View allAll Photos Tagged Islam'

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 30 اکتوبرر 2015 بیت الفتوح یوکے تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : حضرت مسیح موعود ؑ کے واقعات اور آپ کی حکایات کو حضرت مصلح موعود ؓ نے اپنی تقاریر میں بیان کیا ہوا ہے ان کو آج میں بیان کرونگا۔ ہر واقعہ اپنے اندر نصیحت کا ایک پہلو رکھتا ہے ۔اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ افراد جماعت کو اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہیے دینی علم رکھنے والے بھی حالات حاضرہ سے بھی واقفیت رکھیں اور تاریخ سے بھی ۔خاص طور پر مربیان کو چاہیے کہ خاص طور پر توجہ دیں ۔آج کل کی دنیا میں یہ معلومات فوری طور پر بڑی آسانی سے مہیا ہو جاتی ہیں۔ایک حکایت جو علم کو بڑھانے اور موقع محل کے مطابق اپنی علمی صلاحیت کے اندر رہنے کی طرف توجہ دلاتی ہے ۔ آپ ؓ نے فرمایا : کہ حضور ؑ سے واقعہ سنا ہے آپ فرمایا کرتے تھے کوئی شخص تھا جو بزرگ ظاہر کرتا تھا۔کسی بادشاہ کا وزیر اس کا معتقد ہو گیا اور ہر طرف اس کی تعریف کرنی شروع کر دی ۔اور بادشاہ کو بھی کہا کہ آپ اس کی زیارت کریں ۔بادشاہ نے کہا فلاں دن میں اس بزرگ کے پاس جاؤنگا۔وزیر نے یہ بات اس بزرگ کو پہنچا دی اور آپ اس سے باتیں کریں کہ وہ اثر لے کر معتقد ہو جائے ۔آپ لکھتے ہیں کہ معلوم نہیں وہ بزرگ تھا کہ نہیں ۔مگر واقعات بتاتے ہیں کہ وہ بیوقوف ضرور تھا ۔جب اس کو اطلاع ملی تو اس نے کچھ باتیں سوچ لیں اور بادشاہ کی ملاقات کے وقت کہنے لگا بادشاہ جی آپ کو انصاف کرنا چاہیے ۔دیکھئے مسلمانوں کا سکندر نامی بادشاہ گزرا ہے ۔جب کہ وہ مسلمانوں سے پہلے کا تھا ۔جس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ رسول کریم ﷺ کے سینکڑوں سال بعد ہواتھا۔یہ غلط تھا نتیجہ یہ ہوا ہے بادشاہ اس سے بد ظن ہوگیا او ر فورا اٹھ کر چلا آیا۔فرمایا تاریخ دانی بزرگی کی شرط نہیں ۔مگر یہ مصیبت خود ساختہ بزرگ نے اپنے اوپر سہیڑی ۔اس لئے علم صحیح ہونا چاہیے جو بھی بات کرے اس کے بارہ میں تسلی ہونی چاہیے ۔اس شخص کو اس کے نفس کی خواہش نے ہلاک کر دیا۔پھر ایک جگہ حضرت مولوی عبد الکریم ؓ کے حوالہ سے حضرت مسیح موعود ؑ کے دل کی نرمی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :لوگوں کو بڑی جلدی ہوتی ہے بددعا کرنے پر بلکہ ہم کو اپنے مخالفین کے لئے دعا کرنی چاہیے ۔آخر انہوں نے بھی ایمان لانا ہے ۔مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں چوبارے پر رہتا تھا حضرت مسیح موعود ؑ مکان کے نچلے حصہ میں تھے ۔ایک رات اس طرح رونے کی آواز آئی کہ جیسا عورت درد زہ سے چلاتی ہو جب سنا تو معلوم ہوا کہ حضور ؑ دعا کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں اے خدا طاعون پڑی ہوئی اور لوگ مر رہے ہیں اگر یہ سب مر گئے تو تجھ پر ایمان کون لائے گا۔طاعون وہ نشان تھا جس کی پیشگوئی رسول کریم ﷺ نے کی تھی جب طاعون آئی تو وہی شخص خدا کے سامنے گڑگڑاتا ۔پس مومن کو عام لوگوں کے لئے بد دعا نہیں کرنی چاہے ۔ احمدیت قائم ہی اسلام کو بچانے کے لئے ہوئی ہے ۔احمدیت قائم ہی مسلمانوں کو بچانے کے لئے ہوئی ہے ۔اور کھوئی ہوئی عظمت مسلمانوں کو واپس دلانے کے لئے ہوئی ۔آپ ؑ فرماتے ہیں کہ اے میرے دل ان کے جذبات کا خیال رکھا کر تا کہ تو تنگ آ کر بد دعا نہ کرے کیونکہ ان کو رسول کریم ﷺ سے محبت ہے اور اسی محبت کی وجہ سے تم کو گالی دیتے ہیں ۔پس عوام الناس لا علم ہے ۔مولوی کے پڑھنے پر اپنا اظہار کر دیتا ہے ۔آج بھی واقعات لکھتے ہیں کہ جب حقیقت بتائی گئی تو کایا پلٹ گئی ۔پس ہماری دعا یہ ہونی چاہیے کہ اللہ امت کو علماء سوء سے بچائے اور ان کو اچھے لیڈر عطا فرمائے ۔پھر حقیقی لیڈر کے لئے حالات مشکلات میں اس کے لئے بہتری کے سامان پیدا کر دیتا ہے ۔اگر کوئی قوم واقعہ میں مسلمان بن جائے تو اس کی تمام مشکلات موجب نجات اور ترقی ہو جاتی ہے ۔ہر مصیبت اور مشکل جو آتی ہے اس کے پیچھے سکھ اور آسانیاں ہوتی ہیں ۔ہماری مشکلات مستقبل کی خوشخبریاں دینے کے لئے ہیں ۔ہر ابتلاء کے بعد ہمارے لئے اللہ کے فضل سے ترقیات لے کر آیا ہے ۔کہ بد خیالات کا اثر بغیر ظاہری اسباب کے صرف صحبت سے بھی ہو جاتا ہے ۔کوئی کسی کو برائی میں پڑنے کی ترغیب دے یا نہ دے ۔اگر صحبت میں ہو تو وہ برائی لا شعوری طور پر پیدا ہو جاتی ہے ۔اس بات کو بیان فرماتے ہوئے آپ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ سکھ طالبعلم نے جو حضور ؑ سے اخلاص کا تعلق رکھتا تھا ۔پیغام بھیجا کہ پہلے مجھے خدا پر یقین تھا مگر اب میرے دل میں اس کے متعلق شکوک پڑنے لگ گئے ہیں ۔آپ ؑ نے اس کو فرمایا اپنی جگہ بدل لو ۔پھر اس سکھ نے بتایا کہ اب خدا تعالیٰ کے بارہ میں کوئی شک پیدا نہیں ہوتا ۔صحبت کی وجہ سے دہریہ کا بد اثر اس پر پڑ رہا تھا۔صحبت اپنا اثر رکھتی ہے ۔پس دنیا میں خیالات ایک دوسرے پر اثر کر رہے ہوتے ہیں مگر ان کا پتہ نہیں لگتا ۔پس خاص طور پر نوجوانوں کو بھی توجہ دینی چاہیے کہ ان کی دوستیاں ایسی ہوں کہ ان پر بد اثر نہ ڈالیں۔ٹی وی پروگرام کے بارہ میں بڑوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے ۔اگر وہ خود دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔کبھی نہ کبھی ان کو بچے دیکھ لیتے ہیں دوسرے لا شعوری طور پر اثر ہو رہا ہوتا ہے ۔بعض دیر تک دیکھتے ہیں اور فجر پر نہیں جاگتے۔پس والدین کا فرض ہے کہ اپنے گھر کے ماحول کو پاک صاف رکھیں ۔حضور ؑ بعض لوگوں کو کہہ دیا کرتے تھے کہ دعا کے لئے تعلق کی ضرورت ہوتی ہے ۔کہ تم ایک نذر مقرر کرو میں دعا کرونگا۔یہ طریق اس لئے تھا کہ تعلق بڑھے ۔ایک بزرگ سے بھی کوئی دعا کروانے گیا اس کے کہا میں دعا کروں گا پہلے میرے لئے حلوہ لا ؤ۔جب حلوہ لینے گیا تو جس کاغذ پر ڈالنے لگا تھا اس نے کہا یہ کاغذات میرے ہیں ۔اس بزرگ نے کہا میری غرض حلوہ سے یہ تھی کہ ایک تعلق پیدا ہو۔بہت سے ایسے واقعات حضور ؑ کے حوالہ سے ملتے ہیں ۔جب کسی مخلص کے کاروبار کی بہتری یا اس کی صحت کے لئے خاص درد کے ساتھ دعا کی کہ وہ آپ ؑ کے مشن اور اشاعت اسلام کے لئے مالی مدد بہت کرتے تھے ۔پس ان قربانیوں کی وجہ سے خاص تعلق پیدا ہوگیا تھا۔نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے ایک دفعہ آپ ؓ نے حضرت مسیح موعود ؑ کے حوالہ سے بیان کیا ۔کہ دو صحابیوں کے بارہ میں سنایا کرتے تھے ایک بازار میں گھوڑا بیچنے لایا گیا ۔قیمت بتائی گئی خریدنے والے نے کہا یہ نہیں اس کی زیادہ قیمت ہے ۔بیچنے والا وہی لینے پر تھا خریدنے والا اس سے زیادہ دینے پر قائم تھے ۔یہ دیانت کا معمولی واقعہ ہے ۔ہر ایک کی یہ سوچ ہو جائے کہ نیکی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا ہے۔شچائی پر قائم رہنا ہے ۔جہاں اپن تربیت کے لئے فائدہ مند ہوگی ہماری نسلوں کی تربیت بھی کرے گی ۔اور جماعت کی ترقی کا بھی باعث بنے گی ۔پس یہ معیار ہیں جو دیانت داری کے قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔پھر ایک اور اہم بات جس کی طرف ہر احمدی کو توجہ دینی چاہیے کہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ تمام خوبیوں کی مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔کسی کو ہدایت دینا بھی اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔پیغام پہنچانا ہمارا کام ہے ۔یہ کبھی خیال نہیں کرنا چاہیے کہ فلاں شخص احمدی ہو جائے تو جماعت ترقی کرے گی ۔یہ بھی نہیں کہناچاہیے ۔حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں بعض لوگ حضور ؑ کے پاس آتے کہ فلاں شخص ہمارے گاؤں کا احمدی ہو جائے تو ہم ایمان لے آئیں گے ۔یہ خیال غلط ہے ۔ایک گاؤں میں تین مولوی تھے لوگ کہتے یہ مان لیں تو ہم بھی مان لیں گے اس طرح دو نے بیعت کر لی پھر بھی لوگ نہ مانے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہماری توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہونی چاہیے اور انحصار بھی ۔نہ کہ لوگوں کی طرف نظر رکھی جائے ۔فرمایا: مجھے بعض دفعہ لکھتے ہیں کہ فلاں شخص نے کہا یہ شرط ہے اس کی اگر پوری ہو جائے تو احمدی ہو جائے گا اور اگر وہ احمدی ہو جائے گا تو ہمارے علاقہ میں انقلاب آجائے گا بلکہ اس سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ اخلاص والے لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوں ۔انسانیت کو درد سے بچانے کا درد کتنا تھا ۔آپ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ؑ کے زمانہ میں ادنی عورت ان پڑھ آئی ۔اور کہنے لگی حضور میرا بیٹا عیسائی ہو گیا آپ دعا کریں کہ وہ مسلمان ہو جائے ۔آپ ؑ نے فرمایا اس کو میرے پاس بھیجا کرو ۔وہ بیمار تھا اور علاج کے لئے آیا تھا ۔آپ فرماتے ہیں کہ اس کو سل کی بیماری تھی ۔چنانچہ حضور ؑ جب آپ کے پاس وہ آتا اس کو نصیحت کرتے رہے جب اثر ہونے لگا اس نے خیال کیا کہیں میں مسلمان ہی نہ ہو جاؤں ۔وہ بٹالہ بھاگ گیا۔جب ماں کو پتہ چلا تو وہ رات و رات پیدل گئی اور واپس لے آئی ۔وہ عورت پیروں پر گر جاتی تھی اور کہتی تھی مجھے اپنا بیٹا پیارا نہیں اسلام پیارا ہے ۔میری خواہش ہے یہ مسلمان ہو جائے پھر بیشک مر جائے ۔وہ اسلام لے آیا اور چند دن کے بعد فوت ہوگیا۔اس عورت کو بھی پتہ تھا دین میں واپس لانے کے لئے کوئی حیلہ ہو سکتا ہے تو وہ حضرت مسیح موعود ؑ ہی ہیں ۔ پھر افراد جماعت کو ہنر سیکھنے اور محنت کرنے کی طرف بہت توجہ دلائی ہے ۔ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ؑ کے زمانہ کا ۔کہ معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والا نوجوان تھا ۔حضور ؑ کے پاس رہتا تھا حضرت مسیح موعود ؑ کے پاس ایک لڑکا تھا ۔مخلص اور دیندار تھا ۔معمولی عقل کا یہ حال تھا ایک دفعہ باہر مہمان آئے حضور ؑ کے گھر سے ہی کھانا جاتا تھا شیخ رحمت اللہ صاحب وغیرہ قادیان آئے حضور ؑ نے ان کے لئے چائے تیار کروائی اورفجے کو کہا کہ ان کو چائے پلا آئیں ۔اور اس خیال سے کہ کسی کو بھول نہ جائے پانچوں کو چائے دینی ہے ۔ایک ملازم تھے ان کو بھی ساتھ کر دیا اور جب دونوں یہ چائے لیکر گئے پتہ لگا کہ وہ سارے حضرت خلیفہ المسیح الاول ؓ کے پاس تھے یہ چائے لیکر وہاں پہنچ گئے ۔چراغ نے پہلی پیالی خلیفہ اول کے سامنے رکھی اور فجے نے ہاتھ پکڑ لیا چراغ نے اس کو سمجھایا ۔مگر وہ یہ بات کہے جاتا تھا کہ حضرت صاحب نے پانچ کا نام لیا تھا۔لیکن وہ جلد معمار کے ساتھ لگایا گیا تو وہ معمار بن گئے ۔اگر ذرا بھی توجہ کریں تو کوئی نہ کوئی ہنر اور کام سیکھ سکتے ہیں اور روپیہ کما سکتے ہیں اور خدمت خلق کے کاموں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ایک شخص احمدی ہونے سے قبل بیس سال تک ناراض رہے ۔ایک لڑکا ان کا مرا تھا حضرت صاحب ان کے ہاں گئے انہوں نے بغل گیر ہو کر روتے ہوئے کہا خدا تعالیٰ نے مجھ پر بڑا ظلم کیا ۔یہ سن کر بہت نفرت ہو گئی بعد میں وہ ان جہالتوں سے نکل آئے اور احمدیت میں آ گئے ۔ ہستی باری تعالیٰ کے متعلق ایک واقعہ سنایا کرتے تھے ۔حضرت میر اسماعیل ؓ کے ساتھ ایک دہریہ پڑھا کرتا تھا ۔ایک دفعہ زلزلہ جو آیا تو اس کے منہ سے رام رام نکل گیا ۔میر صاحب نے جب پوچھا تم خدا کے منکر ہو رام رام کیوں کہا ۔کہنے لگا غلطی ہو گئی ۔اس لئے مرتے وقت خوف کے وقت دہریہ کہتا ہے ممکن ہے میں ہی غلطی پر ہوں ۔یہ خدا تعالیٰ کی ہستی کی ایک زبردست دلیل ہے ۔حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ خدا کی تائید اور نصرت پر دلی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے آپ ؓ فرماتے ہیں ۔نوٹ بک میں لکھا وہ تحریر دنیا کے لئے نہ تھی ۔کوئی تکلف یا بناوٹ خیال کیا جا سکے ۔جس کو میں نے شائع کر دیا۔ آپ ؑنے لکھا :اے خدا میں تجھے کس طرح چھوڑ دوں جب کہ تو مجھے تسلی دیتا ہے ۔ہر احمدی کا اخلاق کا معیار بلند ہونا چاہیے ۔اس بارہ میں آپ ؑ کا اپنا نمونہ کیا تھا۔اور مخالفین سے کیا حسن سلوک کیا کرتے ۔ایک دفعہ ہندوؤں میں سے ایک کی بیوی بیمار ہو گئی تو وہ شرمندہ اور نادم سا مشک لینے آیا ۔اگر آپ کے پاس مشک ہو ایک رتی یا دو کی ضرورت تھی مگر اس نے کہا حضور ؑ نے مشک کی شیشی بھر کر لے آئے اور کہا آپ کی بیوی کو بہت تکلیف ہے یہ سب لے جائیں ۔اشتیال انگیزی سے بچنے کے لئے فرمایا کرتے تھے ۔طاعون طعن سے نکلا ہے طعن کے معنی نیز ہ مارنا ہے ۔وہ خدا اب بھی موجود ہے اور طاقت کا جلوہ دکھائے گا ہم خاموش رہیں گے اور جماعت کو نصیحت کریں کے اپنے نفسوں کو قابو میں رکھیں اور جماعت کو بتا دیں ۔اشتیال انگیزیوں کے سامنے امن پسند رہیں ۔دعا میں خاص حالت پیدا کرنے کے لئے ایک راہنمائی فرمائی ۔آپ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ سمجھے دعا کے وقت حقیقی تضرع نہیں پیدا ہوتا تو وہ مصنوعی رونے کی کوشش کرے پھر حقیقی رقت پیدا ہو جائےگا۔ہمارے ایک حصہ کی دعا میں سستی کی وجہ سے ہم کو مشکلات آتی ہیں ۔بہت ایسے ہیں جو دعا کرنا بھی نہیں جانتے اور دعا کیا ہے ۔آج بھی یہ ہے ۔فرمایا: دعا موت قبول کرنے کا نام ہے ۔دعا کا مطلب ہے کہ اپنے اوپر موت طاری کرتا ہے ۔خدا کے سامنے خود کو مرا ہوا سمجھے ۔جب تک اس کے راستے میں مر نہ جائے تو دعا دعا نہ ہوگی ۔دعا اسی کی دعا ہوگی جو اپنے اوپر موت وارد کرے ۔جو یہ کرے گا اسی کی دعائیں قابل قبول ہو سکتی ہین ۔اللہ تعالیٰ ہم کو توفیق دے ہم اخلاق کے اور عبادتوں کے اعلی معیار قائم کرنے والے ہوں اور ہم کو مقبول دعا کرنے والا بنائے ۔ آمین on.fb.me/1MZmV3S

#Photography And Edit By Eslam Rezo

#ﺗﺼﻮﻳﺮ ﺇﺳﻼﻡ #ﺭﻳﺰﻭ

 

Website | www.eslamrezo.com

Facebook Page | www.facebook.com/EslamRezo.Page

Facebook Account | www.facebook.com/rezo.profile

Twitter Account | www.twitter.com/EslamRezoTweets

Youtube Channel | www.youtube.com/RezoEslam

Soundcloud | www.soundcloud.com/eslamrezo

Deviantart | www.eslamrezo.deviantart.com

Flickr | www.flickr.com/eslamrezo

Behance | www.behance.net/EslamRezo

Linkedin | www.linkedin.com/in/eslamrezo

Instagram | Eslam Rezo

Contact | info@eslamrezo.com OR eslamrezo@live.com

Islamic Cairo, Old Cairo, Architecture and Interior Designs

Inside Ulu Camii, Bursa, March 2015

Saw a couple of these stickers around the place on my way to work this morning nice to see a bit of non-extremism around the place.

Enamelled and gilded glass beaker, Turkey 1914-1916 AD.

This vessel was commissioned by an Ottoman patrician, it bears the mark of the Lobmeyr glassworks in Austria.

en.wikipedia.org/wiki/Al-Azhar_Mosque

 

Al-Azhar Mosque (Arabic: الجامع الأزهر, romanized: al-Jāmiʿ al-ʾAzhar, lit. 'The Resplendent Congregational Mosque', Egyptian Arabic: جامع الأزهر, romanized: Gāmiʿ el-ʾazhar), known in Egypt simply as al-Azhar, is a mosque in Cairo, Egypt in the historic Islamic core of the city. Commissioned as the new capital of the Fatimid Caliphate in 970, it was the first mosque established in a city that eventually earned the nickname "the City of a Thousand Minarets". Its name is usually thought to derive from az-Zahrāʾ (lit. 'the shining one'), a title given to Fatimah, the daughter of Muhammad.

 

After its dedication in 972, and with the hiring by mosque authorities of 35 scholars in 989, the mosque slowly developed into what it is today.

 

The affiliated Al-Azhar University is the second oldest continuously run one in the world after Al-Qarawiyyin in Idrisid Fes. It has long been regarded as the foremost institution in the Islamic world for the study of Sunni theology and sharia, or Islamic law. In 1961, the university, integrated within the mosque as part of a mosque school since its inception, was nationalized and officially designated an independent university, Al-Azhar Al Sharif, following the Egyptian Revolution of 1952.

 

Over the course of its over a millennium-long history, the mosque has been alternately neglected and highly regarded. Because it was founded as a Shiite Ismaili institution, Saladin and the Sunni Ayyubid dynasty that he founded shunned al-Azhar, removing its status as a congregational mosque and denying stipends to students and teachers at its school. These moves were reversed under the Mamluk Sultanate, under whose rule numerous expansions and renovations took place. Later rulers of Egypt showed differing degrees of deference to the mosque and provided widely varying levels of financial assistance, both to the school and to the upkeep of the mosque. Today, al-Azhar remains a deeply influential institution in Egyptian society that is highly revered in the Sunni Muslim world and a symbol of Islamic Egypt.

 

Name

The city of Cairo was established by the Fatimid general Jawhar al-Siqilli, on behalf of the Fatimid caliph al-Mu'izz, following the Fatimid conquest of Egypt in 969. It was originally named al-Manṣūriyya (المنصورية) after the prior seat of the Fatimid caliphate, al-Mansuriyya in modern Tunisia. The mosque, first used in 972, may have initially been named Jāmiʿ al-Manṣūriyya (جامع المنصورية, "the mosque of Mansuriyya"), as was common practice at the time. It was al-Mu'izz who renamed the city al-Qāhira (القاهرة, "the Victorious"). The name of the mosque thus became Jāmiʿ al-Qāhira (جامع القاهرة, "the mosque of Cairo"), the first transcribed in Arabic sources.

 

The mosque acquired its current name, al-ʾAzhar, sometime between the caliphate of al-Mu'izz and the end of the reign of the second Fatimid caliph in Egypt, al-Aziz Billah (r. 975–996).ʾAzhar is the masculine form for zahrāʾ, meaning "splendid" or "most resplendent". Zahrāʾ is an epithet applied to Muhammad's daughter Fatimah, wife of caliph Ali. She was claimed as the ancestress of al-Mu'izz and the imams of the Fatimid dynasty; one theory is that her epithet is the source for the name al-ʾAzhar. The theory, however, is not confirmed in any Arabic source and its plausibility has been both supported and denied by later Western sources.

 

An alternative theory is that the mosque's name is derived from the names given by the Fatimid caliphs to their palaces. Those near the mosque were collectively named al-Quṣūr al-Zāhira (القصور الزاهرة, "the Brilliant Palaces") by al-Aziz Billah, and the royal gardens were named after another derivative of the word zahra. The palaces had been completed and named prior to the mosque changing its name from Jāmiʿ al-Qāhira to al-ʾAzhar.

 

The word Jāmiʿ is derived from the Arabic root word jamaʿa (g-m-ʿ), meaning "to gather". The word is used for large congregational mosques. While in classical Arabic the name for al-Azhar remains Jāmiʿ al-ʾAzhar, the pronunciation of the word Jāmiʿ changes to Gāmaʿ in Egyptian Arabic.[c]

 

History

A paved courtyard is visible in the foreground, and behind it a wall of angular keel-shaped arched bays supported by columns. Behind the wall, two minarets, a dome, and another minaret are visible from left to right. In the far background in the center the top of another minaret can be seen.

The courtyard of the mosque, dating to the Fatimid period. Above, the minarets date from the Mamluk period. From left to right: the double-finial minaret of Qansuh al-Ghuri, the minaret of Qaytbay, and the minaret of Aqbugha (behind the dome).

Fatimid Caliphate

 

After the conquest of Egypt, Jawhar al-Siqilli oversaw the construction of the royal enclosure for the caliph's court and the Fatimid army, and had al-Azhar built as a base to spread Isma'ili Shi'a Islam. Located near the densely populated Sunni city of Fustat, Cairo became the center of the Isma'ili sect of Shi'a Islam, and seat of the Fatimid empire.

 

Jawhar ordered the construction of a congregational mosque for the new city and work commenced on April 4, 970. The mosque was completed in 972 and the first Friday prayers were held there on June 22, 972 during Ramadan.

 

Al-Azhar soon became a center of learning in the Islamic world, and official pronouncements and court sessions were issued from and convened there. Under Fatimid rule, the previously secretive teachings of the Isma'ili madh'hab (school of law) were made available to the general public. Al-Nu'man ibn Muhammad was appointed qadi (judge) under al-Mu'izz and placed in charge of the teaching of the Isma'ili doctrine. Classes were taught at the palace of the caliph, as well as at al-Azhar, with separate sessions available to women. During Eid al-Fitr in 973, the mosque was rededicated by the caliph as the official congregational mosque in Cairo. Al-Mu'izz, and his son—when he in turn became caliph—would preach at least one Friday khutbah (sermon) during Ramadan at al-Azhar.

 

Yaqub ibn Killis, a polymath, jurist and the first official vizier of the Fatimids, made al-Azhar a key center for instruction in Islamic law in 988. The following year, 45 scholars were hired to give lessons, laying the foundation for what would become the leading university in the Muslim world.

 

The mosque was expanded during the rule of the caliph al-Aziz Billah. According to al-Mufaddal, he ordered the restoration of portions of the mosque and had the ceiling raised by one cubit. The next Fatimid caliph, al-Hakim bi-Amr Allah (r. 996–1021), would continue to renovate the mosque, providing a new wooden door in 1010. However, al-Hakim's reign saw the completion of the al-Hakim Mosque, and al-Azhar lost its status as Cairo's primary congregational mosque. In May 1009 the al-Hakim Mosque became the sole location for the caliph's sermons; prior to this, al-Hakim would rotate where the Friday sermon was held. Following al-Hakim's reign, al-Azhar was restored by Caliph al-Mustansir Billah (r. 1036–1094). Additions and renovations were carried during the reign of the remaining Fatimid caliphs. Caliph al-Hafiz undertook a major refurbishment in 1138, which established the keel-shaped arches and carved stucco decoration seen in the courtyard today, as well as the dome at the central entrance of the prayer hall.

 

Initially lacking a library, al-Azhar was endowed by the Fatimid caliph in 1005 with thousands of manuscripts that formed the basis of its collection. Fatimid efforts to establish Isma'ili practice among the population were, however largely unsuccessful. Much of its manuscript collection was dispersed in the chaos that ensued with the fall of the Fatimid Caliphate, and Al-Azhar became a Sunni institution shortly thereafter.

 

Ayyubid dynasty

Saladin, who overthrew the Fatimids in 1171, was hostile to the Shi’ite principles of learning propounded at al-Azhar during the Fatimid Caliphate, and under his Ayyubid dynasty the mosque suffered from neglect. Congregational prayers were banned by Sadr al-Din ibn Dirbass, appointed qadi by Saladin. The reason for this edict may have been Shāfi‘ī teachings that proscribe congregational prayers in a community to only one mosque, or mistrust of the former Shi'a institution by the new Sunni ruler. By this time, the much larger al-Hakim Mosque was completed; congregational prayers in Cairo were held there.

 

In addition to stripping al-Azhar of its status as congregational mosque, Saladin also ordered the removal from the mihrab of the mosque a silver band on which the names of the Fatimid caliphs had been inscribed. This and similar silver bands removed from other mosques totaled 5,000 dirhems. Saladin did not completely disregard the upkeep of the mosque and according to al-Mufaddal one of the mosque's minarets was raised during Saladin's rule.

 

The teaching center at the mosque also suffered. The once well stocked library at al-Azhar was neglected, and manuscripts of Fatimid teachings that were held at al-Azhar were destroyed. The Ayyubid dynasty promoted the teaching of Sunni theology in subsidized madrasas (schools) built throughout Cairo. Student funding was withdrawn, organized classes were no longer held at the mosque, and the professors that had prospered under the Fatimids were forced to find other means to earn their living.

 

Al-Azhar nevertheless remained the seat of Arabic philology and a place of learning throughout this period. While official classes were discontinued, private lessons were still offered in the mosque. There are reports that a scholar, possibly al-Baghdadi, taught a number of subjects, such as law and medicine, at al-Azhar. Saladin reportedly paid him a salary of 30 dinars, which was increased to 100 dinars by Saladin's heirs. While the mosque was neglected by Saladin and his heirs, the policies of the Sunni Ayyubid dynasty would have a lasting impact on al-Azhar. Educational institutions were established by Sunni rulers as a way of combating what they regarded as the heretical teachings of Shi'a Islam. These colleges, ranging in size, focused on teaching Sunni doctrine, had an established and uniform curriculum that included courses outside of purely religious topics, such as rhetorics, math, and science. No such colleges had been established in Egypt by the time of Saladin's conquest. Saladin and the later rulers of the Ayyubid dynasty would build twenty-six colleges in Egypt, among them the Salihiyya Madrasa.

 

Al-Azhar eventually adopted Saladin's educational reforms modeled on the college system he instituted, and its fortunes improved under the Mamluks, who restored student stipends and salaries for the shuyūkh (teaching staff).

 

Mamluk Sultanate

A man with a full beard and turban reclines on his right side on a carpet, with his elbow and back resting on a pillow, next to an open arched window. His right hand holds a fly-whisk; in front of him on the floor is a sheathed sword.

A Mamluk bey

 

Congregational prayers were reestablished at al-Azhar during the Mamluk Sultanate by Sultan Baibars in 1266. While Shāfi‘ī teachings, which Saladin and the Ayyubids followed, stipulated that only one mosque should be used as a congregational mosque in a community, the Hanafi madh'hab, to which the Mamluks adhered, placed no such restriction. Al-Azhar had by now lost its association with the Fatimids and Ismāʿīli doctrines, and with Cairo's rapid expansion, the need for mosque space allowed Baibars to disregard al-Azhar's history and restore the mosque to its former prominence. Under Baibars and the Mamluk Sultanate, al-Azhar saw the return of stipends for students and teachers, as well as the onset of work to repair the mosque, which had been neglected for nearly 100 years. According to al-Mufaddal, the emir 'Izz al-Din Aydamur al-Hilli built his house next to the mosque and while doing so repaired the mosque. Al-Maqrizi reports that the emir repaired the walls and roof as well as repaving and providing new floor mats. The first khutbah since the reign of the Fatimid caliph al-Hakim took place on 16 January 1266 with the sermon delivered on a new pulpit completed five days earlier.

 

An earthquake in 1302 caused damage to al-Azhar and a number of other mosques throughout Mamluk territory. The responsibility for reconstruction was split among the amirs (princes) of the Sultanate and the head of the army, Sayf al-Din Salar, who was tasked with repairing the damage. These repairs were the first done since the reign of Baibars. Seven years later, a dedicated school, the Madrasa al-Aqbughawiyya, was built along the northwest wall of the mosque. Portions of the wall of the mosque were removed to accommodate the new building. Construction of another school, the Madrasa al-Taybarsiyya began in 1332–1333. This building, which was completed in 1339-1340, would also impact the structure of the mosque as it was built over the site of the mida'a, the fountain for ablution. Both of the madrasas were built as complementary buildings to al-Azhar, with separate entrances and prayer halls.

 

Though the mosque had regained its standing in Cairo, repairs and additional work were carried out by those in positions lower than sultan. This changed under the rule of al-Zahir Barquq, the first sultan of the Burji dynasty. Both Sultan Barquq and then Sultan al-Mu'ayyad tried, in 1397 and 1424 respectively, to replace the minaret of al-Azhar with a new one in stone, but on both occasions the construction was found to be defective and had to be pulled down. The resumption of direct patronage by those in the highest positions of government continued through to the end of Mamluk rule. Improvements and additions were made by the sultans Qaytbay and Qansuh al-Ghuri, each of whom oversaw numerous repairs and erected minarets that still stand today. It was common practice among the Mamluk sultans to build minarets, perceived as symbols of power and the most effective way of cementing one's position in the Cairo cityscape. The sultans wished to have a noticeable association with the prestigious al-Azhar. Al-Ghuri may also have rebuilt the dome in front of the original mihrab.

 

Although the mosque-school was the leading university in the Islamic world and had regained royal patronage, it did not overtake the madrasas as the favored place of education among Cairo's elite. Al-Azhar maintained its reputation as an independent place of learning, whereas the madrasas that had first been constructed during Saladin's rule were fully integrated into the state educational system. Al-Azhar did continue to attract students from other areas in Egypt and the Middle East, far surpassing the numbers attending the madrasas. Al-Azhar's student body was organized in riwaqs (fraternities) along national lines, and the branches of Islamic law were studied. The average degree required six years of study.

 

By the 14th century, al-Azhar had achieved a preeminent place as the center for studies in law, theology, and Arabic, becoming a cynosure for students all around the Islamic world. However, only one third of the ulema (Islamic scholars) of Egypt were reported to have either attended or taught at al-Azhar. One account, by Muhammad ibn Iyas, reports that the Salihiyya Madrasa, and not al-Azhar, was viewed as the "citadel of the ulema" at the end of the Mamluk Sultanate.

 

Province of the Ottoman Empire

Two arched entrance-ways in the portico of a large two-story building face a street. Above the arches the building's wall is carved and ornamented. To the right, the building rises to a third story. Behind the wall two minarets framing the top of a dome are visible.

Bab al-Muzayinīn (Gate of the Barbers), built by Abd al-Rahman Katkhuda during Ottoman rule. The minaret on the left, atop the Madrasa al-Aqbughawiyya, was also remodeled by Katkhuda, before being remodeled again in the 20th century.

With the Ottoman annexation of 1517, despite the mayhem their fight to control the city engendered, the Turks showed great deference to the mosque and its college, though direct royal patronage ceased. Sultan Selim I, the first Ottoman ruler of Egypt, attended al-Azhar for the congregational Friday prayer during his last week in Egypt, but did not donate anything to the upkeep of the mosque. Later Ottoman amirs likewise regularly attended Friday prayers at al-Azhar, but rarely provided subsidies for the maintenance of the mosque, though they did on occasion provide stipends for students and teachers. In contrast to the expansions and additions undertaken during the Mamluk Sultanate, only two Ottoman walīs (governors) restored al-Azhar in the early Ottoman period.

 

Despite their defeat by Selim I and the Ottomans in 1517, the Mamluks remained influential in Egyptian society, becoming beys ("chieftains"), nominally under the control of the Ottoman governors, instead of amirs at the head of an empire. The first governor of Egypt under Selim I was Khai'r Bey, a Mamluk amir who had defected to the Ottomans during the Battle of Marj Dabiq. Though the Mamluks launched multiple revolts to reinstate their Sultanate, including two in 1523, the Ottomans refrained from completely destroying the Mamluk hold over the power structure of Egypt. The Mamluks did suffer losses—both economic and military—in the immediate aftermath of the Ottoman victory, and this was reflected in the lack of financial assistance provided to al-Azhar in the first hundred years of Ottoman rule. By the 18th century the Mamluk elite had regained much of its influence and began to sponsor numerous renovations throughout Cairo and at al-Azhar specifically.

 

Al-Qazdughli, a powerful Mamluk bey, sponsored several additions and renovations in the early 18th century. Under his direction, a riwaq for blind students was added in 1735. He also sponsored the rebuilding of the Turkish and Syrian riwaqs, both of which had originally been built by Qaytbay.

 

This marked the beginning of the largest set of renovations to be undertaken since the expansions conducted under the Mamluk Sultanate. Abd al-Rahman Katkhuda was appointed katkhuda (head of the Janissaries) in 1749 and embarked on several projects throughout Cairo and at al-Azhar. Under his direction, three new gates were built: the Bab al-Muzayinīn (the Gate of the Barbers), so named because students would have their heads shaved outside of the gate, which eventually became the main entrance to the mosque; the Bab al-Sa'ayida (the Gate of the Sa'idis), named for the Sa'idi people of Upper Egypt; and, several years later, the Bab al-Shurba (the Soup Gate), from which food, often rice soup, would be served to the students. A prayer hall was added to the south of the original one, doubling the size of the available prayer space. Katkhuda also refurbished or rebuilt several of the riwaqs that surrounded the mosque. Katkhuda was buried in a mausoleum he himself had built in Al-Azhar; in 1776, he became the first person (and the last) to be interred within the mosque since Nafissa al-Bakriyya, a female mystic who had died around 1588.

 

During the Ottoman period, al-Azhar regained its status as a favored institution of learning in Egypt, overtaking the madrasas that had been originally instituted by Saladin and greatly expanded by the Mamluks. By the end of the 18th century, al-Azhar had become inextricably linked to the ulema of Egypt. The ulema also were able to influence the government in an official capacity, with several sheikhs appointed to advisory councils that reported to the pasha (honorary governor), who in turn was appointed for only one year. This period also saw the introduction of more secular courses taught at al-Azhar, with science and logic joining philosophy in the curriculum. During this period, al-Azhar saw its first non-Maliki rector; Abdullah al-Shubrawi, a follower of the Shafii madhab, was appointed rector. No follower of the Maliki madhab would serve as rector until 1899 when Salim al-Bishri was appointed to the post.

 

Al-Azhar also served as a focal point for protests against the Ottoman occupation of Egypt, both from within the ulema and from among the general public. Student protests at al-Azhar were common, and shops in the vicinity of the mosque would often close out of solidarity with the students. The ulema was also on occasion able to defy the government. In one instance, in 1730–31, Ottoman aghas harassed the residents living near al-Azhar while pursuing three fugitives. The gates at al-Azhar were closed in protest and the Ottoman governor, fearing a larger uprising, ordered the aghas to refrain from going near al-Azhar. Another disturbance occurred in 1791 in which the wāli harassed the people near the al-Hussein Mosque, who then went to al-Azhar to demonstrate. The wāli was subsequently dismissed from his post.

 

French occupation

Napoleon invaded Egypt in July 1798, arriving in Alexandria on July 2 and moving on to Cairo on July 22. In a bid to placate both the Egyptian population and the Ottoman Empire, Napoleon gave a speech in Alexandria in which he proclaimed his respect for Islam and the Sultan:

 

People of Egypt, you will be told that I have come to destroy your religion: do not believe it! Answer that I have come to restore your rights and punish the usurpers, and that, more than the Mamluks, I respect God, his Prophet and the Koran ... Is it not we who have been through the centuries the friends of the Sultan

 

A man in a late 17th-century French military uniform, wearing a bicorne hat decorated with three large plumes or leaves stands on the right of the image, a sheathed sword at his left side. He is presenting a red white and blue scarf to a full-bearded man on the left of the image. The man accepting the scarf stands with his head slightly bowed and palms crossed and flat on his chest, wearing a large square turban and long blue and gold caftan that reaches his feet. To his left is a palm tree, and in the far background pyramids and camels.

Napoleon presenting an Egyptian bey a tricolor scarf (1798–1800)

On July 25 Napoleon set up a diwan made up of nine al-Azhar sheikhs tasked with governing Cairo, the first body of Egyptians to hold official powers since the beginning of the Ottoman occupation. This practice of forming councils among the ulema of a city, first instituted in Alexandria, was put in place throughout French-occupied Egypt. Napoleon also unsuccessfully sought a fatwa from the al-Azhar imams that would deem it permissible under Islamic law to declare allegiance to Napoleon.

 

Napoleon's efforts to win over both the Egyptians and the Ottomans proved unsuccessful; the Ottoman Empire declared war on 9 September 1798, and a revolt against French troops was launched from al-Azhar on 21 October 1798. Egyptians armed with stones, spears, and knives rioted and looted. The following morning the diwan met with Napoleon in an attempt to bring about a peaceful conclusion to the hostilities. Napoleon, initially incensed, agreed to attempt a peaceful resolution and asked the sheikhs of the diwan to organize talks with the rebels. The rebels, believing the move indicated weakness among the French, refused. Napoleon then ordered that the city be fired upon from the Cairo Citadel, aiming directly at al-Azhar. During the revolt two to three hundred French soldiers were killed, with 3,000 Egyptian casualties. Six of the ulema of al-Azhar were killed following summary judgments laid against them, with several more condemned. Any Egyptian caught by French troops was imprisoned or, if caught bearing weapons, beheaded. The French troops intentionally desecrated the mosque, walking in with their shoes on and guns displayed. The troops tied their horses to the mihrab and ransacked the student quarters and libraries, throwing copies of the Quran on the floor. The leaders of the revolt then attempted to negotiate a settlement with Napoleon, but were rebuffed.

 

Napoleon, who had been well respected in Egypt and had earned himself the nickname Sultan el-Kebir (the Great Sultan) among the people of Cairo, lost their admiration and was no longer so addressed. In March 1800, French General Jean Baptiste Kléber was assassinated by Suleiman al-Halabi, a student at al-Azhar. Following the assassination, Napoleon ordered the closing of the mosque; the doors remained bolted until Ottoman and British assistance arrived in August 1801.

 

The conservative tradition of the mosque, with its lack of attention to science, was shaken by Napoleon's invasion. A seminal innovation occurred with the introduction of printing presses to Egypt, finally enabling the curriculum to shift from oral lectures and memorization to instruction by text, though the mosque itself only acquired its own printing press in 1930. Upon the withdrawal of the French, Muhammad Ali Pasha encouraged the establishment of secular learning, and history, math, and modern science were adopted into the curriculum. By 1872, under the direction of Jamāl al-Dīn al-Afghānī, European philosophy was also added to the study program.

 

Muhammad Ali Dynasty and British occupation

A man with a full white beard and long trained mustache faces the viewer. He wears a white turban and back robe. High on his waist is a gold sash decorated with purple and orange stripes. His left hand holds a cord that goes across his chest, and is connected to a sheathed sword in front of him.

Muhammad Ali, founder of the Alawiyya Dynasty which ruled Egypt from 1805 until the Egyptian Revolution in 1952

Following the French withdrawal, Ali, the wāli (governor) and self-declared khedive (viceroy) of Egypt, sought to consolidate his newfound control of the country. To achieve this goal he took a number of steps to limit, and eventually eliminate, the ability of the al-Azhar ulema to influence the government. He imposed taxes on rizqa lands (tax-free property owned by mosques) and madrasas, from which al-Azhar drew a major portion of its income. In June 1809, he ordered that the deeds to all rizqa lands be forfeited to the state in a move that provoked outrage among the ulema. As a result, Umar Makram, the naqib al-ashraf, a prestigious Islamic post, led a revolt in July 1809. The revolt failed and Makram, an influential ally of the ulema, was exiled to Damietta.

 

Ali also sought to limit the influence of the al-Azhar sheikhs by allocating positions within the government to those educated outside of al-Azhar. He sent select students to France to be educated under a Western system and created an educational system based on that model that was parallel to, and thus bypassed, the system of al-Azhar.

 

Under the rule of Isma'il Pasha, the grandson of Muhammad Ali, major public works projects were initiated with the aim of transforming Cairo into a European styled city. These projects, at first funded by a boom in the cotton industry, eventually racked up a massive debt which was held by the British, providing an excuse for the British to occupy Egypt in 1882 after having pushed out Isma'il Pasha in 1879.

 

The reign of Isma'il Pasha also saw the return of royal patronage to al-Azhar. As khedive, Isma'il restored the Bab al-Sa'ayida (first built by Katkhuda) and the Madrasa al-Aqbughawiyya. Tewfik Pasha, Isma'il's son, who became khedive when his father was deposed as a result of British pressure, continued to restore the mosque. Tewfik renovated the prayer hall that was added by Katkhuda, aligned the southeastern facade of the hall with the street behind it, and remodeled the facade of the Madrasa al-Aqbughawiya along with several other areas of the mosque. Abbas Hilmi II succeeded his father Tewfik as khedive of Egypt and Sudan in 1892, and continued the renovations started by his grandfather Isma'il. He restructured the main facade of the mosque and built a new three-story riwaq in neo-Mamluk style along the mosque's southwestern corner (known as the Riwaq al-'Abbasi) which was completed in 1901. Under his rule, the Committee for the Conservation of Monuments of Arab Art (also known as the "Comité"), also restored the original Fatimid sahn. These renovations were both needed and helped modernize al-Azhar and harmonize it with what was becoming a metropolis.

 

The major set of reforms that began under the rule of Isma'il Pasha continued under the British occupation. Muhammad Mahdi al-'Abbasi, sheikh al-Azhar, had instituted a set of reforms in 1872 intended to provide structure to the hiring practices of the university as well as to standardize the examinations taken by students. Further efforts to modernize the educational system were made under Hilmi's rule during the British occupation. The mosque's manuscripts were gathered into a centralized library, sanitation for students improved, and a regular system of exams instituted. From 1885, other colleges in Egypt were placed directly under the administration of the al-Azhar Mosque.

 

During Sa'ad Zaghloul's term as minister of education, before he went on to lead the Egyptian Revolution of 1919, further efforts were made to modify the educational policy of al-Azhar. While a bastion of conservatism in many regards, the mosque was opposed to Islamic fundamentalism, especially as espoused by the Muslim Brotherhood, founded in 1928.[59] The school attracted students from throughout the world, including students from Southeast Asia and particularly Indonesia, providing a counterbalance to the influence of the Wahhabis in Saudi Arabia.

 

Under the reign of King Fuad I, two laws were passed that reorganized the educational structure at al-Azhar. The first of these, in 1930, split the school into three departments: Arabic language, sharia, and theology, with each department located in buildings outside of the mosque throughout Cairo. Additionally, formal examinations were required to earn a degree in one of these three fields of study. Six years later, a second law was passed that moved the main office for the school to a newly constructed building across the street from the mosque. Additional structures were later added to supplement the three departmental buildings.

 

The ideas advocated by several influential reformers in the early 1900s, such as Muhammad Abduh and Muhammad al-Ahmadi al-Zawahiri, began to take hold at al-Azhar in 1928, with the appointment of Mustafa al-Maraghi as rector. A follower of Abduh, the majority of the ulema opposed his appointment. Al-Maraghi and his successors began a series of modernizing reforms of the mosque and its school, expanding programs outside of the traditional subjects. Fuad disliked al-Maraghi, and had him replaced after one year by al-Zawahiri, but al-Maraghi would return to the post of rector in 1935, serving until his death in 1945. Under his leadership, al-Azhar's curriculum was expanded to include non-Arabic languages and modern sciences. Al-Zawahiri, who had also been opposed by the ulema of the early 1900s, continued the efforts to modernize and reform al-Azhar. Following al-Maraghi's second term as rector, another student of Abduh was appointed rector.

 

Post 1952 revolution

Following the Egyptian Revolution of 1952, led by the Free Officers Movement of Mohamed Naguib and Gamal Abdel Nasser, in which the Egyptian monarchy was overthrown, the university began to be separated from the mosque. A number of properties that surrounded the mosque were acquired and demolished to provide space for a modern campus by 1955. The mosque itself would no longer serve as a school, and the college was officially designated a university in 1961. The 1961 law separated the dual roles of the educational institution and the religious institution which made judgments heeded throughout the Muslim world. The law also created secular departments within al-Azhar, such as colleges of medicine, engineering, and economics, furthering the efforts at modernization first seen following the French occupation. The reforms of the curriculum have led to a massive growth in the number of Egyptian students attending al-Azhar run schools, specifically youths attending primary and secondary schools within the al-Azhar system. The number of students reported to attend al-Azhar primary and secondary schools increased from under 90,000 in 1970 to 300,000 in the early 1980s, up to nearly one million in the early 1990s, and exceeding 1.3 million students in 2001.

 

A smiling man with a black mustache faces the viewer's left. His hair is dark and short, white at the temples. He is wearing a western-style two-piece gray suit and white shirt, with an angularly striped tie and visible white pocket handkerchief. Behind him several faces are visible.

Gamal Abdel Nasser, who led the Egyptian Revolution in 1952 with Mohamed Naguib, instituted several reforms of al-Azhar

During his tenure as Prime Minister, and later President, Nasser continued the efforts to limit the power of the ulema of al-Azhar and to use its influence to his advantage. In 1952, the waqfs were nationalized and placed under the authority of the newly created Ministry of Religious Endowments, cutting off the ability of the mosque to control its financial affairs. He abolished the sharia courts, merging religious courts with the state judicial system in 1955, severely limiting the independence of the ulema. The 1961 reform law, which invalidated an earlier law passed in 1936 that had guaranteed the independence of al-Azhar, gave the President of Egypt the authority to appoint the sheikh al-Azhar, a position first created during Ottoman rule and chosen from and by the ulema since its inception. Al-Azhar, which remained a symbol of the Islamic character of both the nation and the state, continued to influence the population while being unable to exert its will over the state. Al-Azhar became increasingly co-opted into the state bureaucracy after the revolution—independence of its curriculum and its function as a mosque ceased. The authority of the ulema were further weakened by the creation of government agencies responsible for providing interpretations of religious laws. While these reforms dramatically curtailed the independence of the ulema, they also had the effect of reestablishing their influence by integrating them further into the state apparatus. The 1961 reform law also provided the ulema with the resources of the state, though the purse strings were outside of their control. While Nasser sought to subjugate the ulema beneath the state, he did not allow more extreme proposals to limit the influence of al-Azhar. One such proposal was made by Taha Hussein in 1955. Hussein sought to dismantle the Azharite primary and secondary educational system and transform the university into a faculty of theology which would be included within the modern, secular, collegiate educational system. The ulema opposed this plan, though Nasser's choice of maintaining al-Azhar's status was due more to personal political considerations, such as the use of al-Azhar to grant legitimacy to the regime, than on the opposition of the ulema.

 

Al-Azhar, now fully integrated as an arm of the government, was then used to justify actions of the government. Although the ulema had in the past issued rulings that socialism is irreconcilable with Islam, following the Revolution's land reforms new rulings were supplied giving Nasser a religious justification for what he termed an "Islamic" socialism. The ulema would also serve as a counterweight to the Muslim Brotherhood, and to Saudi Arabia's Wahhabi influence. An assassination attempt on Nasser was blamed on the Brotherhood, and the organization was outlawed. Nasser, needing support from the ulema as he initiated mass arrests of Brotherhood members, relaxed some of the restrictions placed on al-Azhar. The ulema of al-Azhar in turn consistently supported him in his attempts to dismantle the Brotherhood, and continued to do so in subsequent regimes. Despite the efforts of Nasser and al-Azhar to discredit the Brotherhood, the organization continued to function. Al-Azhar also provided legitimacy for war with Israel in 1967, declaring the conflict against Israel a "holy struggle".

 

Following Nasser's death in 1970, Anwar Sadat became President of Egypt. Sadat wished to restore al-Azhar as a symbol of Egyptian leadership throughout the Arab world, saying that "the Arab world cannot function without Egypt and its Azhar". Recognizing the growing influence of the Muslim Brotherhood, Sadat relaxed several restrictions on the Brotherhood and the ulema as a whole. However, in an abrupt about-face, in September 1971 a crackdown was launched on journalists and organizations that Sadat felt were undermining or attacking his positions. As part of this effort to silence criticism of his policies, Sadat instituted sanctions against any of the ulema who criticized or contradicted official state policies. The ulema of al-Azhar continued to be used as a tool of the government, sparking criticism among several groups, including Islamist and other more moderate groups. Shukri Mustafa, an influential Islamist figure, accused the ulema of providing religious judgments for the sole purpose of government convenience. When Sadat needed support for making peace with Israel, which the vast majority of the Egyptian population regarded as an enemy, al-Azhar provided a decree stating that the time had come to make peace.

 

Hosni Mubarak succeeded Sadat as President of Egypt following Sadat's assassination in 1981. While al-Azhar would continue to oblige the government in granting a religious legitimacy to its dictates, the mosque and its clergy were given more autonomy under Mubarak's regime. Under Jad al-Haq, the sheikh of al-Azhar from 1982 until his death in 1994, al-Azhar asserted its independence from the state, at times criticizing policies of the state for instigating extremist Islamist sects. Al-Haq argued that if the government wished al-Azhar to effectively combat groups such as al-Gama'a al-Islamiyya then al-Azhar must be permitted greater independence from the state and for it to be allowed to make religious declarations without interference. Under Mubarak, a number of powers of the state were ceded to al-Azhar. During the 1990s, modifications to existing censorship laws gave al-Azhar the ability to censor both print and electronic media. Though the law stipulates that al-Azhar may only become involved following a complaint, in practice its role has been much more pervasive; for example, television scripts were routinely sent to al-Azhar for approval prior to airing.

 

Al-Azhar continues to hold a status above other Sunni religious authorities throughout the world, and as Sunnis form a large majority of the total Muslim population al-Azhar exerts considerable influence on the Islamic world as a whole. In addition to being the default authority within Egypt, al-Azhar has been looked to outside of Egypt for religious judgments. Prior to the Gulf War, Saudi Arabia's King Fahd asked for a fatwa authorizing the stationing of foreign troops within the kingdom, and despite Islam's two holiest sites being located within Saudi Arabia, he asked the head sheikh of al-Azhar instead of the Grand Mufti of Saudi Arabia. In 2003, Nicolas Sarkozy, at the time French Minister of the Interior, requested a judgment from al-Azhar allowing Muslim girls to not wear the hijab in French public schools, despite the existence of the French Council of Islam. The sheikh of al-Azhar provided the ruling, saying that while wearing the hijab is an "Islamic duty" the Muslim women of France are obligated to respect and follow French laws. The ruling drew much criticism within Egypt as compromising Islamic principles to convenience the French government, and in turn the Egyptian government.

 

Post 2011 revolution

Al-Azhar was not unaffected by the 2011 Egyptian revolution that saw the removal of Hosni Mubarak as president of Egypt. Student government elections in the months following the revolution resulted in an overwhelming victory for the once banned Muslim Brotherhood. Protests demanding that the military junta ruling Egypt restore the mosque's independence from the state broke out, and the mosque itself commissioned the writing of a draft law that would grant al-Azhar greater independence from the government. Within al-Azhar, debate on its future and rightful role within the state has replaced what had been a mollified single-voice in support of the policies of the Mubarak regime. The various views on al-Azhar's future role in Egypt come from several parties, including leading Islamist organizations such as the Muslim Brotherhood, liberal voices that wish to see al-Azhar stand as a bulwark against ultra-conservative Islamists (known as Salafists), and those that hope to see al-Azhar become wholly independent from the state and in complete control of its finances, leadership, and further that it be placed in charge of the religious ministries of the state.

 

In 2018 a major restoration of the mosque was completed, financed by both King Abdullah and King Salman of Saudi Arabia. Among the goals of the restoration was the reinforcement of the building's foundations, the restoration of its architectural elements, and upgrades to its infrastructure. The Bab al-Muzayinīn (Gate of the Barbers), formerly one of the main public entrances to the mosque, has been made less accessible as a result of the restoration project.

 

In 2020, representatives from the mosque spoke out against sexual violence in Egypt, prompted by the social media campaign instigated by student Nadeen Ashraf.

 

Architecture

Foundation and structural evolution under Fatimids

A large room filled with rows of cylindrical columns on top of square bases. The columns support arches which are pierced by square beams going the length of the room in both directions. Hanging from the beams are lamps, and the room's floor is covered with a red carpet with a repeated beige arched doorway shaped design on it. Exterior light enters from right of the room.

Hypostyle prayer hall with columns used from various periods in Egyptian history

The original structure of the mosque was 280 feet (85 m) in length and 227 feet (69 m) wide, and was made up of three arcades situated around a courtyard. To the southeast of the courtyard was the original prayer hall, built as a hypostyle hall, five aisles deep, though with its qibla wall slightly off the correct angle. The marble columns supporting the four arcades that made up the prayer hall were reused from sites extant at different times in Egyptian history, from Pharaonic times through Roman rule to Coptic dominance. The different heights of the columns were made level by using bases of varying thickness.[100] The stucco exterior shows influences from Abbasid, Coptic and Byzantine architecture.

 

Ultimately a total of three domes were built, a common trait among early north African mosques, although none of them have survived Al-Azhar's many renovations. The historian al-Maqrizi recorded that in the original dome al-Siqilli inscribed the following:

In the name of Allah, the Merciful, the Compassionate; according to the command for its building from the servant of Allah, His governor abu Tamim Ma'ad, the Imam al-Mu‘izz li-Dīn Allāh, Amir al-Mu'minin, for whom and his illustrious forefathers and his sons may there be the blessings of Allah: By the hand of his servant Jawhar, the Secretary, the Ṣiqillī in the year 360.

 

Gawhar included the honorific Amir al-Mu'minin, Commander of the Faithful, as the Caliphs title and also included his nickname "the Secretary" which he had earned serving as a secretary prior to becoming a general.

 

K. A. C. Creswell wrote that the original structure certainly had one dome, and likely a second for symmetry. The original mihrab, uncovered in 1933, has a semi-dome above it with a marble column on either side. Intricate stucco decorations were a prominent feature of the mosque, with the mihrab and the walls ornately decorated. The mihrab had two sets of verses from the Quran inscribed in the conch, which is still intact. The first set of verses are the three that open al-Mu’minoon:

 

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ – الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ – وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ

Successful indeed are the believers – who are humble in their prayers – and who avoid vain talk

 

The next inscription is made up of verses 162 and 163 of al-An'am:

 

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ – لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ

Say: Surely my prayer and my sacrifice and my life and my death are (all) for Allah, the Lord of the worlds – No associate has He; and this am I commanded, and I am the first of those who submit.

 

These inscriptions are the only surviving piece of decoration that has been definitively traced to the Fatimids.

 

Five keel shaped arches (and part of a sixth) are visible. The arches are supported by cylindrical columns. Above each arch is a large circular inscribed stucco decoration, and above each column is a large inscribed stucco decoration that mirrors the shape of arch and columns. Behind the row of columns is a walkway, and then a wall with entrances the shape and size of the arches and columns.

 

The marble paved central courtyard was added between 1009 and 1010. The arcades that surround the courtyard have keel shaped arches with stucco inscriptions. The arches were built during the reign of al-Hafiz li-Din Allah. The stucco ornaments also date to his rule and were redone in 1891. Two types of ornaments are used. The first appears above the center of the arch and consists of a sunken roundel and twenty-four lobes. A circular band of vegetal motifs was added in 1893. The second ornament used, which alternates with the first appearing in between each arch, consists of shallow niches below a fluted hood. The hood rests on engaged columns which are surrounded by band of Qu'ranic writing in Kufic script. The Qu'ranic script was added after the rule of al-Hafiz but during the Fatimid period. The walls are topped by a star shaped band with tiered triangular crenellations. The southeastern arcade of the courtyard contains the main entrance to the prayer hall. A Persian framing gate, in which the central arch of the arcade is further in with a higher rectangular pattern above it, opens into the prayer hall.

 

A new wooden door was installed during the reign of al-Hakim in 1009. In 1125, al-Amir installed a new wooden mihrab. An additional dome was constructed during the reign of al-Hafiz li-Din Allah. He additionally ordered the creation of a fourth arcade around the courtyard and had a porch built on the western end of the sahn.

 

Mamluk additions

An ornate carved stone minaret, with a carved stone railing around balconies at its center and near its top. The tip of the minaret is a large bulb-shaped stone decoration with a small bulb-shaped metal finial. Behind the minaret part of the top of a dome is visible.

 

The Fatimid dynasty was succeeded by the rule of Saladin and his Ayyubid dynasty. Initially appointed vizier by the last Fatimid Caliph Al-'Āḍid (who incorrectly thought he could be easily manipulated), Saladin consolidated power in Egypt, allying that country with the Sunni Abbasid Caliphate in Baghdad. Distrusting al-Azhar for its Shi'a history, the mosque lost prestige during his rule. However, the succeeding Mamluk dynasty made restorations and additions to the mosque, overseeing a rapid expansion of its educational programs. Among the restorations was a modification of the mihrab, with the installation of a polychrome marble facing.

 

Madrasa al-Taybarsiyya

The Madrasa al-Taybarsiyya, which contains the tomb of Amir Taybars, was built in 1309. Originally intended to function as a complementary mosque to al-Azhar it has since been integrated with the rest of the mosque. The Maliki and Shāfi‘ī madh'hab were studied in this madrasa, though it now is used to hold manuscripts from the library. The only surviving piece from the original is the qibla wall and its polychrome mihrab. Al-Maqrizi reported that the madrasa was used only for studying the Shāfi‘ī while the historian Ibn Duqmaq reported that one of the liwans in the madrasa was reserved for Shāfi‘ī teachings while the other was for Maliki teachings.

 

The madrasa was completely rebuilt by Abd al-Rahman Katkhuda, leaving only the southeastern wall and its mihrab untouched. The mihrab was described by K. A. C. Creswell as being "one of the finest in Cairo". The niche of the mihrab is 1.13 meters (3.7 ft) wide and 76 centimeters (30 in) deep. On each side of the niche stands a 2.78 meters (9.1 ft) high porphyry column. Above the columns are impost blocks decorated with colored geometrical designs. The semi-dome at the top of the mihrab is set within an outer arch. Surrounding this arch is a molding that forms a rectangular outer frame. This is the first mihrab in Egypt to have this type of frame. Inside the frame are glass mosaics depicting pomegranate trees.

 

Madrasa and mausoleum of Aqbugha

A dome and minaret cover the Madrasa al-Aqbughawiyya, which contains the tomb of Amir Aqbugha, which was built in 1339. Intended by its founder, another Mamluk amir called Sayf al-Din Aqbugha 'Abd al-Wahid, to be a stand-alone mosque and school, the madrasa has since become integrated with the rest of the mosque. It includes both a small tomb chamber and a larger hall, both with mihrabs. The entrance, qibla wall, and the mihrabs with glass mosaics are all original, while the pointed dome was rebuilt in the Ottoman period. Parts of the facade were remodeled by Khedive Tewfik in 1888. The top of the minaret was remodelled by Abd al-Rahman Katkhuda so as to have a pointed top like the other Ottoman-style minarets he built around the entrances of the mosque, but at some point after 1932 the top was once again refashioned to end with a Mamluk-style finial which we see today.

 

Madrasa Gawhariyya

Built in 1440, the Madrasa Gawhariyya contains the tomb of Gawhar al-Qanaqba'i, a Sudanese eunuch who became treasurer to the sultan. The floor of the madrasa is marble, the walls lined with cupboards, decoratively inlaid with ebony, ivory, and nacre. The tomb chamber is covered by small stone dome whose exterior is carved with an arabesque pattern, making it one for the earliest domes in Cairo with this type of decoration (later refined in the dome of Qaytay's mausoleum in the Northern Cemetery). The structure was restored between 1980 and 1982.

 

Minaret of Qaytbay

An ornate carved stone minaret, with a carved stone railing around three balconies, the first below its center, the second two thirds the way up, and the third near its top. The tip of the minaret is a large bulb-shaped stone decoration with a small bulb-shaped metal finial. Behind the minaret most of a dome is visible.

 

Built in 1483 or in 1495, it has a square base, a transitional segment leading into an octagonal shaft, then a 10-sided polygon shaft, followed by a cylindrical shaft that consists of 8 brick pillars, each two adjoined by bricks in between. The Minaret of Qaytbay also has three balconies, supported by muqarnas, a form of stalactite vaulting which provide a smooth transition from a flat surface to a curved one (first recorded to have been used in Egypt in 1085), that adorn the minaret. The first shaft is octagonal is decorated with keel-arched panels on each side, with a cluster of three columns separating each panel. Above this shaft is the second octagonal shaft which is separated from the first by a balcony and decorated with plaiting. A second balcony separates this shaft with the final cylindrical shaft, decorated with four arches. Above this is the third balcony, crowned by the finial top of the minaret.

 

The minaret is believed to have been built in the area of an earlier, Fatimid-era brick minaret that had itself been rebuilt several times. Contemporary accounts suggest that the Fatimid minaret had defects in its construction and needed to be rebuilt several times, including once under the direction of Sadr al-Din al-Adhra'i al-Dimashqi al-Hanafi, the qadi al-qudat (Chief Justice of the Highest Court) during the rule of Sultan Baibars. Recorded to have been rebuilt again under Barquq in 1397, the minaret began to lean at a dangerous angle and was rebuilt in 1414 by Taj al-Din al-Shawbaki, the walī and muhtasib of Cairo, and again in 1432. The Qaytbay minaret was built in its place as part of a reconstruction of the entrance to the mosque.

 

Gate of Qaytbay

Directly across the courtyard from the entrance from the Bab al-Muzayinīn is the Gate of Qaytbay. It is a refined example of the late Mamuk architectural and decorative style. Built in 1495, this gate leads to the court of the prayer hall.

 

Minaret of al-Ghuri

An ornate carved stone octagonal minaret, with a carved stone railing around balconies at its center and near its top. Above the second balcony the minaret splits into two rectangular shafts, each tipped by railing and a bulb-shaped finial.

 

The double finial minaret was built in 1509 by Qansuh al-Ghuri. Sitting on a square base, the first shaft is octagonal, and four sides have a decorative keel arch, separated from the adjacent sides with two columns. The second shaft, a 12-sided polygon separated from the first by fretted balconies supported by muqarnas, is decorated with blue faience. A balcony separates the third level from the second shaft. The third level is made up of two rectangular shafts with horseshoe arches on each side of both shafts. Atop each of these two shafts rests a finial atop two identical onion shaped bulbs, with a balcony separating the finials from the shafts.

 

Ottoman renovations and additions

Several additions and restorations were made during Ottoman reign in Egypt, many of which were completed under the direction of Abd al-Rahman Katkhuda who nearly doubled the size of the mosque. Three gates were added by Katkhuda, the Bab al-Muzayinīn (see below), which became the main entrance to the mosque, the Bab al-Shurba (the Soup Gate), and the Bab al-Sa'ayida (the Gate of the Sa'idis). To each gate he added a pointed Ottoman-style minaret, of which one was later demolished during the creation of al-Azhar Street. For the Bab al-Muzayinīn, which was adjacent to the Madrasa al-Aqbughiyya, he remodelled the top of Aqbugha's minaret to make it resemble the other Ottoman minarets (though the top was later rebuilt again in a Mamluk style during the 20th century). Several riwaqs were added, including one for the blind students of al-Azhar, as well as refurbished during the Ottoman period. Katkhuda also added an additional prayer hall south of the original Fatimid hall, with an additional mihrab, doubling the total prayer area. His overall work reintegrated the mosque's disparate elements in a relatively unified whole.

 

Bab al-Muzayinīn

Two large arches recessed into a wall are visible, with entrance-ways at their bottom. Above the arches the wall is ornately decorated with carvings and geometric designs. Parts of the decorations are colored red, blue and gold. The arches and decorations are surmounted and flanked by large, closely set rectangular blocks.

 

The Bab al-Muzayinīn ("Gate of the Barbers", Arabic: باب المزينين) was built in 1753. Credited to Katkhuda the gate has two doors, each surrounded by recessed arches. Two molded semi-circular arches with tympanums decorated with trefoils stand above the doors. Above the arches is a frieze with panels of cypress trees, a common trait of Ottoman work.

 

A free-standing minaret, built by Katkhuda, originally stood outside the gate. The minaret was demolished prior to the opening of al-Azhar street by Tewfik Pasha during modernization efforts which took place throughout Cairo.

 

Current layout and structure

A niche made of multiple types of decorative stone is embedded in a wall, facing a red carpeted area. The niche is flanked by stone columns, and surmounted by a stone arch. The wall at the back of the niche is a semi-circular curve, with a geometric design covering most of it. The wall beside the niche also has patterned stone on it. To the right is a dark wooden structure, a narrow staircase with a lattice door at the foot of it, and lattice railings leading to a seat topped by a square wooden canopy.

The present main entrance to the mosque is the Bab al-Muzayinīn, which opens into the white marble-paved courtyard at the opposite end of the main prayer hall. To the northeast of the Bab al-Muzayinīn, the courtyard is flanked by the façade of the Madrasa al-Aqbughawiyya; the southwestern end of the courtyard leads to the Madrasa al-Taybarsiyya. Directly across the courtyard from the entrance to the Bab al-Muzayinīn is the Bab al-Gindi (Gate of Qaytbay), built in 1495, above which stands the minaret of Qaytbay. Through this gate lies the courtyard of the prayer hall.

 

The mihrab has recently been changed to a plain marble facing with gold patterns, replacing some of the Mamluk marble facing, but the stucco carvings in the semi-dome are likely from the Fatimid era.

Islamic Wallpapers, Visite www.muslimblog.co.in for more

Cairo, Egypt. It was hot but...

Few pictures from my recent trip to Iran, Pakistan, Afghanistan and Turkey. You can find more (with captions!) at www.expedice.org/luke/silkroad

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ08 اپریل 2016بیت الفتوح یوکے( طالب دعا : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :ایک دفعہ حضرت مصلح موعود ؓ نے فرمایا کہ ہمیں جائزے لیتے رہنا چاہیے کہ ہمارے کام فیصلے حدیث اور قرآن کے مطابق ہیں یا نہیں ،اور اگر کسی کا کوئی حل قران و حدیث میں نہ ملے تو پھر اس کے لئے پرانے علماء جو گزرے ہیں ان کے فیصلوں کو اختیار کرنا چاہیے ۔اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ ہمارا طریق یہ ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم سے فیصلہ کیا جائے اگر وہاں نہ کچھ ملے تو پھر حدیث میں تلاش کیا جائے جب وہاں بھی نہ ملے تو پھر جو امت میں فیصلے ہوئے اس کے مطابق فیصلے کئے جائیں ۔یہ بھی واضح ہو کہ سنت حدیث سے اوپر ہے ۔سنت کیا ہے ؟ جو رسول کریم ﷺ نے کر کے دکھایا اور پھر صحابہ نے سیکھا پھر تبع صحابہ نے پھر آگے اسی طرح سلسلہ چلا ۔ہمیں اپنی زندگی میں نظر رکھنی چاہیے کہ ہم وہی کام کریں جس کی اللہ اور اس کا رسول اجازت دیتے ہیں ۔بعض اللہ اور اس کے رسول کے حکموں کو سرسری لیتے ہیں اور توجہ نہیں کرتے ۔اور بعض غلو کر تے ہیں ۔یہ دونوں اللہ اور اس کے رسول کے حکموں سے باہر نکلتے ہیں ۔ایک عورت کی مثال دی جو نیکی کے نام پر ناجائز طور پر ایک کام کرنا چاہتی تھی ۔اس کی اجازت نہ تھی ۔یہ ان لوگوں کے لئے بھی سبق ہے جو اپنی خوابوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں ۔جب کہ ان کا مقام وہ نہیں ۔فرمایا : آج ایک عورت آئی اور اس کے دماغ میں کچھ نقص ہے کہتی ہے کہ خواب دیکھا ہے کہ حضور ؑ تشریف لائے ہیں اور فرمایا اگر تم چھ مہینے روزے رکھو تو خلیفة المسیح کو صحت ہو جائے گی ۔مگر جن علماء سے پوچھا وہ کہتے ہیں چھ ماہ کے متواتر روزے رکھنا ناجائز ہے ۔مرزا صاحب نے کہا جمعرات اور پیر کے رکھ لیا کرو ۔پھر خواب دیکھی کہ متواتر روزے رکھ تو کیوں نہیں رکھتی یہ خواب میں کہا ۔حضرت مصلح موعود ؓ نے کہا تیری خواب حضرت مسیح موعود ؑ سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی ۔جب حضور ؑ نے فرمایا میری کوئی وحی قرآن اور سنت کے خلاف ہو تو وہ بھی رد کر دوں ۔جب منع ہے چھ ماہ کے متواتر روزے رکھنا تو اس قسم کی خواب آئی ہے تو وہ شیطانی خواب ہوگی ۔پس جو خواب ایسی ہو جو قرآن کریم اور سنت اور فتوی رسول کے خلاف ہو وہ بہرحال رد کرنے والی ہوگی ۔قرآن کے خلاف اور سنت اور صحیح حدیث کے خلاف خواب سچی ہو سکتی ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : اپنے آپ کو ایسی تکلیف میں ڈالنا جس کی طاقت نہ ہو وہ غلط ہے اور غیر صالح عمل ہے ۔ہاں جو معمورین ہوتے ہیں وہ اہم لوگ ہوتے ہیں وہ عام لوگوں سے ہٹ کر ہوتے ہیں ۔ آپ ؑ نے فرمایا ؛ ایک مرتبہ یہ ہوا کہ ایک بزرگ مجھ کو خواب میں دکھائی دیا کہ کسی قدر روزے رکھنا سنت نبوت خاندان کے لئے ہے ۔اس سنت کو پورا کرنے کی طرف توجہ دلائی ۔سو میں نے ان روزوں کو واجب سمجھا۔پھر کثرت سے الہامات ہوئے ۔کشوف ہوئے ۔عجائبات ظاہر ہوئے ۔لیکن میں ہر ایک کو یہ ْصلاح نہیں دیتا کہ وہ ایسا کرے اور نہ میں نے ایسا اپنی مرضی سے کیا میں کشف صحیح سے خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر کیا ہے ۔حضرت مسیح موعود ؑ پر ایک الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ نے ایک جماعت بنا کر فساد پیدا کردیا ۔ضرورت اس بات کی تھی کے تفرقہ کم کئے جاتے مگر مزید ڈال دیا ۔یہ الزامات انبیاء پر لگتے رہے ہیں نبی کریم ﷺ پر بھی یہی الزام لگے ہیں ۔حالانکہ فساد پہلے سے ہوتا ہے ۔آج بھی فساد پہلے سے تھا اور اب بھی ہے ۔نبی تو اللہ تعالیٰ اس لئے بھیجتا ہے کہ فساد کی حالت کو دور کرے اور ایک ہاتھ پر جمع ہو کر امت وحدت بنے اور جو ایمان لاتے ہیں وہ ایک وحدت بن جاتے ہیں ۔مخالفین ہمارے خلاف بیشک جمع ہوں مگر آپس میں بھٹے ہوئے ہیں ۔جب تک یہ ہم کو نہیں مانیں گے ۔ان فسادات کا نقشہ کھینچتے ہوئے ذکر کیا کہ ایک اہل حدیث نماز پڑھ رہا تھا کہ التحیات نے انگلی اٹھا لی اور تمام نمازی نماز توڑ کر اس پر ٹوٹ پڑے حرامی حرامی کہنا شروع کر دیا ۔یہ فساد پہلے سے تھے مسیح موعود ؑ نے تو آکر اصلاح کی تھی ۔دو طرح کے لوگ زخم لگاتے ہیں ایک جو مار کر زخم لگاتا دوسرا ڈاکٹر علاج کے لئے زخم لگاتا ہے ۔پس ڈاکٹر کی تکلیف علاج کی غرض سے ہوتی ہے ۔فرستادہ جماعت کا علیحدہ کیا جانا ضروری تھا ۔جس طرح مریض کے ساتھ تعلق رکھنے سے جان کو خطرہ ہے اسی طرح غیر احمدیوں کے ساتھ تعلقات رکھنے سے ہوگی ۔ فرمایا: غیروں میں رشتے نہیں کرتے یہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش ہے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی کوشش ہے ۔یہ خیال اسے ہی آ سکتا ہے جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی روح کو سمجھے ۔وہ احمدی لڑکے جو احمدی لڑکیوں کو چھوڑ کر غیروں سے شادی کرتے ہیں ۔تو پھر ان کو سمجھنا چاہیے ۔اپنی دنیاوی خواہشات پر اپنی نسل اور دین کو ترجیح دیں ۔ہر احمدی کو سمجھنا چاہیے کہ احمدی صرف معاشرتی دباؤ کی وجہ سے احمدی نہ ہو بلکہ دین کو سمجھ کر احمدی بننے کی کوشش کرے ۔اگر احمدی لڑکے باہر شادی کرتے رہیں گے تو پھر احمدی لڑکیاں کہاں بیاہی جائیں گی ۔اگر اب بھی توجہ نہ دی گئی تو پھر نسل میں احمدیت نہ رہے گی ۔لڑکیاں کے بھی شادیاں کے مسائل ہیں ۔اس بارہ میں حضرت مصلح موعود ؓ نے فرمایا ایک اہم مسئلہ جو آج بیان کرنا چاہتا ہوں وہ احمدی اور غیر احمدی میں نکاح کا سوال ہے ۔ہماری جماعت کے لوگوں کو جو شادی کے متعلق مشکلات پیش آتی ہیں وہ مجھے علم تھا اب نو ماہ میں بہت مسئلہ پیش آئے ۔آج بھی یہ حال ہے مشکلات ہیں ۔لیکن ان مشکلات کو ہم نے حل بھی کرنا ہے ۔اگر مسیح موعود ؑ نے اس کے تجویز کی تھی کہ احمدی لڑکی اور لڑکے کے نام کسی رجسرڈ پر لکھے جائیں ۔تا کہ رشتوں میں آسانی ہو ۔اس وقت ایک آدمی کو شادی کی ضرورت پیش آئی جس نے رجسرڈ بنانے کا کہا تھا اس کی لڑکی تھی ۔اس کے گھر ہی رشتہ بنا دیا اس نے نہایت نا معقول عذر کر کے رشتہ سے انکار کر دیا ۔اور لڑکی غیر میں بیا دی ۔جب یہ بات آپ ؑ کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا آج سے میں شادی کے معاملہ میں کوئی صلاح نہ رکھونگا۔غیروں میں جانے کے بعد کچھ عرصہ کے بعد ہی احساس پیدا ہو جاتا ہے ۔اب بھی کئی لوگ اور لڑکیاں خود لکھتی ہیں کہ یہ فیصلہ کیا تھا جس کا ہم خمیازہ بھگت رہی ہیں ۔دین سے بھی دوری ہو گئی ہے اور ماں باپ سے بھی ملنا جلنا منع کر دیا ہے ۔وہ لوگ بھی ہیں جو اپنی انا میں آ کر اچھے بھلے احمدی رشتے کو ٹھکڑا دیتے ہیں ۔جب کے لڑکی اور لڑکا راضی ہوتے ہیں ۔جب ایسے لوگ موجود ہیں اور تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود ؑ کا انکار کیا انہوں نے میری بات کا انکار کر دیا تو ایسی کوئی بڑی بات نہ تھی ۔جرمنی میں ایک واقعہ ہوا تھا ۔بیٹی کی شادی نہ کی اور بیٹی کو قتل کر دیا تو پھر اب جیل میں پڑھے ہوئے ہیں ۔ فرمایا : لڑکی کی پسند بھی رشتہ میں شامل ہونی چاہیے ۔اسلام اس بات کی پابندی بھی کرواتا ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح جائز نہیں ہے ۔ایک دفعہ ایک لڑکی نے ایک شخص سے شادی کی خواہش کی ۔وہ دنوں باہر چلے گئے اور نکاح کروا لیا اور قادیان آگئے جب معلوم ہوا تو آپ ؑ نے دونوں کو قادیان سے نکال دیا ۔ایک عورت آئی لڑکی راضی تھی نکاح کر لیا تو کیا حرج ہے ۔لیکن تمہاری بھی لڑکیاں ہیں تو کل کو کیا تم پسند کرتی ہو کوئی لڑکی اس طرح نکل کر غیر کے ساتھ چلی جائے ۔نہ ہی ماں باپ کو سختی بلا وجہ کرنی چاہیے ۔اور نہ ہی لڑکیوں کو اسلام اجازت دیتا ہے کہ خود ہی عدالتوں میں شادی کر لے یا نکاح کروا لے ۔ فرمایا : ایک خطبہ میں حضرت مصلح موعود ؓ یہ مضمون بیان فرما رہے تھے کہ ذکر الہی کے لئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی صفات کے ذریعہ اس سے ذاتی تعلق بڑھایا جائے ۔مثلا اسلام نے کہا ہے کہ جب تم شادی کرو تو شکل دیکھ لو ۔اور جہاں شکل دیکھنی مشکل ہو تو تصویر دیکھی جا سکتی ہے ۔حضور ؓ نے فرمایا جب میری شادی ہوئی تو عمر چھوٹی تھی تو ڈاکٹر رشید الدین صاحب کو حضور ؑ نے لکھا لڑکی کی تصویر بھیج دیں تب میری شادی کی ۔اب خدا تمہارے سامنے آئے اور تم آنکھوں پر ہاتھ رکھ لو اور کہو خدا کی محبت ہو جائے تو وہ محبت کیسے ہو ۔دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی ۔حسن و جمال یار کے آثار ہی سہی ۔کبھی آواز ہی آئے ۔یہ تصویر ہے خدا تعالیٰ کی ۔خدا تعالیٰ کی صفات کو ذہن میں لا کر پھر اپنےاعضاء کی تصویر بنا لیا کریں ۔پس اللہ تعالیٰ سے محبت کے لئے ان صفات کا تصور اور مستقل طور پر ان کو سامنے رکھنا چاہیے ۔ فرمایا: ایک حقیقی مومن کو دین کے لئے جوش دکھانا چاہیے ۔حضور ؑ کی زبان سے سنا ہے کہ بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ وہ اپنی طبیعت کی وجہ سے کوئی صحیح راہ اختیار نہیں کر سکتی ۔آپ فرمایا کرتے تھے ایک دوست کو کسی نے کہا میری لڑکی کے لئے رشتہ تلاش کرو ۔پوچھا لڑکا کی کیا تعریف ہے ۔کہا شریف ہے اور کوئی حالات پوچھے اور کیا حالات بے انتہاء بھلا مانس ہے ۔لڑکی والے نے کہا میں اس سے رشتہ نہیں کر سکتا ۔بعض لوگ صرف شریف ہوتے ہیں ۔غیرت اور دین کا جوش نہیں پایا جاتا ۔دین کی نہ غیرت ہے نہ جوش پایا جاتا ہے ۔ایسے لوگ جو نظام جماعت پر اعتراض کرنے والے ہوتے ہیں اور بھلے مانس بھی وہاں ہوتے ہیں ۔تو ان کی شرافت بے غیرتی بن جاتی ہے ۔ اب ایک واقعہ غیر از جماعت مولوی کا بیان کرتا ہوں ۔کس طرح جھوٹ بولتے تھے اور اب بھی ہیں ۔حضرت مسیح موعود ؑ کو بھی ساحر کہتے تھے لوگ ۔مجھے یاد ہے کہ ایک دوست نے کہا فیروز پور کے علاقہ میں مولوی کہہ رہا تھا کہ احمدیوں کی کتابیں نہیں پڑھنی چاہیے اور قادیان میں ہرگز نہیں جانا چاہیے اور واقعہ بھی سنا دیا ۔کہنے لگا ایک دفعہ قادیان گیا اور رئیس بھی تھا ہم مہمان خانہ میں ٹھہر گئے اور کہا مرزا صاحب سے ملنا ہے پھر مولوی نور الدین صاحب آ گئے ۔بڑی میٹھی میٹھی باتیں کرنے لگے پھر حلوہ آگیا ۔میں جانتا تھا کہ اس حلوہ پر جادو کیا گیا ہے وہ ساتھی نے حلوہ کھا لیا اور میں نے بہانہ بنا کر وہاں سے کسک گیا ۔پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ ساتھی نے حلوہ کے ذیر اثر آ کر بیعت کا کہا ۔میں نے نہ کھایا تھا اثر نہ ہوا ۔تھوڑی دیر مرزا صاحب باتیں کرنے لگے اور میں ہاں ہاں کرنے لگا ۔مولوی صاحب نے کہا انہوں نے کہا میں نبی ہوں ،پھر محمد ﷺ ہوں ۔پھر کہا میں خدا ہوں ،میں نے یہ سن کر کہا استغفر اللہ یہ سب جھوٹ ہے ۔اس پر مرزا صاحب نے پوچھا کیا اس کو حلوہ نہیں کھلایا ۔یہاں بھی ایسا ہی ہوا ۔ایک غیر احمدی وکیل بھی بیٹھے ہوئے تھے جو کسی زمانہ میں خلیفہ اول کے پاس علاج کے لئے آئے ہوئے تھے ۔کہا میں بہت بد ظن تھا لیکن آج سمجھا ان سے زیادہ چھوٹا نہیں ہو سکتا۔میں احمدی نہیں ہوں اور علاج کے لئے رہا ہوں مولوی نے سب باتیں غلط کی ہیں ۔اب بھی ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ جادو ہے ۔وجہ وہ تکالیف کے باوجود احمدیت کو نہیں چھوڑتے ۔ان پر جادو ہے اس وجہ سے ایمان پر قائم رہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان جھوٹے مولویوں سے امت کو بچائے اور حق پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین دو جنازے پڑھاؤنگا ایک حاضر ہے ۔3 اپریل کو 90 سال کی عمر میں مرحومہ وفات پا گئی ۔نظام جماعت سے بہت عقیدت کا تعلق رکھتی تھیں ۔بہت نیک اور تہجد گزار تھیں موصویہ تھیں ۔3 بیٹے اور 3 بیٹیاں یاد گار چھوڑی ہیں ۔دوسرا شوکت علی کے شہید کا جنازہ ہے ۔یہ پاک فوج کے تحت آپریش ضرب عضب میں حصہ لے رہے تھے 21 سال کی عمر میں وفات پا گئے اور شہادت کا رتبہ پایا ۔شہید مرحوم کے والد 2013 میں ربوہ شفٹ ہوئے تھے اور یہی رہ رہے تھے ۔فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین عمل میں آئی ۔بہت نیک اچھے انسان تھے ۔نمازوں کے پابند تھے ۔خلافت سے محبت کرنے والے تھے ۔شہادت سے دو روز قبل چندہ جات ادا کر دئے ۔ملازمت کے دوران ایک جگہ کلام بہت خوش الحانی سے سنایا ۔تو پوچھا یہ کلام کس کا ہے ہم نے کبھی نہیں سنا ۔ہمدرد انسان تھے ۔ان کے والد نے بھی خواب میں دیکھا کہ اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ ہیں ۔زعیم بھی رہے ۔والدہ اور والد اور دو بھائی اور دو بہنیں ہیں ۔اللہ تعالیٰ شہید مرحوم کے درجات بلند کرتا رہے اور لواحقین کو بھی صبر و حوصلہ عطا فرمائے ۔ آمین bit.ly/1NduqoW

The Islamic Community Center is on Kingshighway Boulevard and Landsdowne Avenue in St. Louis, Missouri. It seems to primarily serve the ethnic Bosnian community.

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 29 جنوری 2016 بیت الفتوح یوکے( طالب دعا : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ اور آیت کریمہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مخفی ہے مگر وہ اپنی قدرتوں سے پہچانا جاتا ہے دعا کے ذریعہ اس کی ہستی کا پتا چلتا ہے ۔جب بادشاہ یا شہنشاہ پر ایسے حوادث آتے ہیں کہ وہ بھی عاجز ہو جاتا ہے اور نہیں جانتا کہ کیا کرنا چاہیے ۔اس وقت دعا کے ذریعہ سے مشکلات حل ہو سکتے ہیں۔آپ ؑ نے بے شمار جگہ اس کی اہمیت بیان فرمائی ۔ اور پھر آپ ؑ کے صحابہ نے اس کا ادراک بہت پختہ تھا اور دعا پر ایسا یقین تھا اور ایمان تھا کہ غیروں پر بھی ان کا رعب تھا اور غیر مذہب والے بھی جو احمدیوں سے تعلق رکھتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ان کی دعائیں بڑی قبول ہوتی ہیں: حضرت مصلح موعود نور اللہ نے فرمایا : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک واقعہ سنایا گیا جو منشی اڑوھے خان صاحب کا تھا ۔وہ بہت کثرت سے آتے تھے ۔حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں جب ہم چھوٹے تھے ان کا آنا ایسا ہی تھا جیسے کوئی مدت بعد کوئی اپنے عزیز سے ملے ۔باوجود اس کے جلدی جلدی آتے تھے مگر محبت و خلوص سے ملتے تھے کہ جیسے سالوں بعد ملتے ہیں ۔منشی صاحب ایسے آدمی ہیں کہ جو مجسٹریٹ کو ڈرا دیتے ہیں ایک دفعہ اس سے چھٹی قادیان جانے کے لئے مانگی اس نے انکار کر دیا ۔تب آپ ؓ نے کہا قادیان ضرور جانا مجھے چھٹی دے دیں جج نے کہا کام بہت ہے ۔منشی صاحب نے کہا کام کروا لیں میں آج سے بد دعا میں لگ جاتا ہوں ۔آپ نہیں جانے دیتے تو نہ جانے دیں آخر مجسٹریٹ کو کوئی ایسا نقصان پہنچا کہ وہ سخت ڈر گیا ۔پھر بعد میں ہمیشہ ہفتہ کے دن عدالت والوں کو کہتا آج کام جلدی بند کر دو کہیں منشی صاحب کی ٹرین کا وقت نہ نکل جائے ۔اس طرح وہ مجسٹریٹ چھٹی خود ہی دے دیتا تھا ۔یہ بزرگ تھے جن کا غیروں پر بھی دعا کا رعب تھا آج بھی اسی کی ضرورت ہے ۔ دنیا میں مختلف طبیعت کے لوگ ہوتے ہیں بعض حس کے تیز بعض کم ۔ بعض حالات کے عادی ہو جاتے ہیں ۔بعض کے لئے وہ حالات سخت ہوتے ہیں ۔وغیرہ ۔پس سردی گرمی خوشبو و بدبو کا احساس حسوں کی کمی یا زیادتی سے ہوتا ہے ۔یہ انسان کی حسیں ہیں جو اس فرق کو ظاہر کرتی ہیں ۔انسانوں کی اکثریت اس لحاظ سے حساس ہوتی ہیں ۔اور جن کو احساس نہیں ہوتا وہ یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ یہ کوئی چیز ہی نہیں ہیں ۔بعض سردیوں میں بھی لوگوں نے جرابیں پہنی ہوتی ہیں ۔بعض لوگ بغیر جراب کے بھی پاؤں گرم ہونے کا کہتے ہیں ۔مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ سردی نہیں ۔پس ان چیزوں کے اثرات ہوتے ہیں ۔بہرحال حضرت مصلح موعود نور اللہ نے اس احساس کے فرق کی ایک مثال دی ۔آپ ؓ نے فرمایا حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا کسی شہر میں چند شہری نے کہا تل بہت گرم ہوتے ہیں ۔ایک پاؤ تل کھا کر بیمار ہو جائے گا ۔اس کے دوران ایک نے کہا اگر کوئی اتنے تل کھائے تو میں پانچ روپے انعام دونگا ۔زمیندار گزر رہا تھا ۔ان کو عادت ہوتی ہے ۔کوئی اکھڑ قسم کا ذمہ دار تھا ۔وہ حیرت سے باتیں سنتا رہا اور خیال کر رہا تھا کہ ایسے مزے کی چیز کھانے پر پانچ روپیہ کے انعام بھی ملیں گے ۔اس نے پوچھا کہ ٹہنیوں سمیٹ کھانے ہیں کہ بغیر ۔یہ اس لئے پوچھا کہ بغیر ٹہنیوں کے کھانے کے اتنا انعام کس طرح ہو سکتا ہے ۔جب کہ وہ بغیر نہٹیوں کے کھانے کو ناممکن خیال کرتے ہیں اور ایک دوسرا ٹہنیوں کے سمیٹ کھانے کو تیار ہے ۔یہ فرق ہے ۔دونوں کو احساس میں ۔پس دنیا میں جس قدر فرق ہیں وہ احساسات کے فرق ہیں ۔یہی روحانی دنیا میں بھی چلتا ہے قانون ۔کسی پر نماز کا اثر زیادہ ہوتا ہے ۔کسی پر کم ۔بعض ظاہرا نمازیں پڑھتے ہیں مگر اثر نہیں ہوتا ہے ۔روحانی حسوں کے ثبوت کے لئے انہی کی شہادت قبول ہوگی جن میں یہ حس زیادہ ہوگی جن پر اثر زیادہ ہوگا،پس جماعت میں ایسے افراد کی اکثریت ہو جن کی حسیں روحانی اثرات کو زیادہ قبول کریں پھر حقیقی نماز و عبادت کا دنیا کو بھی ادراک دیں ۔اور کس طرح اس کو حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ حضرت مصلح موعود نور اللہ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جو خلیفہ اول ؓ بیان کیا کرتے تھے ۔آپ نے ایک اور حوالہ سے بیان کیا ہے ۔مگر اس سے پتا چلتا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود ؑ کے پاس بڑے بڑے عالم بھی آتے تھے تو یہ عالم آپ کی بیعت کا شرف بھی حاصل کرتے تھے ۔حضرت خلیفہ اول ؓ فرمایا کرتے تھے کہ ایک عالم دین جس کا سارے ہندوستان میں علمیت کا شہرہ تھا ۔بہت سادہ تھے ۔جو نہ جانتے وہ عام مزدور سمجھتے ان کا نام مولوی خان ملک تھا ۔وہ کہیں سے خبر سن کر قادیان آئے اور باتوں کو سن کر ایمان لے ائے واپسی پر لاہور مولوی غلام احمد صاحب سے ملنے کا ارادہ کیا وہ شاہی مسجد میں درس دیتے تھے اور شاگرد تھے ۔مولوی غلام احمد صاحب کی مالی حالت بہت اچھی تھی اور بہت طالبعلم تھے ۔جب مولوی خان محمد مسجد میں آئے تو طلباء کو علم نہ تھا کون ہیں ۔انہوں نے اندازہ لگایا کہ کوئی معمولی آدمی ہیں جب مولوی غلام احمد صاحب نے پوچھا کہاں سے آئے کہا قادیان سے اور کہا قادیان سے بیعت کر کے ۔مرزا صاحب کا مرید ہونے کے لئے گیا تھا ۔غلام احمد نے پوچھا کیا خوبی دیکھی جو مرید ہونے چلے گئے ۔مولوی غلام احمد کو خان محمد نے کہا تو اپنا کم کر تنیوں تے قال یقول نہیں آتا ۔ طلباء نے جب یہ سنا تو مولوی خان محمد سے مخاطب ہو کر کہا تو نے یہ کیا بات کہی ہے ۔مولوی غلام احمد نے منع کیا اور کہا کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک ہے ۔ اسی طرح ایک واقعہ حضرت مصلح موعود نور اللہ بیان کرتے ہیں حضور ؑ کے زمانہ میں ایک عرب آیا اور کچھ دن کے بعد جانے لگا تو کرایہ کے طور پر جب کچھ دیا تو لینے سے انکار کر دیا ۔میں نے سنا تھا آپ نے مامور ہونے کا دعوی کیا ہے ۔اس لئے آیا تھا ۔اس بات کو دیکھ کر آپ ؑ نے فرمایا کچھ دن اور ٹھہر جائیں ۔بعض کو مقرر کیا تبلیغ کریں مگر اس کو اثر نہ ہوا ۔اخر ان دوستو نے عرض کیا بہت جوشیلا ہے ۔اس کو صداقت کی طلب معلوم ہوتی ہے ۔جس طرح آج کل کے عرب میں بھی طلب ہے ۔آپ دعا کریں ۔جب آپ ؑ نے دعا کی تو بتایا گیا کہ ہدایت ہو جائے گی اسی رات کچھ ایسا ہوا اور بیعت کر لی ۔حج کے موقع پر کئی کو تبلیغ کی اور مار مار کر بیہوش کر دیا ۔بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب سینے کھولے تو کھلتے ہیں ۔اسی طرح ایک اور واقعہ ہے ۔حضور ؑ کے زمانہ میں ایک امریکن نے الیگزنڈر ریسل اس کا نام تھا ۔اس نے اسلام قبول کیا ۔جب اس نے یہ فولڈر کی اشاعت کی تو اس نے حضور ؑ سے خط و کتابت کی اور مسلمان ہوگیا اور اسلام کی اشاعت کے لئے زندگی وقف کر دی ۔بعد میں ہندوستان آیا اور حضورؑ سے ملنے کی خواہش کی تو مولویوں نے کہا اگر مرزا صاحب سے ملے تو مسلمان تمہیں چندہ نہیں دینگے ۔چنانچہ وہ بہکانے کے نتیجہ میں حضور ؑ سے نہ ملا ۔آخر بہت مایوسی سے واپس گیا ۔حضور ؑ کی وفات کے قریب اس نے خط لکھا کہ میں نے نصیحت کو نہ مان کر بہت دکھ اٹھایا ہے ۔آپ نے ٹھیک کہا تھا کہ مسلمانوں کے اندر خدمت دین کا کوئی شوق نہیں ۔میں نے نہ مانا اور آپ کی ملاقات سے محروم ہوگیا ۔تو سب سے پہلا مسلمان امریکہ میں وہی ہوا تھا۔حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں اب بھی دیکھتا ہوں جماعت کی ترقی امریکہ میں زیادہ ہے ۔یورپ میں بھی ہو رہی ہے ۔مگر امریکہ میں زیادہ ہے ۔اللہ تعالیٰ کرے کہ امریکہ کی جماعت ایسے سعید فطرت لوگوں کی تلاش کرے اور ان کو اس جھنڈا تلے لے جائیں ۔ویسے بھی ایک زمانہ میں بہت احمدی ہوئے تھے ۔اور مضبوطی سے قائم رہے ۔بہت سے ایسے ہیں جن کی نسلیں احمدیت پر قائم نہ رہ سکیں ۔دنیا داری کی وجہ سے یا کوئی وجہ تھی ۔اس کے لئے بھی کوشش کرنی چاہیے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچوں کے ساتھ کیا سلوک تھا ۔حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں جب بچہ چھوٹا ہو کہانیوں کے ذریعہ تربیت کریں ۔کھیل کود میں تربیت ہو ۔کبھی حضرت یوسف ؑ کا قصہ کبھی حضرت نوح ؑ کا قصہ ۔اسی طرح کئی ضرب الامثال جو کہانیوں سے تعلق رکھتی ہیں وہ ہم نے آپ سے سنی ہیں ۔مفید اخلاق سیکھانے والی کہانیاں بھی ہیں ۔جب بچہ کی عمر بہت چھوٹی ہو ان کو اس طریق پر تعلیم دی جاتی ہے ۔کھیلیں ہیں ۔بعض کہتے ہیں یہ کھیلتا بہت ہے ۔اگر وہ باہر جا کر کھیلتا ہے تو کھیلنے دینا چاہیے ۔کہانیوں کا زمانہ کھیل سے پہلے کا زمانہ ہے ۔پس باپوں کو بھی بچوں کو وقت دینا چاہیے ۔ان سے دوستانہ تعلق رکھیں ان کو اپنے ساتھ جوڑیں تو بہت سے تربیت کے مسائل حل ہو جائیں گے جن کی شکایت ہوتی ہے ۔پھر ایک جگہ حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں ۔جو کہانی سنائی جاتی ہے اس کا مقصد بچہ شور نہ کرے اور وقت ضائع نہ کرے اگر وہ کہانی ایسی ہو جو آئندہ زندگی میں بھی فائدہ دیں ۔آج کل بچوں کے شور سے بچنے کے لئے آئی پیڈ دے دیتے ہیں یا ٹی وی پر بیٹھا دیتے ہیں ۔چھوٹے بچوں کو نہیں بیٹھانا چاہیے ۔دوسرے دو سال سے کم بچے کو ویسے بھی کہتے ہیں سوچ پر فرق پڑ جاتا ہے بہرحال حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں جو کہانیاں حضرت مسیح موعود ؑ سنایا کرتے تھے اس سے فائدہ ہوتا تھا ۔اسی وجہ سے آپ ؑ ہم کو رات کو کہانیاں سنایا کرتے تھے ۔بچہ کو کیا پتا ہوتا ہے کہ اس کے والد کتنا بڑا کام کر رہے ہیں ۔اگر اس کو دلچسپی کا سامان نہ دیا جائے وہ شور کرتے ہیں ۔آپ ؓ نے فرمایا کہانیوں کی ضرورت سب نے تسلیم کی ہے ۔اگر کہانی لغو سنائی جائے تو بچہ خاموش تو ہو جائے گا مگر فائدہ مند کہانی سنانی چاہیے ۔اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ دوستیاں ایسی ہوں جو بربادی کا موجب نہ ہوں ۔حضرت مصلح موعود ؓ نے ایک واقعہ بیان فرمایا کہ حضرت مسیح موعود ؑ فرمایا کرتے تھے ۔ایک شخص کا کسی سے دوستانہ تھا اس کا کوئی احسان تھا ۔وہ بیٹھا کرتا تھا ۔گو حکایت ہے جو حقیقت بیان کرنے کی غرض سے بنائی گئی ہے ۔ایک نصیحت کرنے کی غرض سے ایک قصہ ہے ۔اس وجہ سے کہ دشمن اعتراض نہ کرے ۔ان سے مراد ایسے خصائل رکھنے والے انسان ہوتے ہیں ۔پرانی حکایتوں کو شیر کا دربار اور وزراء کو جانوروں کی صورت میں بیان کیا جاتا تھا ۔ریچھ اس کا دوست تھا ایک دن والدہ بیمار تھی اور پاس بیٹھا پنکھا ہلا رہا تھا اور مکھیاں اڑا رہا تھا ۔ریچھ کو اشارہ کیا کہ تم مکھیاں اڑاؤ ۔اس نے مکھی اڑائے پھر آ بیٹھے ۔اس نے بڑا سا پتھر اٹھایا اور مکھی کو مار دیا اور ماں بھی ماری گئی ۔یہ ایک مثال ہے ۔بعض نادان دوستی کرتے ہیں مگر ڈنگ نہیں جانتے ۔مگر ہوتی تباہی ہے ۔اگر دوست کے سچے خیر خواہ ہوتے تو اس کو اچھائی کی طرف لے جاتے ۔رسول کریم ﷺ نے دوستی کا نقشہ کیا خوب کھینچا ۔بھائی کی مدد کرو ظالم ہو یا مظلوم ۔ظالم کی مدد سے مراد اس کو ظلم کو روکے تو اس کی مدد ہی ہے ۔اپنے دوست کی ہر حال میں مدد کرو اور اس کی مرضی کے مطابق چلو ۔اصل دوستی یہ ہے کہ دوست کے فائدہ کے لئے اس کے خلاف بھی چلنا پڑے تو چلو ۔ کسی شخص کا کسی سے جھگڑا ہوا ۔اس کے دوست نے بغیر سوچے سمجھے دوستی کے حق ادا کرنے یا دھوکے میں جھگڑا میں خوب حصہ لیا ۔پہلا شخص تو اپنی جگہ پر آگیا مگر یہ دوست جس نے اس کی خاطر حصہ لیا تھا وہ مرتد ہوگیا ۔پس دوستیاں جہاں اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتی ہیں بعض دفعہ تباہی و بربادی کرتی ہیں ہمیشہ دوستیوں کا حق ادا کرنے کے لئے بھی جذبات کو کنٹرول کرنا چاہیے ۔ حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں ۔حضور ؑ سنایا کرتے تھے کہ ایک کا ریچھ سے دوستانہ تھا اور بیوی نے اس کو برا بھلا کہا ۔ریچھ نے تلوار لی اور دوست سے کہا اس کو میرے سر پر مارو ۔اس کو زخم آیا اور وہ جنگل میں چلا گیا ایک سال بعد واپس آیا اور کہا تیری بیوی کا زخم جو زبان سے دیا تھا وہ ابھی بھی تازہ ہے ۔مگر تلوار کا زخم ٹھیک ہے ۔یعنی بیوی جو باتیں کرتی تھی وہ زخم آج بھی ہرا ہے ۔بعض دفعہ زبان کا زخم بہت شدید ہوتا ہے ۔یہ تلوار ایسا زخم لگاتی ہے ۔کہ جو بھولتا نہیں ۔پس امن کے لئے ایک دوسرے کا بھی خیال رکھیں اور بلا وجہ ایسی زبانوں کے تیر نہ چلائیں ۔حضرت مسیح موعود ؑ کے ماننے کے بعد اپنے ایمان کی حفاظت ہر احمدی کا فرض ہے ۔بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی ایمان کو ضائع کر دیتی ہیں ۔ فرمایا : حضرت موسی ؑ کے قصہ میں بات موجود ہے جب مصر سے نکلے تو ان کا مقابلہ عمالیق سے ہوگیا ۔ان کے بادشاہ کو خطرہ ہوا کہ شکست کھا جائیں گے ۔بزرگ سے دعا کی اور الہام ہوا کہ موسی خدا کا نبی ہے اس کے خلاف دعا نہیں ہو سکتی ۔جب بادشاہ کو پتہ چلا کہ میری کوئی چال نہیں چلے گی اس نے چال شیطان والی چلی ۔اس نے بہت سے زیورات تیار کروا کر بیوی کو دئے اور پھر بزرگ نے جواب دیا موسی خدا کا مقرب ہے اس کے خلاف بد دعا نہیں ہو سکتی ۔پھر بزرگ نے کہا یہاں سینا نہیں کھلتا ۔اس نے بد دعا کی ۔کہتے ہیں جونہی اس نے بد دعا کی موسی کی قوم تباہی پڑ گئی ۔اور ادھر جو بزرگ جو بنا ہوا تھا اس کا ایمان بھی ختم ہو گیا ۔اللہ تعالیٰ نے منع کرنے کے بعد بھی دعا کی پھر اس کو یہ سزا ملی اس کی بزرگی کا مقام ختم ہوگیا ۔حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں بیشک قصہ ہے مطلب یہ ہے کہ ایمان بھی دل سے نکل جاتا ہے ۔پس چونکہ ایمان محنت سے آتا ہے اور جاتا ایک فقرہ میں ہے ۔ ذکر الہی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور ؓ حضرت مسیح موعود ؑ کا یہ فقرہ سنایا کرتے تھے دست در کار دل بایار ۔کسی بزرگ سے کسی نے پوچھا اللہ کا ذکر کتنی دفعہ کروں ۔اس نے کہا محبوب کا نام اور گن گن کر ۔مگر معین وقت کر لینا یہ ہے کہ اپنے محبوب کے لئے تمام کام چھوڑ کر الگ ہو جانا ۔معین رنگ میں بھی ذکر الہی کرنا چاہیے ۔غیر معین طور پر بھی اللہ کو یاد کیا جائے اور اس کے فضلوں کو بھی یاد کیا جائے ۔دین کی باتوں کو غور سے سننا اور یاد رکھنے کی کوشش کرنا پھر عمل کرنا بھی ایک احمدی کا مطمع نظر ہونا چاہیے ۔ عو حضرت مصلح موعود نور اللہ عورتوں کو درس دیا کرتے تھے تو ایک بار امتحان لینا شروع کیا تو کسی سے پوچھا کہ کیا پڑھایا ہے تو اس نے کہا یہی کہ اللہ اور رسول کی باتیں ۔اس سے آپ کو صدمہ ہوا ۔اور لیکچر کا سلسلہ بند کر دیا ۔حضرت مصلح موعود ؓ نے کہا مردوں کا بھی یہی حال ہے ۔اس کے مقابلہ پر صحابہ ؓ کو دیکھو کس طرح رات اور دن رسول کریم ﷺ کی باتوں کو سنتے اور عمل کرتے انہوں نے چھوٹی سے چھوٹی بات کو لیا اور عمل کیا ۔اسی طرح حضرت مسیح موعود ؑ کی کتب میں سے فائدہ اٹھاؤ اور عمل کرنے کے لئے بھی پڑھو مگر لذت حاصل کرنے کے لئے ہی یہ کام نہ کرو ۔جب تم قرآن پر غور کرو گے تو جب اس کی محبت میں ایک بار سبحان اللہ کہنا بھی بہت اونچا لے جاتا ہے ۔ایک مجلس میں فرمایا کہ تسبیح کرتے ہیں تو ایک بار کہنے سے بھی کہیں سے کہیں پہنچ جاتے ہیں ۔جب مجھے آ کر اس نے کہا تو میں نے کہا ایسا ہوتا ہے ۔دل سے نکلی سبحان اللہ بہت مقام رکھتی ہے ۔رسو ل کریم ﷺ نے فرمایا دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں اور قیامت کے دن بہت بھاری ثابت ہونگے ۔سبحان اللہ وبحمد ہ سبحان اللہ العظیم ۔یہ کلمات میں کثرت سے پڑھتا ہوں ۔بعض دفعہ ایک مرتبہ کہنے سے ہی روح کہیں سے کہیں جا پہنچتی ہے ۔اللہ تعالیٰ کے احکامات پر غور کریں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں ۔یہی حقیقت ہے دل سے تسبیح و تحمید ہوتی ہے تو یوں لگتا ہے کہ اثر دکھا رہی ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ جہاں ہمارے اندرونی ،اندر قوت عملیہ پیدا کرے اور رضائے باری تعالیٰ حاصل کرنے والا بنائے وہاں ایسی تسبیح و تحمید کرنے والے ہوں جو ہماری روح کو بلندیوں پر لے جائے اور ہمیں خداتعالیٰ کا قرب مل جائے ۔ (آمین ) on.fb.me/20b3QrD

DIFFERENT WINDOWS WITH ISLAMIC ARCHITECTURE & DECORATION IN MOSQUES IN OLD HISTORIC CAIRO MOSQUES,, CAIRO EOS CANON ,, 2016

Doorway in the Putra Mosque at Putrajaya, Malaysia.

Nous sommes attachés à la liberté d'expression.

The elegant Dayabumi Complex from National Mosque (Masjid Negara) - Kuala Lumpur, Malaysia

ضع نسخة من هذه الخلقيات على سطح مكتب الكمبيوتور . وجزاك الله خيرا

Download beautiful wallpapers for your desktop, enjoy...

Téléchargez les fond d'écran pour votre bureau

 

Mhmd Islam a man ive known 25 years here at the HAJI ALI Mumbai

he is severely deformed, missing his lower limbs.........

 

Ive seen him refuse money offered.

 

I have seen him give beggars his money.

 

he speaks a little english and we have chatted at times about religion and his love for God and Islam

 

. It is not a trip to Mumbai if i dont see Mhmd.

 

I make an effort to go to HAJI ALI every visit.

 

MUMBAI

  

Photography’s new conscience

linktr.ee/GlennLosack

linktr.ee/GlennLosack

  

glosack.wixsite.com/tbws

   

Shot inside Ebin Battuta Mall in Dubai, UAE.

Came to the mosque for the morning prayers. And observerd that the colours in the morning light were changing so beautifully. I stayed out til noon, just to see all the changes in the sky above Madinah.

A young Shia boy commemorates Ashura

by swatting his back with razor sharp knives.

 

Many bleed a lot and are stopped against their will

Many of you think this is absurd and just child abuse.

 

Spirituality is what you make of it

 

Think about Circumcision

 

Mumbai

   

Photography’s new conscience

linktr.ee/GlennLosack

linktr.ee/GlennLosack

  

glosack.wixsite.com/tbws

Few pictures from my recent trip to Iran, Pakistan, Afghanistan and Turkey. You can find more (with captions!) at www.expedice.org/luke/silkroad

View of mosque in Tunis, Tunisia

(Photo by: Ali Asani)

pluralism.org

Islamic Center Samarinda adalah salah satu masjid terbesar di Asia Tenggara. Masjid senilai Rp 500 miliar itu memadukan tiga artistik masjid terkenal di dunia, yakni Masjid Nabawi (Madinah), Masjid Sofia (Turki) dan Masjid Putra Jaya (Malaysia).

 

Kompleks Islamic Center Samarinda dibangun di atas lahan sekitar 14 ha dengan luas bangunan keseluruhan mencapai 50 ribu m2. Terletak di Kelurahan Karang Asam, Samarinda Ilir, Samarinda, Kaltim, masjid ini memiliki luas bangunan utama 43.500 meter per segi.

 

Untuk luas bangunan penunjang adalah 7.115 meter per segi dan luas lantai basement 10.235 meter per segi. Sementara lantai dasar masjid seluas 10.270 meter per segi dan lantai utama seluas 8.185 meter persegi. Sedangkan luas lantai mezanin (balkon) adalah 5.290 meter persegi.

 

Post Processing : Resize & Crop

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطاب بر موقع جلسہ سالانہ قادیان2016 ۔لندن سے براہ راست(صرف احمدی احباب کے لئے ) ( طالب دعا : یاسر احمد ناصر ) تشہد و سورة الحمدللہ اور آیت کریمہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :قل ان کنتم تحبو۔۔۔۔تو کہہ کے اے لوگو اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اطاعت کرو اس صورت میں وہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے قصور بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا ہے اور بار بار رحم کرنے والا ہے ۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ کا قرب ہو دل میں محبت پیدا ہو اس کا ایک اصول ہے ۔یہ باتیں تبھی مل سکتی ہیں جب تم اسوہ رسول ﷺ پر چلو اس پر عمل کرنے کے لئے یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ اس نے صحابہ ؓ وہ سب باتیں بھی ہم کو پہنچا دیں جن پر آنحضرت ﷺ عمل فرمایا کرتے تھے لیکن یہ بات بھی سمجھنی ضروری ہے کہ آنحضرت ﷺ ہر اس بات پر عمل کرنے والے تھے جو اللہ نے قرآن میں بیان فرمائی ۔حضرت عائشہ ؓ نے اخلاق و عمل پر نہایت خوبصورت انداز میں تین الفاظ میں بیان فرما دیا ۔کان خلقہ القرآن آپ ﷺ کے اخلاق و اعمال قرآن کریم جیسی عظیم کتاب اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھی ۔ فرمایا : پھر اس زمانہ میں ہم پر عظیم احسان کرتے ہوئے اپنے فرستادہ اور آنحضرت ﷺ کے غلام صادق اور زمانہ کے امام مسیح موعود ؑ اور مہدی معہود ؑ کو بھیجا ۔جنہوں نے ہمیں انبیاء کے مقام اور نبی کریم ﷺ کا خاص طور پر ادراک دیا ۔آپ ؑ نے فرمایا : یاد رکھنا چاہیے کہ انبیاء اور رسل اور ائمہ کے آنے سے کیا غرض ہوتی ہے ۔وہ اس لئے نہیں آتے کہ ان کو پوجا کروانی ہوتی ہے وہ خدا کی عبادت قائم کروانے کے لئے آتے ہیں ۔ان کے کامل نمونہ پر عمل کریں اور اس جیسے بننے کی کوشش کریں اور ایسی اطاعت کریں کہ گویا وہی ہو جائیں ۔بعض لوگ ان کے آنے کے اصل مقصد کو چھوڑ کر ان کو خدا سمجھ لیتے ہیں وہ اس سے خوش نہیں ہوتے ۔ان کی اصل خوشی اسی میں ہوتی ہے کہ لوگ ان کی اطاعت کریں اور جو تعلیم وہ پیش کرتے ہیں سچے خدا کی عبادت اور توحید پر قائم کی تو اس پر قائم ہو جائیں ۔چنانچہ رسول کریم ﷺ کو بھی حکم ہوا ۔اے اللہ کے رسول ان سے کہہ دو اگر تم اللہ سے پیار کرتے ہو تو میری اطاعت کرو۔اس سے اللہ بھی تم سے پیارکرے گا۔ فرمایا : اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے نمونہ کی پیروری کر کے اللہ کے قریبی بن سکتے ہیں ۔جو نمونہ پر نہیں چلتا ان کو حاجت روا مانتا ہے وہ دیکھ لے گا کہ وہ امام مرنے کے بعد اس سے بیزار ہو گا ۔ فرمایا : سب سے پہلی چیز انبیاء سکھاتے ہیں ۔وہ خدا کی توحید کا قیام ہے ۔یہی بات آپ ﷺ نے اپنے ماننے والوں میں پیدا فرمائی اور اس کے اعلی نمونے آپ ﷺ کے صحابہ میں ملتے ہیں ۔صحابہ نے براہ راست آنحضرت ﷺ سے فیض پایا اور توحید کے قیام کے لئے تڑپ کو دیکھا اور عبادت گزاری کے معیاروں کو دیکھا تو اس وجہ سے حقیقی توحید کی تڑپ پیدا کر دی ۔جیسا کہ کہا آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ کو ہم تک پہنچانے میں صحابہ کا بھی کردار ہے بلکہ ان کا احسان ہے ۔چند ایک رویات پیش کرتا ہوں ۔ فرمایا : ایک دفعہ حضرت عمر ؓ اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے آپ ﷺ نے سن لیا اور کہا باپوں کی قسمو ں سے اللہ نے منع کیا ہے ۔جس کو قسم کھانے کی ضرورت ہے وہ اللہ کی قسم کھائے یا صرف چپ رہے ۔اللہ کے سوا کوئی قسم جائز نہیں ہے ۔ ایک دفعہ ایک سوال کرنے والے کہ سوال پر کہ یا رسول ﷺ کوئی اپنی غیرت کے لئے لڑتا ہے کوئی بہادری کے لئے کوئی مال کے لئے تو ان میں سے جہاد کرنے والا کون ہے آپ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے لڑتا اور توحید کے قیام کے لئے تو وہی خدا کی راستہ میں جہاد کرنے والا شمار ہوگا ۔پس ہر عمل جو توحید قیام کے لئے ہے وہی عمل خدا کو پسند ہے ۔وہی ایسا عمل ہے جس کے قائم کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے ۔ایک مرتبہ جب مکہ کے سرداروں نے رسول کریم ﷺ کو بات چیت کے لئے بلایا تو آپ ﷺ نے سمجھا کہ شائد ان کو کچھ خیال آگیا ہے ۔سب نے کہا ہم عرب میں سے کسی کو ایسا نہیں جانتے جس نے اپنی قوم کو مشکل میں ڈالا ہو جیسے آپ نے ڈالا ہے معبودوں کو برا بھلا کہتے ہیں جماعت کے ٹکڑے کر دیئے ہیں ۔اگر آپ کا مقصد ہم اس قدر مال دیتے ہیں امیر بن جائیں سردار بننا چاہتے ہیں تو آپ کو سردار بنا لیتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم مجھے غلط سمجھے ہو یہ باتیں نہ مجھ میں ہیں نہ میں ظاہری عزت چاہتا ہوں مجھے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے اور مجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے اور حکم دیا کہ میں بشیر و نذیر بن کر خوشخبریاں بھی دوں اور ڈراؤں بھی ۔میں نے خدا کا پیغام پہنچا دیا ہے ۔اگر قبول کرو تو تمہارا اپنا فائدہ ہے اور اگر نہ کرو تو پھر صبر کرو جب تک خدا ہم میں فیصلہ نہ فرما دے ۔پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح فیصلہ فرمایا اور توحید کا قیام ہوا ۔ آپ ﷺ کی عبودیت کا ذکر کرتے ہوئے آپ ؑ نے فرمایا : ہماری نبی کریم ﷺ سے بڑھ کر کسی کا نمونہ موجود نہیں اور نہ ہو سکے گا ۔پھر دیکھو کہ اقتداری معجزات ملنے پر بھی عبودیت ہی رہی اور انما انا بشر مثلکم ہی فرمایا ۔اعلی ترین مقام قرب پر پہنچ کر بھی عبودیت کو ہاتھ سے نہ دیا تو پھر اور کسی کا دل میں لانا ہی عبث ہے ۔یہ وہ ادراک ہے جو آپ ؑ نے دیا ۔آپ ؑ نے توحید اور رسول کریم ﷺ کی عبودیت کا صحیح ادراک دیا اور ہر قسم کے شرک سے پاک کیا ۔ پھر آپ ؑ فرماتے ہیں میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں محمد عربی نبی ﷺ پر ہزار ہزار درود سلام اس پر کس قدر اعلی درجہ کا نبی ہے اس کی انتہاء معلو م نہیں ہو سکتی۔جو توحید کم ہو چکی تھی وہی پہلوان دنیا میں لایا ۔۔۔۔۔۔اور اس کی جان بنی نوح کی ہمدردی میں گداز ہوئی ۔ توحید کی معراج تب ہوتی ہے جب عبادت کے حق ادا کرنے والا ہو انسان ۔اس مین بھی رسول کریم ﷺ نے اعلی مقام پایا ۔اللہ تعالیٰ نے گواہی دی ۔کہ جو دیکھ رہا ہے جب تو کھڑا ہوتا ہے اور سجدہ کرنے والوں میں بھی تیری بے قراری کو ۔بس اللہ تعالیٰ انعام فرما رہا ہے تمام سجدود کرنے والو میں سے تیرے جیسا بے قرار کوئی نہیں ۔تو نے ایک جماعت بنا دی جو توحید پر قائم ہے ۔ان سجدوں میں بے قراری میں جو تڑپ تھی وہاں یہ بھی تڑپ تھی کہ آپ ماننے والوں میں بھی ایسے سجدے کرنے والے پیدا کرنا چاہتے تھے ۔دلوں میں بسے ہوئے جھوٹے معبودوں کو نکالیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہر نبی کی کوئی خواہش ہوتی ہے میری دلی خواہش رات کی عبادت ہے ۔ایک راوی نے بتایا کہ ایسے آواز آتی جیسے ہنڈیا ابلتی ہے ۔حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا بیماری کی وجہ سے تہجد رہ جاتی تو آپ ﷺ دن کو بارہ رکعت نوافل ادا کیا کرتے تھے ۔آپ ﷺ کی اپنے ماننے والوں کو بھی یہی خواہش تھی کہ وہ عبادت گزار ہوں اور عبادت کا حق ادا کرنے والے ہوں ۔حضرت عائشہ ؓ نے ایک دفعہ نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ قیام الیل مت چھوڑنا کہ رسول کریم ﷺ نہیں چھوڑتے تھے۔جب آپ بیمار ہو جاتے تو پھر بیٹھ کر تہجد کی نماز ادا کرتے ۔یہ جو روایت پڑی کہ تہجد چھوٹ جاتی تو بارہ نفل پڑتے یہ کبھی کبھار ہوا ہوگا آپ نے ایک دن فرمایا کہ باوجود بیماری کے کمزوری کے باوجود میں نے آج رات بھی لمبی صورتیں ہی پڑی ہیں ۔میری امت حقیقی رنگ میں اسوہ پر عمل کرے ۔ آپ کی امت میں مشرک ایسے عبادت گزار بنے جو بعد میں آنے والوں کے لئے نمونہ تھے ۔ کوئی بھی عیسائی ہو یا آریہ تو جب وہ ان حالات کو دیکھے گا جو آپ ﷺ کے بعد پیدا ہوئے تو آپ کی پاک تاثیرات کا قائل ہوگا۔ پہلے جانور کہا اور پھر تاثیر سے وہ رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے رات گزارتے ہیں ۔جو تبدیلی آپ ﷺ نے عرب کے وحشیوں میں کی اور جس گھڑے سے نکال کر ان کو جس جگہ پہنچایا وہ ساری حالت کے نقشہ کو دیکھ کر بے اختیار ہو کر رو پڑتا ہے جو آپ ﷺ نے انقلاب پیدا کیا ۔دنیا کی کسی تاریخ اور قوم میں اس کی نذیر نہیں مل سکتی ۔یہ نری کہانی نہیں یہ واقعات ہیں ۔ آپ نے فرمایا: خواہ کیسا ہی دشمن ہو وہ آپ ﷺ کی سچائی کا قائل ہو گا۔ دشمنوں نے بھی آپ کے سچے ہونے کی گواہی دی ۔ایک نے کہا محمد ﷺ تم میں جوان تھے اور تم کو سب سے زیادہ پسند تھے سب سے زیادہ سچ بولنے والے امانتدار تھے ۔اب سفید بال دیکھتے ہو جو پیغام لے کر آئے ہیں تم کہو کہ جھوٹا ہے تو ہم نے بھی جھوٹے لوگ دیکھے ہیں ۔نہ کاہن ہیں نہ جھوٹے ہیں ۔تم غور کر لو تمہارا واسطہ ایک بڑے معاملہ سے ہے ۔یہ دشمن کہہ رہے ہے ۔ابو جہل نے کہا میں تمہیں جھوٹا نہیں کہتا تمہاری تعلیم کو جھوٹا سمجھتا ہوں ۔آپ ﷺ نے فرمایا میں اتنا عرصہ رہا ہوں تو کیا کبھی مجھے جھوٹا کہہ سکتے ہو تو کیا خدا کے معاملہ میں جھوٹ بولونگا ۔آپ ؑ نے فرمایا : انبیاء نے کامل راست بازی کی حجت پیش کر کے دشمنوں کو بھی الزام دیا ۔قرآن نے کہا میں تم میں ایک لمبی عمر رہا ہوں کیا کبھی مجھ میں افتراء دیکھا ۔چالیس برس میں تم میں رہا ہوں ۔کیا کبھی جھوٹ ثابت کیا ۔نبیوں کے حالات پر غور کرے تو وہ ان کے نبی صادق ہونے پر یقین کرے گا۔کیوں نہ کرے ۔پس اس نبی کے ماننے والون کو اپنے جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ ہماری سچائی کے معیار کیا ہونے چاہیں۔ آپ ﷺ کی عاجزی کے وصف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : دیکھو ہمارے نبی کریم ﷺ کی کامیابیاں ایسی تھیں کہ کسی میں نذیر نہیں ملتی مگر جیسی جیسی کامیابی ملی اتنی ہی فروتنی اختیار کرتے چلے گئے ۔ایک دفعہ ایک شخص آپ کے پاس ایا اور وہ خوف کھا رہا تھا جب وہ قریب آیا تو نہایت نرمی سے دریافت فرمایا تم ڈرتے کیوں ہو میں بھی انسان ہی ہوں اور ایک بڑھیا کا فرزند ہوں ۔تم میں سے کوئی اعمال کی وجہ سے نجات نہیں پائے گا پوچھا گیا کیا آپ بھی فرمایا ہاں مجھے بھی رحمت کی وجہ سے رحمت میں لے لے گا۔جس نبی کے بارہ میں فرمایا اس کا ہاتھ میرا ہاتھ ہے تو عاجزی کا مقام یہ ہے کہ ۔کہ رحم سے ہی بخشا جاؤنگا۔دنیا کے لیڈر کامیابی کے بعد فرعون بن جاتے ہیں لیکن انسان کامل کا اسوہ کیا تھا وہ شہر جس کے لوگوں نے آپ کو اور آپ کے ماننے والوں کو ظلم کر کے نکالا بعد میں مسلسل یہ کوشش کرتے رہے کہ اسلا م کو مٹا دیا جائے ہوتا وہ ہے جو اللہ چاہتا ہے ۔جو اللہ کا فیصلہ ہے پھر اللہ کی تقدیر سے وہ وقت بھی آیا کہ مکہ فتح ہوا ۔آپ ﷺ اس شہر میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے ۔جب آپ فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے تو آپ کا سر اونٹ کے کجاوہ کو جا لگا ۔فرمایا : جو علو خدا کے بندوں کو دیا جاتا ہے تو وہ انکسار کے رنگ میں ہوتا ہے ۔شیطان کا علو تکبر کے رنگ میں ہوتا ہے ۔جب مکہ کو فتح کیا تو سر جھکایا جس طرح مصائب میں سجدہ کرتے تھے ۔ فرمایا :سیدنا حضرت مسیح موعود ؑ کے انکسار کا ذکر کرتے ہوئے نصیحت فرماتے ہیں ۔شیخیوں سے بچنا چاہیے ۔ایک اندھا خدمت میں آ کر قرآن کریم پڑھا کرتا تھا ایک دن عمائد مکہ جمع تھے اور باتوں کی وجہ سے کچھ دیر ہونے سے وہ چلا گیا ۔یہ ایک معمولی بات تھی اللہ نے صورت نازل فرما دی اس پر اس کے گھر گئے اور ساتھ لا کر چادر پر بیٹھایا ۔اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں عظمت ہو وہ خاکسار بنتے ہیں ۔وہ خدا کی بے نیازی سے ترساں رہتے ہیں ۔ آپ ﷺ کے اوصاف حسنہ تو ہر طرح سے مکمل ہیں تمام کے تمام بیان نہیں ہو سکتے ۔اس وقت ایک خوبصورت پہلو بیان کرونگا ۔جو جود سخا کا ہے ۔ابن عمر بیان کرتے ہیں ۔لگتا ہے کہ ایک وصف بیان کرتے ہوئے چار چار ابھر آتے ۔ایک دفعہ انصار نے کچھ مانگا تو پھر عطا فرمایا ۔ تین بار عطا فرمایا سب کچھ ختم ہو گیا تو فرمایا میرے پاس جو مال ہوتا ہے اسے تم سے روک کر نہیں رکھتا ۔ایک دفعہ آپ کے پاس 90 ہزار درہم آئے وہی تقسیم فرما دیئے ۔ایک موقع پر بکریوں کا ریوڑ دیا ۔آپ ﷺ کے پاس بحرین سے ڈھیرو ڈھیر مال تھا جب نماز سے فارغ ہوئے تو اس کو تقسیم فرما دیا ۔آپ ﷺ کی نرمی اور جود و سخا وجہ تھی کہ بدو بھی بڑے بے ادبانہ طریق سے آپ سے مانگتے تھے ۔ فرمایا :تنگی اور کشائش کے زمانہ ضروری ہین تا کہ ہر حالت میں ان کا اسوہ سامنے آئے ۔دکھ دینے والے پر خاموش بھی رہتا ہے ۔لیکن جب اقتدار اور طاقت آئے اس وقت لوگوں کا خیال رکھنا اور اعلی اخلاق اپنانا یہی اصل وصف ہے ۔بس کمزوری اور طاقت کی حالتیں ہی اعلی اخلاق مانپنے کا پیمانہ ہیں ۔طاقت ہونا بھی ضروری ہے کہ دکھ دینے والوں اور ستانے والوں سے در گذر کرنا اور دشمنوں سے پیار کرنا دولت سے مغرور نہ ہونا امساک نہ کرنا ۔دولت کو ذریعہ نفس پروری نہ ٹھہرانا اور حکومت کو آلہ ظلم نہ بنانا یہ سب اخلاق کے ثبوت کے لئے صاحب دولت ہونا شرط ہے ۔۔ان دنوں کا زمانہ ہر ایک کے لئے ترتیب نہیں ہوتا ۔کبھی پہلے تکلیف اور بعد میں اچھا کبھی پہلے اچھا اور بعد میں تکلیف ۔بعض میں کامل درجہ پر نظر آتی ہین ۔اس میں کامل قدم رسول کریم ﷺ کا ہے ۔ان پر کمال طور پر واضح ہو گئیں ۔ شکر گزاری بھی ایک وصف ہے ۔آپ ﷺ نے اللہ کے شکر کے بھی اور بندوں کے شکر کے بھی اعلی معیار قائم کئے ۔بارش کا پہلا قطرہ زبان پر لیکر شکر کرنا ۔کبھی ایک کجھور پر شکر کر رہے ہیں نئے کپڑے پر اللہ کا شکر غرض کوئی چیز ایسی نہیں جہاں شکر نہ کیا ہو ۔جب عبادتوں میں بے انتہاء گریا کرتے ہوئے دیکھ کر پوچھا گیا کہ عبادت کے لئے کھڑے ہوتے ہیں پاؤں سوج جاتے ہیں آپ کے گناہ بخش دیئے ہیں تو پھر کیوں رونا ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا کیا اس بات پر شکر گزار بندہ بن کر اس کے آگے نہ روؤں کے اس نے مجھے اس قدر نوازا ہے ۔بندوں کی شکر گزاری کے کیا معیار تھے ۔حضرت ابو بکر ؓ بچپن کے دوست تھے آپ ان کے جذبات کا بے انتہاء خیال رکھتے ۔ ایک دفعہ کسی اختلاف کی وجہ سے ابو بکر ؓ کو کچھ کہہ دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا جب تم نے جھوٹا کہا ابو بکر ؓ نے میری گواہی دی کیا تم میرے ساتھی کی دل آزاری سے رک نہیں سکتے ۔آپ نے فرمایا سب سے زیادہ احسان ابو بکر ؓ کا ہے ۔حضرت عائشہ ؓ نے کہا کیا بوڑھیا حضرت خدیجہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب مجھے جھٹلایا گیا تو وہ ایمان لائے مال سے مدد کی اولاد ان سے ہوئی ۔ آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ کی خدمات کو کبھی نہ بھلایا ۔آج کل کے خاوندوں کے لئے سبق ہے ۔بیویوں کا مال بھی کھا جاتے ہیں اور پھر بیوی کا مقام دینے کی کہتے ہیں ۔پھر بادشاہ نجاشی نے جو پناہ دی تو اس کے احسان کو ہمیشہ یاد رکھا اور ایک دفعہ فرمایا جب اس کا وفد آیا تو آپ نے اس کا خود استقبال کیا ۔ جب معلم اخلاق کے طور پر دیکھتے ہیں تو عجیب شان ہے ۔ایک موقع پر حضرت عائشہ ؓ نے حضرت صفیہ ؓ کے چھوٹے قد کا مذاق کرتے ہوئے کچھ کہا تو فرمایا کہ عائشہ یہ ایک ایسا کلمہ ہے اگر سمندر میں ملا دیا جائے تو اسے بھی گندا کر دے ۔بچوں کی تربیت کے نمونہ بھی بے مثال تھے ۔ پس یہ معیار ہیں سچائی کو قائم کرنے کے جو آپ ﷺ اپنے ماننے والوں میں چاہتے ہیں ۔پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک ۔کسی نے پوچھا مجھے کس طرح پتا چلے کہ میں اچھا ہوں یا برا تو فرمایا جو پڑوسی کہے تم ویسے ہی ہو ۔ یہ چند باتیں تھیں آپ ﷺ کے اسوہ کے چند نمونے تھے ۔کسی بھی خلق میں آپ ﷺ اعلی ترین اخلاق پر فائز تھے یہی اپنے ماننے والوں میں دیکھنا چاہتے تھے خدا کرے زبانی دعوی سے نہیں بلکہ اس اسوہ پر چلنے والے ہوں اور اپنی بخشش کے سامان کرنے والے ہوں ۔حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں ۔وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے اعمال سے کمال تام کا نمونہ علما عملا اور صدقا و ثباتا دکھایا اور انسان کامل کہلایا اور وہ انسان جو سب سے کامل تھا اور کامل نبی اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کی آمد سے زندہ ہو گیا ۔وہ کامل نبی فخر النبیین محمد ﷺ ہیں اے پیارے خدا اس پیارے نبی پر تو رحمت اور درود بھیج جو ابتداء سے نہ بھیجا ہو ۔اگر یہ عطیم نبی نہ آتا تو تو باقی نبیوں کی سچائی پر کوئی دلیل نہ تھی ۔اگرچہ سب مقرب تھے ۔یہ اس نبی کا احسان ہے یہ بھی سچے سمجھے گئے ۔اللھم صل علی محمد و آل محمد حاضری 14242 تھی ۔ انڈو نیشیاء سے بھی ایک طیارہ گیا ۔ لندن میں 5230 حاضری تھی ۔ bit.ly/2idFB9g

Few pictures from my recent trip to Iran, Pakistan, Afghanistan and Turkey. You can find more (with captions!) at www.expedice.org/luke/silkroad

Displayed in the Islamic section of Louvre. I saw another very similar to this one in Smithsonian about two month later, but this one in Louvre is far more powerful! And here's its little brother in Smithsonian.

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 14 اکتوبر2016ء بیت الالسلام کینیڈا ( طالب دعا : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کینیڈا کا جلسہ سالانہ گزشتہ ہفتہ منعقد ہوا اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ظاہر کرتے ہوئے اختتام کو پہنچا ۔اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر کریں کم ہے ۔یہ اس کا ہی فضل ہے کہ ہم باوجود محدود وسائل کے دنیا میں ہر جگہ جلسے منعقد کرتے ہیں اور صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے عمومی طور پر انتظامات بھی اچھے ہوتے ہیں ۔ہمارے پاس ہر شعبہ کی کوئی پیشہ وارانہ مہارت رکھنے والے لوگ نہیں جو ان میں کام کر کے اس کے بہتر معیار پیدا کر سکیں ۔رضا کار ہیں خدام میں سے اطفال انصار ،لجنہ و ناصرات میں سے بھی ۔آفسر بھی اور ماتحت بھی ہوتے ہیں ۔دنیاوی تعلیم کے لحاظ سے کم پڑھا لکھا مقرر کر دیا جاتا ہے ۔ہر کوئی اطاعت کرتا ہے پھر ہر طرح سے تعاون بھی کرتے ہیں اور پوری اطاعت کرتے ہوئے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں ۔ان تین دنوں میں خاص طور پر ہر ڈیوٹی دینے والے کے دماغ سے دنیاداری کی سوچ لگتا ہے کہ بالکل غائب ہو گئی ۔بے نفس ہو کر کام کرنا سب کی سوچ ہوتی ہے ۔جو خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں یہ کوئی انسانی کام نہیں جو سوچوں کو ایسے دھارے میں ڈھالتا ہو۔یہ خالصة اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو جس جذبہ سے تمام بچے جوان بوڑھے عورتیں مرد کام کر رہے ہوتے ہیں یہ کبھی پیدا نہ ہو سکے ۔یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان سب کارکنان کے دل میں یہ جذبہ پیدا کرتا ہے کہ تم نے حضرت مسیح موعود ؑ کے مہمانوں کی خدمت میں ہر سوچ اور خواہش سے بالا ہو کر اپنے آپ کو پیش کرنا ہے اور کام کرنا ہے اور صرف اللہ کی رضا اور مہمانوں کی خدمت کو پیش نظر رکھنا ہے ۔ہمیں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے اس نے جماعت کو ایسے کارکنان دیئے ۔ٹائیلٹ کی صفائی ،کھانا پکانے ،کھلانے سیکیورٹی کی پارکنگ کی مختلف شعبہ جات کی بے نفس ہو کر ڈیوٹی دیتے ہیں بچے بھی شوق سے ڈیوٹی دیتے ہیں ۔بچے جب مہمانوں کو خاموشی اور شوق سے پانی پلاتے ہیں تو غیر مہمان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے اور پوچھتے ہیں کیسے ان میں تم خدمت کا جذبہ پیدا کر دیتے ہو ۔دنیا کے ان حالات میں مسلمان جہاد کے نام پر بچوں اور نوجوانوں کو غلط کاموں اور ظلموں کی تربیت دے رہے ہیں ۔ظالمانہ طور پر انسانی جانوں کے خاتمے کی کوشش کی جا رہی ہے جماعت احمدیہ کے بچے اور نوجوان زندگی بخش کام کر رہے ہیں ۔روحانی مائدہ کے ساتھ مادی پانی پلانے اور کھانا کھلانے کے فرض کو بھی سر انجام دے رہے ہوتے ہیں ۔اور حقیقی جہاد میں شامل ہوتے ہیں جو زندگی دینے کے لئے کیا جاتا ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس بات کا اظہار بھی بعض لوگ کر دیتے ہیں ۔جب بچے پانی پلا رہے ہوتے ہیں تو بے اختیار ان پہ پیار آتا ہے ۔جہاں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں وہاں تمام شامل ہونے والوں اور جلسہ سننے والوں کو ان کارکنان کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے ۔جو جلسہ کے پہلے اور بعد میں کام کرتے ہیں ۔نہ اپنے کاموں کے حرج کی پرواہ ہے نہ مالی نقصان کی پرواہ کرتے ہیں ۔بعض نے بتایا کہ جلسہ کی وجہ سے چھٹی نہیں ملی تو نوکریاں چھوڑ دیں ۔نہ ہی یہ لوگ اپنی نیند اور آرام کو دیکھتے ہیں ۔ایک فکر کے ساتھ یہ لوگ کام کرتے ہیں ۔میں خود تمام کارکنانوں لڑکیوں بچوں عورتوں مردوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔جنہوں نے اپنے آپ کو پیش کیا اور ادنی سے ادنی کام بھی خوشی سے اور ذمہ داری سے سر انجام دیا ۔یہ کام حقیقیت میں ایک خاموش تبلیغ ہوتی ہے ۔جو غیر آتے ہیں ان کے لئے کئی لوگوں کی ہدایت کا باعث بن جاتی ہے ۔امریکہ کے ایک غیر دوست کہتے ہیں شہید الرحمان نام ہے تمام زندگی ان ملاؤں سے جھگڑتے رہے اور جو اسلام ان کو پیش کیا گیا اس نے سنی مسجدوں سے دور رکھا ۔ان کی بیوی نیک عورت ہے بیوی نے کہا جماعت احمدیہ کے جلسہ پر جائیں ۔اس جلسہ پر آ کر دوستوں کے ساتھ 91 بنگالی امریکہ سے آئے تھے انہوں نے جماعت احمدیہ کے افراد کی تربیت محبت عزت دیکھی تو کہتے ہیں کہ جلسہ کے ساتھ اسلام کی طرف دوبارہ لوٹ آیا ہوں ۔جلسہ کے آخری دن وہ الگ بیٹھے ہوئے تھے کھانے پر جانا انہوں نے پسند نہ کیا ۔اتنے میں ایک خادم ان کے پاس آیا اور کھانا اور پانی دیا ۔پھر اس بات کا بھی انتظار کیا کہ کھانا ختم کریں اور ڈبہ پھینک دیں ۔اس واقعہ نے ان کو اتنا متاثر کیا انہوں نے مجھے بتایا کہ جلسہ نے اس کا بہت گہرا اثر کیا اور جلد وہ جماعت میں داخؒ ہو جائیں گے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ایک خادم کی معمولی سی خدمت کرنا اس کی سوچ کو بدلنے والا بن گیا اس خادم نے ایک جذبہ کے تحت خدمت کی تھی لیکن یہ خدمت اس غیر میں روحانی تبدیلی کا ذریعہ بن گئی ۔اسی طرح بعض سیاسی لوگ بھی جو عمومی طور پر جماعت کی خدمات کو جانتے اور اعتراف بھی کرتے رہتے ہیں ۔ان پر بھی ہر دفعہ جلسہ کے انتظامات کا ایک نیا اثر ہوتا ہے ۔اتنی بڑی تعداد میں پر سکون طریق پر لوگ عموما بیٹھے ہوتے ہیں ۔ایک نے کہا 25000 لوگ جمع ہیں اس جلسہ کا جلنا انتھک محنت کا نتیجہ ہے ۔یہ کارکنوں کا ہم کو شکریہ ادا کرنا چاہیے ۔جہاں وہ مہمانوں کی خدمت بے نفس ہو کر کرتے ہیں وہاں خاموش مبلغ بن کر احمدیت کا پیغام بھی پہنچا رہے ہوتے ہیں َہر شامل ہونے والوں کو بھی ان کا شکرگزر ہونا چاہیے ۔اور اس خدمت کے جذبہ کو بڑھاتے رہنا چاہیے اور اس خدمت کی بہترین جزا بھی دے ۔اور ایمان اور یقین میں بھی بڑھاتا چلا جائے ۔ان کے عمل بھی اسلامی طریق کے مطابق ہوں ۔اسی طرح ایم ٹی اے کے کارکنان جلسہ میں شامل ہونے والوں اس کو شکریہ ادا کرنا وہاں دنیا میں رہنے والوں احمدیوں کا بھی شکر گزار ہونا چاہیے ۔ان سب نے ایک کوشش جلسہ کا لائیف پروگرام دکھانے کا انتظام کیا ۔مرکز کی ٹیم اپنا سامان لیکر آئے تھے جس سے فائدہ ہوا ۔مجموعی طور پر 10 یا 15 ہزار کی بچت بھی ہو گئی ۔ہر کارکن کا افراد جماعت کو شکر گزار ہونا چاہیے اسی طرح کارکنان کو بھی شکر گزار ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خدمت کی توفیق دی ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ کہتا ہے تم شکر گزار بنو میں مزید نوازونگا ۔اللہ جب نوازتا ہے تو بے شمار نوازتا ہے ۔مومنین کا یہ طریق ہے کہ ہر کامیابی پر اچھی بات پر خدا تعالیٰ کا شکر گزار بنے جہاں کمزوریاں دیکھے وہاں اللہ تعالیٰ سے رحم مانگیں اور استغفار کریں ۔جو مہمانوں نے عمومی طور پر ہر کام کی تعریف کی ہے اس کے لئے تمام کارکنان کو اپنے اور غیر سب مہمانوں کا شکر گزار ہونا چاہیے ۔جلسہ کے پہلے دن شعبہ مہمانوازی نے صحیح اندازہ نہیں لگایا ۔20 ہزار کا کھانا پکا جس کی وجہ سے شعبہ کے اپنے اندازہ کے مطابق دو ہزار لوگوں کو کھانا نہ ملا جس کی انہوں نے معذرت نہ کی ۔لیکن مہمان بھی جلسہ سننے کے مقصد سے آئے ہوئے تھے اس دن یا اگلے دن کھانے میں کمی ہوئی تو بعض نے خوش دلی سے اسے برداشت کیا اور شکوہ نہیں کیا ۔ایک صاحب نے لکھا کہ ایک لمبی قطار تھی کافی انتظار کے بعد کہا آ رہا ہے پھر کہا ختم ہو گیا ۔کہتے ہیں میں تو اس بات پر بڑا پیچ و تاب کھا رہا تھا اتنے میں ایک شخص نے کہا الحمد للہ کھانا ختم ہو گیا ۔میں نے پوچھا کیا کہہ رہے ہیں ۔کہنے لگے سوکھی روٹی کے کچھ ٹکڑے میرے پاس ہیں آئیں ہم ان کو پانی میں ڈبو کر کھا لیں ۔اگر روٹی مل جاتی تو یہ سنت پوری نہ کر سکتے ۔لکھنے والے کہتے ہیں یہ دیکھ کر غصہ دور ہو گیا اور شرمندگی بھی ہوئی اور جذباتی ہو گیا ۔کیسے کیسے لوگ حضور کو اللہ نے عطا فرمائے ہیں ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس دفعہ انتظامیہ کی طرف سے یہ خوش کن پہلو بھی سامنے آیا ہے ۔بجائے کمزوریوں کے چھپانے کے ان کا اظہار بھی کر دیا ۔یہ کافی نہیں یہ سب کچھ اس میں لکھیں اور آئندہ بہتر منصوبہ بندی بھی کریں ۔ساتھ ہی میں یہ بھی بتا دوں یہ جگہ بظاہر لگ رہا ہے 18 19 ہزار تک یہ لوگوں کو سنبھال سکتی ہے ۔اب جماعت پھیل رہی ہے بڑی جگہ کا بھی انتظامیہ کو سوچنا چاہیے ۔یا کم از کم مجھے جلسہ پر بلانا چاہیے تو یہ جگہ بہرحال نا کافی ہے ۔اس بارہ میں ضرور سوچیں ۔انتظامیہ نے جو اظہار کیا ہے وہ بھی بتا دیتا ہوں ۔پہلی بات عرب مہمانوں کے کھانے کے معیار میں مرچیں زیادہ کی شکایت تھی ۔کھانے کی کمی کا اظہار کیا ۔پھر کھانا ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچامردوں میں ۔پھر کھانا غلطی سے مردوں کے حصہ میں چلے گئے ۔مرد تکلیف اٹھا لیں کوئی حرج نہیں عورتوں کو اور بچوں کو بھوکا نہیں رکھنا چاہیے ۔کھانا تیار کرنے والوں کی کمی تھی کام کرنے والوں کی جماعت میں کوئی کمی نہیں ہے ۔صرف انتظامیہ کو یہ سوچنا ہوگا خدمت کا جذبہ رکھنے والے لینے ہیں اپنی پسند کے نہیں ۔خدمت کا جذبہ رکھنے والے بہت ہیں ۔جلسہ گاہ کے واش روم میں انتطار کرنا پڑا۔ صرف انتظار ہی نہیں کرنا پڑا بعض لوگوں کو تکلیف دہ صورتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔میں نے ایک دن پہلے پوچھا بھی تھا ۔جو بتایا گیا اس کے مطابق صحیح انتظام نہیں تھا ۔آئندہ عارضی انتظام کرنا چاہیے ۔لنگر خانہ میں آڈیو وڈیو کا انتظام نہیں تھا یہ بڑی غلطی ہے ۔مردوں کی طرف پیچھے آواز صاف نہ تھی ۔اسی طرح عربوں کے لئے ترجمہ کا انتظام تھا لیکن اطلاع نہیں کی گئی ۔بعض عرب خطبہ سے محروم رہے ۔یہ تو انتظامیہ کو تجربہ ہو جانا چاہیے ۔ترجمانی کے لئے بار بار اعلان ہونا چاہیے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بعض تاثرات مہمانوں کے بیان کرتا ہوں ۔کس طرح لوگوں کے دلوں میں ڈالتا ہے ۔احمدی عرب سیریا کے دوستوں کے تاثرات بیان کرتا ہون پہلی دفعہ شامل ہوئے آزادی سے عبادت کی حالات کے خراب بھی کئی سالوں سے بیچار ے پِس رہے تھے ۔ایک احمدی دوست کہتے ہیں یہ میرا پہلا جلسہ تھا جب داخل ہوا خلیفہ وقت کی موجودی دیکھی تو لگا اسلام میں داخل ہوا ہوں میری نماز خشوع خضوع سے پر ہو گئی ۔ یہ تبدیلی ہر احمدی میں آنی چاہیے ۔میں نے اس طرح کا اسلام پہلے کبھی نہیں سنا مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی اور اللہ کرے یہ خوشی اس کی دل کو کھولنے کا باعث بن جائے ۔اسی طرح ایک اور احمدی کہتے ہیں جلسہ کے تین دن ایسے تھے جن کو زندگی بھر نہیں بلایا جا سکتا دنیا کے بہترین انسان کے ساتھ ہزاروں لوگ تھے ۔بچوں کو بھی مدنظر رکھ کر سب انتظامات کرنا غیر معمولی تھا ۔ہزاروں افراد کو بلانا اور کھانا کھلانا ایک غیر معمولی امر ہے ۔پھر خطابات اور ترجمانی کا شعبہ بہت اچھا تھا ۔ایک صحافی ٹیم کو دعوت دی وہ سب حیران رہ گئے اور آخری دن کے خطاب کو بہت پسند کیا اور امام کے ساتھ محبت احمدیوں کے لئے حیران کن امر تھا ۔اسی طرح عبد القادر صاحب کہتے ہیں پہلی بار دیکھا کہ جلسہ کا کام بہت بڑا ہوتا ہے ۔ہر ایک کوئی خدمت کا موقع چاہتا تھا جب میرے عربی ہونے کا پتا چلتا ۔پھر ایک خاتون بیان کرتی ہیں جلسہ اتنی بڑی تعداد کے باوجود بہت منظم تھا ۔لوگوں کے چہروں پر روحانیت تھی اللہ کرے یہ ہمیشہ نظر آتی رہے ۔ہم تمام لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس کو کامیاب کرنے میں حصہ ڈالا ۔پھر سلمی صاحبہ بیان کرتی ہیں ۔جلسہ کے انتظام کو دیکھ کر کہا جا سکتا جماعت ایک جسم کی طرح ہے ۔ٹراسپورٹ کے شعبہ کی شکر گزار ہیں ۔جلسہ میں سب ایک کام کر رہے تھے اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچایا جائے ۔ایک مرد بیان کرتے ہیں جلسہ میں گزارے لمحات میری زندگی کے خوبصورت لمحات تھے ۔ٹی وی پر دیکھ کر دعا کرتا تھا مجھے بھی توفیق مل جائے اور میری دعا قبول ہو گئی میں جلسہ سالانہ کے سٹیج کے سامنے بیٹھا ہوا تھا اور ان مشکل اور اذیت ناک لمحوں کی یاد میرے سامنے تھی جو میں شام اور ترکی گزاری ایک وہ دن تھے اور ایک یہ دن ہیں ۔یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل ہے ۔ایک سیرین دوست فراز صاحب کہتے ہیں ۔پہلی بار میں نے جلسہ میں شرکت کی مختلف کینیڈا اور علاقوں سے رنگ و نسل سب کا اطاعت کا مظاہر ہ کرنا ایمان افروز تھا ۔جو چیز سب سے زیادہ خوشی کا باعث تھی وہ خلیفہ المسیح کی موجودگی اور خطابات تھے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :بہرحال یہ چند احمدی لوگوں کے تاثرات تھے ۔اب میں غیروں کے تاثرات بیان کرتا ہوں ۔جماعت کے تعارف اور تبلیغ کے راستے کھلتے ہیں جرمن کونسلیٹ کہتے ہیں چار ہفتے پہلے آیا ہوں جماعت سے زیادہ تعارف نہ تھا میں نے آج تک اسلامی تعلیمات کے متعلق ایسا جامع خطاب نہیں سنا ۔میں نے دیکھا ہے ۔کاش میڈیا جتنا وقت ائی ایس آئی کو دیتا ہے دنیا کے اس امن کے سفیر کو دے ۔ہر فقرہ ان کا سچائی پر مبنی تھا۔ میں بھی اس پیغام کو آگے پھیلاؤنگا۔غیر بھی سفیر بن جاتے ہیں َ ممبر آف پارلیمنٹ کہتی ہیں َتمہارے خلیفہ نے حالات کے مطابق ایک کام کیا محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں ۔سب عدل سے کام لیں اگر ایسا نہ ہوا تو تیسری جنگ عظیم ہوگی یہ واضح ہو رہی ہے ۔عوام اور سیاستدان کو یہ کام کرنا ہوگا ۔ہم میں سے ہر ایک کو یہ پیغام پہنچانا چاہیے کہ انتہا پسندی کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ایک دوست نے کہا آج میرا دل بہت خوش ہے کہ خلیفة المسیح نے خطاب میں امن و سلامتی کے بارہ میں بتایا ہے جماعت کو لوگوں کو بتانا چاہیے ۔ایک میئر نے کہا خطاب کا بہت گہرا اثر ہوا جس طرح بین الاقوامی معاملات پر روشنی ڈالی ہے خلیفہ المسیح احمدیوں کے لئے تمام دنیا کے لئے ہدایت کا ذریعہ بن سکتے ہیں ۔میں یہ باتیں کبھی بھول نہ پاؤنگا۔ ایک مہمان یہاں کے میئر نے کہا جماعت کو ایک پیغام دے رہے ہیں کہ ہمارے لئے روحانیت میں ترقی کرنی چاہیے ۔سب انسانو ں سے حسن سلوک کریں ۔یہ پیغا م ملا ہے ۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جو آپ کے خلیفہ نے سکھایا ہے دنیا میں امن قائم کرو ہم سب کا فرض ہے کہ ذمہ داری ادا کریں ۔اپنا کردار ادا رکریں ۔بریمٹن سے آئے ہوئے مہمان نے کہا ایک پیغام ملا کہ امن قائم کرو ۔ایک مہمان نے کہا حیران کن تقریر تھی آخری میرے پاس الفاظ نہیں بیان کرنے کے لئے ۔ایک خاتون نے کہا خلیفہ کا پیغام عورتوں سے خطاب بہت اچھا لگا کہ خاص طور پر ایک بات ایک ماں پورے خاندان کے لئے بنیاد ہوتی ہے اور معاشرہ مضبوط بناتی ہے ۔ایک خاتون نے کہا میرا نواں جلسہ ہے لیکن آپ کے خلیفہ کا خطاب سننے کے لئے بے تاب تھی ۔پھر کہتی ہیں ہر ایک دوسرے سے ادب سے پیش آیا ۔جلسہ کی اہمیت کا سب کو احساس تھا ۔سیکورٹی اور ساونڈ سسٹم اچھا تھا ۔ترجمانی کے لئے ہیڈ سیٹ بھی اچھا تھا ۔آپ مہمانوں سے احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں ۔سب شکر گزار ہیں ۔ہزاروں احمدیوں کو محبت کے رنگ میں سرشار دیکھ کر بہت اثر ہوا ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :جلسہ سالانہ پر جو بھی مہمان آتے ہیں اچھا تاثر اللہ کے فضل سے لیکر جاتے ہیں ۔بیرون سے بھی آئے تھے ۔جلسہ کا جب ماحول دیکھتے ہیں اسلام کے بارہ میں غلط تصورات دور ہو جاتے ہیں ۔ان ممالک میں ہمارے مشن نئے نئے ہیں ۔ان کے لوگوں کے آنے سے ہمارے کاموں میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے ۔جلسہ اس لحاظ سے تبلیغ کے راستے بھی کھولتا ہے ۔جلسہ سالانہ جہاں اپنوں کے لئے روحانی پانی دیتا ہے وہاں غیروں کے لئے اسلام کی حقیقی تعلیم دنیا کو پتا چلتی ہے ۔گزشتہ کچھ دنوں سے جو حالات مسلمانوں کے ہوئے ہیں اس کی وجہ سے میڈیا کی نظر ادھر ہے ۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے ۔لیکن اس کے بعد ہمارے نوجوانوں کا بھی بہت کردار ہے جنہوں نے تعلقات بنائے اور روابطے بڑے وسیع پیمانہ پر کئے ۔کینیڈا کی میڈیا ٹیم نے بھی بڑی محنت سے پریس اور میڈیا سے رابطوں میں اضافہ کیا ۔مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ ہمارے نوجوان اس حد تک اپنا کردار ادا کرہے ہیں َ یہاں آکر پتا چلا بڑی محنت سے کام کر رہے ہیں یہ بھی ایک تبلیغ ہے جو پریس کے ذریعہ سے ہمارے نوجوان کر رہے ہیں ۔بعض بڑے بڑے اخبارات اور چینل سے رابطے کرتے رہے ۔بعض کہہ دیتے تھے ہمیں مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں ۔بعض نے بہت اچھا رسپانس دیا ۔ بعض اس وجہ سے بے چین بھی ہوئے ۔جب انکار کیا ۔ایک اخبار سے رابطہ کیا اس نے عدم دلچسپی کا اظہار کیا ۔یہ نوجوان چاہتے تھے کہ یہ اپنا نمائندہ ضرور لیکر آئیں تا کہ اسلام کا صحیح پیغام قوم کو پہنچے ۔تو جیسا کہا اللہ تعالیٰ بھی اپنے کام کرتا ہے اس چینل نے سیرین ریفیوجس پر ڈاکومنٹری بنانی تھی ۔جب اس کے لئے تلاش میں نکلے تو اتفاق سے اللہ تعالیٰ ہی یہ چاہتا تھا ان کا رابطہ جن سے بھی ہوا وہ احمدی تھے ۔انہوں نے کہا ہمارا جلسہ ہو رہا ہے وہاں آجاؤ وہیں بات کریں گے اس طرح اس میڈیا کو بھی آنا پڑا ۔اللہ تعالیٰ بھی جماعت کا تعارف وسیع پیمانہ پر کروا رہا ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :جو احمدی اس کے لئے رضاکارانہ کرتے ہیں ان کو کہتا ہوں مزید محنت اور عاجزی سے یہ کام کریں ہمیشہ یاد رکھیں کہ خداتعالیٰ کا فضل ہی ہے ۔اسی کوتلاش کرنا چاہیے ۔میڈیا کے کچھ لوگ اخبار ریڈیو چینل کے جلسہ کے پہلے دن آئے تھے ایک چھوٹی سی پریس کانفرس بھی تھی اس کی اچھی کاوریج ہوئی ہے اور اسلام کی حقیقی تعلیم بتائی گئی ۔ان کو بھی پیغام پہنچایا ۔میری یہ کوشش ہوتی ہے کہ جس طرح بھی ہو حالات حاضرہ کی بات ہو اس کو کسی طرح رسول کریم ﷺ کی پیشگوئیوں اور آمد مسیح موعودؑ سے جوڑوں ۔تا کہ اسلام کا پتا چلا۔کنیڈا کے سب سے بڑے تین اخبارات نے وسیع پیمانہ پر جلسہ کی خبر بھی اشاعت کی ۔3.9ملین تک یہ پیغام پہنچا ۔اخبارات کے ذریعہ بھی پیغام پہنچا ۔سماعی روابط سے بھی فیس بک ٹویٹر انسٹا سے بھی 20 لاکھ تک پیغام پہنچا ۔اردو پنجابی بنگالی عربی میں ٹی وی سے بھی ایک لاکھ تک خبر پنہچی ۔ٹی وی کے ذریعہ 6.6ملین تک سوشل میڈیا تھا 2.8اور مجموعی طور پر 16 ملین تک یہ پیغام پہنچا ۔تومحتاط اندازہ ہو تو 10 ملین تک یہ تعارف اور پیغام پہنچا ہوگا ۔ ٹی وی پر بڑی ایمانداری سے یہ خبر دی ہے ۔یہ اللہ تعالی ٰ کا کام ہے جو کر رہا ہے ساتھ ہی ہماری توجہ بھی اس طرف پھیرتی ہے ہم انہی باتوں پر خوش نہ ہو جائیں بلکہ اپنی روحانی حالت اور اللہ سے تعلق کو بڑھائیں ہر وہ بات بری سمجھیں جو اللہ نے بری کہی اور ہر وہ بات کریں جس کے کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ۔اگر اللہ تعالیٰ خدمت کا موقع دے رہا ہے تو اسے فضل الہی جانیں ۔تمام عہدیدار بھی اپنے فرائض کو تقوی پر چلتے ہوئے انجام دینے کی کوشش کریں ۔تمام شاملین اور سننے والے بھی اپنے جائزے لیں ۔کیا ہم نے جو سنا اس کو اپنایا ہوا اس کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔یہ بھی جائزے لیں کہ کس طرح نیک باتوں کو ہمیشہ اپنائے رکھنا ہے ۔یہ ہے اللہ تعالیٰ کی حقیقی شکر گزاری ۔عارضی اور وقتی شکر گزاری نہیں اس چیز کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں ۔اور یہی بات ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں کو بڑھاتا چلا جاتا اور نوازتا ۔ان پر عمل کرنے کی اللہ ہر احمدی کو توفیق دے آمین bit.ly/2eB4bSR

Islamic Cairo, Old Cairo, Architecture and Interior Designs

1 2 3 5 7 ••• 79 80