڑھاؤنگا۔یہ آخری بیٹے حیات تھے ۔ یہ دوسری نسل ختم ہوئی اب آئندہ نسلیں اللہ تعالیٰ کرے کہ دین پر قائم رہنے والی ہوں ۔ آمین فرقان بٹالین میں بھی خدمت کی توفیق ملی اور خزانہ میں بھی لمبا عرصہ خدمت کی ۔خلافت سے بڑا گہرا تعلق تھا میرے ماموں تھے مگر بہت تعلق احترام کا رکھا ہے ۔جب ان پر میری نظر پڑی جلسہ میں تو ایک خالص وفا خلوص ان کے اندر جھلک رہا تھا ۔1956 میں ان کا نکاح ہوا قیصرہ خانم صاحبہ سے ۔ایک داماد ان کے واقف زندگی ہیں ایک ڈاکٹر ہیں لندن میں ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان سے رحمت اور مغفرت کا سلوک فرمائے اور اپنی رحمت میں جگہ دے آمین ۔ on.fb.me/1W98LqU

Part of the ceiling at the Islamic Arts Museum Malaysia in Kuala Lumpur. I recommend you visit the place if you're in KL. Nice and very informative.

【Isfahan, Iran】 Islamic arches line up in the Imam mosque of Isfahan

  

Check out my albums:

---------------------------------

• All my photos in Explore

Curated stream of my best photos

• My best selling photos

• All my photos used in book covers

 

Follow my photos in Facebook and Instagram

  

©2019 German Vogel - All rights reserved - No usage allowed in any form without the written consent of the photographer.

LARGE

Gears: Nikon D50, Nikon 18-55mm

Location: Crystal Mosque, Wan Man Island, Kuala Terengganu, Malaysia

 

Because Islamic leaders saw in figural arts a possible implication of idolatry, Islam's early theocracy looked to the artistry of calligraphy for religious expression. In Islamic and Arabic cultures, calligraphy became highly respected as an art -- the art of writing.

 

The Qur'an, played a central role in the development and evolution of Arabic script, and by extension, calligraphy. Today, calligraphy has become the most revered art form in the Islamic world because it links the literary heritage of the Arabic language with the religion of Islam. The result is an artistic tradition of extraordinary beauty, richness and power.

 

Calligraphy is an extremely demanding activity, and most of the great Muslim masters devoted their lives to perfecting their art. Mastery of calligraphy requires not only the discipline of developing technical skill, but also the engagement of the calligrapher's moral force and personality.

 

The scope of Arabic calligraphy is vast and diffuse. What I am presenting is merely a sample of the aesthetic, cultural, and scholarly wealth available.

ضع نسخة من هذه الخلقيات على سطح مكتب الكمبيوتور . وجزاك الله خيرا

Download beautiful wallpapers for your desktop, enjoy...

Téléchargez les fond d'écran pour votre bureau

 

Shocked and saddened by the murders in Paris.

Original picture taken by the famous Czech adventurer Rudolf Švaříček from CK Livingstone - I´ve just photographed his picture...

Islam Khodja Minaret in Khiva, Uzbekistan

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ اختتامی خطاب بر موقع جلسہ سالانہ بنگلہ دیش(یوکے سے براہ راست) 07 فروری 2016 ( طالب دعا : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے بنگلہ دیش کا جلسہ سالانہ اختتام کو پہنچ رہا ہے ۔شاملین نے مقررین کی تقریریں بھی سنی ہونگی اور ان میں عملی اور تربیتی اور جلسہ سالانہ کے مقاصد بیان کئے ہونگے ۔جو مقاصد حضرت مسیح موعود ؑ نے بیان فرمائے ہیں وہ یہ ہیں ۔ہر شامل جلسہ خدا تعالیٰ سے تعلق اور اس کی معرفت میں ترقی کرے اور عملی تبدیلی پیدا کرے ۔ایسی عملی تبدیلی جس کا اسوہ حسنہ رسول کریم ﷺ نے پیش فرمایا ۔اور ماننے والوں میں تبدیلی پیدا کی جس کے نمونے ہمیں صحابہ ؓ میں نظر آتے ہیں اور اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے اسی کام کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کو بھیجا ہے ۔ایسے ہی نمونے قائم کرنے کے لئے ۔پھر اللہ تعالیٰ کا یہ بھی احسان ہے کہ ہم میں حضرت مسیح موعود ؑ کے مشن کو جاری رکھنے کے لئے ہم میں خلافت کا نظام بھی جاری فرمایا ہے ۔ جیسا کہ گزشتہ خطبہ میں ذکر کیا تھا ۔حضور ؑ کا مشن یا آپ ؑ کے سلسلہ کا قیام صرف اس بات کو منوانے کے لئے نہیں تھا کہ عیسی ؑ وفات پا چکے ہیں اور اب آسمان سے کسی مسیح نے نہیں آنا ۔بلکہ اس سے بہت بڑھ کر آپ ؑ کی بعثت کا مقصد تھا کہ اللہ کی توحید کا ادراک رکھنے والے او رسول کریم ﷺ کے اسوہ پر چلنے والے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے لوگ پیدا ہوں ۔وہ لوگ پیدا ہوں جو عملی نمونوں کی ایک مثال ہوں ۔پس ہر احمدی جو چاہے دنیا کے کسی بھی حصہ یا خطہ کا ہو اس کی ذمہ داری ہے کہ حضور ؑ کے مشن کو سامنے رکھے ۔ہر وقت اس بات کو دہرائے کہ حضور ؑ بندہ کا تعلق خدا تعالیٰ سے جوڑنے کے لئے آئے تھے ۔آپ ؑ آنحضرت ﷺ کے غلام صادق اور عاشق صادق کی حیثیت سے نبی کریم ﷺ کا مقام دنیا میں قائم کرنے کے لئے آئے تھے ۔دنیا کو بتانے آئے تھے کہ اب خدا تعالیٰ کا پہنچنے کا ذریعہ صرف حضرت محمد ﷺ کی اطاعت سے ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کو سمجھنے کے لئے اور تعلق باللہ کے لئے وسیلہ حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔پھر حضرت مسیح موعود ؑ اسلام کی خوبصورت تعلیم کے مطابق انسان کو انسان کے ایک دوسرے کے حقوق بتا کر اپنے ماننے والوں میں اس کے عملی نمونے قائم کرنے کے لئے آئے تھے ۔پس جب تک ہم میں سے ہر ایک ان باتوں کو نہیں سمجھے گا اس کا جلسہ میں شامل ہو کر نعرے لگانا بے فائدہ ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : وقتی جوش دکھا کر اور نعرے لگا کر ہم اپنی حالتوں میں مستقل تبدیلیاں پیدا نہیں کر سکتے ۔چاہے وہ بنگالی ہے ہندوستانی ، عرب یا یورپین یا جزائر کا رہنے والا ۔جس نے بھی حضرت مسیح موعود ؑ کو مانا ہے اس کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ خدا سے کس طرح تعلق جوڑ کر اس کی توحید کو قائم کرنا ہے ۔آنحضرت ﷺ کی تعلیم اور آپ ﷺ کے مقام کو دنیا میں کس طرح قائم کرنا ہے ۔حقوق العباد کس طرح ادا کرنے ہیں ۔پس آپ جو بنگلہ دیش میں جو میری باتیں سن رہے ہیں اس بات کو ذہن میں بیٹھا کر عہد کریں کہ آپ نے حضرت مسیح موعود ؑ کی باتیں پوری کرنے کے لئے ایک نمونہ بننا ہے ۔جب تک ہمارے عملی نمونے قائم نہیں ہونگے ۔نہ ہی ہماری عملی اصلاح ہو سکتی ہے اور نہ ہی تبلیغ میں کامیابی ہو سکتی ہے ۔اس میں اچھا کام کرنے کے لئے ہم کو ارشادات حضرت مسیح موعو د ؑ سے مدد لینی ہوگی ۔پس اس حوالہ سے میں حضرت مسیح موعود ؑ کے بعض ارشادات پیش کرونگا۔اور یہی ہمارے لئے لائحہ عمل ہیں ۔اور ان پر عمل ہی اور ان کا حقیقی ادراک ہی ہم کو حقیقی مسلمان بناتا ہے ۔اور حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت میں حقیقی رنگ میں شامل ہونے والا بناتا ہے ۔حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں : یاد رہے کہ حقیقی توحید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو ہر ایک بت سے اس کا شریک ٹھہرانے سے پاک رکھے ۔آپ ؑ نے فرمایا : خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر فریب ہو اس سے پاک سمجھنا ،اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا ۔کوئی رازق نہ ماننا ۔کوئی معوذ یا ممد خیال نہ کرنا ۔(یعنی یہ ہمیشہ ذہن میں رکھنے والا کہ اللہ تعالیٰ ہی عزتیں دینے والا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ذلیل کرتا ہے ۔اگر غلط کام کیا جائے ۔)کوئی ناصر اور مددگار قرار نہ دینا ۔دوسرا یہ کہ اپنی محبت اسی سے خاص کرنا ۔اپنا تذلل اسی سے خاص کرنا ۔اپنی امیدیں اسی سے خاص کرنا ۔اپنا خوف اسی سے خاص کرنا ۔پس کوئی توحید بغیر ان تین قسموں کی تخصیص کے کامل نہیں ہو سکتی ۔پھر مزید فرمایا : اول ذات کے لحاظ سے توحید ،یعنی یہ کہ اس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو محدوم کی طرح سمجھنا ۔اور تمام کو ہلاک ہونے والی اور کوئی حقیقت تسلیم نہ کرنا خدا تعالیٰ کے مقابل پر ۔دوئم : صفات کے لحاظ سے توحید۔یعنی یہ کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفحات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا ۔وہی ہے جو ہمارا رب اور ہماری پرورش کرنے والا ہے اسی کی ہم نے عبادت کرنی ہے وہی معبود ہے ۔اور جو بظاہر رب الانواع یا فیض دینے والے نظر آتے ہیں ان کو بھی اسی سے خیال کرنا ۔تیسرا : اپنی محبت اور صدق و صفا کے لحاظ سے توحید ۔ یعنی محبت وغیرہ میں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ بنانا ۔اور اسی میں گوئے جانا ۔پس یہ حقیقی توحید ہے ۔اللہ کی محبت میں کھو ئے جانا اور خالص ہو کر اس کی عبادت کرنا اور اس کی بندگی اختیار کرنا۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :اب ہر ایک اپنا جائزہ لے کہ یہ تعلق ہمارا خدا تعالیٰ سے قائم ہے ۔؟یا ہم قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔؟ یا وقت پر یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہیں لیکن عملا وقت آئے تو غیر اللہ پر ہم انحصار کرتے ہیں ۔اگر ہم اس معیار کی توحید پر قائم ہو جائیں جو حضرت مسیح موعود ؑ نے بیان فرمائی ہے تو پھر وہ خدا بھی ملتا ہے جس سے ملانے کے لئے آپ ؑ تشریف لائے ۔پھر دوسری بات : آنحضرت ﷺ کا مقام و مرتبہ کا ادراک پیدا کرنا ہے ۔جس کے پیدا کروانے کے لئے حضرت مسیح موعود ؑ نے ہم کو بار بار نصیحت فرمائی ہے ۔حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں : غور کر کے دیکھو کہ جب یہ لوگ خلاف قرآن و سنت کہتے ہیں کہ حضرت عیسی ؑ زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں ۔تو پادریوں کو نقطہ چینی کا موقع ملتا ہے وہ کہتے ہیں کہ تمہارا پیغمبر نعوذبا للہ وفات پا گئے اور حضر ت عیسی ؑ زندہ اور نبی کریم ﷺ مردہ ہیں ۔سوچ کر بتاؤ جو پیغمبر افضل الرسل ہے ایسا خیال کر کے اس کی عظمت کو بھٹہ نہیں لگاتے ۔ضرور لگاتے ہیں اور خود آنحضرت ﷺ کی توہین کا ارتکاب کرتے ہیں ۔فرمایا : کہ میں یقین رکھتا ہوں کہ پادریوں سے جس قدر توہین ان لوگوں نے کروائی ہے اور نبی کریم ﷺ کو مردہ کہلوایا ہے ۔اسی کی سزا میں یہ بد بختی ان کے شامل حال ہو رہی ہے ۔اسی وجہ سے وہ خوار ہو رہے ہیں ۔ایک طرف افضل الرسول کہتے ہیں اور دوسری طرف 63 سال کے بعد مردہ خیال کرتے ہیں اور عیسی ؑ زندہ ہے اور نہیں مرا ۔جب کہ اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو فرماتا ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے ۔پھر کیا یہ ارشاد الہی غلط ہے ۔نہیں یہ بالکل درست ہے بلکہ وہ جھوٹے ہے جو نبی کریم ﷺ کو مردہ کہتے ہیں ۔اس سے بڑ ھ کر کوئی کلمہ توہین کا نہیں ہو سکتا ۔حقیقت یہی ہے کہ نبی کریم ﷺ میں ایسی فضیلت ہے جو کسی نبی میں نہیں ہے ۔میں اس کو عزیز رکھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کی حیات کو جو شخص بیان نہیں کرتا وہ میرے نزدیک کافر ہے ۔پھر حضرت مسیح موعود ؑ آنحضرت ﷺ کے مقام و مرتبہ کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں : میں قرآن شریف سے استنباط کرتا ہوں کہ سب انبیاء کے وصفی نام آنحضرت ﷺ کو دیئے گئے ۔کیونکہ آپ ﷺ تمام انبیاء کے فضائل کے جامع تھے ۔اور اسی طرح جیسے تمام انبیاء کے کمالات آپ کو ملے قرآن شریف بھی جمیع کتب کی خوبیوں کا جامع ہے ۔چنانچہ فرمایا : فیھا کتب قیمہ۔یعنی اس میں قائم رہنے والی اور قائم رکھنے والی تعلیمات ہیں ۔اور ہم نے کوئی کمی نہیں کی اس کتاب میں ۔ایسا ہی ایک جگہ یہ حکم رسو ل کریم ﷺ کو دیا ہے کہ تمام نبیوں کی اقتداء کر ۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ امر دو قسم کا ہوتا ہے ۔ایک امر تو تشریحی ہوتا ہے جیسا کہا نماز قائم کرو اور زکوة دو ۔بعض امر بطور خلق ہوتے ہیں ۔جیسا یا نار کونی بردا و سلما علی ابراہیم ۔یہ امر جو تم سب کی اقتداء کر یہ بھی خلقی اور کونی ہے ۔یعنی تیری فطرت کو حکم دیا جو کمالات تمام انبیاء میں موجود تھے اس میں سب کے سب موجود ہوں اور گویا اس کے ساتھ ہی وہ کمالات اور خوبیاں آپ ﷺ کی ذات میں جمع ہو گئیں ۔پھر آیت خاتم النبیین کا حقیقی مفہوم بیان کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں :چنانچہ ان خوبیوں اور کمالات کا ہی نتیجہ تھا کہ آپ ﷺ پر نبوت ختم ہو گئی ۔اور یہ فرمایا : ہم نے نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین بنایا ہے ۔ختم نبوت کے یہی معنی ہیں کہ نبوت کی ساری خوبیاں اور کمال تجھ پر مکمل ہو گئے ۔اور آئندہ کے لئے کمالات نبوت کا باغ بند ہوگیا۔اور کوئی نبی مستقل طور پر نہ آئے گا۔نبی عربی اور عرابی دونوں زبانوں میں مشترک لفظ ہے ۔جس کے معنی ہیں خدا سے خبر پانے والا۔اور پیشگوئی کرنے والا ۔جو لوگ خود براہ راست خدا سے خبریں پاتے تھے وہ نبی کہلاتے تھے ۔یہ گویا اصطلاح ہو گئی تھی ۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ کے لئے خدا نے اس کو بند کر دیا ہے ۔اورمہر لگا دی ہے کہ کوئی نبی رسول کریم ﷺ کی مہر کے بغیر نہیں ہو سکتا۔جب تک آپ کی امت میں داخل نہ ہو ۔اور آپ ﷺ کے فیض سے مستفیض نہ ہو ۔وہ خدا تعالیٰ سے مکالمہ کا شرف نہیں پا سکتا ۔جب تک آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل نہ ہو ۔اگر کوئی ایسا ہے کہ وہ بدوں اس امت میں داخل ہونے یا نبی کریم ﷺ سے فیض پانے کے بغیر مکالمہ الہیہ حاصل کر سکتا ہے تو اسے میرے سامنے پیش کرو ۔پھر آپ ؑ فرماتے ہیں : دیکھو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اگر خدا کی محبت پانا چاہتے ہو تو صرف رسول کریم ﷺ کی پیروری سے ہی محبت مل سکے گی ۔اور اس کے علاوہ کوئی راہ نہیں ۔کہ تم کو خدا سے ملا دے ۔خدا کا مدعا صرف ایک واحد خدا ہونا چاہیے ۔شرک اور بدعت اسے اجتناب کرنا چاہیے ۔رسول کا تابع نہ ہو اور حوا و ہوس کا تابع نہ ہو ۔دیکھو میں پھر کہتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ کی سچی راہ کے سوا اور کسی طرح انسان کامیاب نہیں ہو سکتا۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ ہمارا صرف ایک ہی رسول ہے اور ایک ہی قرآن شریف جو اس رسول پر نازل ہوا ہے جس کی پیروی سے ہم خدا تعالیٰ کو پا سکتے ہیں ۔ آج کل کے پیروں کے وظیفے سب خدا کی راہ سے بھٹکانے کا ذریعہ ہے اس سے بچو۔ان لوگوں نے رسول کریم ﷺ کی خاتم النبیین کی مہر کو توڑنا چاہا ۔گویا اپنی الگ ایک شریعت بنا لی ہے یاد رکھو کہ قرآن شریف اور رسول کریم ﷺ کی پیروی اور نماز روزہ کے علاوہ برکات خدا کے کھولنے کی اور کوئی کنجی نہیں ہے ۔بھولا ہوا ہے وہ جو ان راہوں کو چھوڑ کر کوئی نئی راہ نکالتا ہے ۔ناکام مرے گا وہ جو اللہ اور اس کے رسول کا تابعدار نہیں ۔بلکہ اور اور راہون سے اس کو تلاش کرتا ہے ۔پس نہ کوئی پیر نجات کا باعث بن سکتا ہے نہ کوئی مولوی ۔اللہ تعالیٰ کی رضا حضرت محمد ﷺ کی پیروی اور اتباع میں ہے ۔پھر جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ حضرت مسیح موعود ؑ بندوں کے ایک دوسرے کے حقوق قائم کرنے کا ادراک کروانے بھی آئے تھے ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :آپ ؑ نے بتایا کہ اگر تم ایک دوسرے کے حقوق قائم نہ کرو گے تو نہ ہی خدا سے اور نہ ہی رسول ﷺ سے تعلق ہے اور نہ ہی اسلام سے کوئی تعلق ہے ۔آپ ؑ نے ہمیں بتایا آنحضرت ﷺ نے امن اور صلح اور بندوں کے حقوق قائم کرنے کی بنیاد ڈالی ۔آپ ؑ نے ہمیں اللہ تعالیٰ کے اس بھیجے ہوئے نبی کریم ﷺ جو رحمت للعالمین ہیں ان کا صحیح ادراک پیدا کروایا۔آپ ؑ نے بتایا کہ قرآن کریم نے ہر طبقہ کے حقوق قائم کئے ہیں ۔ہم تمام نبیوں کو سچا سمجھنے والا اصول امن کی صلح ڈالنے والا ہے اور امن بخش ہے ۔خواہ ہند میں ظاہر ہوئے یا فارس یا چین میں ۔یا کسی اور ملک میں اور خدا نے کڑورہا دلوں میں ان کی محبت بیٹھا دی ۔اور ان کے مذہب کی جڑ قائم کر دی ۔اور کئی صدیوں تک وہ مذہب رہا ۔یہی اصول ہے جو قران کریم نے سکھلایا ۔اسی کی وجہ سے ہم ہر مذہب کے پیشوا کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔گو وہ ہندوؤں کے مذہب کے پیشو ا ہوں یا فارسیوں کے مذہب کے یا چینیوں کے مذہب کے ۔یا یہودیوں کے مذہب کے یا عیسائیوں کے مذہب کے ۔پھر فرمایا : اسلام کی رو سے دین کے حصے دو ہیں ۔اول ایک خدا کو جاننا ۔جیسا کہ وہ فی الواقعہ موجود ہے اور اس سے محبت کرنا اور سچی اطاعت میں لگ جانا ۔جیسا کہ شرط اطاعت اور محبت ہے ۔دوسرا مقصد یہ ہے کہ اس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی میں اپنے قوی کو خرچ کرنا ۔اور بادشاہ سے لیکر ادنی انسان تک جو احسان کرنے والا ہو شکر گزاری اور اچھا سلوک کرنا ۔پس یہ ہے وہ مقصد جس کو ہر اس شخص کو جو مسلمان ہونے کا دعوی کرتا ہے اپنے اوپر لاگو کرنے کی ضرورت ہے ۔اسی کے لئے ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہیے ۔افسوس کے اس کو مسلمان بھولے ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے فتنہ و فساد اسلامی ممالک میں ہے ۔رعایا اور حکومت ایک دوسرے کی گردن مار رہے ہیں اور ہر ایک دوسرے کو نقصان دینے والا ہے اور حکومت عوام سے او ر عوام حکومت سے ناجائز مطالبہ کرتے ہیں ۔جب تک دونوں طرف سے انصاف ہو ملک میں امن رہتا ہے ۔جب کوئی بد اعتدالی ہوتی ہے کسی بھی طرف سے امن اٹھ جاتا ہے ۔پس جب تک دونوں طرف سے انصاف نہ ہو فرض پورے نہ ہوں اور حقوق ادا نہ کئے جائیں امن اور سلامتی قائم نہیں رہ سکتے ۔اور یہی آج کل جیسا میں نے کہا مسلمان کہلوانے والے کا المیہ ہے ۔ہم احمدیوں نے جس جس ملک میں وہ ہیں اسلام کی حقیقی تعلیم کو اور انصاف کی تعلیم کو دنیا کو روشناس کرنا ہے ۔تا کہ امن سلامتی قائم ہو ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :ایک حقیقی احمدی کو کس طرح حقوق العباد ادا کرنے چاہیے اس بارہ میں حضور ؑ فرماتے ہیں : اصل بات یہ ہے کہ سب سے مشکل اور نازک مرحلہ حقوق العباد کا ہی ہے ۔کیونکہ ہر وقت اس کا معاملہ پڑتا ہے ۔اور ہر آن یہ ابتلاء سامنے رہتا ہے ۔پس اس مرحلہ پر بہت ہوشیار ی سے قدم اٹھانا چاہیے ۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی حد سے زیادہ سختی نہ ہو ۔بعض لوگ چاہتے ہیں جہاں تک ہو اس کی بربادی کی جائے ۔پھر وہ اس فکر میں پڑ کر جائز اور ناجائز امور کی بھی پرواہ نہیں کرتے ۔اس کو بدنام کرنے کے واسطے جھوٹی تہمت اس پر لگاتے ۔افتراء کرتے اور غیبت کرتے ۔اور دوسروں کو اس کے خلاف اکساتے ہیں ۔اب بتاؤ معمولی دشمنی سے کس طرح کی برائیوںٍ کا وہ مالک بنا پھر جب ان کے بچے ہوں گے تو کہاں تک بات جائے گی ۔میں سچ سچ کہتا ہوں تم کسی کو اپنا ذاتی دشمن نہ سمجھو ۔اور اس کینہ طوری کی حالت کو بالکل ترک کر دو ۔اگر خدا تعالیٰ کے ساتھ اور تم اس کے ہو جاؤ تو وہ دشمنوں کو بھی تمہارے خادموں میں داخل کر سکتا ہے ۔لیکن اگر خدا سے ہی دور ہو تو کوئی رشتہ اس سے نہیں اس کی خلاف ورزی تمہارا چال چلن ہے ۔پھر خدا سے بڑھ کر تمہارا دشمن کون ہوگا۔ مخلوق کی دشمنی سے انسان بچ سکتا ہے مگر خدا کی دشمن سے باوجود ساری مخلوق دشمن ہو بچ نہیں سکتا۔اس لئے تمہارا طریق نبیوں کا طریق ہو ۔خدا تعالیٰ کا منشاء یہی ہے کہ ذاتی دشمنی نہ ہو ۔خوب یاد رکھو کہ انسان کو شرف اور سعادت تب ملتی ہے جب تک وہ ذاتی طور پر کسی کا دشمن نہ ہو ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :پھر اعلی اخلاق اور حقوق العباد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور ؑ نے فرمایا : ہر شخص کو ہر روز اپنا مطالعہ کرنا چاہیے کہ وہ کہاں تک ان امور کی پرواہ کرتا ہے ۔اور کہاں تک وہ اپنے بھائیوں سے ہمددری اور محبت کرتا ہے بہت بھاری مطالبہ انسان کے ذمہ ہے ۔حدیث ہے کہ قیامت کو اللہ کہے گا میں بھوکاتھا تم نے کھانا نہ کھلایا ، پیاسا تھا پانی نہ دیا ۔بیمار تھا عیادت نہ دی ۔جن لوگو ں سے سوال ہوگا وہ کہیں گے اے رب تو کب بھوکا تھا جو ہم نے کھانا نہ دیا ۔تو کب پیاسا تھا جو پانی نہ دیا ۔کب بیمار تھا جو عیادت نہ کی ۔پھر خدا فرمائے گا میرا فلاں بندہ اس کا محتاج تھا تم نے اس کی کوئی ہمدردی نہ کی ۔ایسا ہی ایک اور جماعت کو کہے گا شاباش تم نے میری ہمدردی کی ۔میں بھوکا تھا تم نے مجھے پانی پلایا ۔وہ جماعت کہے گی ہم نے کب ایسا کہا ۔تب اللہ تعالیٰ جواب دے گا تم نے میرے فلاں بندے کے ساتھ جو ہمدردی کی وہ میری ہمدردی تھی ۔دراسل خدا کی کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرنا بہت بڑی بات ہے ۔عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کسی آقا کا خادم کسی کے پاس جائے اور اس کی خبر بھی نہ لے کیا وہ آقا اس سے خوش ہوگا ۔کبھی نہیں ۔حالانکہ اس کو اس نے کوئی تکلیف نہیں دی مگر نہیں اس نوکر کی خدمت گویا مالک کے ساتھ حسن سلوک ہے ۔جو خدا کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرتا ہے وہ گویا خدا کو راضی کرتا ہے ۔غرض اخلاق ہی ساری ترقیات کا زینہ ہے ۔میری دانست میں یہی پہلو حقوق العباد کا جو حقوق اللہ کے پہلو کو تقویت دیتا ہے ۔جو شخص نوع انسان کے ساتھ اخلاص سے پیش آتا ہے خدا تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرتا ۔اس سے ایمان قوی ہو جاتا ہے ۔یاد رکھنا چاہیے نمائش کے لئے جو اخلاق ہوں وہ خدا تعالیٰ کے لئے نہیں ہوتے ۔اور ان میں اخلاص کے نہ ہونے کی وجہ سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا ۔اس طرح تو بہت سے لوگ سرائیں وغیرہ بنا دیتے ہیں ۔ان کی اصل غرض شہرت ہوتی ہے ۔اگر کوئی انسان خدا کے لئے کوئی کام کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرتا ہے ۔اور اس کا بدلہ دیتا ہے ۔فرمایا : تذکرة الالیاء میں لکھا ہے کہ ولی نے کہا بارش ہوئی اور کوئی روز تک رہی بارش کے دنوں میں اسی برس کا گبر بوڑھا کھوٹھے پر چڑیوں کے لئے دانے ڈال رہا ہے ۔میں نے اس وجہ سے کہ آتش پرست کے اعمال غبن ہو جاتے ہیں اس سے کہا تمہیں ان کا کوئی ثواب ہوگا۔اس گبر نے جواب دیا ہاں ضرور ہوگا۔ پھر وہی ولی اللہ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ حج کو گیا وہی گبر طواف کر رہا ہے اور اس نے پہچان لیا اور کہا دیکھو ان دانوں کا ثواب مل گیا۔یا نہیں ملا ۔یعنی وہی دانے میرے اسلام لانے کا موجب ہو گئے ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ رحم کی تعلیم دی ہے یہی اسلامی تعلیم ہے ۔اللہ نے فرمایا ہے کہ تمام مسلمان مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ایسی صورت میں کے تم میں اسلامی اخوت قائم ہو ۔آپ احمدیوں کو مخاطب کر کے فرما رہے ہیں کہ ایک تو اسلامی اخوت قائم ہو پھر دوسری اخوت بھی بڑھے ۔آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے دو ہی قسم کے حقوق رکھے ہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد ۔جو حقوق العباد کی پرواہ نہ کرے وہ حقوق اللہ بھی چھوڑ دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بڑھنے اور اس کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اور نبی کریم ﷺ کے مقام کو سمجھنے اور غلام صادق حضرت مسیح موعود ؑ کے مقصد کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپس میں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی توفیق دے ہم صحیح اسلامی تعلیم کو پھیلانے والے ہوں ۔اور دنیا پر ثابت کرنے والے ہوں کہ اسلام پر عمل کرکے خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کرے ہم سب اس پر عمل کرنے والے ہوں ۔اللہ تعالیٰ بنگلہ دیش میں سب شاملین کو خیریت سے اپنے گھروں کو واپس لے جائے اور ان کے گھروں میں بھی ہر طرح سے خیریت رکھے ۔بنگلہ دیش کے حالات بھی بعض دنوں میں خراب ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو محفوظ رکھے اور دنیا میں جہاں جہاں حالات خراب ہیں وہاں سب احمدیوں کو اپنی حفاظت میں رکھے ۔ ( بنگلہ دیش میں شاملین 5800 اور لندن میں 3726 شاملین تھے ۔) on.fb.me/1SWd4SU

Museum of Islamic Art, Doha - Qatar

1 2 4 6 7 ••• 79 80